Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7606

7606 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني و العباس الدوري قالا نا يزيد بن هارون أنا حميد عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و في رواية الدوري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال انصر أخاك ظالما أو مظلوما فقالوا يا رسول الله هذا ننصره مظلوما فكيف ننصره ظالما ؟ قال تمنعه من الظلم أخرجه البخاري من وجه آخر عن حميد و أخرجه مسلم من حديث أبي الزبير عن جابر بمعناه قال الإمام أحمد رحمه الله : و معنى هذا أن الظالم مظلوم من جهته كما قال الله عز و جل : { و من يعمل سوءا أو يظلم نفسه } فكما ينبغي أن ينصر المظلوم إذا كان غير نفس الظالم ليدفع الظلم عنه كذلك ينبغي أن ينصر إذا كان نفس الظالم ليدفع ظلمه عن نفسه و إنما أمر كل واحد بنصرة أخيه المسلم إذا رآه يظلم و قدر على نصره لأن الإسلام إذا جمعهما صارا كالبدن الواحد كما أن إخوة النسب لو جمعتهما كانا كالبدن الواحد و الدين أقوى من القرابة و أولى بالمحافظة عليه منها و إلى هذا وقعت الإشارة بقوله عز و جل : { إنما المؤمنون إخوة فأصلحوا بين أخويكم } و جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم ما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحق صغانی نے اور عباس دوری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ہے یزید بن ہارون نے ان کو احمد نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور دوری کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کیجئے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو درست ہے کہ ہم مظلوم کی مدد کریں اور ہم اس کی کیسے مدد کریں جب کہ وہ ظالم ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کو ظلم کرنے سے روک دو۔ اس کو بخاری نے دوسرے طریق سے حمید سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو ابوزبیر کی حدیث سے اس نے جابر سے اسی کا مفہوم میں ذکر کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ ظالم خود ایک اعتبار سے اور ایک حیثیت سے مظلوم ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ جو شخص برا عمل کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے۔ تو جیسے یہ بات مناسب ہے کہ مظلوم کی مدد کی جائے جب کہ وہ خود ظالم نہ ہو اس لئے مدد ضروری ہے تاکہ اس سے ظلم دفع ہو سکے اور دور کیا جا سکے۔ اسی طرح یہ بھی مناسب ہے کہ اس وقت بھی اس کی مدد کی جائے (مظلوم کی ) جب کہ وہ بذات خود ظالم ہوتا کہ اس کے اس ظلم کو دفع کیا جا سکے خود ظلم خود اس کی اپنی ذات کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ایک کو حکم ہے اپنے مسلم بھائی کی نصرت کرنے کا جب اس کو ظلم کرتا دیکھے اور اس کی مدد کرنے پر قادر بھی ہو کیونکہ اسلام ان دونوں کو ( ظالم کواور مظلوم کو ) جب جمع کرتا ہے تو وہ ایک ہی جسم کی مثل ہوتے ہیں جیسی نسبی بھائی اگر آپ ان دونوں کو اکھٹا کریں تو وہ جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب کہ دین قرابت سے زیادہ قوی ہے اور محافظت کے لحاظ سے اولی ٰہے نسب سے اور اسی بات کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں کہ: انما المؤمنون اخوة فاصلحوا بين اخويكم (الحجرات ۱۰) بے شک مؤمن آ پس میں بھائی بھائی ہیں ۔ پس صلح کرا دو اپنے بھائیوں کے درمیان ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث آئی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← محمد بن إسحاق الصغاني و العباس الدوري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7606

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7607

7607 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم أنا جعفر بن عون أنا الأعمش عن خيثمة قال : سمعت النعمان بن بشير يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنما المؤمنون مثل رجل أو كرجل واحد إذا اشتكى عيناه اشتكى كله و إذا اشتكى رأسه اشتكى كله أخرجه مسلم من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح قاضی نے کوفہ میں ان کو ابو جعفرمحمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو اعمش نے ان کو خیثمہ نے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سنا نعمان بن بشیر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے: یقیناً مومن مثل ایک مرد کے ہیں جس وقت اس کی آنکھیں دکھنے آتی ہیں تو پورے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور جب اس کے سر میں درد ہوتا ہےپورے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اعمش سے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7607

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7608

7608 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز أنا محمد عن عبيد الله نا إسحاق الأزرق نا زكريا عن الشعبي عن النعمان بن بشير : عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو محمد بن عبید اللہ نے ان کو اسحاق ازرق نے ان کو زکریا نے ان کو شعبی نے ان کو نعمان بن بشیر نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7608

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7609

7609 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو منصور محمد بن القاسم العتكي نا أحمد بن نصر نا أبو نعيم نا زكريا قال : سمعت عامرا يقول سمعت النعمان بن بشير يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المؤمنين في تراحمهم و توادهم كمثل الجسد إذا اشتكى عضو منه تداعى له سائر الجسد بالحمى و السهر لفظ حديث أبي نعيم و في رواية إسحاق تعاطفهم بدل تواصلهم رواه البخاري عن أبي نعيم و أخرجه مسلم من وجه آخر عن زكريا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابومنصور محمد بن قاسم عتکی نے ان کو احمد بن نصر نے ان کو ابونعیم نے ان کو زکریا نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عامر سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا نعمان بن بشیر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمنوں کی مثال ان کے با ہم ایک دوسرے پر شفیق ہونے میں اور ان کے باہم محبت کرنے میں اور ان کے باہمی میل جول میں ایک جسم جیسی ہے کہ اس کا کوئی ایک عضو جب تکلیف میں ہوتا ہے یا بیمار ہوتا ہے تو پورے جسم کو بخار ہو جاتا اور بے خوابی و بے آرامی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ یہ الفاظ ابونعیم کی حدیث کے ہیں ۔ اور اسحٰق کی روایت میں ہے۔ کہ مؤمنوں کی مثال ان کے باہم الفت کرنے میں یعنی تو اصلھم کی بجائے تعاطفہم ہے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابو نعیم سے ۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے دوسرے طریق سے زکریا ہے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَامِرًا ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7609

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7610

7610 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب و أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن مطرف عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : مثل تراحم المؤمنين بعضهم على بعض و نصح بعضهم بعضا و شفقة بعضهم على بعض كرجل اشتكى بعض جسده فتداعى له جسده كله بالسهر إذ ألم بعض جسده رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب اور ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو مطرف نے ان سے شعبی نے ان سے نعمان بن بشیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ فرماتے ہیں: کہ مؤمنوں میں سے بعض کی بعض کے ساتھ با ہم مہربان ہونے کی مثال اور ان کے بعض کی بعض کے ساتھ خیر خواہی اور ان کے بعض کی بعض کے ساتھ شفقت سے ایسے ہیں جیسے اس کے جسم کا کوئی حصہ بیمار ہو جائے تو اس کے لئے اس کا پورا جسم بے آرامی و بے خوابی کا شکار ہو جاتا ہے جب اس کا بعض جسم درد کر رہا ہو۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے اسحق بن ابراہیم سے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو عبد الله محمد بن يعقوب و أبو الفضل بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7610

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7611

7611 - أخبرنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان نا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الحميد الحارثي الكوفي نا أبو أسامة عن يزيد بن أبي بردة عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إن المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا و شبك بين أصابعه أخرجاه من حديث أبي أسامة

ہمیں خبر دی ابوعثمان سعید بن محمد بن محمد بن عبدان نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی کوفی نے ان کو ابواسامہ کو یزید بن ابو بردہ نے ان کو ابوموسیٰ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ بے شک مؤمن مؤمن کے لئے مثل ایک دیوار کے ہے جس کی ایک اینٹ دوسری کے ساتھ مل کر اس کو مضبوط بناتی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو آپس میں ایک دوسری میں ڈال کر دیکھایا کہ ایسے۔ بخاری مسلم نے اس کو روایت کیا ابواسامہ سے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← يزيد بن أبي بردة ← أَبُو أُسَامَةَ ← أحمد بن عبد الحميد الحارثي الكوفي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7611

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7612

7612 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو أحمد بن الشرقي و أبو بكر محمد بن الحسين القطان قالا نا أبو الأزهر نا أبو أسامة عن يزيد بن عبد الله بن أبي بردة عن جده أبي بردة عن أبي موسى قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا جاءه السائل قال و في رواية القطان عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اشفعوا فلتؤجروا و ليقض الله على لسان نبيه ما شاء

ہمیں خبر دی ابوالحسن علوی نے ان کو ابو حامد بن شرقی نے اور ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان دونوں کو ابوالا زہر نے ان کو ابواسامہ نے بھی ان کو برید بن عبداللہ بن ابو بردہ نے اس نے اپنے دادا ابو بردہ سے اس نے ابوموسٰی سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب ان کے پاس سائل آتا۔ فرمایا کہ اور قطان کی ایک روایت میں ہے ۔ ابوموسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سفارش کرو ، تم اجر دیئے جاؤ گے اللہ تعالیٰ جو چاہے گا اپنے نبی کی زبان پر فیصلہ کرائے گا ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← و في رواية القطان ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جاءه السائل ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أبو أحمد بن الشرقي و أبو بكر محمد بن الحسين القطان ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7612

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7613

7613 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الحميد نا أبو أسامة : فذكره بإسناده مثله غير أنه قال إذا أتاه أو ربما قال إذا جاءه سائل أو صاحب الحاجة قال اشفعوا و قال على لسان رسوله ما شاء أخرجه البخاري عن أبي كريب عن أبي أسامة و أخرجه مسلم من وجه آخر عن يزيد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالحمید نے ان کو ابواسامہ نے بھی اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ سوائے اس کے کہ اس نے کہا کہ جب ان کے پاس آیا۔ اور بسا اوقات یوں کہا کہ جب ان کے پاس سائل آیا۔ یا صاحب حاجت آیا۔ تو فرمایا سفارش کرو ۔ اور کہا اپنے رسول کی زبان پر جو کچھ اس نے چاہا۔ نقل کیا ہے اس کو بخاری نے ابو کر یب سے اس نے ابوامامہ سے ۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق یعنی یزید سے ۔

يَزِيدُ: ← أبي أسامة و أخرجه مسلم من وجه آخر ← أَبِي كُرَيْبٍ ← على لسان رسوله ما شاء أخرجه البخاري ← اشفعوا و ← إذا جاءه سائل أو صاحب الحاجة ← إذا أتاه أو ربما ← أبو أسامة فذكره بإسناده مثله غير أنه ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7613

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7614

7614 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا يحيى بن بكير حدثني الليث عن عقيل عن ابن شهاب : أن سالم بن عبد الله أخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المسلم أخو المسلم لا يظلمه و لا يسلمه من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته و من فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة و من ستر على مسلم ستره الله يوم القيامة رواه البخاري عن يحيى بن بكير و رواه مسلم عن قتيبة عن الليث

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو ابن شہاب نے یہ کہ سالم بن عبداللہ نے اس کو خبر دی ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اس کوخبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مسلم مسلم کا بھائی ہے نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یارومددگار چھوڑتا ہے جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگارہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور مشکل کھول دیتا ہے تو اللہ تعالی ٰ اس شخص کی قیامت کی مشکلات میں سے ایک مشکل آسان کر دے گا اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا ۔بخاری نے اس کو روایت کیا یحییٰ بن بکیر سے اور مسلم نے قتیبہ سے اس نے لیث سے۔

ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7614

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7615

7615 - أخبرنا أبو القاسم علي بن محمد بن يعقوب الأيادي ببغداد نا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل املاء نا أحمد بن عبد الجبار العطاردي نا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من فرج عن مؤمن كربة فرج الله عنه كربته و من ستر على مؤمن ستر الله عورته و لا يزال الله عز و جل في عونه ما دام في عون أخيه مخرج من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابوالقاسم علی بن محمد بن یعقوب ایادی نے بغداد میں ان کو ابو جعفر عبداللہ بن اسماعیل نے بطور املاء کے ان کو احمد بن عبدالحمید عطاردی نے ان کو ابوبکر بن عیاش نے ان کواعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مؤمن کی تکلیف دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں اور جو شخص کسی مومن کے عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کی مددکرنے میں لگا رہتا ہے وہ جب تک اپنے بھائی کی معاونت کرتا رہتا ہے۔ یہ دوسرے طریق سے اعمش سے منقول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل إملاء ← أبو القاسم علي بن محمد بن يعقوب الأيادي ببغداد

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7615

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7616

7616 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي علي السقا أن محمد بن يزداد نا محمد بن أيوب أنا هشام بن عبد الملك نا شعبة عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه عن جده : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : على كل مسلم في كل يوم صدقة قيل فإن لم يجد ؟ قال : يعمل بيده فينفع نفسه و يتصدق قيل : فإن لم يستطع أو لم يجد قال : يأمر بالمعروف أو بالخير قيل : فإن لم يستطع و ربما قال فإن لم يجد قال : يعين ذا الحاجة و الملهوف قيل : فإن لم يستطع قال يكف عن الشر فإنها صدقة أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن ابوعلی سقا نے ان کومحمد بن یز داد نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ہشام بن عبدالملک نے ان کو شعبہ نے ان کو سعید بن ابو بردہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر ہر روز اور ایک صدقہ کرنا لازم ہوتا ہے عرض کیا گیا کہ اگر وہ کچھ نہ پائے ؟ (یعنی صدقہ کرنے کو کچھ بھی نہ ہو۔) فرمایا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ عرض کیا گیا کہ اگر وہ استطاعت نہ رکھے یانہ پائے کوئی چیز ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معروف کا حکم کرے یا کہا کسی چیز کی تلقین کرے۔عرض کیا گیا کہ اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھے کبھی راوی کہتا تھا کہ اگر وہ کوئی چیز نہ پائے ۔ فرمایا کہ حاجت مند کی اور مجبور کی مددکرے عرض کیا گیا کہ اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھے۔ فرمایا کہ شرو برائی سے رک جائے بے شک یہی صدقہ ہے اس کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے شعبہ کی حدیث سے۔

أبو الحسن بن أبي علي السقا

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7616

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7617

7617 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر محمد بن محمد بن محمد بن أحمد بن رجاء قالا نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب الفراء نا محاضر بن المودع نا هشام بن عروة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد أنا أبو القاسم ابن بنت أحمد بن منيع نا خلف بن هشام نا حماد بن زيد عن هشام بن عروة عن أبيه عن أبي مرواح الغطفاني عن أبي ذر قال : قلت يا رسول الله : أي الأعمال أفضل و في رواية محاضر أي العمل أفضل قال : إيمان بالله و جهاد في سبيله قال : قلت أي الرقاب أفضل ؟ قال : أنفسها عند أهلها و أكثرها ثمنا و في رواية محاضر و أغلاها ثمنا قال قلت أرأيت إن لم أفعل ؟ قال : تعين صانعا أو تصنع لأخرق قال : قال : قلت يا رسول الله أرأيت إن ضعفت عن بعض العمل ؟ قال فكف شرك عن الناس فإنها صدقتك على نفسك و في رواية محاضر قال : قلت أرأيت إن ضعفت عن ذلك ؟ قال : تدع الناس من الشر فإنها صدقة تصدق بها على نفسك رواه مسلم عن خلف عن هشام

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر محمد بن محمد بن محمد بن احمد بن رجاء نے دونوں کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کومحمد بن عبدالوہاب فراء نے ان کو محاضر بن مودع نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو الولید نے ان کو ابوالقاسم نے ابن بنت احمد بن منیع نے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابومرواح غطفانی نے ان کو ابوذر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یارسول اللہ کونساعمل افضل ہے؟ ایمان باللہ ۔ جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کونسا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس کے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو اور قیمت زیادہ ہو۔ اور محاضر کی روایت میں ہے کہ جس کی قیمت زیادہ مہنگی ہو کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یہ فرمایئے کہ اگر میں نہ کرسکوں؟ فرمایا کہ کسی کام کر نے والے کی مدد کر یا مجبور و بے بس کے لئے خودمحنت کر ۔کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ اگر میں بعض عمل سے عاجز آ جاؤں؟ فرمایا پھر تو اپنے شر کولوگوں سے روک دے۔ بے شک وہی صدقہ ہے تیرا تیرے نفس پر اور محاضر کی ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے کہا یہ بتائیے کہ اگر میں اس سے عاجز ہو جاؤں؟ فرمایا کہ پھر تو اپنے شر سے لوگوں کو بچا یہی صدقہ ہے جس کے ذریعہ تو اپنے اوپر صدقہ کر سکتا ہے ۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے خلف سے اس نے ہشام سے ۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي مِرْوَاحٍ الْغَطَفَانِيِّ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام، ← أَبُو الْقَاسِمِ ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← محاضر بن المودع ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7617

chevron_left Previous
1234…19
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood