Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 669

668 - أخبرنا أبو زكريا بن إسحاق أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون عن عبد الملك بن ميسرة عن هلال بن يساف عن عبد الله قال : لأن أسبح تسبيحات أحب إلي من أن أنفق عددهن دنانير في سبيل الله

ہمیں خبر دی ہے ابو زکر بن اسحاق نے ، ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ، ان کو جعفر بن عون نے ، ان کو عبدالملک بن میسر ہ نے ، ان کو ھلال بن یساف نے، ان کو عبداللہ نے ، وہ کہتے ہیں کہ اگر میں تسبیحات پڑھوں یعنی سبحان اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسی تعداد میں دینار اللہ کی راہ میں خرچ کروں ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبو زكريا بن إسحاق أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 669

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 670

669 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن أبي هاشم العلوي بالكوفة أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا إبراهيم بن عبد الله أنا وكيع عن الأعمش عن عبد الملك بن أبي زيد قال : جلس عبد الله بن عمرو و عبد الله بن مسعود فقال عبد الله بن مسعود : لأن آخذ في طريق أقول فيه سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر أحب إلي من أن أنفق عددهن دنانير في سبيل الله فقال عبد الله بن عمرو : و لأن آخذ في طريق فأقولهن أحب إلي من أن أحمل عددهن على الخيل في سبيل الله تعالى

ہمیں خبر دی ہے ابو لقاسم زید بن ابو ہاشم علوی نے ، کو فے میں ان کو کبر دی ہے ابو جعفر محمد بن علی دحیم نے ، ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ، ان کو وکیع نے ، ان کو اعمش نے ، ان کو عبدالملک بن ابو زید نے ، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ساتھ بیٹھے ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ، البتہ اگر میںکسی ایسے راستے پر چلوں جس پر میں یہی کلمات پڑھتا جاؤں تو یہ بات مجھے اس سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ میں اتنی ہی تعداد میں گھوڑوں پر جہاد فی سبیل اللہ میں سواری کروں ۔

جلس عبد الله بن عمرو و عبد الله بن مسعود ← عبد الملك بن أبي زيد ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو القاسم زيد بن أبي هاشم العلوي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 670

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 671

670 - و بإسناده عن الأعمش عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال : قال لرجل لسلمان : أي الأعمال أفضل ؟ قال : ذكر الله أكبر

انہیں کی اسناد کے ساتھ اعمش نے بواسطہ ابو اسحاق و بواسطہ عبدالرحمٰن بن یزید روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سلمان سے کہا اعمال میں سے کونسا عمل افضل ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اکبر کا ذکر کرنا ۔ یا اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔

اللَّهُ أَكْبَرُ. ← لرجل لسلمان أي الأعمال أفضل ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 671

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 672

671 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا محمد بن عبيد ثنا هارون بن عنترة عن أبيه قال : سمعت ابن عباس و سأله رجل أي الأعمال أفضل ؟ قال : ذكر الله أفضل فأعادها عليه ثلاث مرات ثم أنشأ يحدث فقال : ما جلس قوم في بيت من بيوت الله يدرسون كتاب الله يتعاطونه بينهم إلا كانوا أضياف الله و أظلت عليه الملائكة بأجنحتها ما داموا فيه حتى يخوضوا في حديث غيره و ما سلك رجل في طريق يبتغي فيه العلم إلا سهل الله له به سبيلا إلى الجنة و من بطأ به عمله لم يسرع به نسبه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن محمد دوری نے ، ان کو محمد بن عبید نے ، ان کو ہارون بن عنترہ نے ، ان کو ان کے باپ نے ، کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے کہ ان سے ایک آدمی نے سوال کیا تھا کہ اعمال میں سے کونسا عمل افضل ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ذکر اللہ افضل ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ذکر اللہ افضل ہے ۔ اس جواب کو انہوں نے تین بار دھر ایا ۔ اس کے بعد حدیث بیان کرنا شروع کیا اور فر مایا کہ نہیں بیٹھے کچھ لوگ اللہ کے گھر روں میں سے کسی گھر میں جو کہ کتاب اللہ کا درس دیتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ اس کو آپس میں دیتے ہیں مگر وہ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں اور ان پر فرشتے اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں ۔ جب تک وہ اس میں رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں ۔ جو شخص کسی راستے پر علم کی تلاش میں چلتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتے ہیں جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا اس کو اس کا نسب آگے نہیں کر سکے گا۔

الله أفضل فأعادها عليه ثلاث مرات ثم أنشأ ← ابن عباس و سأله رجل أي الأعمال أفضل ← أَبِيهِ ← هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 672

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 673

672 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس هو الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار أنا أبو العباس هو الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا ابن فضيل ـ ح أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد ثنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا محمد بن فضيل عن هارون بن عنترة عن أبيه قال : سئل ابن عباس : أي العمل أفضل ؟ قال : ذكر الله أكبر قال البيهقي رحمه الله : زاد أبو عبد الله في روايته ثم ردها ثلاث مرات ثم ذكر معنى ما روينا من حديث محمد بن عبيد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابن فضیل نے ، ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے بغداد میں ان کو حسین بن صفوان نے، ان کو ابن ابودنیا نے ، ان کو ابو ھشام نے ، ان کو محمد بن فضیل نے ، ان کو ھارون بن غرہ نے ، ان کو ان کے والد نے ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے ؟ فرمایا کہ اللہ اکبر کا ذکر کرنا ۔یا یہ کہ اللہ کی یادسب سے بڑی ہے ۔

معنى ما روينا من حديث محمد بن عبيد ← البيهقي زاد أبو عبد الله في روايته ثم ردها ثلاث مرات ثم ← اللَّهُ أَكْبَرُ. ← سئل ابن عباس أي العمل أفضل ← أَبِيهِ ← هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 673

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 674

673 - أخبرنا أبو الحسين أنا الحسين ثنا ابن أبي الدنيا ثنا هشام ثنا ابن فضيل ثنا فضيل بن مرزوق عن عطية : ـ { و لذكر الله أكبر } قال هو قوله : { فاذكروني أذكركم } فذكر الله إياكم أكبر من ذكركم إياه

ہمیں خبر دی ابو الحسین نے ، ان کو الحسین نے ، ان کو ابی الدنیا نے ، ان کو ابو ھشام نے ، ان کو ابن فضیل نے ، ان کو فضیل بن مرزوق نے ، ان کو عطیہ نے : ولذکراللہ اکبر ۔ اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے ۔ اللہ کی یاد سب سے بڑی ہے۔ فرمایا کہ یہی قول ہے اللہ تعالیٰ کا : فاذکرونی از کرکم (البقرۃ 152) یاد کر وتم مجھ کو میں یاد کروں گا تم کو ۔ اللہ تعالیٰ کا تم لوگوں کو یاد کرنا بہت بڑا ہے تمہارے اللہ کو یاد کرنے سے ۔

هو قوله فاذكروني أذكركم فذكر الله إياكم أكبر من ذكركم إياه ← عطية و لذكر الله أكبر ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هِشَامٍ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الحسين ← أَبُو الْحَسَينِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 674

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 675

674 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن حمشاذ أخبرني يزيد بن الهيثم ثنا إبراهيم بن أبي الليث ثنا الأشجعي عن سفيان عن عطاء بن السايب عن عبد الله بن ربيعة قال : سألني ابن عباس عن قول الله عز و جل : { و لذكر الله أكبر } قلت : ذكر الله بالتسبيح و التهليل و التكبير فقال : لا ذكر الله أكبر من ذكركم إياه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو علی بن حمشا ذ نے ، ان کو خبر دی ہے یزید بن ھیثم نے ، ان کو ابراہیم بن ابو لیث نے ، ان کو اشجعی نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو عطاء بن سائب نے ، ان کو عبداللہ بن ربیعہ نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا : ولذکر اللہ اکبر (عنکبوت 45) اللہ کی یاس سب سے بڑی ہے ۔ میں نے جواب دیا کہ ذکر اللہ تسبیح ، تہلیل اور تکبیر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ ذکر اللہ بہت بڑا ہے تمہارے اس کو یاد کرنے سے ۔

الله أكبر من ذكركم إياه ← الله بالتسبيح و التهليل و التكبير فقال لا ← قول الله عز و جل و لذكر الله أكبر قلت ← سألني ابن عباس ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبِيعَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ← يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 675

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 676

675 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا خلف بن هشام ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن سعيد قال : قال معاذ : لأن أذكر الله من بكرة إلى الليل أحب إلي من أن أحمل على جياد الخيل في سبيل الله من بكرة إلى الليل

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ، ان کو عبداللہ بن ابو دنیا نے ، ان کو خلف بن ھشام نے ، ان کو حماد بن زید نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ، ان کو سعید نے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذنے فرمایا کہ البتہ اگر میں اللہ کا ذکر صبح سے رات تک کروں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں خالص عمدہ گھوڑوں پر اللہ کی راہ میں صبح سے رات تک سواری کروں ۔

سَعِيدٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 676

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 677

676 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن علي الصنعاني بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد أنا عبد الرزاق أنا سفيان الثوري عن حكيم بن جبير عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : ما من مولود إلا على قلبه الوسواس فإن ذكر الله خنس و إن غفل وسوس و هو قوله عز و جل : { الوسواس الخناس }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو محمد بن علی صنعانی نے مکہ میں ، ان کو خبر دی ہے اسحاق بن ابراہیم بن عباد نے ، ان کو عبدالرزاق نے ، ان کو سفیان ثوری نے، ان کو حکیم بن جبیر نے ، ان کو سعید بن جبیر نے ، ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، وہ فرماتےہیں کہ : کو پیدا ہونے والا یسا نہیں ہے مگر سب کے دل میں وسوسہ اور شک ڈالنے والا موجود ہے ۔ اگر اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ہو پیچھے ہو جاتا ہے اور چھپ جاتا ہے اور اگر انسان ذکر سے غافل ہو جاتا ہے تو پھر وہ دل میں وسوسہ ڈالتا ہے ۔ اسی بارے میں یہ قول باری تعالیٰ الوسواس الخناس ہے ۔ کہ کہہ دیجئے میں سارے لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں وسوسہ ڈال کر چھپ جانے والے کے شر سے ۔

مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا عَلَى قَلْبِهِ الْوَسْوَاسُ، فَإِنْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حكيم بن جبير ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 677

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 678

677 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي ثنا ابن جابر حدثني عثمان بن حيان حدثتني أم الدرداء قالت : كان رجلان متواخيان تواخيا في الله عز و جل و كان إذا لقي أحدهما الآخر قال له : أي أخي تعال هلم نذكر الله بينما هما التقيا في السوق عند باب حانوت فقال أحدهما للآخر : أي أخي هلم نذكر الله عز و جل عسى الله أن يغفر لنا ثم لبثا لبثا فمرض أحدهما فأتاه صاحبه فقال : أي أخي انظر أن تأتيني في منامي فتخبرني ماذا لقيت بعدي قال : أفعل إن شاء الله قال : فلبث حولا ثم أتاه فقال : أي أخي أشعرت أنا حين التقينا في السوق عند الحانوت فدعونا الله عز و جل أن يغفر لنا أن الله غفر لنا يومئذ قال ابن جابر : لقد سماهما لي عثمان فنسيت اسمهما

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر بن حسن نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی میرے والد نے ، ان کو ابن جابر نے ، ان کو عثمان بن حیان نے ، کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ام درداء نے کہ دو آدمی اللہ کی راہ میں باہم محبت اور بھائی چارہ رکھتے تھے ۔ دونوں میں سے کوئی ایک بھی جب ایک دوسرے سے ملتے توکہتے بھائی جان آئیے ہم اللہ کا ذکر کریں ۔ ایک دن دونوں بازار میں ایک دکان کے پاس ایک دوسرے سےملے ۔ ایک نے دوسرے سےکہا آئیے بھائی ہم مل کر اللہ کا ذکر کریں ۔ قریب ہے کہ اللہ ہم دونوں کو معاف کردے ۔ پھر دونوں کچھ عرصہ ٹھہر ے کہ ایک ان میں سے بیمار ہو گیا ۔ اس کے پاس اس کا ساتھی آیا اور بولا کہ بھائی جان دیکھئے اگر آپ فوت ہوگئے تو آپ خواب مین میرے پاس آنا مجھے بتانا کہ میرے بعد تیرے ساتھ کیا گذری ۔ اس نے کہا ، انشاء اللہ ، میں ایسے ہی کروں گا ۔ (چنانچہ اس کا انتقال ہو گیا ) اور یہ ساتھی سال بھر انتظار کرتا رہا ۔ اس کے بعد وہ خواب میں آیا اور بولا بھائی جان آپ کو یاد کہ ہم جب بازار مین دکان کے پاس آپس میں ملے تھے (اور ذکر کیا تھا ) اور ہم نے اللہ سے دعا کی تھی کہ اللہ ہمیں بخش دے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم دونوں کو اسی دن بخش دیا تھا ۔ ابن جابر کہتے ہیں کہ عثمان بن حیان نے ان دونوں کا نام بھی میرے سامنے ذکر کیا تھا ، مگر ان کو بھول گیا ہوں ۔

عثمان بن حيان حدثتني أم الدرداء ← ابْنِ جَابِرٍ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 678

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 679

678 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر بن سليمان ثنا ثابت قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يواخي بين أصحابه فآخى بين سلمان الفارسي و بين أبي الدرداء و بين عوف بن مالك و بين الصعب بن جثامة فقال أحدهما لصاحبه : إن مت قبلك يا أخي فتراء لي قال : فمات صعب قبله فتراء له عوف فرآه فقال : كيف أنت يا أخي ؟ قال : بخير ما صنعت ؟ قال : غفر لنا يوم دعونا عند حانوت فلان و لم يكن في أهلي مصيبة إلا لحقني أجرها حتى هرة لنا ماتت منذ ثلاثة أيام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو لعباس بن یعقوب نے ، ان کو خضربن ربان نے ، ان کو سیارنے ، ان کو جعفر بن سلیمان نے ، ان کو ثابت نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کرتے تھے ، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو دردا ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا اور حضرت عوف بن مالک اور صعب بن جثامہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا ۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے دوسرے سےکہا ، اگر میرا تم سے پہلے انتقال ہوا اے بھائی جان تو تم میرا خواب میں انتظار کرنا ۔ کہتے ہیں کہ صعب کا عوف سےپہلے انتقال ہوگیا ۔ چنانچہ عوف نے اس کا انتظار کیا اور اس نے دیکھا تو کہا میرے بھائی تم کیسے ہو؟ بو لےمیں خیریت سے ہوں ، عوف نے پوچھا ، کیا کیا تم نے ؟ (یعنی تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ؟)بولے ہمارے لئے اسی دن سے مغفرت ہوگئی تھی جس دن ہم لوگوں نے فلاں کی دکان کے قریب دعا کی تھی ۔ میرے گھر میں جو بھی مصیبت آتی ہے اس کے صلے میں مجھے بھی اجر ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ہماری بلی تھی جو کہ تین دن سے مرگئی ہے ۔ (گویا کہ اس پر بھی مجھے اجرملا ہے )۔

ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 679

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 680

679 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف البخاري ثنا يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن الحباب أنا ابن أبي ذئب عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبيه عن عبد الله بن سلام قال : قال موسى عليه السلام : يا رب ما الشكر الذي ينبغي علي ؟ فأوحى الله عز و جل إليه : أن لا يزال لسانك رطبا من ذكري قال : يا رب إني أكون على حال أجلك أن أذكرك فيها قال : و ما هي قال : أكون جنبا أو على غائط أو إذا بلت قال : يا رب فما أقول ؟ قال : سبحانك و بحمدك جنبني الأذى سبحانك و بحمدك قني الأذى

ہمیں خبر دی ہے ابو زکر یا بن ابو اسحاق نے ، ان کو ابوالفضل حسن بن یعقوب بن یوسف بخاری نے ، ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ، ان کو زید بن حباب نے ، ان کو ابن ابی ذئب نے ، ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو عبداللہ بن سلام نے ، وہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ، اے میرے رب ، میرے اوپر کس طرح کا شکر لازم ہے اور میرے شایان شان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تیری زبان ہروقت میرے زکر کے ساتھ تررہنی چاہئے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے میرے رب میں ایسے حال میں ہوتا ہوں کہ اس حال میں تیرا ذکر کرنا میں تیرے جلال اور تیری عظمت کے خلاف سمجھتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کیا ہے ؟ عرض کیا کہ میں کبھی جنب والا اور ناپاک ہوتا ہوں یا قضاء حاجت پر ہوتا ہوں یا میں پیشاب کر چکا ہوتا ہوں ۔ فرمایا اگر چہ تو کسی حال میں بھی ہو ۔ عرض کیا کہ میں کیا ذکر کروں ۔ فرمایا کہ ہوں کہو: سبحانک و بحمدک جنبی الا ذی ۔ سبحانک و بحمدک قنی الاذی ۔ اے اللہ تو پاک ہے اپنی تعریف سمیت ۔ مجھے تکلیف وہ چیز سے دور کردے تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ بچا تو مجھے گندگی سے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف البخاري ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 680

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood