شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7750
7750 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن أبي قماش نا معلى بن أسد نا عمر بن مساور عن أبي حمزة عن ابن عباس قال : إذا أردت حاجة فباكر حاجتك فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال اللهم بارك لأمتي في بكورها و إذا سألت رجلا حاجة فالقه بوجهك فإن الحياء في العينين و رواه أحمد بن يوسف السلمي عن معلى بن أسد و زاد في متنه عن ابن عباس لا تطلبن حاجة إلى أعمى و لا تطلبها ليلا و زاد في الحديث المسند و اجعل ذلك يوم الخميس 7750 - مكرر ـ و رواه محمد بن جامع عن عمر بن مساور بتمامه غير أنه لم يذكر الزيادة في المسند أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا ابن عدي نا عمران السختياني نا محمد بن جامع نا عمر بن مساور العجلي نا أبو حمزة الضبعي قال : سمعت ابن عباس يقول : لا تطلبن حاجة بليل و لا تطلبها إلى أعمى فإذا طلبت حاجة فاستقبل الرجل بوجه فإن الحياء في العينين و باكر حاجتك فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم بارك لأمتي في بكورها
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابو قماش نے ان کو معلی ٰبن اسد نے ان کو عمرو بن مساور نے ان کو ابوحمزہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ جب تم کسی حاجت کا ارادہ کر و تو صبح سویرے اپنی حاجت پوری کرو (یعنی کسی بھی کام کو صبح سویرے شروع کرو ۔ ) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت میں برکت کی دعا کی تھی۔ اللهم بارك لامتي في بكورها۔ اے اللہ میری امت کے صبح سویرے میں برکت ڈال دے اور جب تم کسی آدمی سے اپنی حاجت کا سوال کرو تو اس کے آگے اپنا چہرہ جھکا لو اس لئے حیاء دونوں آنکھوں میں ہوتی ہے۔ اس کو روایت کیا احمد بن یوسف سلمی نے ان کو معلی ٰبن اسد نے اور اس نے اپنے متن میں اضافہ کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم کوئی حاجت نابینا آدمی سے طلب نہ کر و اور رات کو بھی کوئی حاجت تلاش نہ کرو ۔ اور حدیث مسند میں اضافہ کیا ہے کہ بلکہ اپنی حاجت کو جمعرات کے روز پورا کرو ۔ ( مکرر ہے ) اور اس کو روایت کیا ہے محمد بن جامع نے ان کو عمر بن مساور نے مکمل طور پر سوائے اس کے کہ اس نے اضافے کو مسند میں ذکر نہیں کیا۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوسعد مالینی نے ان کو ابن عدی نے ان کو عمران سختیانی نے ان کو محمد بن جامع نے ان کو عمرو بن مساور عجلی نے ان کو ابوحمز ہ ضبعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں تم رات کو کسی کام کی تلاش میں نہ نکلو اور کسی حاجت کو نابینا آدمی سے بھی طلب نہ کرو جب تم کسی آدمی سے کوئی حاجت مانگو تو اس آدمی سے اپنے چہرے کے ساتھ متوجہ ہوا کرو اس لئے کہ حیاء آنکھوں میں ہوتی ہے اور صبح سویرے اپنی حاجت کے لئے نکلا کرو بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اللہ میری امت کے لئے اس کی صبح سویرے میں برکت دے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عُمَرَ بْنِ مُسَاوِرٍ، ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7750
