Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7738

7738 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي املاء أنا عبد الله بن محمد بن موسى نا محمد بن غالب أنا أبو الوليد نا ليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير سمع سعيد بن زيد : أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : أوصني قال : أوصيك بتقوى الله أن تستحي من الله كما تستحي رجلا صالحا من قومك كذا قال عن يزيد بن أبي حبيب عن سعيد بن يزيد الأزدي عن ابن عم له قال : قلت : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره و روى هذا عن جعفر بن الزبير و هو ضعيف عن القاسم عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے بطور املاء کے ان کو عبداللہ بن محمد بن موسی ٰنے ان کو محمد بن غالب نے ان کو ابوالولید نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو یزید بن ابو حبیب نے ان کو ابوالخیر نے انہوں نے مناسعید بن زید سے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ مجھے وصیت کیجئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں آپ کو وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرنے کی کہ تم اللہ سے حیا کرنا جیسے تم اپنی قوم کے کسی نیک صالح آدمی سے شرم وحیاء کر تے ہو ۔ اسی طرح کہا سعید بن زید نے ۔اور اس کے علاوہ دیگر نے کہا کہ سعید بن یزید از دی روایت کرتے ہیں اپنے چچا زاد سے ۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یارسول اللہ ۔ پھر راوی نے مذکور ہ حد یث کو روایت کیا ہے ۔اور یہ روایت کی گئی ہے جعفر بن زبیر سے اور وہ ضعیف ہے وہ روایت کرتا ہے قاسم سے وہ ابوامامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7738

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7739

7739 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا هلال بن العلاء الرقي نا أبو همام نا المعارك بن عباد البصري عن أبي عباد عن جده أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليستحي أحدكم من ملكيه اللذين معه كما يستحي من رجلين صالحين من صالح جيرانه و هما معه بالليل و النهار إسناده ضعيف و له شاهد ضعيف 7739 - مكرر ـ أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا أبو سهل بن زياد القطان نا أحمد بن علي الأبار نا سليمان بن النعمان نا الحسن بن أبي جعفر نا ليث عن محمد بن عمرو عن أبيه عن زيد بن ثابت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألم انهكم عن التعري إن معكم من لا يفارقكم في نوم و لا يقظة إلا حين يأتي أحدكم أهله أو حين يأتي خلاءه ألا فاستحيوها ألا فأكرموها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ہلال بن علا ء رتی نے ان کو ابو ہمام نے ان کو معارک بن عباداللہ بصری نے ان کو ابو عباد نے ان کو ان کے دادا ابوسعید مقبری نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ شرم کرے ایک انسان تم میں سے اپنے دو فرشتوں سے جو اس کے ساتھ ہیں جیسی وہ اپنے پڑوس کے دو نیک آدمیوں سے حیا کرتا ہے حالانکہ وہ دونوں دن رات اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ اور اس کے لئے ایک شاہد ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ ( مکرر ہے ) ہمیں اس کی خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو خبر دی ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو احمد بن علی آبار نے ان کو سلیمان بن نعمان نے ان کو حسن بن ابو جعفر نے ان کو لیث نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ان کے والد نے ان کو زید بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں منع نہ کروں برہنہ ہونے سے بے شک تمہارے ساتھ وہ لوگ میں جو تم سے جدانہیں ہو تے نیند میں ہو یا بے داری میں ہاں مگر ایک وقت ایسا ہے جب وہ تم سے علیحدہ ہوتے ہیں جب کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے یا وہ جب بیت الخلا میں جاتا ہے خبردار ان سے شرم کیا کرو خبردار ان کا اکرام کیا کرو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِي عَبَّادٍ، ← المعارك بن عباد البصري ← أَبُو هَمَّامٍ، ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7739

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7740

7740 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا يحيى بن عثمان بن صالح نا أبي نا بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث عن جميل الحذاء عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اللهم لا تدركني أو لا أدرك زمان قوم لا يتبعون العليم و لا يستحيون من الحليم قوم قلوبهم قلوب الأعاجم و ألسنتهم ألسنة العرب قال أبي : الأعجم الدواب و تفسير ذلك قول رسول الله صلى الله عليه و سلم : العجماء جرحها جبار

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو بکر بن مضر نے ان کو عمر و بن حارث نے ان کو جمیل خداء نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے اللہ نہ پالیں مجھے (یافرمایا تھا۔ کہ ) میں نہ پاؤں اس قوم کا زمانہ جو علیم کی اتباع نہ کریں اور حلیم سے حیا نہ کریں ( مراد اللہ تعالی ٰ ہے ) وہ ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل عجمیوں جیسے ہوں گے اور زبانیں عربوں جیسی ہوں گی۔ میرے والد نے کہا کہ اعجم چو پائے ہیں ۔اور اس کی تفسیر یہ قول رسول ہے کہ : العجماء جرها جبار ’’ نجات کے اسباب ۔صدق ملجاء ۔ صدق تقوی ۔ مراعات و فا ۔ تحقیق حیا ء ‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جميل الحذاء ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7740

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7741

7741 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت محمد بن الحسن بن خالد المخرمي يقول : سمعت محمد بن عبد الله الفرعاني قال : كان الجنيد جالسا مع رويم و الجريري و ابن عطاء فقال الجنيد : ما نجا من نجا إلا بصدق الملجأ قال الله عز و جل : { و على الثلاثة الذين خلفوا حتى إذا ضاقت عليهم الأرض بما رحبت و ضاقت عليهم أنفسهم و ظنوا أن لا ملجأ من الله إلا إليه } الآية و قال رويم : ما نجا من نجا إلا بصدق التقى قال الله تعالى : { وينجي الله الذين اتقوا بمفازتهم } الآية و قال الجريري : ما نجا من نجا إلا بمراعاة الوفاء قال الله عز و جل : { الذين يوفون بعهد الله ولا ينقضون الميثاق } و قال ابن عطاء : ما نجا من نجا إلا بتحقيق الحياء قال الله عز و جل { ألم يعلم بأن الله يرى } 7741 - مكرر ـ سمعت أبا سعيد بن الملك بن أبي عثمان الزاهد سمعت علي بن جهضم بمكة سمعت أبا عبد الله الفارسي يقول : سئل جنيد عن الحياء فقال رؤية الآلاء و رؤية التقصير فيولد من بين هذين الحالين حالة تسمى الحياء

ہمیں خبر دی ابوعبد الرحمن ٰسلمی نے اس نے سنا محمد بن حسن بن خالد مخرمی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن عبداللہ فرغانی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جنید رویم، جریری اور ابن عطاء کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ جنید نے کہانہیں نجات پائی جس نے بھی نجات پائی مگر جائے پناہ کی سچائی کے ساتھ اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے ۔ وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى اذا ضاقت عليهم الارض بما رحبت وضاقت عليهم انفسهم وظنوا ان لا ملجاء من الله الا اليه۔ اور ان تین آدمیوں پر جو جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے یہاں تک کہ جب ان پر زمین اپنی فراخی کے باوجود تنگ ہوگئی اور ان کے دل خودان پر تنگ ہو گئے اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے سوائے اللہ کے ۔ رویم نے کہا ۔نہیں نجات پائی جس نے بھی نجات پائی مگر تقوی ٰکی سچائی کے ساتھ کیونکہ ارشاد باری تعالی ٰہے: وینجی الله الذين اتقوا بمفازتهم ۔ عذاب سے بچنے کے لئے اللہ تعالی ٰ ان لوگوں کو نجات دیتا ہے جو تقوی ٰاختیار کر تے ہیں ۔ جریری نے کہا نہیں نجات پائی جس نے بھی نجات پائی مگر وفا کی رعایت کے ساتھ اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے۔ الذين يؤمون بعهد الله ولا ينقضون الميثاق ۔ اہل جنت وہ لوگ ہیں جواللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق کو نہیں توڑتے ۔ اور ابن عطاء نے فرمایا نہیں نجات پائی جس نے بھی نجات پائی مگر حیا ء ثابت ہو جانے کے بعد ۔ اللہ تعالی ٰ فرماتے ہیں: الم يعلم بان الله يرى کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔ ( پیچھے تقوی ٰکی بات مذکور ہے۔ ) ( مکرر ہے ) میں نے سنا ابوسعید بن عبد الملک بن ابوعثمان زاہد سے اس نے سناعلی بن جہضم سے مکہ مکرمہ میں اس نے سنا ابو عبداللہ فارسی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جنید بغدادی سے حیاء کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے فرمایا :نعمتوں کو دیکھنا اور کوتاہی کو دیکھنا۔ لہذا ان دونوں حالتوں کے درمیان ایک حالت پیدا ہوتی ہے جس کو حیاء کہتے ہیں ۔

الحياء ← سئل جنيد ← أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْفَارِسِيَّ، ← عَلِيَّ بْنَ جَهْضَمٍ ← أبا سعيد بن الملك بن أبي عثمان الزاهد ← الله عز و جل مكرر ← ابن عطاء ما نجا من نجا إلا بتحقيق الحياء ← الله عز و جل و ← الجريري ما نجا من نجا إلا بمراعاة الوفاء ← الله تعالى الآية و ← رويم ما نجا من نجا إلا بصدق التقى ← الله عز و جل الآية و ← الجنيد ما نجا من نجا إلا بصدق الملجأ ← كان الجنيد جالسا مع رويم و الجريري و ابن عطاء ← محمد بن عبد الله الفرعاني ← محمد بن الحسن بن خالد المخرمي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7741

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7742

7742 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن إسحاق سمعت سعيد بن عثمان الحناط سمعت ذا النون يقول : اعلموا أن الذي أهاج الحياء من الله عز و جل معرفتهم بإحسان الله إليهم و علمهم بتضييع ما افترض بالله عليهم من شكره و ليس لشكره نهاية كما ليس لعظمته نهاية

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے انہوں نے سنا سعید بن عثمان حفاظ سے اس نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے۔ جس چیز نے اللہ سے حیا کرنے کو ابھارا وہ یہ بات ہے لوگوں کو اس بات کی معرفت حاصل ہو جائے کہ ان کی طرف اللہ کے احسانات کیا کیا ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ ان کو اس بات کا علم ہو کہ اللہ نے ان پر جو اپنا شکر کرنا فرض کیا ہے اس کو وہ لوگ کیسے ضائع کر رہے ہیں ۔ حالانکہ اس کے شکر کی کوئی انتہا نہیں ہے جیسے اس کی عظمت کی انتہا نہیں ہے۔

ذَا النُّونِ، ← سعيد بن عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7742

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7743

7743 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت عبد الواحد بن بكر يقول : سمعت محمد بن أحمد بن يعقوب حدثني محمد بن عبد الملك يقول : سمعت ذا النون يقول : الحياء وجود الهيبة في القلب مع خشية ما سبق منك إلى ربك

ہمیں خبر دی ہے ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے اس نے سنا عبدالواحد بن بکر سے انہوں نے سنا محمد بن احمد بن یعقوب سے ان کو حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالملک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناذ والنون سے وہ کہتے تھے حیاء نام ہے ہیبت اور رعب کا جو دل میں ہو اس خوف کے ساتھ جو تجھ سے تیرے رب کے بارے میں پہلے نافرمانی ہو چکی ہے۔

الحياء وجود الهيبة في القلب مع خشية ما سبق منك إلى ربك ← ذَا النُّونِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ بَكْرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7743

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7744

7744 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت عبد الله بن محمد الرازي سمعت محمد بن الفضل يقول : الحياء يتولد من النظر إلى الإحسان المحسن ثم من النظر إلى جفاءك إلى المحسن فإذا كنت كذلك رزقت الحياء إن شاء الله

ہمیں خبر دی ابوعبد الرحمن ٰسلمی نے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمد رازی سے اس نے سنا محمد بن فضل سے وہ کہتے ہیں کہ حیاء پیدا ہوتا ہے محسن کے احسانات پر نظر رکھنے سے اس کے بعد محسن کے ساتھ اپنی جفاؤں پر نظر کر نے سے آپ جب ایسے بن جائیں تو انشاءاللہ آپ کو حیا ء عطا ہو جائے گا۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7744

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7745

7745 - أخبرنا محمد بن الحسين السلمي سمعت نصر بن محمد بن أحمد بن يعقوب العطار يقول : سمعت أبا محمد البلاذري يقول : سمعت يوسف بن الحسين يقول : سمعت ذا النون يقول : لله عباد تركوا الذنب استحياء من كرمه بعد أن تركوه خوفا من عقوبته و لو قال لك : اعمل ما شئت فلست آخذك بذنب كان ينبغي لك أن يزيدك كرمه استحياء منه و تركا لمعصيته إن كنت حرا كريما عبدا شكورا فكيف و قد حذرك

ہمیں خبر دی محمد بن حسین سلمی نے اس نے سنانصر بن محمد بن احمد بن یعقوب عطار سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابومحمد بلاذری سے انہوں نے سنا یوسف بن حسین سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں۔ اللہ تعالی ٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جنہوں نے گناہ کرنا چھوڑ دیا ہے اللہ کے کرم سے حیاء اور شرم کرتے ہوئے اس کے بعد کہ پہلے انہوں نے اس کی سزا اور اس کی پکڑ کے ڈر سے چھوڑ دیئے تھے اگر اللہ تعالی ٰ تجھے یہ کہہ دے کہ تم جو چاہو عمل کرو میں تمہیں نہیں پکڑوں گا تیرے گناہ کی وجہ سے تو تیرے لئے یہ مناسب ہے کہ تو اس کے کرم کی وجہ سے اور زیادہ شرم و حیا کر ۔ اگر تو آزاد اور شریف ہے اور شکر گزار بندہ ہے، وہ کیسے اضافہ نہیں کرے گا حالانکہ اس نے تجھے بچایا ہے ۔ (معصیت وغیر سے۔)

ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبا محمد البلاذري ← نَصْرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ الْعَطَّارَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7745

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7746

7746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني جعفر بن محمد بن نصير حدثني الجنيد بن محمد قال : قال لي السري ليلة بين المغرب و العشاء الآخرة احفظ عني هذا الكلام ثم قال : الشوق و الوله يرفرفان على القلب فإن وجدا فيه الحياء و الأنس أوطنا و إلا رحلا احفظ عني هذا الكلام يا غلام لا يضيع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے جعفر بن محمد بن نصیر نے ان کو حدیث بیان کی ہے جنید بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک رات مغرب وعشاء کے درمیان سری مقطی نے کہا میری طرف سے اس کلام کی حفاظت کیجئے ۔ شوق اور ولولہ دل کے اوپر پرواز سے منڈلاتی ہیں پھر اگر وہ اس میں حیاءاور انس کو پاتے ہیں تو اس دل کو وہ اپنا مسکن اور ٹھکانہ بنا لیتے ہیں ورنہ وہاں سے وہ کوچ کر جاتے ہیں ۔ اے لڑکے اس کلام کو مجھ سے محفوظ کر لیجئے ۔ کہ ضائع نہ ہو جائے ۔

الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7746

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7747

7747 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت عبد الله بن أحمد بن جعفر سمعت زنجويه اللبان سمعت علي بن الحسن الهلالي سمعت إبراهيم بن الأشعث يقول : سمعت الفضيل بن عياض يقول : خمس من علامات الشقاء القسوة في القلب و جمود العين و قلة الحياء و الرغية في الدنيا و طول الأمل

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے اس نے سنا عبداللہ بن احمد بن جعفر سے اس نے سنا زنجو یہ لبان سے اس نے سنا علی بن حسن بدقسمتی ہلالی سے اس نے سنا ابراہیم بن اشعث سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ پانچ چیزیں بدقسمتی کی علامات ہیں۔(۱) دل میں سختی (۲) آنکھوں میں جمود ( اللہ کے خوف سے نہ رونا) (۳) حیاء کی کمی ۔ (۴) دنیارغبت۔(۵) لمبی لمبی آرزوئیں۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← إبراهيم بن الأشعث، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← زنجويه اللبان ← عبد الله بن أحمد بن جعفر ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7747

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7748

7748 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو القاسم يوسف بن صالح النحوي نا أبو بكر محمد بن القاسم الأنباري نا محمد بن أحمد المقدومي نا أبي عن سهل بن عثمان عن أبي زائدة عن مجالد عن الشعبي قال : كان الناس يتعاملون بالدين زمانا ثم ذهب الدين فتعاملوا بالوفاء زمانا ثم ذهب الوفاء فتعاملوا بالمروءة زمنا ثم ذهب المروءة فتعاملوا بالحياء زمانا ثم ذهب الحياء فصاروا إلى الرغبة و الرهبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوالقاسم یوسف بن صالح نحوی نے ان کو ابوبکرمحمد بن قاسم انباری نے ان کو محمد بن احمد مقد ومی نے ان کو ان کے والد نے ان کو سہل بن عثمان نے ان کو ابن ابوزائد ہ نے ان کو مجالد نے ان کو شعبی نے وہ کہتے ہیں کہ لوگ ایک زمانے تک ایک دوسرے کے ساتھ معاملات کرتے تھے دین داری کے ساتھ ۔ اس کے بعد لوگوں سے دین چلا گیا تو پھر ایک دوسرے کے ساتھ معاملات کرتے تھے وفاء کے ساتھ ایک زمانے تک ۔اس کے بعد وفا بھی ختم ہوگئی ۔ تو پھر لوگ ایک زمانے تک ایک دوسرے سے معاملات کرتے تھے اخلاق ومروت کے ساتھ وہ بھی ختم ہوگئی تو پھر ایک زمانے تک ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرتے تھے حیاء کے ساتھ پھر حیا ء بھی لوگوں میں سے رخصت ہو گیا اب لوگ لگ گئے امید وطمع میں اور خوف میں ۔

الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← أَبِي زَائِدَةَ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبِي ← محمد بن أحمد المقدومي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَنْبَارِيُّ، ← أبو القاسم يوسف بن صالح النحوي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7748

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7749

7749 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : سمعت إبراهيم بن فراس الفقيه يقول : سمعت محمد بن المؤمل العدوي يقول : سمعت رجلا من البوادي يقول ذهبت المكارم إلى من الصحف

ہمیں خبر دی ابومد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن فراس فقیہ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد مومل عدوی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ایک دیہاتی آدمی سے وہ کہتا تھا۔ مکارم چلے گئے مگر کتابیں رہ گئیں۔

ذهبت المكارم إلى من الصحف ← رجلا من البوادي ← محمد بن المؤمل العدوي ← إبراهيم بن فراس الفقيه ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7749

chevron_left Previous
1…111213…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood