Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7762

7762 - و أخبرنا أبو زكريا نا أبو العباس نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن محمد بن أبي جهم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم استأجر أجيرا يرعى له أو في بعض أعماله فأتاه رجل فقال : يا رسول الله أرأيت فلانا كاشفا عن عورته ما يبالي فأرسل إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتاه كاشفا عن عورته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من لم يستحي من الله في العلانية لم يستحي منه في السر فأعطوه حقه حق ينطلق

اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کریا ان کو ابوالعباس ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابن لہیعہ نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو سعید بن ابو ہلال نے ان کومحمد بن ابوجہم نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مزدور کو اجرت پر رکھا کہ وہ آپ کی بکریاں چرائے گا یا بعض دیگر کاموں کے لئے بھی ۔اس کے بعد ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آ کر کہا یا رسول اللہ میں نے آپ کے فلاں مزدور کو دیکھا ہے کہ وہ ننگا پھرتا رہتا ہے وہ اس بارے میں کوئی پرواہ بھی نہیں کرتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس پیغام بھیج کر اس کو بلوایا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ننگا ہی چلا آیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا۔ جو شخص جلوت میں اللہ تعالی ٰ سے حیا نہیں کرتا وہ اس سے خلوت میں بھی حیا نہیں کرتا اس کو اس کا حق دے دو تا کہ یہ یہاں سے چلا جائے ۔

محمد بن أبي جهم ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو زَكَرِيَّا ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7762

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7763

7763 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا قالا : نا أبو العباس نا بحر بن نصر نا ابن وهب حدثني عمرو بن الحارث أن سليمان بن زياد الحضرمي حدثه : أن عبد الله بن الحارث بن جرير الزبيدي حدثه أن مر و صاحب له يقال له أيمن و فتية من قريش قد حلوا أزرهم فجعلوها مخاريق يجتلدون بها و هم عراة قال عبد الله : فلما مررنا بهم قال : إن هؤلاء محتسبون أو قالوا : قسيسون فدعوهم ثم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج عليهم فلما أبصره تبددوا فرجع رسول الله صلى الله عليه و سلم مغضبا حتى دخل و كنت أنا وراء الحجر فأسمعه يقول : سبحان الله لا من الله استحيوا و لا من رسوله استتروا و أيمن أو قال : أم أيمن عنده يقول : استغفر لهم يا رسول الله قال عبد الله : فلا و الله استغفر لهم و رواه ابن لهيعة عن سليمان بن زياد و قال و فيه و أم أيمن عنده تقول : استغفر لهم يا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : غفر الله لهم و هو في زيادات الفوائد

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے اور ابوز کریانے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالعباس نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو عمر و بن حارث نے یہ کہ سلیمان بن زیاد حضرمی نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ عبداللہ بن حارث بن جریرزبیدی نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ وہ اور اس کا ایک ساتھی جس کا نام ایمن تھا وہ دونوں گذر رہے تھے انہوں نے دیکھا کہ قریش کے کچھ نو جوانوں نے اپنے تہہ بند اتارے ہوئے ہیں۔اور ان کو رسیوں کی صورت میں بٹ کر ان کے ساتھ ایک دوسرے کو مار ر ہے ہیں وہ اسی حالت میں ننگے (کھیل کر رہے ہیں ) عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا جب ہم ان کے پاس سے گذرے۔ میرے ساتھی نے کہا کہ یہ لوگ اس کو اچھا کام یا ثواب سمجھتے ہیں یا لوگوں نے کہا کہ یہ راہب و پادری ہیں چھوڑو ان کو ( یعنی انہیں اپنی حالت پر رہنے دو ) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سمجھانے کے لئے گھر سے نکلے ۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو سب کے سب تتر بتر ہو گئے حضور غصے کی حالت میں واپس لوٹے اور اندر داخل ہو گئے اور میں پتھر کی آڑ میں کھڑا ہوا سن رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: سبحان الله لا من الله استحيوا ولا من رسوله استتروا اللہ پاک ہے ۔ نہ اللہ سے حیا ء کرتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے رسول سے چھپتے ہیں ۔ اور ایمن ان کے پاس تھا یا راوی نے ام ایمن کہی تھی ۔ اس نے کہا یارسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے دعا کریں ۔استغفار کریں۔ عبداللہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں میں ان کے بارے میں استغفار نہیں کروں گا ۔ اور اس کو روایت کیا ابن لہیعہ نے سلیمان بن زیاد سے انہوں نے اس میں کہا ہے کہ ام ایمن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اس نے کہا یا رسول اللہ ! ان کے حق میں استغفار کیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بخش دے ان کو اور یہ روایت زیارات الفوائد میں ہے۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7763

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7764

7764 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا أبو سهل بن زياد القطان نا إسحاق الحربي نا عفان نا حماد أنا ثابت عن أنس أن أبا موسى الأشعري : كان يلبس تبانا فيه مخافة أن تنكشف عورته

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو ابوسہل بن زیاد قطان نے ان کو اسحاق حربی نے ان کو عفان نے ان کوحماد نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے ان کو ابوموسی ٰاشعری رضی اللہ عنہ نے کہ وہ لنگوٹ یا جانگیا پہنتے تھے اور وہی پہن کر سوتے بھی تھے اس بات کے ڈر سے کہ اس کی شرمگاہ نہ کھل جائے ۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7764

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7765

7765 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا موسى بن إسماعيل نا حماد عن عبد الله بن شداد عن أبي عذرة عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن دخول الحمامات ثم رخص للرجال أن يدخلوها في الميازر 7765 - مكرر أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن جعفر الأديب نا محمد بن إبراهيم العبدي نا أبو الأصبع عبد العزيز بن يحيى نا محمد بن سلمة نا محمد بن إسحاق عن ابن طاوس ح و عن السختياني عن طاوس عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اتفقوا بيتا يقال له الحمام قالوا : يا رسول الله إنه يذهب الدرن و ينفع المريض قال : فمن دخله فليستتر و كذلك رواه موسى بن أعين عن ابن إسحاق عن ابن طاوس موصولا كما

ہمیں خبر دی ابوعلی رود باری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کوموسی ٰبن اسماعیل نے ان کو حماد نے ان کو عبد اللہ بن شداد نے ان کو ابو عذرہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا غسل خانوں میں داخل ہونے سے ۔ اس کے بعد مردوں کے لئے اجازت دے دی تھی کہ وہ تہہ بند باندھ کر داخل ہوا کر یں ۔ ( مکرر ہے ) ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر ادیب نے ان کو محمد بن ابراہیم عبدی نے ان کو ابو الاصبع عبدالعزیز بن یحییٰ نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کومحمد بن اسحاق نے ان کو ابن طاؤس نے ’’ ح ‘‘ انہوں نے سختیانی سے اس نے طاؤس سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بچو اس گھر سے جسے حمام کہا جاتا ہے ۔لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! وہ تو جسم کی میل کچیل دور کرتا ہے۔ اور بیما ر کو فائدہ دیتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص داخل ہو اس کو چاہئے کہ وہ ستر ڈھکے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے موسٰی بن اعین نے ابن اسحٰق سے اس نے ابن طاؤس سے بطور موصول روایت کے ۔ )

عَائِشَةَ ← أَبِي عُذْرَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7765

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7766

7766 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصفار نا إسماعيل بن إسحاق نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد نا أيوب عن عبد الله بن طاوس عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنهاكم عن بيت يقال له الحمام فذكره بنحوه مرسلا و هو المحفوظ

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب نے ان کوعبداللہ بن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تمہیں منع کرتا ہوں اس گھر سے جس کو حمام کہا جاتا ہے۔ راوی نے اس جیسی روایت مرسل نقل کی ہے اور وہی محفوظ ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7766

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7767

7767 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا إبراهيم بن بشار عن سفيان بن عيينة نا ابن طاوس عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : احذروا بيتا يقال له الحمام قالوا : إنه ينقي الوسخ و يذهب الأذى و ينفع لكذا و كذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فمن دخله منكم فليستتر و كذلك رواه روح بن القاسم عن ابن طاوس و جماعة عن سفيان الثوري عن ابن طاوس مرسلا و روي عن الثوري موصلا و ليس بمحفوظ

اور ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بشار نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس گھر سے بچو جس کو حمام کہتے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ وہ تو میل کچیل صاف کرتا ہے اور گندگی دور کرتا ہے اور یہ فائدہ دیتا ہے رسول اللہ نے فرمایا کہ پھر جو بھی اس میں داخل ہوتم میں سے اس کو چاہئے کہ وہ ستر ڈھکے۔اسی طرح اس کو روایت کیا ہے روح بن قاسم نے ان کو ابن طاؤس نے اور ایک جماعت نے سفیان ثوری سے اس نے ابن طاؤس سے بطور مرسل روایت کیا ہے ثوری سے بطور موصول روایت ہے مگر محفوظ نہیں ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7767

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7768

7768 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان نا سعيد بن عثمان الأهوازي نا صلت بن مسعود نا يحيى بن عثمان نا عبد الله بن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس البيت الحمام قال قائل أو قائلون : يا رسول الله إنه يداوي فيه المريض و يذهب فيه الوسخ قال : فإن فعلتم فلا تفعلوا إلا و أنتم مستورون

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابوسہل بن زیاد قطان نے ان کو سعید بن عثمان اہوازی نے ان کو صلت بن مسعود نے ان کو یحیی ٰبن عثمان نے ان کو عبداللہ بن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بری جگہ حمام ہیں ۔ کسی کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ ! حمام میں مریض کا علاج ہوتا ہے اور اس میں میل کچیل دور ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم کرنا چاہتے ہوتو پھر نہ کرو مگر اس حالت میں کہ تم ستر ڈھکنے والے ہو ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ ← صَلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ ← سعيد بن عثمان الأهوازي ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7768

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7769

7769 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا عمرو بن الربيع بن طارق و أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة نا أبو الحسين محمد بن أحمد بن حامد العطار أنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار الصوفي نا يحيى بن معين نا عمرو بن الربيع بن طارق حدثني يحيى بن أيوب عن يعقوب بن إبراهيم و هو ابن حنين عن محمد بن ثابت بن شرحبيل عن عبد الله بن سويد و في رواية يعقوب عن عبد الله بن سويد و لم يقل الخطمي عن أبي أيوب الأنصاري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم جاره و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بمئزر و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر من نسائكم فلا يدخلن الحمام قال : فنميت ذلك إلى عمر بن عبد العزيز في خلافته فكتب إلى أبي بكر بن عمرو بن حزم أن سل محمد بن ثابت عن حديثه فإنه رضا فسأله ثم كتب إلى عمر فمنع عمر النساء من الحمام لفظ حديث يعقوب و لم يقل يحيى و هو ابن حنين و لم يذك إكرام الضيف و عبد الله هذا إن كان الخطمي فاسم أبيه يزيد و لكن كان في كتاب ابن سويد عنهما حميعا رواه شيخنا أبو عبد الله الحافظ من حديث عمرو بن يحيى حدثني أبو يوسف يعقوب عن عبد الرحمن بن حمير عن محمد بن ثابت بن شرحبيل عن عبد الله بن يزيد الخطمي

ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان بغدادی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عمرو بن ربیع بن طارق نے ۔ اور ہمیں خبر دی ابونصر عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ان کو ابوالحسین محمد بن احمد بن حامد عطار نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار صوفی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو عمرو بن ربیع بن طارق نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ایوب نے یعقوب بن ابراہیم (یعنی ابن حنین سے ۔ ) ان کو محمد بن ثابت بن شرحبیل نے ان کو عبداللہ بن سوید نے اور یعقوب کی ایک روایت میں ہے عبداللہ بن سوید سے اور انہیں کہا الخطمی ان کو ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت کے دن پر اس کو چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے ۔ اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔اس کو چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے یا وہ چپ رہے ۔ اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں بغیر تہبند کے نہ جائے ۔ اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تمہاری عورتوں میں سے وہ ہرگز حمام میں داخل نہ ہوا کریں (یعنی بغیر لباس کے ۔ ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز کی خلافت میں یہ حدیث ان کو پہنچائی انہوں نے اس کولکھا ابو بکر بن عمرو بن حزم کی طرف کہ آپ محمد بن ثابت سے پوچھئے ان کی حدیث کے بارے میں وہ تیار ہو گئے اور اس نے ان سے پوچھا پھر انہوں نے عمر کی طرف لکھا۔ لہذا عمر بن عبدالعزیز نے عورتوں کو حمام میں جانے سے منع کر دیا۔ یہ الفاظ یعقوب کی روایت کے ہیں ۔اس نے یحییٰ کا ذکر نہیں کیا اور اسی کا نام ابن حنین ہے ۔ اور مہمان کے اکرام کا اس میں تذکر ہ نہیں ہے ۔ باقی رہے عبداللہ تو اگر عبداللہ سے مراد الخطمی ہے تو اس کے والد کا نام یزید ہے ۔ مگر ابن سوید کی تحریر میں ان دونوں سے اکٹھے روایت ہے اور ہمارے شیخ ابوعبداللہ حافظ نے اس کو روایت کیا ہے عمرو بن یحییٰ کی حدیث ہے ۔اس نے ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم سے ۔ اور اس کو روایت کیا ہے انہوں نے عبداللہ بن صالح سے اس نے لیث سے اس نے یعقوب سے اس نے عبد الرحمن ٰبن حمیر سے اس نے محمد بن ثابت شرحبیل سے اس نے عبداللہ بن یزید خطمی سے

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عبد الله بن سويد و لم يقل الخطمي ← عبد الله بن سويد و في رواية يعقوب ← مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← يعقوب بن إبراهيم و هو ابن حنين ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ← أبو الحسين محمد بن أحمد بن حامد العطار، ← أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة، ← عمرو بن الربيع بن طارق و ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7769

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7770

7770 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب حدثني عمرو بن الحارث أن عمر بن السائب حدثه أن القاسم بن أبي القاسم حدثه أنه سمع قاص الأجناد بالقسطنطينية يحدث عن عمر بن الخطاب أنه قال : أيها الناس إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فلا يقعد على مائدة يدار عليها الخمر و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بإزار و من كانت تؤمن بالله و اليوم الآخر فلا تدخل الحمام

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم نے ان کوا بن وہب نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عمر بن سائب نے اس کو حد یث بیان کی ہے یہ کہ قاسم بن ابوالقاسم نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا اجناد کا قصہ کرنے والے سے قسطنطنیہ میں وہ حدیث بیان کرتے تھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے کہا اے لوگو! بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ فرماتے تھے! جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت پر وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چلے ۔اور جو شخص اللہ پر اورآخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں نہ جائے مگر تہبند کے ساتھ ۔ اور جوعورت اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ حمام میں داخل نہ ہو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← قاص الأجناد بالقسطنطينية ← أَنَّهُ ← أن القاسم بن أبي القاسم ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7770

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7771

7771 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة نا محمد بن الصباح الصنعاني نا محمد بن شرحبيل نا سفيان عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن أبي المليح عن عائشة قالت : أتت عائشة نساء من أهل الشام فقالت : لعلكن من الكورة التي يدخل نساؤها الحمامات ؟ قلت : نعم قالت : فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أيما امرأة وضعت ثيابها في غير بيتها فقدك هتكت ستر ما بينها و بين الله عز و جل و كذلك رواه شعبة عن منصور

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں ان کو محمد بن صباح صنعانی نے ان کومحمد بن شرحبیل نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو سالم بن ابوالجعد نے ان کو ابوملیح نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے وہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل شام کی عورتوں کے پاس آئیں اور ان سے پوچھا کہ شاید تم اس طبیعت و عادت کی عورتوں میں سے ہو جو عورتیں حماموں میں جاتی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! وہ کہتی ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے جو عورت اپنے گھر کے علاوہ کہیں اپنے کپڑے اتارتی ہے تو وہ اس حجاب اور پردے کو پھاڑ دیتی ہے جو اللہ اور اس کے درمیان ہے ۔اسی طرح اس کو روایت کیا ہی شعبہ نے منصور سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← محمَّد بن الصباح الصنعاني، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7771

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7772

7772 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا يزيد نا أبو جناب يحيى بن أبي حية عن عطاء بن أبي رباح عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس البيت الحمام بيت لا يستر و ماء لا يطهر و ما يسر عائشة أن لها مثل أحد ذهبا و أنها دخلت الحمام و قالت : لو أن امرأة أطاعت ربها و حفظت فرجها ثم آذت زوجها بكلمة باتت و الملائكة تلعنها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوسعید بن ابوعمرو نے ، دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ابو جناب یحییٰ بن ابوحیہ نے ان کو عطاء بن ابور بارح نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برا گھر حمام ہے اور ایسا گھر ہے جس میں پردہ نہیں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات پر خوش نہیں ہے کہ اس کے لئے احد پہاڑ کے برابر سونا ہوگا اس شرط پر کہ وہ حمام میں داخل ہو ۔ اور فرماتی ہیں کہ اگر کوئی عورت اپنے رب کی فرمانبرداری کرتی ہے، اور اپنی عزت کی حفاظت کرتی ہے مگر اس کے بعد وہ اپنے کسی لفظ کے ساتھ اپنے شوہر کو ایذاء پہنچاتی ہے اسی حالت میں اگر وہ رات گذارتی ہے تو فرشتے اس کے اوپر لعنت کر تے رہتے ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، ← يَزِيدُ: ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7772

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحمام · حديث 7773

7773 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة حدثني عبيد الله بن جعفر أنه بلغه عن عائشة عن عائشة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : أف للحمام حجاب لا يستر و ماء لا يطهر بنيان أو ساب للمشركين و مرج الكفار و مرج الشيطان لا يحل لرجل أن يدخله إلا بمنديل مروا المسلمين لا يفتنون نساءهم الرجال قوامون على النساء علموهن القرآن و مروهن بالتسبيح هذا منقطع

ہمیں خبر دی ابوزکر یا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ابن لہیعہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عبید اللہ بن جعفر نے ان کو خبر پہنچی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس ہے حمام کے لئے کیونکہ وہ ایسے حجاب و پردے کی جگہ ہے جو ستر کو نہیں ڈھکتی ۔ اور پانی ہے جو پاک نہیں رہتا۔ یا عمارت کو پاک نہیں کرتا (یعنی یہ جگہ اکثر ناپاک رہتی ہے ) مشرکوں کی میل کفار اور شیطانوں میکنگ میں کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ ان میں بغیر رومال کے یعنی ستر ڈھکے داخل ہو مسلمانوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی عورتوں کو فتنوں میں نہ ڈالیں مرد عورتوں پر ذمہ دار مقرر ہیں انہیں قرآن کی تعلیم دو اور ان کو تسبیح کرنے کا حکم دو ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ ← عبيد الله بن جعفر أنه بلغه ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Seperate in the bathroom · Hadith 7773

chevron_left Previous
1…131415…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood