شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7654
7654 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان حدثني أبو المغلس عبد ربه بن خالد بن عبد الملك بن قدامة النميري قال : سمعت أبي يذكر عن عابد بن ربيعة النميري أن علي بن بحير حدثه عن الحارث بن شريح : أنه انطلق مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى صلى معه في المسجد الذي بين مكة و المدينة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المسلم أخو المسلم إذا لقيه رد عليه من السلام بمثل ما حياه به أو أحسن من ذلك و إذا استأمره نصح له و إذا استنصره على الأعداء نصره و إذا استنعته قصد السبيل يسره و نعت له و إذا استعاره أحد على العدو أعاره و إذا استعاره أحد لم يعره و إذا استعاره الجبة أعاره لا يمنعه الماعون قالوا يا رسول الله صلى الله عليه و سلم و ما الماعون ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الماعون في الحجر و الماء و الحديد قالوا و أي الحديد قال قدر النحاس و حديد الفاس الذي تمتهنون به قالوا فما هذا الحجر قال : القدر من الحجارة
ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان بغدادی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو المغلس عبدربہ بن خالد بن عبدالملک بن قدامہ نمیری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ ذکر کرتے تھے عابد بن ربیعہ نمیری سے کہ علی بن بحیر نے ان کو حدیث بیان کی ہے حارث بن شریح سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے گئے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز بھی پڑھی اسی مسجد میں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جب اس سے ملتا ہے تو اس کے سلام کا جواب دیتا ہے اس کے مثل جو اس نے سلام کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر وہ جب اس سے مشورہ چاہتا ہے تو یہ اس کی خیر خواہی کرتا ہے ۔ جب اس سے اپنے دشمن کے خلاف مدد مانگتا ہے تو وہ اس کی مددکرتا ہے ۔ جب وہ اس سے استعانت مانگتا ہے (میانہ روی ) درمیانے راستے کی تو وہ اس کو آسان کرتا ہے ۔ اور اس کے لئے بیان کرتا ہے۔ جب اس سے کوئی چیز ادھاری مانگتا ہے کوئی دشمن کے خلاف تو وہ اس کو دے دیتا ہے اور جب کوئی دوسرا اس سے ادھار طلب کرتا ہے تو اس کو نہیں دیتا۔ جب اس سے جب ادھار مانگتا ہے تو دے دیتا ہے اس سے ماعون معمولی چیز کو نفع نہیں کرتا ۔لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ماعون کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ماعون ۔ پتھر میں ہے پانی میں ہے ،لو ہے میں ہے ۔لوگوں نے پوچھا کہ کون سا لوہا مراد ہے؟ فرمایا تانبہ کی ہنڈیا ،لوہے کی کلہاڑی جس سے تم خدمت لیتے ہو ۔لوگوں نے پوچھا کہ یہ پتھر کونسا مراد ہے فرمایا کہ پتھر کی ہنڈیا مراد ہے۔
عابد بن ربيعة النميري أن علي بن بحير ← أَبِي يَذْکُرُ ← أبو المغلس عبد ربه بن خالد بن عبد الملك بن قدامة النميري ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو علي بن شاذان البغدادي
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7654
