Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7810

7810 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر نا السري بن خزيمة نا سعيد بن سليمان الواسطي نا إسماعيل بن زكريا عن عاصم عن أنس قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم قوما يبايعونه و فيهم رجل بيده خلوق فجعل يبايعهم و يؤخره حتى جعله في آخرهم و قال صلى الله عليه و سلم : إن طيب الرجال ما خفي لونه و ظهر ريحه و طيب النساء ما ظهر لونه و خفي ريحه قال أبو عبد الله رواه إبراهيم بن أبي طالب و أبو حامد بن الشرقي عن السري بن خزيمة و قد حدثناه شيخنا أبو بكر بن إسحاق من كتابه أنا أبو العباس محمد بن الحسن الأنماطي نا سعيد بن سليمان فذكره بنحوه لفظا واحدا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبدالرحمن ٰمحمد بن عبد اللہ تاجر نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو سعید بن سلیمان واسطی نے ان کو اسماعیل بن زکریا نے عام سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے پاس آئے وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت ہونے لگے ان میں ایک آدمی تھا جس کے ہاتھ میں خوشبو تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کی بیعت کرتے رہے اور اس کو پیچھے کرتے گئے اس آخر میں بیعت کیا اور فرمایا کہ بے شک مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ مخفی ہو اور خوشبو ظاہر عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبوخفی ہو۔ ابوعبداللہ نے کہا اس کو روایت کیا ہے ابراہیم بن ابوطالب نے اور ابوحامد بن شرقی نے ان کو سری بن خزیمہ نے اور ہمیں یہ حدیث بیان کی تھی ہمارے شیخ ابو بکر بن اسحٰق نے اپنی کتاب سے ان کو ابوالعباس محمد بن حسن انماطی نے ان کو سعید بن سلیمان نے اس نے اسے مذکور کی مثل ذکر کیا ہے ایک جیسے الفاظ میں ۔

أَنَسٍ، ← عَاصِمٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7810

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7811

7811 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري بمرو نا أبو الموجه أنا عبدان نا عبد الله أنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لعن الله الواصلة و المستوصلة و الواشمة و المستوشمة قال نافع : الوشم من المثلة رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن مقاتل عن عبد الله بن المبارك و أخرجاه من حديث يحيى عن عبيد الله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس قاسم بن قاسم سیاری نے مرو میں ۔ان کو ابوالموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبد اللہ نے ان کو خبر دی عبید اللہ بن عمر نے ان کو نافع سے ابن عمر سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لعنت کرے بالوں میں جوڑ یا پیوند لگانے والے کو اور لگوانے والی کو جسم کو گود کر رنگ بھرنے والی کو بھروانے والی کو ۔ نافع نے کہا کہ وثم یعنی جسم پر پھول وغیرہ بھروانا مثلہ کرنا ہے یعنی قدرتی صورت کو بگاڑنا ہے ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن مقاتل سے اس نے عبداللہ بنمبارک سے ۔ اور بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے یحییٰ بن عبید اللہ کی حدیث سے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7811

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7812

7812 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر نا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم الواشمات و المستوشمات و المتنمصات و المتفلجات للحسن المغيرات خلق الله فبلغ ذلك امرأة من بني أسد يقال لها أم يعقوب و كانت تقرأ القرآن فأتته فقالت : ما حديث بلغني عنك أنك لعنت الواشمات و المستوشمات و المتنمصات و المتفلجات للحسن المغيرات خلق الله فقال عبد الله : و ما لي لا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم و هي في كتاب الله فقالت المرأة : لقد قرأت ما بين لوحي المصحف فما وجدته فقال : لئن كنت قرأتيه لقد وجدتيه قال الله تبارك و تعالى : { وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا } قالت المرأة : و لكني أرى شيئا على امرأتك الآن قال : اذهبي فانظري قال : فذهبت فنظرت فلم تر شيئا قالت : ما رأيت شيئا فقال عبد الله : أما لو كان ذلك لم نجامعها روياه في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم و غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اورہمیں خبر دی ابوعمرو بن ابو جعفر نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن عبدالرحمان نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو منصور نے ان کو ابراہیم نے ان کو علقمہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے لعنت کی تھی جسم گودنے والی عورتوں کو، اور گودوانے والی عورتوں کو، اور بھنویں بنوانے والی عورتوں کو، اور دانت کشادہ کروانے والی عورتوں کو جو خوبصورتی کے لئے ایسا کرتی ہیں اور اللہ کی تخلیق بگاڑنے والیوں کو یہ خبر قبیلہ بنواسد کی ایک عورت کو پہنچی جس کو ام یعقوب کہتے تھے وہ قرآن مجید پڑھتی رہتی تھی وہ یہ اللہ کے پاس آئی اور آ کر پوچھا یہ کیا حدیث ہے جو میرے پاس پہنچی ہے تیری طرف سے کہ تم نے لعنت کی ہے جسم گود کر نشان لگانے والیوں کو اور لگوانے والیوں کو اور بھنووں کے بال صاف کرنے والیوں کو اور دانتوں کو کشادہ کروانے والیوں کو خوبصورتی کے لئے اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں کو ۔ کہا عبداللہ نے مجھے کیا ہو گیا کہ میں لعنت نہ کروں اس کو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے ۔اور یہی بات کتاب اللہ میں ہے۔ اس عورت نے کہا میں نے قرآن کی دونوں تختیوں کے درمیان جو کچھ ہے اس کو پڑھا ہے مجھے تو یہ بات اس میں نہیں ملی عبداللہ نے کہا اگر تم کو توجہ سے پڑھا ہوتا تو تم اس کو ضرور اس میں پالتیں اللہ تبارک وتعالی ٰنے ارشاد فرمایا ہے۔ما اتا كم الرسول فخذوه وما نها كم عنه فانتهوا(الحشر)جو کچھ تمہیں رسول دے اس کو لے لو اور جس چیز سے وہ تمہیں منع کرے اس سے تم رک جاؤ ۔ اس عورت نے کہا مگر میں نے تو یہ چیز دیکھی ہے تیری بیوی پر ابھی ابھی ۔ عبداللہ نے کہا کہ ابھی جائیے اور جا کر دیکھئے کہتے ہیں وہ عورت چلی گئی اور جا کر دیکھا اسے کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی ۔ واپس آ کر بتایا کہ میں نے تو کچھ نہیں دیکھا۔ عبداللہ نے کہا خبر دار اگر ایسی بات ہوتی تو ہم اس سے صحبت ہی نہ کر تے ۔ بخاری ومسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن ابراہیم وغیرہ سے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أبو عبد الله الحافظ و

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7812

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7813

7813 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن شجاع الصوفي ببغداد أنا أبو بكر بن الأنباري نا أحمد بن الخليل البرجلاني نا يونس بن محمد نا فليح عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لعن الله الواصلة و المستوصلة و الواشمة و المستوشمة أخرجه البخاري من حديث يونس بن محمد و قال ابن أبي شيبة نا يونس بن محمد فذكره

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حسین بن شجاع صوفی نے بغداد میں ان کو ابو بکر بن انباری نے ان کو احمد بن خلیل برجلانی نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو فلیج نے ان کوزید بن اسلم نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ لعنت کرے بالوں میں جوڑ لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اور جسم کو گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر ۔ بخاری نے اس کو نقل کیا ہے یونس بن محمد کی حدیث سے اور ابن ابوشیبہ نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے یونس بن محمد نے اس نے اسی کو ذکر کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ الْبُرْجُلَانِيُّ، ← أبو بكر بن الأنباري ← أبو عبد الله الحسين بن شجاع الصوفي ببغداد

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7813

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7814

7814 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس الدوري نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح بن كيسان عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن هشام عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن بسر بن سعيد قال : أخبرتني زينب الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لها : إذا خرجت إلى العشاء الآخرة فلا تمسي طيبا أخرجه مسلم من حديث مخرمة بن بكير و ابن عجلان عن بكير

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس دوری نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کوان کے والد نے ان کو صالح بن کیسان نے ان کو محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن ہشام نے ان کو بکیر بن عبداللہ بن اشج نے ان کو بسر بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے زینب ثقفیہ زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تھا کہ جب تم عشاء کی نماز کے لئے جایا کرو تو خوشبو نہ لگایا کرو۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث مخرمہ بن بکیر سے اور ابن عجلان نے بکیر سے ۔

أخبرتني زينب الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بن عمرو بن هشام، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7814

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7815

7815 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا أحمد بن منصور نا النضر بن شميل نا ثابت بن عمارة الحنفي نا غنيم بن قيس الكعبي عن أبي موسى الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا ريحها فهي زانية و كل عين زانية

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو ثابت بن عمار حنفی نے ان کو غنیم بن قیس کعبی نے ان کو ابوموسی ٰاشعری نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جون سی عورت عطر لگا کر لوگوں کے پاس گذرتی ہے تا کہ لوگ اس کی خوشبو پائیں پس وہ زانیہ ہے اور ہر آ نکھ جو اس کو دیکھے گی وہ بھی زانیہ ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ الْكَعْبِيُّ ← ثابت بن عمارة الحنفي ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7815

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7816

7816 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن سليم البرلسي نا عيسى بن إبراهيم نا عبد العزيز بن مسلم نا مطر الوراق عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما بعد العصر فقال في خطبته : ألا إن الدنيا خضرة حلوة وإن الله عز و جل مستخلفكم فيها فناظر كيف تعملون فاتقوا الدنيا و اتقوا النساء فإن أول فتنة كانت في بني إسرائيل من قبل النساء حتى إن المرأة القصيرة كانت تتخذ الخفين من الخشب فتحاذي المرأة الطويلة و حتى إن المرأة كانت تحشو خاتمها من أطيب المسلم فإذا مرت بنادي القوم حركت خاتمها فإذا وجد ريحها سألوا عنها هذا حديث رواه أيضا خليد بن جعفر و غيره عن أبي نضرة مختصرا و من ذلك الوجه أخرجه مسلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن سلیم برلسی نے ان کو عیسیٰ بن ابراہیم نے ان کو عبدالعزیز بن مسلم نے ان کومطر وراق نے ان کو ابونضرہ نے ان کو ابوسعید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو خطبہ دیا ایک دن عصر کی نماز کے بعد اور اپنے خطبے میں ارشادفرمایا: خبردار بےشک دنیا سر سبز ہے یعنی تروتازہ ہے میٹھی ہے۔ اور بے شک اللہ تعالی ٰ تم لوگوں کو اس میں جانشین بنائے گا اور نائب بنائے گا اور آزمائے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو پس تم بچنا دنیا سے اور تم بچناعورتوں سے بے شک پہلا فتنہ جو بنی اسرائیل میں واقع ہوا تھاوہ عورتوں کی طرف سے تھا یہاں تک کہ ایک چھوٹے قد کی عورت لکڑی کے موزے بنواتی تھی اور ان کو پہن کر وہ لمبی عورتوں کے برابر بنتی تھی اور ایک عورت اپنی انگوٹھی میں بہترین اور قیمتی خوشبو بھرواتی تھی اور وہ جب گذرتی تھی تو لوگوں کو آواز دیتی اور مخاطب کرتے ہوئے اپنی انگوٹھی کو حرکت دی تھی جب اس کی خوشبو مہکتی تھی تو لوگ اس کے بارے میں پوچھتے تھے ۔ اس حدیث کو بھی روایت کیا ہے خلید بن جعفر نے وغیرہ نے ابونضرہ سے مختصر طور پر اور اسی طریق سے اس کو نقل کیا ہے مسلم نے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبُرُلُّسِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7816

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7817

7817 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان نا أحمد بن يحيى الحلواني نا أحمد بن يونس نا زهير نا ليث عن مجاهد قال : خرجت امرأة متزنية فبلغ ذلك عمر رضي الله عنه فأرسل إليها فاختبأت منه فأرسل إلى زوجها فاختبأ فقام فخطب فقال : ما هذه الخارجة أم هذا المرسلها أما لو أتيت بها لسترت بها أو لشرت بها و به فإذا أرادت أن تخرج لحاجة فلتخرج متنكرة في بذلتها فإذا فرغت من حاجتها فلترجع إلى بيتها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو احمد بن یحییٰ حلوانی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کوزہیر نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے ۔ وہ کہتے ہیں ایک عورت بن سنور کر باہر نکل تھی حضرت عمر کوخبر پہنچ گئی انہوں نے ان کو بلانے کے لئے بندہ بھیجا تو وہ عورت اس سے چھپ گئی پھر اس کے شوہر کے پاس بھیجا تو وہ بھی چھپ گیا۔ حضرت عمر اٹھے اور خطبہ دیا اور فرمایا کیا چیز ہے یہ باہرنکل جانے والی ؟ اور کیا ہو گیا ہے اس کو باہر چھوڑنے والے کو ۔ جان لو !گر تم اس کو بلا کر لے آتے تو میں اس کو پردہ کروا دیتا۔ یا دونوں کو ڈانٹتا یا سزا دیتا۔ پس جب وہ باہر نکلنے کا ارادہ کرتی ہے کسی ضرورت کے لئے تو اسے چاہئے کہ وہ اوپری اور اجنبی بن کر پرانے کپڑے پہن کر نکلے اور جب اپنی ضرورت سے فارغ ہوتو اسے جلدی واپس اپنے گھر لوٹ آنا چاہئے ۔

مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7817

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7818

7818 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا سليمان بن حرب نا حماد بن سلمة نا أبو جعفر الخطمي عن عمارة بن خزيمة بن ثابت قال : كنا مع عمرو بن العاص في حج أو عمرة فلما كنا بمر الظهران إذا امرأة في هودجها واضعة يدها على هودجها فلما نزل دخل الشعب و دخلنا معه فقال : كنا في هذه الشعب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و إذا غربان كثيرة فيها غراب أعصم أحمر المنقار و الرجلين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يدخل الجنة من النساء إلا كقدر هذا الغراب في هذه الغربان

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوعثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو سلیما بن حرب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو جعفر خطمی نے ان کو غمارہ بن خزیمہ بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ حج وعمرے کے سفر میں حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ جب ہم مقام مرظہران میں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے اونٹ پر کجاوے میں بیٹھی تھی اس نے اپنا ہاتھ کجاوے کے اوپر رکھا ہواتھا۔ حضرت عمرو بن العاص جب اترے تو گھاٹی میں داخل ہو گئے ہم لوگ بھی ان کے ساتھ داخل ہو گئے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ اسی گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچھانک دیکھا تو یہاں پر بہت سارے کوے جمع ہو گئے تھے ان کووں میں سفید کوا اٹھا جس کی چونچ اور پیری سرخ تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا جنت میں عورتیں داخل نہیں ہوں گی مگر ایسے کوئے کی مقدار میں ان تمام کووں میں ۔

عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7818

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7819

7819 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه نا أبو علي صالح بن محمد البغدادي الحافظ عبد الرحمن بن بشر الحكم نا بهز بن أسد عن شعبة عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : النساء عورة و إن المرأة لتخرج من بيتها بلباس يستشرفها الشيطان يقول : ما مررت بأحد إلا أعجبته و إن المرأة لتلبس ثيابها فيقال لها : أين تريدين فتقول أعود مريضا أشهد جنازة أصلي في مسجد و ما عبدت امرأة ربها بمثل أن تعبد في بيتها قال أبو علي صالح و هذا الحديث استفدناه بنيسابور

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابونضر محمد بن محمد بن یوسف فقیہ نے ان کو ابوعلی صالح بن محمد بغدادی حافظ نے ان کو عبدالرحمن ٰبن بشر الحکم نے ان کو بہز بن اسد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابواسحاق نے ان کو ابوالاحوص نے ان کو عبداللہ نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتیں پوشیدہ رہنے کی چیز ہیں بے شک عورت جب اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے بن سنور کر تو شیطان اس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ جس کے پاس سے بھی گذرے گی اسی کو اچھی لگے گی۔ بے شک عورت جب کپڑے پہنتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہاں جانے کا ارادہ ہے وہ کہتی ہے کہ میں بیمار کو پوچھوں گی۔ میت میں جاؤں گی مسجد میں نماز پڑھوں گی۔ حالانکہ نہیں عبادت کرتی کوئی عورت اپنے رب کی اس عبادت جیسی جو وہ اپنے گھر میں کرتی ہے ۔ابوعلی صالح نے کہا یہ حدیث ہے جس کو ہم نے نیشا پور میں حاصل کیا تھا۔

النساء عورة و ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← أبو علي صالح بن محمد البغدادي الحافظ عبد الرحمن بن بشر الحكم ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7819

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7820

7820 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و كتبه لي بخطه نا أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي أنا الحسن بن علي بن زياد نا ابن أبي أويس حدثني أخي عن سليمان بن بلال عن شريك بن أبي نمر عن يحيى بن جعفر بن أبي كثير عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة عن القاسم عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن تصلي المرأة في بيتها خير من أن تصلي في حجرتها و لأن تصلي في حجرتها خير من أن تصلي في الدار و أن تصلي في الدار خير من أن تصلي في المسجد

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے اور انہوں نے اس کولکھا ہے میرے لئے اپنے خط کے ساتھ ۔ان کو ابوالعباس محمد بن اسحاق ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو ابن ابو اویس نے ان کو حدیث بیان کی ان کے بھائی نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو شریک بن ابونمر نے ان کو یحییٰ بن جعفر بن ابو کثیر نے ان کو محمد بن عبدالرحمن ٰبن ابولیبہ نے قاسم سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اگر اپنی خواب گاہ میں نماز پڑھے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اس کے کمرے میں نماز پڑھنے سے اور اگر وہ اپنے کمرے میں نماز پڑھے تو یہ اس کے لئے بہتر گھر میں پڑھنے سے اور اگر وہ اپنے گھر میں نماز پڑھے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ وہ مسجد میں نماز پڑھے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة ← يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي ← أبو نصر بن قتادة و كتبه لي بخطه

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7820

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7821

7821 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا أبو النضر هاشم بن القاسم نا ابن أبي ذئب ح و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف نا محمد بن يوسف عن سفيان عن ابن أبي ذئب عن الحرث بن الحكم عن أبي عمرو بن حماس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس للنساء سراة الطريق يعني وسط الطريق هذا لفظ حديث الفقيه و ليس في رواية أبي عبد الله و صاحبه يعني وسط الطريق و زاد و قال أبو علي الحسن بن مكرم فصحبت أبا عبيد في طريق الجامع يوم الجمعة فقال : يا أبا عبيد ليس للنساء سراة الطريق قال : يمشين في الجنبات

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر قاضی نے ان دونوں نے کہا کہ انہوں نے خبر دی ابوالعباس بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم کو ابوالنضر نے ان کو ہاشم بن قاسم نے ان کو ابن ابو ذئب نے ”ح اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو حرث بن حکم نے ان کو ابو عمرو بن حماس نے وہ کہتے ہیں کہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے لئے سڑک اور راستے کا پیچ نہیں ہے یعنی وسط راستہ ۔ یہ الفاظ حدیث فقیہ کے ہیں اور ابوعبداللہ کی روایت اور اس کے ساتھی کی روایت میں نہیں ہے ۔ وسط طریق کے الفاظ ۔ اور زیادہ کیا ہے ابوعلی حسن بن مکرم نے کہ میں نے جمعہ کے دن جامع مسجد کے راستے میں ابوعبید کے ساتھ ساتھ چلا۔ انہوں نے کہا اے ابوعبید ۔عورتوں کے لئے راستے کا وسط اور بیچ نہیں ہے فرمایا کہ وہ کناروں کناروں پر چلا کریں۔

أَبِي عَمْرِو بْنِ حَمَاسٍ ← الحرث بن الحكم ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7821

chevron_left Previous
1…16171819
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood