Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 565

564 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن الهمداني ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم بن أبي أياس ثنا شعبة عن عبد الملك بن ميسرة قال : سمعت كردوسا يقول : سمعت رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم من أهل بدر يقول : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لأن أجلس في هذا المجلس أحب إلي من أعتق أربع رقاب قال قلت أي مجلس تعني قال : مجلس الذكر قال : و منها الذكر بين الغافلين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن ہمدانی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ابی ایاس نے ان کو شعبہ نے ان کو عبدالملک بن میسرہ نے اس نے سنا کہ دوس سے انہوں نے سنا ایک آدمی سے اصحاب رسول میں سے اہل بدر سے کہتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے ۔ البتہ اگر میں اس مجلس میں بیٹھ جاؤں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں چار گردنیں آزاد کرادوں ۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کون سی مجلس آپ مراد لے رہے ہیں ۔ فرمایا کہ ذکر کی مجلس۔

و منها الذكر بين الغافلين ← مجلس الذكر ← قلت أي مجلس تعني ← لأن أجلس في هذا المجلس أحب إلي من أعتق أربع رقاب ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَّهُ ← رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم من أهل بدر ← كُرْدُوسًا ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عبد الرحمن بن الحسن الهمداني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 565

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 566

565 - أخبرنا أبو علي الرذباري و أبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان و أبو الحسن بن الفضل القطان و أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار قالوا : أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا الحسن بن عرفة ثنا يحيى بن سليم الطائفي قال : سمعت عمران بن مسلم و عباد بن كثير يحدثان عن عبد الله بن دينار عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذاكر الله في الغافلين مثل الذي يقاتل عن الفارين و ذاكر الله في الغافلين مثل الشجرة الخضراء في وسط الشجر الذي قد تحات يعني من الضريب قال يحيى بن سليم : يعني بالضريب البرد الشديد : و ذاكر الله في الغافلين يغفر له بعدد كل فصيح و أعجمي قال : فالفصيح بنو آدم و الأعجمي البهائم و ذاكر الله في الغافلين يعرفه الله مقعده في الجنة قال البيهقي رحمه الله : و الصواب هو الضريب و كان ذلك في كتاب الصفار مصحفا و زاد فيه غيره و ليس في روايتنا و ذاكر الله في الغافلين مثل المصباح في البيت المظلم

شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ اس سلسلہ ذکر میں سے ایک غافل لوگوں کے درمیان ذکر کرنا ہے۔ ہمیں خبر دی ابو علی روز باری نے اور ابو عبداللہ حسین بن عمر بن برہان نے اور ابو الحسین بن فضل قطان نے اور ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار نے سب کہتے ہیں ان کو خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن عرفہ نے ان کو یحییٰ بن سلیم طائفی نے انہوں نے سنا عمران بن مسلم سے اور عبار بن کثیر سے دونوں کو خبر دی عبداللہ بن دینار نے ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جو میدان جہاد سے بھاگ جانے والوں کے قائمقام لڑتا ہے اور غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کر نے والے کی مثال ہر ے بھرے درخت کی سی ہے جو ان درختوں کے درمیان میں ہو جو سخت سردی سے چل کر سو کھ چکے ہو ۔ قدتحات استعمال کیا اور اس کا مفہوم یعنی من الضریب بیان کیا ہے ۔ یحییٰ بن سلیم نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لفظ ضریب سے برد شدید ۔ سخت ٹھنڈ اور سخت سردی مرادلی ہے یہ بھی فرمایا کہ غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کر نے والا (وہ خوش قسمت ہے جس کے لئے ) ہر بولنے والے اور ہر گونگے کی تعداد کے برابر مغفرت کی جاتی ہے یہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل فصیح و اعجمی کے الفاظ استعمال فرماتے ۔ پھر فرمایا کہ فصیح سے مراد اولاد آدم ہیں اور الحجمی سے مراد چو پائے جانور ہیں اور غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھادیتے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عمران بن مسلم و عباد بن كثير يحدثان ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 566

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 567

566 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم ثنا أبو سعيد محمد بن شاذان ثنا محمد بن عبد العزيز بن أبي رزمة ثنا يحيى بن سليم : فذكره بهذا الإسناد و المتن و ذكر هذه الزيادة و قال : قد تحات من الكبر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم نے ان کو ، ابو سعید محمد بن شاذان نے ، ان کو محمد بن عبدالعزیز بن ابی رزمہ نے ، ان کویحییٰ بن سلیم نے ، پھر اس نے اسی اسناد اور اسی متن کو ذکر کیا ہے اور یہ اضافہ بھی ذکر کیا ہے اور کہا کہ : جو سوکھ چکے ہوں کبر و غرور سے ۔

قد تحات من الكبر ← هذه الزيادة و ← يحيى بن سليم فذكره بهذا الإسناد و المتن و ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 567

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 568

567 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا الفضل بن العباس ثنا هشام هو ابن عبيد الله الحنظلي الرازي قال : قرأت على محمد و هو ابن مسلم الطائفي عن العلاء بن كثير عن محمد بن جحادة عن سلمة بن كهيل عن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذاكر الله في الغافلين كالمقاتل عن الفارين و ذاكر الله في الغافلين كالمصباح في البيت المظلم و ذاكر الله في الغافلين يعرفه الله مقعده و لا يعذب بعده و ذاكر الله في الغافلين له من الأجر بعدد كل فصيح في السوق و أعجمي و ذاكر الله في الغافلين ينظر الله نظرة لا يعذبه الله بعدها أبدا و ذاكر الله في السوق له بكل شعرة نور يوم القيامة يلقى الله قال البيهقي رحمه الله : هكذا وجدته مكتوبا ليس بين سلمة و بين ابن عمر أحد و هو منقطع و إسناده غير قوي

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ، ان کو فضل بن عباس نے ، ان کو ھشام نے اور وہ ابن عبید اللہ حنظلی رازی سے ، کہتے ہیں کہ میں نے حدیث پڑھی تھی محمد کے سامنے اور وہ ابن مسلم طائفی ہے ، اس نے علاء بن کثیر سے ، اس نے محمد بن حجان سے ، اس نے سلمہ بن کھیل سے ، اس نے عبداللہ بن عمر سے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے میدان جہاد سے فرار ہونے والوں کی طرف سے لڑنے والا اور غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کر نے والا ایسے ہے جیسے اندھیرے گھر میں چراغ ہوتا ہے اور غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے ٹھکانے سے اسے آگاہی کروادیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عذاب نہیں دے گا اور غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے کے لئے اجر ہوتا ہے ۔ ہر بولنے والے اور ہر نہ بولنے والے کی تعداد کے مطابق اور غافل لوگوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے پر اللہ تعالیٰ ایسی نظر شفقت ڈالے گا کہ اس کے بعد اس کو کبھی بھی عذاب نہیں دے گا اور بازار میں اللہ کا ذکر کرنے والے (کے جسم پر جتنے بال ہیں ) کے لئے ہر بال کے بدلے میں قیامت کے دن نور ہوگا اور وہ اللہ سے ملے گا ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے ایسے ہی اس کو لکھا ہوا پایا تھ اکہ سلمہ اور ابن عمر کے درمیان کسی دوسرے راوی کا نام تھا ۔ لہذا یہ روایت منقطع ہے اور اس کی اسناد قوی نہیں ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ، ← على محمد و هو ابن مسلم الطائفي ← هشام هو ابن عبيد الله الحنظلي الرازي ← الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ: ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 568

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 569

568 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد قال : سمعت المبارك بن سعيد بن مسروق يحدث عن عمرو بن قيس عن الحسن قال : من ذكر الله في السوق كان له من الأجر بعدد كل فصيح فيها و أعجمي فقال المبارك : الفصيح الإنسان و الأعجم البهيمة قال أبو عبيدة : كل من لا يقدر على الكلام فهو أعجم مستعجم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، ان کو ابو الحسن کا رزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے مبارک بن سعید بن مسروق سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں عمرو بن قیس سے وہ حسن سے انہوں نے کہا کہ جس نے اللہ کا ذکر کیا بازار میں اس کے لئے اتنا اجر ہو گا جتنا بولنے اور نہ بولنے والی مخلوق بازار میں ہو گی ۔ (لفظ فصیح اور اعجم استعمال فرمایا ) مبارک فرماتے ہیں کہ فصیح سے مراد انسان ہیں اور اعجم سے مراد جانور ہیں ۔ ابو عبیدنے کہا ہر وہ جو بولنے پر قدرت نہ رکھے وہ اعجم ہے مستعجم ہے۔

الْحَسَنِ، ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← الْمُبَارَكَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 569

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 570

569 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة عن أبي بكر قال : سمعت يحيى بن أبي كثير ( ص ) قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لرجل : لا تزار مصليا قانتا ما ذكرت الله قائما و قاعدا أو في سوقك أو في ناديك أو حيث كنت

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ابوبکر نے کہتے کہ میں نے سنا یحییٰ بن ابو کثیر سے فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی سے کہ تو ہمیشہ نماز پڑھنے والا فرمانبردار ی کرنے والا ہوگا ۔ جب تک تو اللہ کا ذکر کرتا ہے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا اپنی بازار میں یا اپنی مجلس میں یا تو جہاں کہیں بھی ہو۔

يحيى بن أبي كثير ص ← أَبِي بَكْرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 570

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 571

570 - أخبرنا أبو عبد الله و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد بن إسحاق ثنا يعلى بن عبيد ثنا الأجلح عن ابن أبي الهذيل قال : إن الله عز و جل يحب أن يذكر في الأسواق و ذلك لكثرة لغطهم و لغفلتهم و إني لآتي السوق و مالي فيه حاجة إلا أن أذكر الله تعالى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ان کو ابو العباس اصم نے ، ان کو محمد بن اسحاق نے ، ان کو یعلیٰ بن عبید نے ، ان کو اجلح نے ، ان کو ابن ابی ھذیل نے ، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ بازار میں بھی اس کا ذکر ہوا وریہ اہل بازار کے شور اور غفلت کی وجہ سے ہے اور میں بازار میں آتاہوں ، حالانکہ میری وہاں کوئی حاجت نہیں ہے سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں ۔

ابْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ← الأَجْلَحِ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 571

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 572

571 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم قال : حدثني حديج بن صومي الحميري من أهل مصر عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الغفلة في ثلاث : الغفلة عن ذكر الله عز و جل و من حين يصلي الصبح إلى طلوع الشمس و أن يغفل الرجل عن نفسه في الدين حتى يركبه و منها الاشتغال بالذكر عن المسألة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل القطان نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے ، ان کو ابو عبدالرحمٰن فقری نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم نے ، وہ فرماتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے حدیج بن صوفی حمیری نے اہل مصر میں سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : غفلت تین چیزوں میں ہوتی ہے : (1)اللہ کے ذکر سے غافل ہونا(2) صبح کی نماز سے طلوع آفتاب تک (3)یہ کہ انسان اپنے آپ سے قرضہ میں غفلت برتے ، یہاں تک کہ وہ اس پر سوار ہو جائے ، حاوی ہو جائے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حديج بن صومي الحميري من أهل مصر ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 572

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 573

572 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا سليمان بن محمد بن ناجية المديني ثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي ثنا محمد بن يحيى ثنا عثمان بن زفر ثنا صفوان بن أبي الصهباء عن بكير بن عتيق عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى يقول من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين و هكذا رواه البخاري عن ضرار عن صفوان في التاريخ

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، ان کو سلیمان بن محمد بن ناجیہ مدینی نے ، ان کو ابو عمر واحمد بن مبارک مستملی نے ، ان کو محمد بن یحییٰ نے ، ان کو عثمان بن زمرنے ، ان کو صفوان بن ابو الصھباء نے ، ان کو بکیر بن عتیق نے ، ان کو سالم بن عبداللہ بن عمر نے اپنے باپ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس شخص کو میراذکر مصروف و مشغول کر دے مجھے سے سوال کرنے اور مانگنے سے میں اسے عطا کرتاہو ں اس سے بھی بہتر جو میں مانگنے والوں کو عطا کرتاہوں ۔ اور بخاری نے اس کو اسی طرح روایت کیا ہے ضرار سے اس نے صفوان سے تاریخ میں ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← بُكَيْرِ بْنِ عُتَيْقٍ ← صفوان بن أبي الصهباء ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي ← سليمان بن محمد بن ناجية المديني ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 573

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 574

573 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن سعد ثنا الحسين بن أحمد بن حفص النيسابوري ثنا محمد بن رافع ثنا أبو سفيان الحميري ثنا الضحاك بن حمرة عن يزيد بن خمير عن جابر بن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم يرويه عن ربه تبارك و تعالى قال : من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ۔ ان کو خبر دی عبداللہ بن سعد نے ، ان کو حسین بن احمد بن حفص نیساپوری نے ، ان کو محمد بن رافع نے ، ان کو ابو سفیان حمیری نے ، ان ضحاک بن حمروہ نے ، ان کویزید بن خمیر نے حضرت جابر بن عبداللہ سے ، انہوں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : جس شخص کو میرا ذکر مجھ سے ما نگنے اور طلب کرنے سے مشغول و مصروف کردے میں اسے مانگنے والوں سے بہتر اور افضل عطا کرتا ہوں۔

مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين ← مَنْ شَغَلَهُ ذِكْرِي ← ربه تبارك و تعالى ← النبي صلى الله عليه و سلم يرويه ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ، ← أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← الحسين بن أحمد بن حفص النيسابوري ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 574

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 575

574 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان البردعي أنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا خلف بن هشام ثنا أبو الأحوص عن منصور عن مالك بن الحارث قال : يقول الله تبارك و تعالى : من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران ، ان کو حسین بن صفوان بردعی نے ، ان کو عبداللہ بن ابی الدنیا نے ، ان کو خلف بن ھشام نے ، ان کو ابوالاحوص نے ، ان کو منصور نے ان کو مالک بن حارث نے ، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں جس شخص کو میرا ذکر مجھ سے سوال کرنےسےمصروف کردے ، میں اس کومانگنے والوں سے بہتر عطا کر وں گا یا بہتر عطا کرتاہوں ۔

مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين ← الله تبارك و تعالى من شغله ذكري ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ الْبَرْدَعِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 575

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 576

575 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسن بن محمد الفسوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحسين بن الحسن المروزي و كان جاور بمكة حتى مات قال : سألت سفيان بن عيينة عن تفسير قول النبي صلى الله عليه و سلم : أكثر دعائي و دعاء الأنبياء قبلي بعرفة : لا إله إلا الله وحده لا شريك له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير و إنما هو ذكر ليس فيه دعاء قال سفيان سمعت حديث منصور عن مالك بن الحارث ؟ قلت نعم قال : ذاك تفسير هذا ثم قال أتدري ما قال أمية بن أبي الصلت حين أتى ابن جدعان يطلب نائله و معروفه ؟ قلت : لا قال : لما أتاه قال : ( أأذكر حاجتي أم قد كفاني حباؤك أن شيمتك الحباء ) ( إذا أثنى عليك المرء يوما كفاه من تعرضك الثناء ) قال سفيان فهذا مخلوق حين ينسب إلى الجود قيل يكفينا من تعرضك الثناء عليك حتى تأتي على حاجتنا فكيف بالخالق ؟ قال الحليمي رحمه الله : و الذي يشد هذا كله ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من أكثر ذكر الله برئ من النفاق و عن معاذ بن جبل قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الإيمان أفضل ؟ قال : أن تعمل لسانك في ذكر الله

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ، ان کو حسن بن محمد فسوی نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے ، ان کو حسین بن حسن مروزی نے ، وہ مکہ میں قیام پذیر ہوگئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا ۔ کہتے ہیں کہ میں سفیان بن عیینہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کی تشریح و تفسیر پوچھی کہ زیادہ تر میری اور دیگر انبیاء کی عرفہ میں دعایہ رہی : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت اسی کی تعریف ہے ، وہ ہر چیز پر قادرہے ۔ (سفیان بن عیینہ نے جواب دیا ) کہ یہ ذکر ہے اس میں دعا نہیں ہے ۔ سفیان نے فرمایا کہ تم نے حدیث منصور مالک بن حارت سے سنی ہے ؟ میں کہا ، جی ہاں ۔ فرمایا کہ وہی اس کی تفسیر ہے ۔ پھر کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ کیا کہا تھا امیہ بن صلت نے ؟ جب وہ ابن جد عان کے پاس آئے اپنا عطیہ و مشاہرہ مانگ رہے تھے ۔ میں نے کہا کہ نہیں جانتا ۔ فرمایا کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو یہ کہا تھا : میں اپنی حاجت ذکر کروں یا نہ کروں مجھے آپ کی بخشش کافی ہے ۔ ( اس لئے کہ) عطیہ اور بخشش آپ ک کی فطری عادت ہے ۔ جس وقت کسی دن کوئی آدمی تیری تعریف کرتے تیری توجہ اور نظر کرم کے لئے تعریف کرنا اس کے لئے کافی ہے ۔ سفیان نے کہا کہ یہ تو مخلوق کا حال ہے کہ جب وہ جود و سخاء کی طرف نسبت دے جاتے ہیں تو کہا جا تا ہے کہ ہمیں آپ کی توجہ فرمانی کے لئے آپ کی تعریف ہی کافی ہے ۔ یہاں تک کہ آپ ہماری حاجت پوری فرمادیتے ہیں ۔ پھر کیا خیال ہے آپ کا خالق حقیقی کے بارے میں ؟ (یعنی جب مالک حقیقی کی تعر یف کی جائے تو کیا وہ ہماری حاجت سے واقف ہونے کے باجود پوری نہیں فرمائیں گے بلکہ وہ تو بطریق اولیٰ حاجت پوری فرمادیں گے ۔ سوال کرنے اور مانگنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی )۔ یہ مطلب ہے اس حدیث کا کہ جو شخص میرے ذکر میں مشغول ہوکر سوال نہیں کرتا میں اس کو مانگنے والے سے بہتر دیتا ہوں ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو چیز اس سب کچھ کو تقویت دیتی ہے وہ ہے جو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ذکر اللہ کی کثرت کرتا ہے وہ نفاق سے بری ہو جاتا ہے ۔ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کونسا افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ارشاد فرمایا وہ یہ ہے کہ آپ اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں استعمال کریں ۔

الحسين بن الحسن المروزي و كان جاور بمكة حتى مات ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← الحسن بن محمد الفسوي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 576

chevron_left Previous
1…567…14
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood