Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7726

7726 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي قالا : أنا أبو القاسم علي بن المؤمل نا محمد بن يونس الكديمي أنا المعلي بن المفضل نا ابن المبارك عن الحسن بن مسلم بن بشير بن محل عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الحياء و الإيمان في قرن فإذا سلب أحدهما تبعه الآخر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو قاسم علی بن مؤمل نے ان کو محمد بن یونس کدیمی نے ان کو معلی ٰبن مفضل نے ان کو ابن مبارک نے ان کو حسن بن مسلم بن بشیر بن محل نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک حیاء اور ایمان ایک کڑے میں جڑے ہیں جب ایک چھین لیا جاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے چلا جاتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الحسن بن مسلم بن بشير بن محل ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← المعلي بن المفضل ← محمد بن يونس الكديمي، ← أبو القاسم علي بن المومل ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7726

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7727

7727 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري املاء نا محمد بن غالب بن حرب الضبي نا أبو سلمة نا جرير بن حازم أنا يعلى بن حكيم قرنا جميعا فإذا رفع أحدهما رفع الآخر : قال محمد بن غالب حدثنا به أبو سلمة في الفوائد فأسنده و حدثنا به في حديث جرير بن حازم و لم يقل فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر و بختری نے بطور املا ء کے ان کو محمد بن غالب بن حرب ضبی نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو یعلی بن حکیم نے میں خیال ہے کہ انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک دیا، اور ایمان اکٹھے جڑے ہوئے ہیں ۔ جب دونوں میں سے ایک اٹھا دیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا دیا جاتا ہے ۔ محمد بن غالب نے کہا کہ ہمیں اس کے ساتھ حدیث بیان کی ابوسلمہ نے الفوائد میں اور اس کو انہوں نے مسند کیا اور اس کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر بن حازم نے مگر اس نے اس کو یوں نہیں کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← به في حديث جرير بن حازم و لم يقل فيه ← به أبو سلمة في الفوائد فأسنده و ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← يعلى بن حكيم قرنا جميعا فإذا رفع أحدهما رفع الآخر ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← محمد بن غالب بن حرب الضبي ← أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري إملاء، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7727

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7728

7728 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا عون عن الحسن : أن النبي صلى الله عليه و سلم لعابد بن المنذر : و هو الأشج إن فيك خلتين يحبهما الله عز و جل قال : ما هما ؟ قال : الحلم و الحياء قال : يا نبي الله استفدته من الإسلام أم شيء جبلت عليه قال : بل جلبت عليه قال : الحمد لله الذي جبلني على ما يحب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کوخبر دی عون نے ان کو حسن نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عابد بن منذ راشج سے فرمایا تھا کہ تیرے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالی ٰ پسند کرتا ہے اس نے پوچھا کہ یارسول اللہ وہ کون ہی ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم اور حیاء۔ (حوصلہ اور شرم ) اس نے پوچھایا رسول اللہ ! یہ دونوں میں نے اسلام سے حاصل کی ہیں یا یہ ایسی چیزیں ہیں جن پر میری تخلیق ہوئی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم اسی عادت پر پیدائشی طور پر بنائے گئے ہو۔ عابد بن منذر نے کہا۔ الحمد لله الذي جبلني على مايحب ۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسی فطرت بخشی ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے۔

الْحَسَنِ، ← عَوْنٌ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7728

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7729

7729 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن ناجية نا محمد بن عبد الله بن بزيع نا بشر بن المفضل نا قرة بن خالد عن أبي حمزة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لأشج بن عبد القيس إن فيك خصلتين يحبهما الله الحياة و الأناة و رواه الحجبي عن بشر و قال : في الحديث الحلم و الأناة قال الحليمي : و يشبه أن تكون حقيقة الحياء خوف الذم و التوقي من الاستكثار و قاله السوء لأن من استحى فإنما يترك لأجل استحيائه ما يوجب فعله له ذما إذ ما يرى أنه يجلب إليه سوءا كان الذم يقبح الفعل في نفسه و لمخالفته عادة الناس في مثله أو لأن المتوقع من فاعله كان خلافه فإما خوف العقوبة بإسلام البدن دون ثلب العرض فلا يسمى حياء و إنما يسمى خضوعا و استسلاما و نحو ذلك قال : و الحياء اسم جامع يدخل فيه الاستحياء من الله عز و جل لأن ذمه فوق كل ذم و مدحه فوق كل مدح و المذموم بالحقيقة من ذمه ربه و المحمود من حمده ربه و ذكر ما

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ناجیہ نے ان کو محمد بن عبداللہ بن بز یع نے ان کو بشر بن مفضل نے ان کو قرہ بن خالد نے ان کو ابو حمزہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اشج بن عبد القیس سے کہ بے شک تیرے اندر دو خصلتیں ہیں اللہ تعالی ٰ جنہیں محبوب رکھتا ہے وہ حیا اور علم وقار ۔ اس کو روایت کیا ہے حجبی نے بشر سے اور کہا ہے کہ حدیث میں ہے حلم ، اور انا ءۃ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ حیاء کی حقیقت یہ ہو مذمت کا خوف اور استکثار سے بچنا برائی کہنے سے ، اس لئے کہ جو شخص حیا کرتا ہے وہ یقینا ً اپنے حیاء کی وجہ سے ان چیزوں کوبھی چھوڑ دیتا ہے جوفعل اس کے لئے مذمت کا باعث بن سکتا ہو ۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ وہ کام اس کے لئے برائی لائے گا گویا کہ مذمت بذات خود فعل کو قبیح بنا دیتا ہے ۔ اور اس لئے بھی کہ عادۃ لوگ اس جیسے فعل میں مخالفت کرتے ہیں ۔ یا اس لئے کہ اس کے کرنے والے کی مخالفت ہی متوقع ہوتی ہے۔ بہر حال بدنی سزا کا خوف ہو جب کہ عزت کی ہتک کے بغیر تو اس کا نام حیا نہیں رکھا جاتا یا اس کو حیا کا نام نہیں دیا جاتا ۔ اس کا نام خضوع اور استسلام ہوتا ہے یا اس کی مثل ۔ فرمایا کہ حیا ء ایک جامع نام ہے جس میں اللہ سے حیاء اور شرم کرنا بھی داخل ہے اس لئے کہ اس کا مذمت کرنا ہر مذمت سے بڑھ کر ہے اور مدح کرنا ہر مدح سے بڑھ کر ہے۔ اور حقیقت میں مذموم وہی جس کا رب اس کی مذمت کرے اور حقیقی محمود بھی وہی ہے جس کی تعریف اس کا رب کرے۔ اور مندرجہ ذیل میں اس کا ذکر ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← ابْنُ نَاجِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7729

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7730

7730 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح المحاربي أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا يعلى بن عبيد نا أبان بن إسحاق عن الصباح بن محمد عن مرة الهمداني عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : استحيوا من الله حق الحياء قالوا : إنا نستحي من الله يا رسول الله و الحمد لله قال : ليس ذاك و لكن من استحيا من الله حق الحياء فليحفظ الرأس و ما وعى و ليحفظ البطن و ما حوى و ليذكر الموت و البلى و من أراد الآخرة ترك زينة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحى من الله حق الحياء و روي في ذلك عن هشام عن الحسن عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا و في ذلك تأكيد لهذا المسند

ہمیں خبر دی ابومحمد جناح بن نذیر بن جناح محاربی نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغرزہ نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو ابان بن اسحٰق نے ان کو صباح بن محمد نے ان کو مر ہ ہمدانی نے ان کو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی ٰ سے شرم وحیا ،کرنا جیسے کہ اس سے شرم کرنے کا حق ہے ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کا شکر ہے ہم اللہ تعالی ٰ سے حیا کر تے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ جو شخص اللہ تعالی ٰ سے حیاء کرتا ہے جوحیا کر نے کا حق ہے اس کو چاہئے کہ اس کی حفاظت کرے اور اس کی جس کو سر محفوظ کرتا ہے، اور اس کو چاہئے کہ وہ پیٹ کی حفاظت کرے اور اس کی جو کچھ اس کے اندر ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ موت کو یاد کرے اور اس کو جس کو وہ خراب کرتی ہے ۔ جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے اس کو چاہتا ہے وہ دنیا کی زینت کو چھوڑ دیتا ہے ۔ جو شخص یہ سارے کام کرتا ہے وہ اللہ سے حقیقی حیاء کرتا ہے جیسے اس سے حیا کر نے کا حق ہے ۔ اس بارے میں روایت کی گئی ہے ہشام سے اس نے حسن سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا روایت کی ہے اور اس میں تاکید ہے اس مسند روایت کے لئے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أبان بن إسحاق ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح المحاربي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7730

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7731

7731 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق سمعت أبا عثمان يقول : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام الحياء وزن الكلام قبل التفوه به و مجانبة ما يحتاج إلى الاعتذار منه و ترك إجابة السفيه حلما عنه قال : ذو النون فأما الحياء من الله عز و جل فهو ما قال الرسول صلى الله عليه و سلم : أن لا تنسى المقابر و البلى و أن تحفظ الرأس وما حوى و البطن و ما وعى و أن تترك زينة الحياة الدنيا قلت : 7731 - مكرر ـ و قد روينا عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أشد حياء من العذراء في خدرها و كان إذا كره شيئا عرفناه في وجهه أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق في آخرين قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا هارون بن سليمان الأصبهاني نا عبد الرحمن بن مهدي عن شعبة عن قتادة قال : سمعت عبد الله بن أبي عتبة قال : سمعت أبا سعيد الخدري يقول : فذكره أخرجاه في الصحيح من حديث ابن مهدي و غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون سے وہ کہتے ہیں کہ تین چیز حیاء کی علامات میں سے ہیں: ( ۱ ) بولنے سے پہلے اس کو تولنا۔(۲) جس چیز میں معذرت کرنے کی حاجت پڑے اس سے دور رہنا ۔ ( از راه برد باری کم عقل کی بات نہ ماننا ) یا(۳) از راہ عقل مندی بے عقل کی بات نہ ماننا۔ ذوالنون مصری نے کہا بہر حال اللہ تعالی ٰ سے حیاء کرنا وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔ یہ کہ تم قبرستان کو نہ بھولو اور قبریں جس چیز کو بوسید ہ کرتی ہیں ان کے بوسیدہ کرنے کو نہ بھولو اور یہ کہ سر کی حفاظت کرو۔ اور پیٹ جس پرمشتمل ہے اور جس کو محفوظ کرتا ہے اور یہ کہ تم زینت دنیا کو چھوڑ دو میں نے کہا۔ ( مکرر ہے ) تحقیق ہم نے روایت کی ہے ابوسعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ کنواری لڑکی گھر کے کونے میں بنی ہوئی پر دہ گاہ میں رہتے ہوئے جتنا حیاء دار ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ حیاء دار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو ہم اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر واضح طور پر پہچان لیتے تھے۔ ہمیں اس کے بارے میں خبر دی ابوز کر یا بن ابواسحٰق نے آخرین میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے۔ ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ہارون بن سلیمان اصفہانی نے ان کو عبدالرحمن بن مہدی نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن ابوعتبہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث ابن مہدی وغیرہ سے ۔

ذَا النُّونِ، ← أَبَا عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7731

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7732

7732 - أخبرنا الإمام أبو عثمان أنا أبو علي زاهر بن أحمد نا محمد بن معاذ نا الحسين بن الحسن المروزي أنا ابن المبارك نا يونس بن يزيد عن الزهري أخبرني عروة بن الزبير عن أبيه قال : قال أبو بكر الصديق و هو يخطب الناس يا معشر المسلمين استحيوا من الله فو الذي نفسي بيده إني لأظل حين أذهب إلى الغائط في الفضاء متقنعا بثوبي استحياء من الله عز و جل

ہمیں خبر دی امام ابوعثمان نے ان کو ابوعلی زاھر بن احمد نے ان کو محمد بن معاذ نے ان کو حسین بن حسن مروزی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو یونس بن یزید نے ان کو زہری نے ان کو خبر دی عروہ بن زبیر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا جب کہ وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ اے مسلمانوں کی جماعت اللہ تعالی ٰ سے حیاء کرو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ میں جب میدان میں قضاء حاجت کرنے جاتا ہوں تو اللہ تعالی ٰ سے شرم وحیاء کے مارے گھونگھٹ نکال لیتا ہوں اور اپنے کپڑے کے ساتھ منہ چھپا لیتا ہوں۔

أَبِيهِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو عَلِىٍّ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7732

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7733

7733 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن يحيى بن بلال نا عبد الرحمن بن بشر نا فهر بن أسد نا شعبة حدثني منصور ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم نا شعبة عن منصور بن المعتمر قال : سمعت ربعي بن خراش يحدث عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت لفظ حديثهما سواء رواه البخاري عن آدم بن أبي إياس

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن یحیی بن بلال نے ان کو عبدالرحمن ٰبن بشر نے ان کو فہر بن اسد نے ان کو شعبہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے منصور نے ’’ ح“۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبدالرحمن ٰبن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو منصور بن معتمر نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ربعی بن خراش سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک نبوت اولی ٰکے کلام میں سے لوگوں نے جو بات پائی ہے وہ یہ ہے کہ جب تو حیاء نہ کرے تو پھر جو تیرا جی چاہے کر ۔ دونوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں ۔ بخاری نے اس کو آدم بن ابوایاس سے روایت کیا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← فهر بن أسد ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أبو حامد بن يحيى بن بلال ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7733

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7734

7734 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا عثمان بن سعيد الدرامي نا القعنبي ح قال : و نا أبو المثنى نا القنبعي نا شعبة عن منصور عن ربعي بن خراش عن أبي مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن من كلام النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت لفظ أبي المثنى قال الحليمي : و في معنى هذا قولان أحدهما أن المراد به الدلالة على أن عدم الحياء يدعو إلى الاسترسال الذي لا يؤمن أن يسوء عاقبته و إن أعظم الموانع من القبائح عند العقلاء الذم و هو فرق عقوبة البدن فمن طاب نفسا بالذم و لم يخشه فلم يردعه عن قبيح ما هو رادع فلا يلبث شيئا حتى يرى نفسه مهتوك الستر مثلوب العرض ذاهب ماء الوجه لا وزن له و لا قدر قد ألحقه الناس بالبهائم و أدخلوه في عداها بل صار عندهم أسوا حالا منها فنبه بهذا القول على ما في ترك الاستحياء من الضرر لينتهي عنه و يستشعر من الحياء ما يردع عن إتيان القبيح فيؤمن مغبته و الآخر أن معناه إذا لم يفعل ما يستحى عن مثله فلا حرج بعد ذلك عليك فاصنع ما شئت و كلاهما حسن و حق و الله بما أراد و رسول الله صلى الله عليه و سلم أعلم

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے ’’ ح“ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوالمشنی نے ان کو قعنبی نے ان کو شعبہ نے منصور سے اس نے ربعی بن خراش سے اس نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے شک پہلی نبوتوں کے کلام میں سے ہے کہ جب تو شرم و حیا نہ کرے جو چاہے سوکر ۔ الفاظ ابوالمثنی ٰکے ہیں ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ اس مذکور ہ قول کے معنی ومفہوم کے بارے میں دو قول ہیں ۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد اس بات پر دلالت ہے کہ عدم حیا ء ایسے آزاد رویے کی دعوت دیتا ہے جو آدمی کو اس کے برے انجام سے نہیں بچا سکتا۔ بے شک عقلاء کے نزدیک برائیوں سے قبائح میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ کر سکتی وہ مذمت ہے جو کہ جسمانی سزا سے بھی بڑھ کر ہے ۔ لہذا جو شخص مذمت کو خوش دلی سے قبول کرے اور اس کا خوف بھی نہ کرے وہ اس کو کسی قبیح فعل سے نہیں روک سکتی جن سے رکاوٹ بنتی تھی ۔ وہ کسی شئی سے باز نہیں آتا بلکہ ہر جگہ وہ اپنے آپ کو بے آبرو بے عزت سمجھتا ہے جس کے چہرے پر رونق بے عزت ہونے کی وجہ سے باقی نہ رہی ہو جس کا نہ کوئی وزن ہو نہ اس کی کوئی قدروقیمت ہو جسے لوگ جانوروں کے ساتھ لاحق کر چکے ہوں اور اسے ان کی گنتی میں شمار کر چکے ہوں بلکہ وہ ان کے نزدیک اس سے بدتر حالت میں ہو چکا ہو ۔ پس گویا کہ اس قول کے ساتھ اس بات پر متنبہ کیا کہ ترک حیاء میں یہ نقصان ہے، تا کہ انسان ترک حیاء سے بچے اور اجتناب کرے۔اور حیاء کرنے سے دل میں ایک خوف پیدا ہوتا جو انسان کو فعل قبیح سے ڈراتا ہے اور روکتا ہے لہذا وہ فعل قبیح کے نقصان سے بچ جاتا ہے ۔ اور دوسرا قول یہ کہ بے شک قول مذکور کا معنی ہے کہ جب تو کوئی ایسا کام نہیں کرتا ہے جس کے مثل فعل کرنے سے حیاء کی جاتی ہے تو اس کے بعد تیرے اوپر کوئی حرج نہیں ہے پھر جو جو تو چاہے سوکر دونوں مطلب اچھے ہیں اور حق ہیں ۔ اللہ نے اور اس کے رسول نے کیا مراد لی ہے؟ اللہ بہتر جانتا ہے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← القنبعي ← أَبُو الْمُثَنَّى ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7734

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7735

7735 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا عمرو بن محمد بن منصور نا جعفر بن محمد بن سوار قال : سمعت بشر بن الحكم يقول : قوله : إذا لم تستحي فاصنع ما شئت ليس هذا على عمل الفجور و لكن إذا صحت نية الرجل فأراد أن يصلي عند الناس فلم يستح منهم و قد أراد وجه الله هذا إذا لم يستح من الناس و عمل لله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عمر و بن محمد بن منصور نے ان کو جعفر بن محمد بن سوار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر بن حکم سے وہ کہتے ہیں جب تم حیا نہیں کرتے تو پھر آپ جو چاہیں سو کریں۔ یعنی یہ گناہ کے عمل میں سے نہیں ہے بلکہ جب آدمی کی نیت صحیح ہو اور لوگوں کے سامنے نماز پڑھنے کا ارادہ کرے اس نے ان سے شرم نہیں کی بلکہ اس نے ارادہ کیا ہے اللہ کا رضا کا یہ اس وقت ہے جب اس نے لوگوں سے شرم نہیں کی اور اللہ کے لئے عمل کرلیا۔

بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ ← عمرو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7735

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7736

7736 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن حاتم نا فتح بن عمرو نا أبو أسامة أنا المفضل بن مهلهل عن منصور عن ربعي بن خراش عن أبي مسعود الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن آخر ما يبقى من النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت قال أبو أسامة : يقول استكثر من الخير ما استطعت قال أحمد : و قرأن في كتاب العرنيين في معنى هذا الحديث قال : هذا أمر معناه الخبر كأنه قال : من لم يستح صنع ما شاء و مثله قوله : فليتبوأ مقعده من النار قال : و قال ثعلبة : هذا على الوعيد معناه إذا لم تستح فاصنع ما شئت فإن الله مجازيك و مثله قوله تعالى : { فمن شاء فليؤمن و من شاء فليكفر } قال أبو سليمان الخطابي : معنى قوله النبوة الأولى إن الحياء لم يزل ممدوحا على ألسن الأنبياء و المرسلين و مأمورا به لم ينسخ فيما نسخ من الشرائع فالأولون و الآخرون فيه على منهاج واحد و قوله : إذا لم تستح لفظه لفظ أمر و معناه الخبر تقول : إذا لم يكن لك حياء يمنعك من القبيح صنعت ما شئت يريد ما تأمرك به النفس و تحملك عليه مما لا يحمد عاقبته و حقيقته من لم يستح صنع ما شاء و فيه وجه آخر هو أن يكون أراد به افعل ما شئت من شيء لا يستحيا منه فلا يفعله و فيه ثالث و هو أن يكون معناه الوعيد كقوله عز و جل : { اعملوا ما شئتم } قلت و هذه الأقوال التي حكيناها متفقة في المعنى و إن كانت مختلفة في اللفظ و قال الحليمي رحمه الله : و إذا حافظ على الجماعة استحيا من الناس فهي على وجهين أحدهما أن يخاف ذم الجيران إياه فلا يفارق المسجد ليحمدوه و يثنوا عليه خيرا فهذا رياء و ليس بمحمود و الآخر أن يكون حياؤه من الله عز و جل بالحقيقة فيخشى أنه إن فارق الجماعة كان من عاجل عقوبة الله إياه أن يبسط المسلمون فيه ألسنتهم بالذم و إن كان معها كان من عاجل ما يثنيه الله تعالى به أن يطلق المسلمون ألسنتهم فيه بالمدح فيكون خوفه ذم الناس و حبه مدحهم متعلقا بالله عز و جل لا بغيره فهذا محمود و يستحي الولد من الوالد و المرأة من زوجها و الجاهل من العالم و الصغير من الكبير و الواحد من الجماعة فيريد الأدون أن يعمل على غير الأكمل عملا من حقوق الناس يحق مثله للأكمل فيخاف أن يقع منه على وجه يذمه فيدعه فذلك استحياؤه و هذا أيضا محمود لأن فيه مراعاة الناقص حق الكامل و إذعانه لهم لأجل الفضل الذي يعلمه له على نفسه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن حاتم نے ان کو فتح بن عمرو نے ان کو ابواسامہ نے ان کو مفضل بن مہلہل نے ان کو منصور نے ان کو ربعی بن خراش نے ان کو ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک آخری بات جو باقی رہ گئی نبوت اولی ٰمیں سے وہ یہ ہے کہ جب تم شرم نہیں کرتے تو چاہیں سو کریں۔ ابواسامہ نے کہا ۔ کہ کہتے ہیں ۔ کہ مطلب یہ ہے جس قد راستطاعت ہو زیادہ سے زیادہ خیر و بھلائی کا کام کیجئے ۔ امام احمد نے فرمایا۔ کہ یہ عرئیین کی کتاب میں اس حدیث کے معنی ومطلب کے بارے میں پڑھا تھا کہ یہ امر بمعنی خبر کے ہے۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:جو حیاء نہیں کرتا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے یا جس نے حیا نہیں کی اس نے وہی کیا ہے جو اس نے چاہا ہے ۔اور اسی کی مثل ہے یہ قول: فليتبوء مقعده من النار اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔ یعنی یہاں بھی امر بمعنی خبر ۔ مطلب ہے کہ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ثعلبہ نے کہا کہ یہ قول وعید پر مبنی ہے اس کا معنی ہے کہ جب تم نے حیا نہیں کی تو جو چاہو کرو بے شک اللہ تعالی ٰ آپ کو بدلہ دیں گے اور اسی کی مثل ہے قول باری تعالی ٰ: فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر جو چاہے پس وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے کہ کفر کرے۔ یعنی جو چاہیں آپ کریں اللہ تعالی ٰ آپ کو بدلہ دینے والا ہے جیسا کروگے ویسی جز اپاؤ گے۔ ابو سلیمان خطابی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے مراد کہ نبوت اولیٰ۔ یہ مراد ہے کہ حیا ء ہمیشہ ممدوح و مستحسن رہا ہے انبیاء ورسل کی زبان پر اور ماموربہ رہا ہے جو منسوخ نہیں ہوا ان شریعتوں میں جو منسوخ ہوئی تھیں پس پہلے لوگ اور بعد والے لوگ اس بارے میں ایک ہی منہاج پر اور ایک ہی راستے پر ہیں ۔اور آپ کا یہ فرمان اذا لم تستحى فاصنع لفظ تو اس کے امر والے ہیں اور معنی اس کے خبر کے ہیں ۔ گویا کہ تم یہ کہہ رہے ہو کہ جب تیرے پاس حیاء نہ ہو جو آپ کو فعل قبیح سے روکے تو آپ نے وہی کیا ہے جو آپ نے چاہا ہے ۔ مراد ہے کہ نفس نے جس چیز کا تجھے حکم دیا ہے اور تجھے جس بات پر ابھارا ہے اس قبیل سے جس کے انجام کی تعریف نہیں کی جاسکتی ۔اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ جس نے حیا نہیں کی اس نے وہی کچھ کیا ہے جو اس نے چاہا۔ اس میں ایک وجہ اور ہے۔ آپ نے اس سے یہ مراد لی ہے۔ افعل ماشئت۔ یعنی آپ وہ کیجئے جو آپ چاہیں۔ کوئی بھی چیز جس سے حیا نہیں کی جاتی ۔ یعنی جس چیز پر حیا کرتا ہے اس کو نہیں کرتا ہے۔ اور اس میں ایک تیسری تو جیہ بھی ہے وہ ہے کہ اس کا معنی وعید ہو جیسے اللہ تعالی ٰ کا قول : اعملوا ما شئتم ۔تم جو چاہو سو عمل کرو ۔ یعنی میں تم سے نمٹ لوں گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ سارے اقوال اگر چہ الفاظ میں مختلف ہیں مگر معنی میں متفق ہیں۔ اور شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ جس وقت کوئی شخص با جماعت نماز کی حفاظت کرتا ہے لوگوں سے شرم کرنے کی وجہ سے تو یہ دو صورتوں پر ہے دونوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو اس بات کا خوف ہو کہ اس کے پڑوسی اس کی برائی کر یں گے لہذا وہ مسجد سے الگ نہیں ہوتا تاکہ وہ اچھائی کریں اور اس کی تعریف کریں تو یہ صورت ریا کاری ہے دیکھاوا ہے یہ صورت غیر پسندیدہ ہے۔ حفاظت جماعت کی دوسری صورت یہ ہے کہ اس کا حیاء کرنا درحقیقت اللہ تعالی ٰ سے ہو اور وہ اس بات سے ڈرے کہ اگر اس نے جماعت چھوڑی تو دنیا میں اس کو اللہ تعالی یہ سزا دیں گے کہ مسلمان اس کے خلاف اس کی مذمت میں اپنی زبانیں دراز کردیں گے اور اگر وہ جماعت کے ساتھ وابستہ رہے گا تو دنیا میں اللہ تعالی ٰ لوگوں کے دلوں میں ڈال دیں گے وہ اس کی تعریف کریں گے اور اس کی تعریف میں اپنی زبانیں کھول دیں گے تو اس صورت میں اس کے دل میں لوگوں کی طرف سے اس کی برائی کرنے کا خوف ۔ اور اس کا یہ پسند کرنا کہ لوگ اس کی تعریف کریں دونوں کا تعلق اللہ عز ویل کے ساتھ ہے اس کے ماسوا کے ساتھ نہیں ہے تو یہ پسندیدہ ہے (ایک اور صورت حیاء کرنے کی یہ ہے۔ ) کہ جیسے ایک بیٹا باپ سے ،عورت اپنے شوہر سے ، جاہل عالم سے ، شاگرد استاد سے، چھوٹا بڑے سے ، یا ایک فردا یک جماعت سے شرم و حیاءکرتا ہے ۔لہذا کمتر یہ نہ ارادہ کرتا ہے کہ کوئی عمل غیر اکمل طریقے پر کرے ،لوگوں کے حقوق میں سے کسی حق کے ساتھ جو وہ اکمل کا حق ہے لہذا حیاء کر تے ہوئے یہ خوف کرتا ہے کہ کوئی فعل اس سے بائیں صورت واقع ہو جائے گا کہ وہ ( مذکور ہ لوگوں میں سے کوئی ) اس کی مذمت کرے گا اور اس کو چھوڑ دے گا یا کسی آدمی کی طرف سے اس طرح کا حیاء کرنا بھی محمود ہے اور پسندیدہ ہے۔اس لئے کہ اس صورت میں ناقص کی طرف کامل کے حق کی رعایت کی گئی ہے ( کمتر کی طرف سے برتر کے حق کا خیال کیا جارہا ہے۔ ) اور یہ اس کی طرف سے اس کا بات یقین واذعان ہے ان کامل و برتر کے لئے اس بات کا کہ وہ صاحب فضل ہیں اور صاحب فضیلت ہیں اس کے مقابلے میں اس کی ذات سے ۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← مَنْصُورٌ، ← الْمُفَضَّلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← فتح بن عمرو ← أبو جعفر محمد بن حاتم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7736

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7737

7737 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب أنا أبو حاتم الرازي نا أبو الأسود نا ابن لهيعة عن أسامة بن زيد الليثي أن أبا داود مولى بني محمد الزهري حدثه أنه سمع أبا هريرة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : فضلت المرأة على الرجل بتسعة و تسعين جزءا من اللذة و لكن الله عز و جل ألقى عليهن الحياء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو ابوالاسود نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو اسامہ بن زید لیثی نے یہ کہ ابوداؤ د مولی ٰبنی محمد زہری نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے کہ عورت مرد پر لذت کے اعتبار سے ننانوے حصے زیادہ ہے مگر اللہ تعالی ٰ نے ان پر حیاء اور شرم ڈال دیا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← أسامة بن زيد الليثي أن أبا داود مولى بني محمد الزهري ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7737

chevron_left Previous
1…101112…19
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood