Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7786

7786 - أخبرنا أبو زكريا نا أبو العباس نا بحر بن نصر نا ابن وهب قال : سمعت حيوة بن شريح عن الحجاج بن شداد أنه سمع الحجاج يقول : سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أبي بكر و عمر فلم يكونا حاضرين ثم أتيا بعد فسألهما رسول الله صلى الله عليه و سلم : أين كنتما قالا : كنا نغتسل قال : كيف صنعتما ؟ قال : أحدهما دخل صاحبي الماء فاغتسل و حولت إليه قفاي و سترت بيني و بينه بثوب فلما فرغ و خرج دخلت الماء اغتسل فصنع مثل ما صنعت فقال لهما رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحسنتما هذا أيضا مرسل

ہمیں خبر دی ابوز کریانے ان کو ابو العباس نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حیوۃ بن شریح سے اس نے حجاج بن شداد سے اس نے سنا حجاج سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا مگر دونوں موجود نہیں تھے اس کے بعد وہ آ گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کہاں تھے انہوں نے بتایا کہ ہم غسل کر رہے تھے ۔ آپ نے پوچھا کہ تم نے غسل کیسے کیا؟ ایک نے کہا کہ ہم میں سے ایک پانی میں داخل ہو گیا اس نے غسل کیا اور میں نے اس کی طرف اپنی پیٹھ کر لی اور اس کے اور اپنے درمیان کپڑے سے آڑ کر لی وہ جب فارغ ہو گیا تو میں پانی میں داخل ہو گیا اور اس نے ویسے کیا جیسے میں نے کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سے کہا کہ تم دونوں نے اچھا کیا۔ یہ بھی مرسل ہے۔

الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو زَكَرِيَّا

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7786

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7787

7787 - أخبرنا أبو زكريا نا أبو العباس نا بحر بن نصر نا ابن وهب أنا أسامة بن زيد عن نافع أن عبد الله بن عمر : كان لا يدخل ماء إلا و عليه إزار

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابوالعباس نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وھب نے ان کو اسامہ بن زید نے نافع سے یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پانی میں بغیر تہبند کے داخل نہیں ہوتے تھے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو زَكَرِيَّا

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7787

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7788

7788 - أخبرنا أبو زكريا نا أبو العباس نا بحر نا ابن وهب أنا الليث عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال : اتقوا الله و استحيوا و تواروا و لا يغتسل أحد منكم إلا و عليه سترة و ليستره أخوه و لو بثوبه قال : و نا ابن وهب أخبرني عبد الرحمن بن سلمان عن عمرو مولى المطلب عن الحسن قال : و بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لعن الله الناظر و المنظور إليه قال : و نا ابن وهب حدثني يحيى بن أيوب عن محمد بن عجلان أن عمر بن عبد العزيز قال : النظر إلى عورة الصغير كالنظر إلى عورة الكبير

ہمیں خبر دی ابوزکریا نے ان کو ابوالعباس سے ان کو بحر بن وہب نے ان کو خبر دی لیث نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے انہوں نے کہا اللہ سے ڈرو اور شرم کرو ننگے ہونے سے اور تم میں سے کوئی آدمی اس طرح غسل نہ کرے مگر اس پر کوئی ستر ڈھکنے کا کپڑا ہو یا اس کا ساتھی اس کو کپڑے سے چھپائے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عبدالرحمن ٰبن سلمان نے عمر ومولی ٰمطلب سے اس نے حسن سے انہوں نے فرمایا۔ مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ٰ شرم گاہ دیکھنے والے پر لعنت کرے اور جس نے دکھائی اس پر بھی ۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابن وہب نے ان کو حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ایوب نے محمد بن عجلان سے یہ کہ عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ چھونے کی شرم گاہ کود یکھنا بڑے کی شرم گاہ کو دیکھنے کی طرح ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بَحْرٌ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو زَكَرِيَّا

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7788

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7789

7789 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة عن محمد بن عمرو عن محمد بن المنكدر عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال : اغتسلت أنا و آخر فرآنا عمر بن الخطاب و أحدنا ينظر إلى صاحبه قال : إني لأخشى أن يكونا من الخلف الذي قال الله عز و جل : { فخلف من بعدهم خلف أضاعوا الصلاة و اتبعوا الشهوات فسوف يلقون غيا }

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ابواسامہ نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اور ایک دوسرے آدمی نے غسل کیا ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں دیکھا کہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کو دیکھ رہا تھا حضرت عمر نے فرمایا کہ میں البتہ ڈر رہا تھا کہ یہ دونوں ان خلف میں نہ ہو جائیں جن کے بارے میں اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے۔فخلف من بعد هم خلف اضاعوا الصلاة واتبعوا الشهوات فسوف يلقون غيا (مريم ۵۹) ان کے بعد کچھ ایسے نا خلف پیدا ہو گئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور شہوات کی اتباع کی وہ عنقریب جہنم کی وادی غی میں داخل ہوں گے ۔

إني لأخشى أن يكونا من الخلف الذي ← و آخر فرآنا عمر بن الخطاب و أحدنا ينظر إلى صاحبه ← ((اغْتَسَلْتُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7789

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7790

7790 - أخبرنا أبو عبد الله سمعت أبا الطيب محمد بن أحمد الذهلي يقول : دخل أبو العباس محمد بن عبد الرحمن الفقيه الحمام فرأى بعض إخوانه عريانا فغمض عينيه فقال له العريان : منذ كم عميت قال : منذ هتك الله سترك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالطيب محمد بن احمد ذہلی سے وہ کہتے ہیں کہ ابوالعباس محمد بن عبدالرحمن ٰفقیہ حمام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے بعض بھائیوں برہنہ حالت میں دیکھا تو اپنی نگاہیں نیچی کر لیں جو بھائی ننگا تھا اس نے دوسرے سے کہا کہ تم کب سے اندھے ہو گئے ہواس نے جواب دیا جب سے اللہ نے تیرا پردہ پاش کر دیا ہے ۔

أبا الطيب محمد بن أحمد الذهلي ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7790

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7791

7791 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو سعيد محمد بن الفضل المذكر نا أبو قريش نا عبد الله بن يزيد نا محمد بن عبد الله المروزي قال : كان ابن المبارك إذا دخل الحمام ثم خرج صلى ركعتين و استغفر لما رئي منه و رأى من نفسه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوسعید محمد بن فضل مذکر نے ان کو ابوقریش نے ان کو عبداللہ بن یزید نے ان کو محمد بن عبداللہ مروزی نے وہ کہتے ہیں کہ ابن مبارک جب حمام میں داخل ہو کر تو جب باہر نکلتے تھے تو دو رکعت پڑھتے تھے اور استغفار کرتے تھے اس بات پر کہ جو اس کو دیکھ لیا گیا ہو یا انہوں نے خوداپنے آپ کو دیکھا ہو۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أبو قريش ← أبو سعيد محمد بن الفضل المذكر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7791

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7792

7792 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد نا السري بن خزيمة نا أبو غسان نا مندل بن علي العنزي عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أتى أحدكم أهله فليستتر و لا يتجردان تجرد العيرين تفرد به مندل بن علي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن حاتم زاہد نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو ابو غسان نے ان کو مندل بن علی عنزی نے ان کو اعمش نے ان کو ابو وائل نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جب کوئی اپنی اہلیہ کے پاس آئے تو اس کو چاہئے کہ پردے میں رہے اور دونوں ننگے نہ ہو جائیں جیسے گدھے ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ مندل بن علی اکیلے ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنْزِيُّ، ← أبو غسان، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7792

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7793

7793 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ أنا الجنيدي نا البخاري نا عبد الله بن أبي الأسود نا الحسن بن أبي القاسم قال : ذكرنا لشريك حديث مندل عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم : إذا أتى أهله فلا يتجردا تجرد العيرين فقال : كذب أنا أخبرت الأعمش عن عاصم عن أبي قلابة

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو خبر دی جنیدی نے ان کو بخاری نے ان کو عبد اللہ بن ابوالاسود ان کو حسن بن ابوالقاسم نے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے شریک سے حدیث مندل سنی ان سے اعمش نے اس نے ابو وائل سے اس نے عبداللہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جس وقت کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو دونوں ننگے نہ ہو جائیں جانوروں کی طرح انہوں نے فرمایا کہ جھوٹ بولا میں نے ہی خبر دی تھی اعمش کو عاصم سے اس نے ابوقلابہ سے ۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← عَاصِمٍ، ← الْاَعْمَشِ ← كَذَبَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← ذَكَرْنَا لِشَرِيكٍ حَدِيثَ مِنْدَلٍ، ← الحسن بن أبي القاسم ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، ← الْبُخَارِيِّ ← الجنيدي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7793

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7794

7794 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة قال : قال أنس بن مالك أنا أعلم الناس بهذه الأشياء لما أهديت زينب إلى النبي صلى الله عليه و سلم كانت معه في البيت و صنع طعاما فجاء القوم فكانوا في البيت فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرج و القوم مكانهم ثم يرجع و هم قعود فأنزل الله عز و جل : { يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم فادخلوا } قرأها إلى قوله : { فاسألوهن من وراء حجاب } فضرب الحجاب و قام القوم رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب

ہمیں خبر دی ابواالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے ا ن کو حماد بن زید نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے وہ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا میں سب لوگوں سے ان چیزوں کو زیادہ جانتا ہوں۔ کہ جب زینب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کی گئی اور گھر میں ان کے ساتھ رہنے لگی آپ نے ولیمہ کا کھانا تیار کروایا لوگ آ ئے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بیٹھے رہ گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر چلے گئے تو بھی لوگ وہی وہ بیٹھے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو بھی وہ بیٹھے ہوئے تھے (مسلسل مہمانوں کے بیٹھنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دشواری پیش آ رہی تھی ۔) اللہ تعالی ٰ نے یہ آیت اتاری۔ يايها الذين آمنوا لاتدخلوا بيوتا النبي الآان يؤذن لكم الى طعام غير ناظرین اناه ولكن اذا دعيم فادخلوا. تا. فاسئلوهن من وراء حجاب (احزاب 53)اے ایمان والومت داخل ہوا کرو نبی علیہ السلام کے گھروں میں ہاں مگر یہ ہے کہ اگر تمہارے لئے اجازت مل جائے کھانے کی مگر اس کے پکنے کا انتظار نہ کریں۔ اور جب بلائے جاؤ تو داخل ہوا کرو۔ (یہ لمبی آیت انس رضی اللہ عنہ سے یہاں سے آخر تک پڑھی ) چیز مانگ لیا کریں ازواج مطہرات سے پردے کے پیچھے سے۔ اس آیت کے بعد پردہ مقرر کر دیا گیا اور لوگ اٹھ کر چلے گئے ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سلیمان بن حرب سے ۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن المقري

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7794

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7795

7795 - أخبرنا علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا سليمان بن حرب و مسدد قالا : نا حماد بن زيد عن سالم العلوي عن أنس قال : لما نزلت آية الحجاب كنت أدخل كما كنت أدخل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : وراءك يا بني قال : و نا يوسف نا شيبان بن فروح نا جرير بن حازم نا سالم عن أنس بن مالك قال : كنت أدخل على رسول الله بغير إذن قال : فجئت يوما لأدخل فقال : على مكانك يا بني إنه قد حدث بعدك أمر لا تدخل علينا إلا بإذن قال الإمام أحمد رحمه الله : هذا عام في جميع الأوقات و تخصيص ذلك بالساعات الثلاثة لكونه خادما و الكلام في معنى المملوك ولم يبلغ الحلم فيما ذهب إليه الحليمي لا يبين لي فالخادم إذا كان حرا بالغا فدخل عليهن في غير هذه الساعات الثلاث ربما وقع بصره على ما يظهر منهن فضلا و ذلك غير جائز لمن لم يكن محرما و هو يفارق المملوك الذي هو كالمحرم في ظاهر المذهب فلا يدخل عليهن إلا بإذن في جميع الأوقات و الله أعلم

ہمیں خبر دی علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور مسدد نے ۔ دونوں نے کہا ان کو خبر دی حماد بن زید نے ان کو سالم علوی نے ان کو انس نے وہ فرماتے ہیں کہ جب حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ تو اس وقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا کرتا تھا۔ نبی کریم نے فرمایا اے بیٹے رک جاؤ، یا پیچھے رہو۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی یوسف نے ان کو شیبان بن فروخ نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو سالم نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے گھر پر داخل ہوا کرتا تھا بغیر اجازت مانگے ۔ایک دن جب میں اندر داخل ہونے کے لئے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ پر رک جاؤ بے شک تیرے جانے کے بعد ایک نیا حکم آیا ہے ۔ کہ آپ ہمارے پاس اجازت کے ساتھ داخل ہوا کریں گے ( بغیر اجازت نہیں ۔ )امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا وضاحتی حکم : امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ عام ہے تمام اوقات کے لئے ۔ اور اس کی تخصیص تین اوقات کے ساتھ اس کے خادم ہونے کی وجہ سے ہے۔ اور یہاں کلام غلام کے بارے میں اور نابالغ کے بارے میں ہے۔ جس میں حلیمی گئے ہیں میرے لئے واضح نہیں ہو گا۔ اور خادم جب آزاد ہو ( غلام نہ ہو ) بالغ ہو ( نابالغ بچہ نہ ہو ) اور وہ خواتین کے پاس تین اوقات کے علاوہ جائے تو ایسا اوقات اس کی نظر اس پر واقع ہوسکتی ہے جوان خواتین سے ظاہر ہو اور یہ نا جائز ہے اس کے لئے جو محرم نہیں ہے اور وہ اس غلام سے مختلف ہے جو محرم کی طرح ہے ظاہر مذ ہب میں وہ ان کے پاس نہیں جاسکتا مگر اجازت کے ساتھ تمام اوقات میں ۔ واللہ اعلم ۔

أَنَسٍ، ← سالم العلوي ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سليمان بن حرب و مسدد ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7795

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7796

7796 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن أحمد بن عبد الواحد بن عبدوس نا موسى بن أيوب النصيبي نا الوليد بن مسلم عن سعيد بن بشير عن قتادة عن خالد بن دريك عن عائشة قالت : دخلت أسماء بنت أبي بكر على رسول الله صلى الله عليه و سلم و عليها ثياب شامية رقاق فأعرض عنها ثم قال : ما هذا يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن يرى منها إلا هذا و هذا و أشار إلى وجهه و كفيه

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کومحمد بن احمد بن عبد الواحد بن عبد الواحد بن عبدوس نے ان کو موسیٰ بن ایوب نصیبی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو قتادہ نے ان کو خالد بن در یک نے ان کو سیدہ عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئی اور انہوں نے بار یک شامی کپڑے پہن رکھے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا پھر فرمایا یہ کیا ہے اے اسماء؟ بے شک عورت جب بالغ ہو جاتی ہے تو اس کے جسم سے کوئی چیز نہیں دیکھی جاسکتی مگر صرف اتنی اور اتنی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔

عَائِشَةَ ← خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7796

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7797

7797 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو أحمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الفاكهي نا أبو يحيى بن أبي ميسرة نا عبد الله بن يزيد المقري نا حيوة أخبرني أبو هانئ أن أبا علي الجنبي عمرو بن مالك حدثه عن فضالة بن عبيد : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : ثلاثة لا يسأل عنهم رجل فارق الجماعة و عصى إمامه فمات عاصيا و أمة أو عبد أبق من سيده فمات و امرأة غاب عنها زوجها و قد كفاها مؤونة الدنيا فتبرجت بعد فلا تسل عنهم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابواحمد عبداللہ بن اسحاق بن ابراہیم فاکھی نے ان کو ابو یحیی ٰبن ابو میسرہ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کوحیوۃ نے ان کو خبر دی ہے ابو ہانی نے یہ کہ ابوعلی جنبی عمرو بن مالک نے اس کو حدیث بیان کی ہے فضالہ بن عبید سے اس نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخص ہیں ان کے بارے سوال ہی نہیں کیا جائے گا (یعنی بغیر سوال کے عذاب دیئے جائیں گے )۔ ( ۱ ) وہ آدمی جو جماعت سے جدا ہو جائے اور اپنے امام وخلیفہ کی نافرمانی کرے اور نافرمان ہی مر جائے ۔ (۲) اور وہ لونڈی یا غلام جو اپنے مالک سے بھاگ جائے اور مر جائے ۔ (۳) اور وہ عورت جس کا شوہر اس سے غائب ہو جائے اور دنیا کی محنت ومشقت سے اس کی کفایت کرے مگر اس کے باوجود وہ بن سنور کر ( غیر مردوں کے لئے نکلے ) پس مت پوچھوان کے بارے میں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَبُو هَانِئٍ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ، ← حَيْوَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَيْسَرَةَ ← أبو أحمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الفاكهي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7797

chevron_left Previous
1…1516171819
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood