شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7606
7606 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني و العباس الدوري قالا نا يزيد بن هارون أنا حميد عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و في رواية الدوري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال انصر أخاك ظالما أو مظلوما فقالوا يا رسول الله هذا ننصره مظلوما فكيف ننصره ظالما ؟ قال تمنعه من الظلم أخرجه البخاري من وجه آخر عن حميد و أخرجه مسلم من حديث أبي الزبير عن جابر بمعناه قال الإمام أحمد رحمه الله : و معنى هذا أن الظالم مظلوم من جهته كما قال الله عز و جل : { و من يعمل سوءا أو يظلم نفسه } فكما ينبغي أن ينصر المظلوم إذا كان غير نفس الظالم ليدفع الظلم عنه كذلك ينبغي أن ينصر إذا كان نفس الظالم ليدفع ظلمه عن نفسه و إنما أمر كل واحد بنصرة أخيه المسلم إذا رآه يظلم و قدر على نصره لأن الإسلام إذا جمعهما صارا كالبدن الواحد كما أن إخوة النسب لو جمعتهما كانا كالبدن الواحد و الدين أقوى من القرابة و أولى بالمحافظة عليه منها و إلى هذا وقعت الإشارة بقوله عز و جل : { إنما المؤمنون إخوة فأصلحوا بين أخويكم } و جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم ما
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحق صغانی نے اور عباس دوری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ہے یزید بن ہارون نے ان کو احمد نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دوری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کیجئے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو درست ہے کہ ہم مظلوم کی مدد کریں اور ہم اس کی کیسے مدد کریں جب کہ وہ ظالم ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کو ظلم کرنے سے روک دو۔ اس کو بخاری نے دوسرے طریق سے حمید سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو ابوزبیر کی حدیث سے اس نے جابر سے اسی کا مفہوم میں ذکر کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ ظالم خود ایک اعتبار سے اور ایک حیثیت سے مظلوم ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ جو شخص برا عمل کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے۔ تو جیسے یہ بات مناسب ہے کہ مظلوم کی مدد کی جائے جب کہ وہ خود ظالم نہ ہو اس لئے مدد ضروری ہے تاکہ اس سے ظلم دفع ہو سکے اور دور کیا جا سکے۔ اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ اس وقت بھی اس کی مدد کی جائے (مظلوم کی ) جب کہ وہ بذات خود ظالم ہوتا کہ اس کے اس ظلم کو دفع کیا جا سکے خود ظلم خود اس کی اپنی ذات کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک کو حکم ہے اپنے مسلم بھائی کی نصرت کرنے کا جب اس کو ظلم کرتا دیکھے اور اس کی مدد کرنے پر قادر بھی ہو کیونکہ اسلام ان دونوں کو ( ظالم کواور مظلوم کو ) جب جمع کرتا ہے تو وہ ایک ہی جسم کی مثل ہوتے ہیں جیسی نسبی بھائی اگر آپ ان دونوں کو اکھٹا کریں تو وہ جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب کہ دین قرابت سے زیادہ قوی ہے اور محافظت کے لحاظ سے اولی ٰہے نسب سے اور اسی بات کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ: انما المؤمنون اخوة فاصلحوا بين اخويكم (الحجرات ۱۰) بے شک مؤمن آ پس میں بھائی بھائی ہیں ۔ پس صلح کرا دو اپنے بھائیوں کے درمیان ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث آئی ہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← محمد بن إسحاق الصغاني و العباس الدوري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7606
