Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7750

7750 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن أبي قماش نا معلى بن أسد نا عمر بن مساور عن أبي حمزة عن ابن عباس قال : إذا أردت حاجة فباكر حاجتك فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال اللهم بارك لأمتي في بكورها و إذا سألت رجلا حاجة فالقه بوجهك فإن الحياء في العينين و رواه أحمد بن يوسف السلمي عن معلى بن أسد و زاد في متنه عن ابن عباس لا تطلبن حاجة إلى أعمى و لا تطلبها ليلا و زاد في الحديث المسند و اجعل ذلك يوم الخميس 7750 - مكرر ـ و رواه محمد بن جامع عن عمر بن مساور بتمامه غير أنه لم يذكر الزيادة في المسند أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا ابن عدي نا عمران السختياني نا محمد بن جامع نا عمر بن مساور العجلي نا أبو حمزة الضبعي قال : سمعت ابن عباس يقول : لا تطلبن حاجة بليل و لا تطلبها إلى أعمى فإذا طلبت حاجة فاستقبل الرجل بوجه فإن الحياء في العينين و باكر حاجتك فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم بارك لأمتي في بكورها

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابو قماش نے ان کو معلی ٰبن اسد نے ان کو عمرو بن مساور نے ان کو ابوحمزہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ جب تم کسی حاجت کا ارادہ کر و تو صبح سویرے اپنی حاجت پوری کرو (یعنی کسی بھی کام کو صبح سویرے شروع کرو ۔ ) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت میں برکت کی دعا کی تھی۔ اللهم بارك لامتي في بكورها۔ اے اللہ میری امت کے صبح سویرے میں برکت ڈال دے اور جب تم کسی آدمی سے اپنی حاجت کا سوال کرو تو اس کے آگے اپنا چہرہ جھکا لو اس لئے حیاء دونوں آنکھوں میں ہوتی ہے۔ اس کو روایت کیا احمد بن یوسف سلمی نے ان کو معلی ٰبن اسد نے اور اس نے اپنے متن میں اضافہ کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کوئی حاجت نابینا آدمی سے طلب نہ کر و اور رات کو بھی کوئی حاجت تلاش نہ کرو ۔ اور حدیث مسند میں اضافہ کیا ہے کہ بلکہ اپنی حاجت کو جمعرات کے روز پورا کرو ۔ ( مکرر ہے ) اور اس کو روایت کیا ہے محمد بن جامع نے ان کو عمر بن مساور نے مکمل طور پر سوائے اس کے کہ اس نے اضافے کو مسند میں ذکر نہیں کیا۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوسعد مالینی نے ان کو ابن عدی نے ان کو عمران سختیانی نے ان کو محمد بن جامع نے ان کو عمرو بن مساور عجلی نے ان کو ابوحمز ہ ضبعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں تم رات کو کسی کام کی تلاش میں نہ نکلو اور کسی حاجت کو نابینا آدمی سے بھی طلب نہ کرو جب تم کسی آدمی سے کوئی حاجت مانگو تو اس آدمی سے اپنے چہرے کے ساتھ متوجہ ہوا کرو اس لئے کہ حیاء آنکھوں میں ہوتی ہے اور صبح سویرے اپنی حاجت کے لئے نکلا کرو بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اللہ میری امت کے لئے اس کی صبح سویرے میں برکت دے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عُمَرَ بْنِ مُسَاوِرٍ، ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7750

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7751

7751 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت محمد بن عبد الله الواعظ سمعت علي بن محمد الجرجاني يقول : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : هيبة الناس من المؤمن على قدر هيبته من الله و حياؤهم منه على قدر حيائه من الله و حبهم له على قدر حبه الله عز و جل 7751 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد الترقفي نا أبو عبد الله محمد بن عبدوس النيسابوري نا قطن بن إبراهيم نا عمرو بن عون الواسطي نا خالد بن عبد الله عن عبيد الله بن محمد بن عمر بن علي قال : قال زيد بن علي إني لأستحي من عظمته أن أفضي إليه بشيء أستخفيه من غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اس نے سنامحمد بن عبد اللہ واعظ سے اس نے سنا علی بن محمد جرجانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے ہیں لوگوں کا مؤمن سے ڈرنا اس کے اللہ سے ڈرنے کے بقدر ہوتا ہے ۔ اور لوگوں کا مؤمن سے حیاء کرنا اس کے اپنے اللہ سے حیاء کرنے کے بقدر ہوتا ہے اور لوگوں کا مؤمن سے محبت کرنا بھی بقدر اس کے اپنے اللہ سے محبت کرنے کے بقدر ہوتا ہے۔ ( مکرر ہے ) ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوبکر محمد بن احمد ترقفی نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن عبدوس نیشا پوری نے ان کو قطن بن ابراہیم نے ان کو عمر و بن عون واسطی نے ان کو خالد بن عبداللہ نے ان کو عبید اللہ بن محمد بن عمر بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ زید بن علی نے کہا بے شک اللہ کی عظمت سے حیاء کرتا ہوں اس بات سے کہ میں اس کی بارگاہ میں کوئی ایسا عمل پہنچاؤں جس کو میں اس کے ماسوا سے چھپاتا ہوں۔

يحيى بن معاذ الرازي ← علي بن محمد الجرجاني ← محمد بن عبد الله الواعظ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7751

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7752

7752 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال سمعت أبا محمد الباوردي يقول : أبا عبد الله العمري يقول : سمعت أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا سليمان الداراني يقول : قال الله عز و جل إنك إن استحييت مني أنسيت عيوبك و أنسيت بقاع الأرض ذنوبك و محوت من الكتاب زلاتك و لم أناقشك الحساب يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابومحمد باوردی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعبداللہ عمری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا احمد بن ابوالحواری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوسلیمان دارانی سے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی ٰ نے فرمایا کہ بے شک تم اگر مجھ سے شرم و حیا ءکر نے لگ جاؤ تو میں لوگوں کو تیرے عیب بھلوا دوں گا۔ اور زمین کے خطوں کو تیرے گناہ بھلوا دوں گا اور تیرے اعمال نامے سے تیری لغزشات منادوں گا اور میں خود بھی قیامت کے دن تجھ سے حساب کتاب کی سختی نہیں کروں گا ۔

أَبَا سُلَيْمَانَ الدَّارَانِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أبا عبد الله العمري ← أبا محمد الباوردي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7752

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7753

7753 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قال : قرئ على محمد بن مسلمة الواسطي و أنا أسمع نا يزيد بن هارون أنا بهز بن حكيم بن معاوية بن معاوية القشيري ح قال : و أخبرنا أحمد بن سلمان نا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي نا أبو معمر المنقري نا عبد الوهاب نا بهز بن حكيم حدثني أبي عن جدي قال : قلت يا رسول الله عوراتنا ما نأتي منها و ما نذر قال : احفظ عورتك إلا من زوجتك و ما ملكت يمينك قت : يا رسول الله إذا كان القوم بعضهم في بعض قال : إن استطعت أن لا يرينها أحد فلا يرينها قال : قلت يا رسول الله إذا كان أحدنا خاليا ؟ قال : فالله أحق أن يستحى منه من الناس قال : و وضع رسول الله صلى الله عليه و سلم يده على فرجه قال أحمد لفظ حديث عبد الوارث بن سعيد قوله : فالله سبحانه أحق أن يستحيا منه أن يتحمل على عينه بالتستر لئلا يرى العبد ناظرا إلى عورة نفسه لئلا يرى عورة عبده فإن الاحتجاب عن الله غير ممكن و لكنه يرى المكشوف قد ترك أدبه من التستر فيه و يرى المستور مستورا أقام أدبه من التستر فيه فصح الاستجياء منه باللبس و الستر فيه و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ پڑھا گیا محمد بن مسلمہ واسطی پر اور میں سن رہا تھاوہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یزید بن ہارون سے ان کو خبر دی بہز بن حکیم بن معاویہ قشیری سے ’’ ح ‘‘ وہ کہتے ہیں کہ۔ ہمیں خبر دی احمد بن سلمان نے ان کو احمد بن محمد بن عیسی ٰقاضی نے ان کو ابو معمر منقری نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو بہز بن حکیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ، ہماری شرم گاہوں کے بارے میں کیا حکم ہے ہم حکم میں اسے کس قدر ڈھکیں کسی قدر نہ ڈھکیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حفاظت کیجئے اپنی شرم گاہ کی مگر اپنی بیوی سے اور اپنی لونڈی سے میں نے کہا یا رسول اللہ! لوگ بعض بعض میں ہوں یعنی سب اکٹھے ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم استطاعت رکھو کہ وہ شرم گاہ نہ دیکھ سکیں تو نہ دیکھیں (یعنی چھپا کر رکھو ) وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہایا رسول اللہ جب ہمارا کوئی آدمی خلوت میں ہو علیحدگی میں ہو؟ ( یعنی کیا پھر شرم گاہ کھول سکتا ہے؟ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی ٰ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۔ کہتے ہیں کہ یہ بتاتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کے مقام پر سامنے رکھ دیا۔ امام احمد نے فرمایا کہ یہ الفاظ ہیں عبدالوارث بن سعید کی حدیث کے ۔ اور حضور کا یہ فرمان ہے کہ اللہ سبحانہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے بایں صورت ہے کہ وہ اپنی نگاہوں پر بھی چھپنا اور پردہ کرنا لازم کر لے تاکہ بندہ اپنی شرم گاہ کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھے، تا کہ اس کے بندے کی شرم گاہ نہ دیکھی جائے ۔ بے شک اللہ سے چھپنا پردہ کرنا چونکہ ممکن نہیں ہے ۔ مگر بے پر دہ چیز بے پردہ ہی دیکھی جاتی ہے اس لئے بندہ کھلی کو کھلی ہی دیکھتا ہے لہذاوہ اس میں پردہ کرنے والا ادب کو ترک کر دیتا ہے اور وہ مستور کو مستور ہی دیکھا جاتا ہے لہذا اس نے اس کا ادب قائم کیا ہے اس میں پردہ ڈھکنے سے لہذا اس سے حیا کرنا لباس کے ذریعے اور اس میں پردہ ڈھکنا درست ہے۔

قُلْتُ ← جَدِّي، ← أَبِي ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← أبو معمر المنقري ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← و، ← بهز بن حكيم بن معاوية بن معاوية القشيري ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أسمع ← قرئ على محمد بن مسلمة الواسطي و ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7753

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7754

7754 - حدثتا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي نا أحمد بن سيار نا محمد بن خلف العسقلاني نا معاذ بن خالد نا زهير بن محمد عن شرحبيل بن سعد أنه سمع جبار بن صخر يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنا نهينا أن نرى عوراتنا

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محبوبی نے ان کو احمد بن نے ان کو محمد بن خلف عسقلانی نے ان کو معاذ بن خالد نے ان کو زہیر بن محمد نے اس کو شرحبیل بن سعد نے کہ اس نے سنا جبار بن صخر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے شک ہم لوگ منع کر دیئے گئے ہیں کہ ہماری شرم گاہیں نظر آئیں۔

نهينا أن نرى عوراتنا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جبار بن صخر ← شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُعَاذُ بْنُ خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← حدثتا أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7754

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7755

7755 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن الحسين القاضي نا الحارث بن أبي أسامة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن شجاع بن الحسين الصوفي ببغداد أنا أبو بكر محمد بن جعفر بن الهيثم الأنباري نا محمد بن أحمد بن يزيد الرياحي قالا : نا روح نا زكريا بن إسحاق نا عمرو بن دينار قال : سمعت جابر بن عبد الله يحدث : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ينقل معهم الحجارة للكعبة و عليه إزار فقال له العباس عمه : يا ابن أخي لو حللت لك إزارك فجعلته على منكبيك دون الحجارة قال : فحله فجعله على منكبيه فسقط مغشيا عليه فما رئي بعد ذلك اليوم عريانا أخرجاه من حديث روح

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن حسین قاضی نے ان کو حارث بن ابواسامہ نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن شجاع بن حسین صوفی نے بغداد میں ان کوابو بکر محمد بن جعفر بن ہیثم انباری نے ان کومحمد بن احمد بن یزید ریاحی نے دونوں نے کہا۔ ان کو خبر دی ہے روح نے ان کو زکریا بن اسحاق نے ان کو عمرو بن دینار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جابر بن عبد اللہ سے وہ حدیث بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ مل کر کعبے کے لئے پتھر اٹھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہہ بند باندھ رکھا تھا چنانچہ ان کے چچا عباس نے کہا بھتیجے تم ایسے کرو کہ اس تہہ بند کوکھول کر اپنے کندھے پر رکھ لو پھر پتھر اس پر رکھ کر اٹھاؤ۔ آپ نے چچا کی بات مانتے ہوئے ایسے کیا مگر آپ شرم کے مارے گر کر بے ہوش ہو گئے ۔ اس کے بعد حضور نے کبھی ایسانہ کیا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا حد یث روح سے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحٌ، ← محمد بن أحمد بن يزيد الرياحي ← أبو بكر محمد بن جعفر بن الهيثم الأنباري ← أبو عبد الله الحسين بن شجاع بن الحسين الصوفي ببغداد ← و، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7755

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7756

7756 - أخبرنا أبو محمد بن فراس بمكة أنا أبو حفص الجمحي نا علي بن عبد العزيز نا إبراهيم بن زياد سبلان نا يجيى بن سعيد الأموي ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا نا أبو علبي القباني نا سعيد بن يحيى الأموي نا أبي نا عثمان بن حكيم الأنصاري أخبرني أبو أمامة بن سهل بن حنيف عن المسور بن مخرمة قال : أقبلت بحجر أحمله ثقيلا و علي إزار خفيف فانحل إزاري و معي الحجر لم أستطع أن أضعه حتى بلغت به موضعه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارجع إلى ثوبك فخده و لا تمشوا عراة لفظ حديث أبي نصر و حديث ابن فراس مختصر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تمشوا عراة و لم يذكر القصة رواه مسلم في الصحيح عن سعيد بن يحيى بتمامه

ہمیں خبر دی ابومحمد بن فراس نے مکہ مکرمہ میں ان کو بوحفص جمحی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابراہیم بن زیاد سبلان نے ان کو یحییٰ بن سعید اموی نے ” ح‘۔ اور ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن محمد بن احمد بن زکریا نے ان کو ابوعلی قبانی نے ان کو سعید بن یحییٰ اموی نے ان کو ابوعثمان بن حکیم انصاری نے ان کو خبر دی ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے ان کو مسور بن مخرمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں بھاری پتھر اٹھا کر لا رہا تھا اور میں نے ہلکی پھلکی چادر پہن رکھی تھی وہ کھل گئی اور گر گئی اور میرے پاس بھاری پتھر تھا میں اس کو رکھ بھی نہیں سکتا تھا لہذا میں نے اس کو اس کی جگہ پر پہنچا دیا۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فورا ً چاہئے اپنے کپڑے کو اٹھائے اور تم لوگ برہنہ نہ چلو ۔ یہ الفاظ ابونصر کی حد یث کے ہیں اور ابن فراس کی حدیث مختصر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ننگے مت چلو ۔ مگر اس نے قصہ ذکر نہیں کیا۔اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سعد بن یحییٰ سے مکمل طور پر ۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ← أبو علبي القباني ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← يجيى بن سعيد الأموي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو حفص الجمحي ← أبو محمد بن فراس

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7756

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7757

7757 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا محمد بن رافع بن أبي فديك نا الضحاك عن زيد بن أسلم عن عبد الرحمن بن أبي سعيد عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل و لا تنظر المرأة إلى عورة المرأة و لا يفضي الرجل إلى الرجل في الثوب و لا تفضي المرأة إلى المرأة في الثوب رواه مسلم عن محمد بن رافع

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن رافع بن ابوفدیک نے ان کو ضحاک نے ان کوزید بن اسلم نے ان کو عبدالرحمن ٰبن ابوسعید نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی آدمی کی شرمگاہ نہ دیکھے اور عورت بھی عورت کی شرم گاہ نہ دیکھے اور آدمی ایک ہی کپڑے میں آدمی سے جسم نہ ملائے اسی طرح عورت عورت کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں نہ ملے ۔اس کومسلم نے روایت کیا ہے محمد بن رافع سے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الضَّحَّاكُ، ← محمد بن رافع بن أبي فديك ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7757

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7758

7758 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا إسماعيل بن جعفر نا العلاء بن عبد الرحمن عن أبي كثير مولى محمد بن جحش عن محمد بن جحش قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم و أنا معه على معمر و فخذاه مكشوفتان فقال : يا معمر غط فخذك فإن الفخذ عورة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء بن عبد الرحمن ٰنے ان کو ابو کثیر مولی ٰمحمد بن جحش نے ان کو محمد بن جحش نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گذرے معمر کے پاس اور ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور معمر کی دونوں رانیں کھلی ہوئی تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اےمعمر! آپ اپنی رانوں کو ڈھک دیجئے کیونکہ ران ستر ہے۔

يَا مَعْمَرُ، غَطِّ فَخْذَكَ؛ فَإِنَّ الْفَخْذَ عَوْرَةٌ ← معه على معمر و فخذاه مكشوفتان ← مر النبي صلى الله عليه و سلم و ← محمد بن جحش ← أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7758

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7759

7759 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق نا أحمد بن إبراهيم نا يحيى بن بكير نا الليث بن سعد بن أبي وقاص أن أبا سعيد الخدري قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لبستين و بيعتين نهى عن الملامسة و المنابذة في البيع و الملامسة مس الرجل ثوب الآخر بيده بالليل و النهار و لا يقلبه إلا يذلك و المنابذة أن ينبذ الرجل إلى الرجل ثوبه و ينبذ الآخر ثوبه و يكون ذلك بيعهما من غير نظر و لا تواطي و اللبستين اشتمال الصماء و الصماء أن يجعل ثوبه على أحد عاتقيه فيبدو أحد شقيه ليس عليه ثوب و اللبسة الآخرى احتباؤه بثوبه و هو جالس ليس على فرجه منه شيء رواه البخاري عن يحيى بن بكير

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کولیث بن سعد نے ان کو یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے کہ انہوں نے کہا مجھے خبر دی عامر بن سعد بن ابو وقاص نے کہ ابوسعید خدری نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے لباس پہننے سے منع کیا تھا اور دو طرح کی بیع سے منع کیا تھا۔ بیع ملامست سے اور بیع منابذہ سے منع فرمایا تھا۔ بیع ملامستہ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک آدمی دوسرے کے کپڑے کو ہاتھ سے چھو لیتا ہے دن ہو یا رات ہو ۔ وہ اس کو بیع شمار کرتا تھا۔ منابذہ کی صورت یہ ہوتی کہ ایک آدمی دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دیتا ہے اور دوسرا بھی اپنے کپڑا پھینک دیتا ہے یہی ان دونوں میں بیع کا عقد ہوتا ہے اس چیز میں مبیع کو نہیں دیکھا جاتا ۔ اور نہ ہی دونوں میں متفق ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ ( جاہلیت کی ان دونوں طرح کی بیع کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تھا ۔ ) اور دو طرح کا پہناوا منع ہے ۔ایک اشتمال صماء ہے۔ صماء کی صورت اس طرح ہوتی ہے کہ ایک آدمی اپنے کپڑے کو دونوں کندھوں میں سے کسی ایک کندھے پر ڈال لیتا ہے اور دوسرے کندھے یا پہلوکو بغیر کپڑے کے ظاہر اور ننگارکھتا ہے اس پر کپڑ ا نہیں ہوتا۔ اور دوسرا پہناوا احتباء کرنا ہے اپنے کپڑے کے ساتھ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ انسان بیٹھے ہوئے اوپر سے کپڑا لپیٹتا ہے اس کی شرم گاہ نیچے سے ظاہر رہتی ہے اس پر کوئی کپڑا وغیر ہ نہیں ہوتا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے یحییٰ بن بکیر ہے۔

قاص ← الليث بن سعد بن أبي ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7759

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7760

7760 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن بشر أخو خطاب أنا عبيد الله بن عمر الجشمي نا يزيد بن خالد نا ابن جريج أخبرني حبيب بن أبي ثابت عن عاصم بن ضمرة عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تبرر فخذيك و لا تنظر إلى فخذ حي و لا ميت

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن بشر نے ( جو خطاب کا بھائی ہے ) ان کو عبید اللہ بن عمر جثمی نے ان کو یزید بن خالد نے ان کو ابن جریج نے ان کو خبر دی حبیب بن ابو ثابت نے ان کو عاصم بن ضمرہ نے ان کو علی بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی دونوں ران ظاہر مت کرو اور کسی زندہ یامردہ کی ران کو نہ دیکھنا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ ← عبيد الله بن عمر الجشمي ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ أَخُو خَطَّابٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7760

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستر العورة · حديث 7761

7761 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر بن سابق نا ابن وهب أخبرني عقبة بن نافع عن إسحاق بن أسد عن رجل عن أنس بن مالك قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما إلى غنم له و فيها أجير له يرعاها فإذا الأجير يتجرد فيها فدعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : كم لك عندنا من أجرك فقال : لم يا رسول الله ألم أحسن الرعاية و الولاية ؟ قال : لا إني أحب أن يكون فينا من يستحي من الله عز و جل إذا خلا

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابواسحٰق مزکی نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر بن سابق نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عقبہ بن نافع نے ان کو اسحٰق بن اسد نے ایک آدمی سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اپنی بکریوں کی طرف نکلے ان میں آپ کا اجرت پر رکھا ہوا چرواہا تھا وہ ننگا پھر رہا تھا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کو بلا کر فرمایا تیری کتنی اجرت ہے ہمارے ذمے اس نے کہا کیوں یا رسول اللہ؟ کیا میں نے بکریاں چرانے کا کام صحیح نہیں کیا اور صحیح دیکھ بھال نہیں کی ؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات نہیں ہے بلکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ ہمارے اندر وہ شخص ہو جو اکیلا اور خلوت میں رہتے ہوئے بھی اللہ سے حیا کیا کرے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← رَجُلٌ: ← إسحاق بن أسد ← عُقْبَةَ بْنِ نَافِعٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر بن سابق، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › Chapter on covering the private parts · Hadith 7761

chevron_left Previous
1…121314…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood