شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 529
528 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا : أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد أنا أبو شعيب أنا عمر مولى غفرة ـ ح و أخبرنا أبو محمد الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فراس بمكة أنا أبو حفص عمر بن محمد الجمحي ثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن مخلد الحضرمي ثنا بشر بن المفضل ثنا عمر بن عبد الله مولى غفرة قال : سمعت أيوب بن خالد بن صفوان أنه أخبره عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال : خرج علينا رسول الله فقال يا أيها الناس إن لله عز و جل سرايا من الملائكة تقف و تحل على مجالس الذكر فارتعوا في رياض الجنة قلنا ابن رياص الجنة يا رسول الله ؟ قال : مجالس الذكر اغدوا و روحوا في ذكر الله و اذكروا بأنفسكم من كان يحب أن يعلم كيف منزلته من الله عز و جل فلينظر كيف منزلة الله عنده فإن الله تبارك و تعالى ينزل العبد حيث أنزله من نفسه قال البيهقي رحمه الله لفظ حديث أبي عبد الله و في رواية أبي محمد قال : مجالس الذكر في الأرض و قال : منزلته عند الله
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے دو پچھلی احادیث میں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو العباس بن محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو ابو شعیب نے ان کو عمر مولیٰ غفرۃ نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حسن بن !حمد بن ابراہیم بن فراس نے مکہ میں ۔ان کو ابو حفص عمر بن محمد جمحی نے ان کو علی بند عبدالعزیز نے ان کو محمد بن مخلد حضرمی نے ان کو بشر بن مفضل نے ان کو عمر بن عبداللہ مولیٰ غفرہ نے کہتے کہ میں نے سنا ایوب بن خالد بن صفو ان سے ان کو خبر دی جابر بن عبداللہ انصاری نے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا لوگو بے شک اللہ عزوجل کے لئے ( سرایا) گھومنے والی جماعتیں ہیں فرشتوں میں سے ٹھہرتی ہیں اور داخل ہوتی ہیں ذکر کی محافل میں پس چر لیا کر وتم جنت کے باغوں میں ۔ ہم نے عرض کیا یار سول اللہ جنت کے باغ کہاں ہیں ؟ فرمایاکہ وہ محافل ذکر ہے صبح کیا کرو اور شام کیا کرو اللہ کے ذکر میں ، اور یاد کیا کرو اس کو اپنے دلوں مین جو شخص چاہے یہ کہ جانے اس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے؟ اسے چاہئے کہ یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کا س کے نزدیک کیامقام ہے ؟ اللہ تعالیٰ بندے کو اس مقام پررکھتا ہے جس مقام پر وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں رکھتا ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ابو عبداللہ کی روایت کے ہیں اور ابو محمد کی روایت میں یہ الفاظ فرماتے ہیں ۔
خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أيوب بن خالد بن صفوان أنه ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَی غُفْرَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← محمد بن مخلد الحضرمي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو حفص عمر بن محمد الجمحي ← أبو محمد الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فراس بمكة ← و، ← عُمَرَ مَوْلَی غُفْرَةَ ← أَبُو شُعَيْبٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ
Hadith 529
