Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 681

680 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أسيد بن عاصم ثنا الحسين بن حفص عن سفيان عن عطاء بن أبي مروان أبي مصعب الأسلمي قال : حدثني أبي عن كعب قال : قال موسى عليه السلام : يا رب أقريب أنت فأناجيك أم بعيد فأناديك ؟ فقيل له : يا موسى أنا جليس من ذكرني فقال : إني أكون على حال أجلك عنها قال : ما هي يا موسى ؟ قال : عند الغائط و الجنابة قال : اذكرني على كل حال

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرہ سے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی محمد بن یعقوب نے ان کو اسید بن عاصم نے ان کو حسین بن حفص نے ، ان کو سفیان نے عطا بن ابی مروان ابو مصعب اسلمی سے، کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی میرے وال نےکعب سے، وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ، اے میرے رب کیا آپ قریب ہیں ۔ لہذا میں تیرے ساتھ سر گوشی کروں ۔ یا آپ بعید اور دور ہیں لہذا میں آپ کو زور سےپکاروں۔ اس سےکہا گیا اے موسیٰ میں اس کا ہمنشین ہوں جو میرا زکر کرتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں ایسی حالت پر ہوتا ہوں کہ میں آپ کو اس وقت ذکر کرنے سے عظیم اور جلیل تر جانتاہوں ۔ فرمایا کہ وہ کیا ہے ؟ عرض کیا کہ پا خانے کے وقت اور جنب یعنی ناپاکی کے وقت ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ مجھےہر حال میں یاد کیجئے ۔

اذْكُرْنِي عَلَى كُلِّ حَالٍ ← عند الغائط و الجنابة ← مَا هِيَ يَا مُوسَى؟ ← إِنِّي أَكُونُ عَلَى حَالٍ أُجِلُّكَ عَنْهَا ← جَلِيسُ مَنْ ذَكَرَنِي، ← موسى يا رب أقريب أنت فأناجيك أم بعيد فأناديك فقيل له يا موسى ← کَعْبٍ ← أَبِي ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ أَبِي مُصْعَبٍ الْأَسْلَمِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 681

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 682

681 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن بن صبيح ثنا عبد الله بن شيرويه ثنا إسحاق ثنا جرير عن يعقوب القمي عن أبي عمرو الشيباني عن أبيه عن ابن عباس قال : وفد موسى إلى طور سيناء قال يا رب أي عبادك أحب إليك ؟ قال : الذي يذكرني و لا ينساني

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ابو الحسن بن صبیح نے ، ان کو عبداللہ بن شیر ویہ نے ، ان کو اسحاق نے ، ان کو جریر نے ، ان کو یعقوب قمی نے ، ان کو ابو عمر وشیبانی نے ، ان کو والد نے ، ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام طور پر سینا پرآئے اور عرض کیا اے میرے رب تیرے بندوں میں سے کونسا بندہ تجھے محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بندہ جو مجھےیاد کرتا ہے اور مجھے نہیں بھولتا ۔

الذي يذكرني و لا ينساني ← يا رب أي عبادك أحب إليك ← وفد موسى إلى طور سيناء ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← أبو الحسن بن صبيح ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 682

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 683

682 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ أنا أحمد بن محمد بن سالم ثنا إبراهيم بن الجنيد حدثني أحمد بن حاتم الطويل ثنا حاتم بن إسماعيل ثنا عبد الملك بن حسن عن محمد بن كعب القرظي قال : قال موسى عليه السلام : يا رب أي خلقك أكرم عليك قال : الذي لا يزال لسانه رطبا من ذكري قال : يا رب أي خلقك أعلم ؟ قال : الذي يلتمس إلى علمه علم غيره قال : يا رب فأي خلقك أعدل ؟ قال : الذي يقضي على نفسه كما يقضي على الناس قال : يا رب فأي خلقك أعظم ذنبا ؟ قال : الذي يتهمني قال : يا رب و هل يتهمك أحد ؟ قال : الذي يستخيرني ثم لا يرضى بقضائي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدااللہ حافظ نے ، ان کو علی بن حمشاد نے ان کو احمد بن محمد بن سالم نے ، ان کو ابراہیم بن جنید نے ، ان کو احمد بن حاتم طویل نے ، ان کو حاتم بن اسماعیل نے ، ان کو عبدالملک بن حسن نے ، ان کو محمد بن کعب قرضی نے ، کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ، اے میرے رب ، تیری مخلوق میں سے تیرے نزدیک کون زیادہ عزت و شرافت والا ہے ؟ فرمایا کہ وہ جس کی زبان ہمیشہ میرے ذکر کے ساتھ تر رہتی ہے ۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ تیری مخلوق میں سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ فرمایا کہ جو دوسرے کے علم کو اپنے علم پر ترجیح دیتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا تیری مخلوق میں سب سے زیادہ عادل کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے نفس کے خلاف بھی فیصلہ کرتا ہے ۔ جیسے کہ وہ لوگوں کے خلاف فیصلہ کرتا ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے رب ، تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بڑا گنا ہگار کون ہے ؟ فرمایا جو مجھ پر تہمت دھرتا ہے ۔ عرض کی کہ اےمیرے رب کیا آپ کے اوپر بھی کوئی ہے جو تہمت لگائے ۔ فرمایا کہ جو شخص مجھ سے خیر طلب کرتا ہے (استخارہ کرتا ہے )پھر میرے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا ۔

الذي يستخيرني ثم لا يرضى بقضائي ← يا رب و هل يتهمك أحد ← الذي يتهمني ← يا رب فأي خلقك أعظم ذنبا ← الَّذِي يَقْضِي عَلَى نَفْسِهِ كَمَا يَقْضِي عَلَى النَّاسِ. ← يا رب فأي خلقك أعدل ← الذي يلتمس إلى علمه علم غيره ← يا رب أي خلقك أعلم ← الذي لا يزال لسانه رطبا من ذكري ← موسى يا رب أي خلقك أكرم عليك ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← عبد الملك بن حسن ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أحمد بن حاتم الطويل ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← أحمد بن محمد بن سالم ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 683

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 684

683 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أخبرنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا عبد الله بن أبي مسلم الحراني ثنا داود بن عمرو ثنا صالح بن عمر عن عبد الملك عن عطاء : في قوله عز و جل : { فاذكروا الله كذكركم آباءكم } قال هذا الصبي يلهج يا ابه يا ابه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ، ان کو خبردی ابو سھل بن زیاد وقطار نے ، ان کو عبداللہ بن ابی مسلم حرانی نے، ان کو داؤد بن عمرو نے ، ان کو صالح بن عمرو نے ، ان کو عبدالملک نے ، ان کو عطاء نے اللہ تعالیٰ کےارشاد کے بارے میں : فاذکرو اللہ کذکرکم آباء کم (البقرہ 200) اللہ تعالیٰ کو ایسے یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتےہو۔ فرمایا کہ یہ وہ بچہ مراد ہے جو چیختا ہے اور ضد کرتا ہے کہ اے باپ ، اے باپ ، اے میرے ابا ، اےمیرے ابا ۔

هذا الصبي يلهج يا ابه يا ابه ← عطاء في قوله عز و جل فاذكروا الله كذكركم آباءكم ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← عبد الله بن أبي مسلم الحراني ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 684

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 685

684 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي ثنا سعيد بن عبد العزيز قال : قال بلال بن سعد : الذكر ذكران ذكر الله باللسان حسن جميل و ذكر الله عند ما أحل أو حرم أفضل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ بن فضل نے ، وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن ولید بن فرید نے ، ان کو خبر دی ان کے والد نے ، ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ، وہ کہتے ہیں کہ بلال بن سعد نے فرمایا : ذکر دو قسم کےہیں ۔ زبان کے ساتھ اللہ کو یاد کرنا یہ اچھا ہے اور خوبصورت ہے۔ دوسرے اللہ کو یاد کرنا اس وقت جب وہ حلال کرے یا حرام کرے یہ افضل ہے ۔ (یعنی اللہ کےحلال کو اس کا حلال کیا ہوا سمجھے اور اس کے حرام کو اسی کا حرام سمجھ کر باز آجائے )۔

الله عند ما أحل أو حرم أفضل ← الله باللسان حسن جميل و ← بِلَالُ بْنُ سَعْدٍ: الذِّكْرُ ذِكْرَانِ: ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 685

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 686

685 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبيد الله بن عبد الرحمن يقول : سمعت إسحاق بن إبراهيم بن أبي حسان الأنماطي ثنا أحمد بن أبي الحواري ثنا أبو مسهر ثنا ابن شابور عن سعيد بن عبد العزيز عن بلال بن سعد قال : الذكر ذكران : فذكر الله باللسان و كل ذكر حسن و ذكر عند الطاعة و المعصية فذاك أفضل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے عبید اللہ بن عبدالرحمٰن سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے عبید اللہ بن عبدالرحمٰن سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اسحاق بن ابراہیم بن ابو حسان انماطی سے، ان کو احمد بن ابو الحواری نے ، ان کو ابو مسھر نے ، ان کو ابن شابور نے ، ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ، ان کو بلال بن سعد نے ، فرماتے ہیں کہ ذکر دو قسم کے ہیں ۔ زبان کے ساتھ اللہ کا زکر کرنا ، یہ ذکر حسن ہے۔اور دوسرے ذکر ہے طاعت اور معصیت کے وقت ۔ یہ افضل ہے ۔ (یعنی کوئی اطاعت کرنے لگے تو اللہ کو یاد کرے کہ یہ اسی کے حکم کی اطاعت ہے اور گناہ کرنے پر آئے تو اللہ کو یاد کرلے کہ اسی کی نافرمانی ہو رہی ہے تا کہ اس سے بچا جائے۔

عند الطاعة و المعصية فذاك أفضل ← حسن و ← الذكر ذكران فذكر الله باللسان و كل ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← ابن شابور ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← إسحاق بن إبراهيم بن أبي حسان الأنماطي ← عبيد الله بن عبد الرحمن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 686

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 687

686 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا أبو صالح ثنا معاوية بن صالح عن ربيعة بن يزيد عن إسماعيل بن عبيد الله عن أم الدرداء أنها قالت : ـ { و لذكر الله أكبر } و إن صليت فهو من ذكر الله و إن صمت فهو من ذكر الله و كل خير تعمله فهو من ذكر الله و كل شيء تجتنبه فهو من ذكر الله و أفضل من ذلك تسبيح الله عز و جل و روي في معناه حديث مرسل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ، ان کو سھل بن زیاد قطان نے ، ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ، ان کو ابو صالح نے ، ان کو معاویہ بن صالح نے ، ان کو ربیعہ بن یزید نے ، ان کو اسماعیل بن عبیداللہ نے ، ان کو ام درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ، وہ فرماتی ہیں : ولذکراللہ اکبر (عنکبوت 45)اللہ کی یاد بہت بڑی ہے۔

الله و كل شيء تجتنبه فهو من ← الله و كل خير تعمله فهو من ← الله و إن صمت فهو من ← و لذكر الله أكبر و إن صليت فهو من ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، أَنَّهَا ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 687

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 688

687 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا عبد الله بن المبارك عن سعيد بن أبي أيوب عن أبي هاني الخولاني عن ابن أبي عمران قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أطاع الله فقد ذكر الله و إن قلت صلاته و صيامه و تلاوة القرآن و من عصى الله فقد نسي الله و إن كثرت صلاته و صيامه و تلاوة القرآن

ہمیں خبر دی ابو نصربن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نضروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو عبداللہ بن مبارک نے ، ان کو سعید بن ابوایوب نے ، ان کو ابو ھانی خولانی نے ، ان کو ابن ابوعمر ان نے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: من اطاع اللہ فقد ذکر اللہ وان قلت صلوۃ ۔ وصیامہ ، وتلاوۃ القران و من عصی اللہ فقد ۔ نسی اللہ وان کثرت صلوۃ وصیامہ ، وتلاوت القراٰن۔جس نے اللہ کی اطاعت کی ، اس نے اللہ کا ذکر کیا اگر چہ اس کی نماز کم ہو اور اس کا روزہ اس کی تلاوت قرآن کم بھی ہو ۔ جس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ اللہ کو بھول گیا اگرچہ اس کی نماز ، روزہ ، تلاوت قرآن زیادہ ہو۔

ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ ← أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 688

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 689

688 - قال و ثنا سعيد بن منصور قال : سمعت فضيلا يقول : في قوله تعالى : { فاذكروني أذكركم } قال : اذكروني بطاعتي أذكركم بمغفرتي لكم

فرماتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی سعید بن منصور نے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے فضیل بن عیاض سے سنا ، وہ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں : فاذکرونی اذکرکم (البقرۃ 152) مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے یاد کرو میری اطاعت کے ساتھ میں تمہیں یاد کرو تمہارے لئے اپنی مغفرت کے ساتھ ۔

اذكروني بطاعتي أذكركم بمغفرتي لكم ← في قوله تعالى فاذكروني أذكركم ← فُضَيْلًا ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← و،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 689

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 690

689 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن مسروق قال : ما دام قلب الرجل يذكر الله فهو في صلاة و إن كان في السوق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد موسیٰ نے ، دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو ھارون بن سلیمان نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو منٹور نے ، ان کو سالم بن ابو الجمعد نے ، ان کو مسروق نے ، وہ فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی کا دل اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے وہ ایسے ہوتا ہے جیسی وہ نماز میں ہے ، اگر چہ بازار میں بھی ہو۔

مَسْرُوقٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 690

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 691

690 - أخبرنا أبو عبد الله و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس ثنا هارون ثنا عبد الرحمن عن سفيان عن منصور عن هلال عن أبي عبيدة قال : ما دام قلب الرجل يذكر الله فهو في صلاة و إن تحرك اللسان و الشفتان فذاك أعظم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے، ان کو ہارون بن سلیمان نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو منصور نے ، ان کو ہلال نے ، ان کو عبیدہ نے ، کہتے ہیں کہ آدمی کا دل جب تک اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے ، وہ ایسے ہوتا جیسے کہ وہ نماز میں ہے اور اگر زبان او رہونٹ بھی ذکر کے ساتھ متحرک رہیں تو یہ بہت بڑا اجر ہے ۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← هِلَالٍ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← هَارُونُ: ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 691

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 692

691 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان عن مسعر عن عون بن عبد الله عن ابن مسعود قال : إن الجبل لينادي الجبل : أي فلان هل مر بك أحد ذكر الله عز و جل ؟ فإذا قال : نعم استبشر قال عون : فيسمعن الزور إذا قيل و لا يسمعن الخير ؟ هن للخير أسمع و قرأ : { وقالوا اتخذ الرحمن ولدا * لقد جئتم شيئا إدا * تكاد السماوات يتفطرن منه وتنشق الأرض وتخر الجبال هدا * أن دعوا للرحمن ولدا }

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نضروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو سفیان نے مسعر سے ، ان کو عون بن عبداللہ نے ، ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے پکا ر کرپوچھتا ہے اے فلاں پہاڑ کیا تیرے پاس سے کوئی ایسا بندہ گذرا ہے جو اللہ کا ذکر کر رہا ہو؟ جب پہاڑ کہے کہ ہاں ذکر کر نے والا میرے پاس سے گذرا ہے تو وہ پہاڑ خوش ہو جاتا ہے ۔ حضرت عون کہتے ہیں کہ وہ جھوٹ کو سن لیتے ہیں جب کہا جائے اور کیا وہ خیر کو نہیں سنتے ؟ بلکہ وہ خیر کو زیادہ سنتے ہیں ۔ اور انہوں نے یہ آیت پڑھی : وقالو اتخذ الرحمٰن ولدا لقد جبتم شیئاً ادا۔ تکاد السموات یتفطرن منہ و تنشق الارض و تخرالجبال ہدًا ۔ ان دعواللرحمن ولدًا ۔ ( مریم 88-91) (مشرک اور عیسائی لوگ ) کہتے ہیں کہ رحمٰن نے اولاد بنا رکھی ہے (کہہ دو کہ ) تم لو گ بڑی بھاری بات لائے ہو( جس سے ) قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے اور زمین ٹکرے ٹکڑے ہو جائے ، اور گر پڑیں پہاڑ ڈھے کر ۔ اس بات پر کہ پکارتے ہیں رحمٰن کے لئے اولاد ۔ حضرت عون یہ کہتا چاہتے تھے کہ مذکورہ حدیث میں پہاڑ وں کے ذکر اللہ سننے کا ذکر ہے او ریہ حقیقت ہے کہ یہ خیر ہے اور مذکورہ آیت میں پہاڑوں کا مشرکا نہ قول پر گرنے کا ذکر ہے ، جبکہ مشرکانہ قول صریح جھوٹ ہے ۔ حضرت عون فرماتے ہیں کہ کیا پہاڑ جھوٹ کو سنتے ہیں تو کیا خیر کو نہیں سنتے ۔ ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ خیر کو یعنی ذکر اللہ کو بھی سنتے ہیں ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 692

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood