Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7654

7654 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان حدثني أبو المغلس عبد ربه بن خالد بن عبد الملك بن قدامة النميري قال : سمعت أبي يذكر عن عابد بن ربيعة النميري أن علي بن بحير حدثه عن الحارث بن شريح : أنه انطلق مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى صلى معه في المسجد الذي بين مكة و المدينة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المسلم أخو المسلم إذا لقيه رد عليه من السلام بمثل ما حياه به أو أحسن من ذلك و إذا استأمره نصح له و إذا استنصره على الأعداء نصره و إذا استنعته قصد السبيل يسره و نعت له و إذا استعاره أحد على العدو أعاره و إذا استعاره أحد لم يعره و إذا استعاره الجبة أعاره لا يمنعه الماعون قالوا يا رسول الله صلى الله عليه و سلم و ما الماعون ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الماعون في الحجر و الماء و الحديد قالوا و أي الحديد قال قدر النحاس و حديد الفاس الذي تمتهنون به قالوا فما هذا الحجر قال : القدر من الحجارة

ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان بغدادی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو المغلس عبدربہ بن خالد بن عبدالملک بن قدامہ نمیری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ ذکر کرتے تھے عابد بن ربیعہ نمیری سے کہ علی بن بحیر نے ان کو حدیث بیان کی ہے حارث بن شریح سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے گئے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز بھی پڑھی اسی مسجد میں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جب اس سے ملتا ہے تو اس کے سلام کا جواب دیتا ہے اس کے مثل جو اس نے سلام کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر وہ جب اس سے مشورہ چاہتا ہے تو یہ اس کی خیر خواہی کرتا ہے ۔ جب اس سے اپنے دشمن کے خلاف مدد مانگتا ہے تو وہ اس کی مددکرتا ہے ۔ جب وہ اس سے استعانت مانگتا ہے (میانہ روی ) درمیانے راستے کی تو وہ اس کو آسان کرتا ہے ۔ اور اس کے لئے بیان کرتا ہے۔ جب اس سے کوئی چیز ادھاری مانگتا ہے کوئی دشمن کے خلاف تو وہ اس کو دے دیتا ہے اور جب کوئی دوسرا اس سے ادھار طلب کرتا ہے تو اس کو نہیں دیتا۔ جب اس سے جب ادھار مانگتا ہے تو دے دیتا ہے اس سے ماعون معمولی چیز کو نفع نہیں کرتا ۔لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ماعون کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ماعون ۔ پتھر میں ہے پانی میں ہے ،لو ہے میں ہے ۔لوگوں نے پوچھا کہ کون سا لوہا مراد ہے؟ فرمایا تانبہ کی ہنڈیا ،لوہے کی کلہاڑی جس سے تم خدمت لیتے ہو ۔لوگوں نے پوچھا کہ یہ پتھر کونسا مراد ہے فرمایا کہ پتھر کی ہنڈیا مراد ہے۔

عابد بن ربيعة النميري أن علي بن بحير ← أَبِي يَذْکُرُ ← أبو المغلس عبد ربه بن خالد بن عبد الملك بن قدامة النميري ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو علي بن شاذان البغدادي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7654

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7655

7655 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا ابن نمير عن الأعمش عن أبي عمرو الشيباني عن أبي مسعود الأنصاري قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني أبدع بي فاحملني قال : ما عندي ما أحملك عليه و لكن ائت فلانا فأتاه فحمله فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من دل على خير فله مثل أجر فاعله أخرجه مسلم من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو عمر و شیبانی نے ان کو ابومسعود انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ مجھ کوضرورت درپیش ہے مجھے سواری چاہئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس تو سواری کے لئے اس وقت کچھ نہیں ہے مگر فلاں آدمی کے پاس جاؤ وہ ان کے پاس گئے ۔ اس نے اسے سواری دے دی اس نے حضورصلی اللہ علیہ سلم کو بتا دیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی خیر کی راہ دلالت کرتا اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے اعمش کے دوسرے طریق سے ۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7655

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7656

7656 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أبو الأزهر نا الأسود بن عامر نا شريك عن الأعمش عن أبي عمرو الشيباني عن أبي مسعود الأنصاري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الدال على خير كفاعله

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو ابوالا زہر نے ان کو اسود بن عامر نے ان کو شریک نے ان کو اعمش نے ان کو ابو عمر وشیبانی نے ان کو ابو مسعود انصاری نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر کے کام پر دلالت کرنے والا خیر کو عملی طور پر کرنے والے جیسا ہوتا ہے۔

الدال على خير كفاعله ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7656

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7657

7657 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن عبد الله العبسي الكوفي ح و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة نا إبراهيم بن عبد الله نا جعفر بن عون عن طلحة بن عمرو عن عطاء عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كل معروف صدقة و الدال على الخير كفاعله و الله يحب إغاثة اللهفان و في حديث الأصم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر قاضی نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ عبسی کوفی نے ’’ ح ‘‘ ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابوائق نے ان کو ابوبکر بن ابو دارم حافظ نے کوفے میں ان کو ابراہیم بن عبد اللہ نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو طلحہ بن عمرو نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ فرمایا ہر اچھا کام صدقہ ہے خیر پر دلالت ورہنمائی کرنے والا خودکر نے والے جیسا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے مجبور کی فریادرسی کرنے کو اور حدیث اصم میں ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و، ← إبراهيم بن عبد الله العبسي الكوفي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7657

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7658

7658 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد ببغداد نا الحسين بن حميد بن الربيع نا علي بن بهرام أبو جحيفة العطار نا ابن أبي كريمة عن ابن جريج عن عطاء عن جابر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال المؤمن مألوف و لا خير فيمن لا يألف و لا يؤلف و خير الناس من نفع الناس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو نے اور عثمان بن احمد نے بغداد میں ان کو حسین بن حمید بن ربیع نے ان کو علی بن بہرام نے ان کو ابو جحیفہ عطار نے ۔ ان کو ابن ابو کر یمہ نے ان کو ابن جریج نے ان کو عطاء نے ان کو جابر نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کو مؤمن ہر دل عزیز ہوتا ہے۔ اور اس آدمی میں کوئی خیر نہیں ہوتی جو نہ خود الفت و محبت کرے اور نہ اس سے کوئی الفت وانس کرے اور سب لوگوں سے بہتر وہ ہوتا ہے جو لوگوں کو فائدہ دے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، ← علي بن بهرام أبو جحيفة العطار ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7658

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7659

7659 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن يونس نا عمرو بن عاصم الكلابي حدثني عبيد الله بن الوارع عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خلقان يحبهما الله و خلقان يبغضهما الله فأما اللذان يحبهما الله فالسخاء و السماحة و أما اللذان يبغضهما الله فسوء الخلق و البخل و إذا أراد الله بعبد خيرا استعمله على قضاء حوائج الناس

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو عمرو بن عاصم کلابی نے ان کو عبید اللہ بن وارع نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: دو صفات ایسی ہیں جن کو اللہ پسند کرتا ہے سخاوت اور عنایت اور دو صفات ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا بخل اور بداخلاقی ۔۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو لوگوں کی حوائج پوری کرنے پر استعمال کرتا ہے ۔ (اور مقرر کرتا ہے۔)

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عبيد الله بن الوارع ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7659

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7660

7660 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قراءة و أبو عبد الرحمن السلمي املاء قالا نا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أبو سعيد عمران بن عبد الرحيم الأصبهاني نا أحمد بن يحيى المصيصي نا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن ابن جريج عن عطاء عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من عبد أنعم الله عليه نعمة فأسبغها عليه إلا جعل إليه شبئا من حوائج الناس فإن تبرم بهم فقد عرض تلك النعمة للزوال

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے بطور قرآت کے اور ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے بطور املاء کے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبد اللہ صفار نے ان کو ابوسعید عمران بن عبدالرحیم اصفہانی نے ان کو احمد بن یحییٰ مصیصیی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو اوزاعی نے ان کو ابن جریج نے ان کو عطا ء نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسا بندہ نہیں جس پر اللہ تعالیٰ انعام کرتا ہے کسی نعمت کا اور اس نعمت کو وہ اس پر پورا کر دیتا ہے مگر اس کی طرف کچھ لوگوں کی حاجات بنا دیتا ہے اگر وہ ان سے قطع تعلق کر لیتا ہے تو اس نعمت کا زوال شروع ہو جاتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أحمد بن يحيى المصيصي ← أبو سعيد عمران بن عبد الرحيم الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو عبد الله الحافظ قراءة و أبو عبد الرحمن السلمي املاء

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7660

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7661

7661 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علان بن إبراهيم الكرخي نا الحسين بن إسحاق العجلي نا أحمد بن عبد الله الغنوي نا جرير بن عبد الحميد عن ليث عن مجاهد { و جعلني مباركا } قال : نافعا للناس

ہمیں خبر دی ابوعبد اللہ حافظ نے ان کو علان بن ابراہیم کرخی نے ان کو حسین بن اسحاق عجلی نے ان کو احمد بن عبداللہ غنوی نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے ۔ وجعلنی مبارکاً( کہ اللہ نے مجھے مبارک بنایا ہے ) ۔ فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ مجھے لوگوں کے لئے نفع دینے والا بنایا ہے۔

نافعا للناس ← مجاهد و جعلني مباركا ← لَيْثٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أحمد بن عبد الله الغنوي ← الحسين بن إسحاق العجلي ← علان بن إبراهيم الكرخي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7661

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7662

7662 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن أحمد بن محمد بن سهل بن سهلويه المزكي و أنا سألته نا أبو نصر أحمد بن محمد بن نصر اللباد نا أحمد بن حنبل حدثني الوليد بن مسلم عن الأوزاعي عن عبدة بن أبي لبابة عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله أقواما اختصهم بالنعم لمنافع العبد و يقرها فيهم ما بذلوها فإذا منعوها نزعها عنهم و حولها إلى غيرهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن سہل بن سہلویہ مزکی نے جب کہ میں نے ان سے پوچھا تھا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابونصر احمد بن محمد بن نصر لباد نے ان کو احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ولید بن مسلم نے ان کو اوزاعی نے ان کو عبدہ بن ابولبابہ نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ مخصوص لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کچھ خاص نعمتوں کے ساتھ مختص کر لیتے ہیں ، بندوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ، اور ان نعمتوں کو ان لوگوں میں برقرار رکھتے ہیں جب تک وہ انہیں بندوں کے لئے خرچ کرتے رہتے ہیں جب ان کو وہ لوگوں سے روک لیتے ہیں اللہ تعالیٰ و ہ نعمتیں ان سے چھین لیتا ہے اور انہیں ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرف بدل دیتا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← أبو نصر أحمد بن محمد بن نصر اللباد ← سَأَلْتُهُ ← أبو الحسن أحمد بن محمد بن سهل بن سهلويه المزكي و ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7662

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7663

7663 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن بن هانئ لفظا من أصل كتابه نا جدي أحمد بن محمد بن نصر فذكره بإسناده مثله غير أنه قال نا الأوزاعي عن عبدة عن نافع عن ابن عمر و هكذا روي عن أبي مطيع معاوية بن حلي الشامي و أبي عثمان عبد الله بن زيد الحمصي الكلبي عن الأوزاعي و قد قيل في رواية أبي مطيع عن الأوزاعي عن عبدة عن نافع عن ابن عمر : ـ

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن بن ہانی نے زبانی طور پر اپنی اصل تحریر سے ہمیں خبر دی ہمارے دادا احمد بن محمد بن نصر نے اس نے اس کو نقل کیا ہے اپنی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی مثل علاوہ ازیں اس نے کہا کہ ہمیں خبر دی اوزاعی نے ان کو عبدہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے اور اسی طرح روایت کیا گیا ہے ابومطیع معاویہ بن حلی شامی سے اور ابوعثمان عبداللہ بن زید حمصی کلبی نے اوزاعی سے اور یہ بھی کہا گیا ہے ابومطیع نے روایت کی ہے اوزاعی سے اس نے عبدہ سے اس نے نافع سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ۔

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7663

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7664

7664 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا الحسن بن سفيان نا عمرو بن الحصين الكلابي نا ابن علاثة و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا بكير بن محمد الحداد الصوفي بمكة نا أيوب بن عبد الله العربي نا عمرو بن الحصين العقيلي نا محمد بن عبد الله بن علاثة عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن مالك بن عامر عن معاذ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما عظمت نعمة الله على عبد إلا كثرت مؤونة الناس عليه فمن لم يحمل تلك المؤونة على نفسه و في رواية الحسن فمن لم يحتمل مؤونة الناس فقد عرض تلك النعمة للزوال قال أبو عبد الله : هذا حديث لا أعلم أنا كتبناه إلا بإسناده و هذا الكلام مشهور عن الفضل بن عياض

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو عمرو بن حصین کلابی نے ان کو ابن علاثہ نے ۔اور ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو بکیر بن محمد حدادصوفی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ایوب بن عبداللہ عربی نے ان کو عمرو بن حسین عقیلی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن علاثہ نے ان کو ثور بن یزیدان کو خالد بن معدان نے ان کو مالک بن عامر نے ان کو معاذ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جس قدر اللہ کی نعمت کسی بندے پر عظیم سے عظیم تر ہوتی جاتی ہے اسی قدر اس پر لوگوں کی آزمائش اور مشقت ذمہ داری بھی زیادہ ہو جاتی ہے جو شخص اس تکلیف کو اور ذمہ داری کو اپنے اوپر برداشت نہیں کرتا یا اپنے اوپر نہیں اٹھاتا ۔ اور حسن کی ایک روایت کے مطابق جو شخص لوگوں کی ذمہ داری یا لوگوں کا بوجھ نہیں اٹھاتا وہ اس نعمت کو زوال کے لئے پیش کرتا ہے ۔ ابوعبداللہ نے کہا یہ وہ حدیث ہے جس کو میں نہیں جانتا بے شک ہم نے اس کو لکھا ہے مگر اسی سند کے ساتھ اور یہ کلام مشہور ہے فضیل بن عیاض سے ۔

مُعَاذٌ، ← مالك بن عامر ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، ← أيوب بن عبد الله العربي ← بُكَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَدَّادُ الصُّوفِيُّ بِمَكَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← ابن علاثة و ← عمرو بن الحصين الكلابي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7664

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7665

7665 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو النضر الفقيه نا الفضيل بن عبد الله اليشكري قال : سمعت الفيض بن إسحاق سمعت الفضيل بن عياض يقول : أما علمتم حاجة الناس إليكم نعمة من الله عليكم فاحذروا أن تملوا النعم فتصير نقما قلت : و قد روي ذلك بإسناد ضعيف عن ثوركما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافط نے ان کو ابونضر فقیہ نے ان کو فضل بن عبد اللہ یشکری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فیض بن اسحٰق سے اس نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں۔ کیا تم لوگ لوگوں کی اس حاجت کو جو تمہاری طرف ہے اپنے اوپر اللہ کی نعمت نہیں سمجھتے ہو تم لوگ اس بات سے ڈرو کہ تم نعمتوں سے اکتا جاؤ لہذا وہ نعمت سز ابن جائے ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ سند ضعیف کے ساتھ مروی ہے ثور سے جیسے ذیل میں ہے۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْفَيْضُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الفضيل بن عبد الله اليشكري ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7665

chevron_left Previous
1…456…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood