Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 529

528 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا : أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد أنا أبو شعيب أنا عمر مولى غفرة ـ ح و أخبرنا أبو محمد الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فراس بمكة أنا أبو حفص عمر بن محمد الجمحي ثنا علي بن عبد العزيز ثنا محمد بن مخلد الحضرمي ثنا بشر بن المفضل ثنا عمر بن عبد الله مولى غفرة قال : سمعت أيوب بن خالد بن صفوان أنه أخبره عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال : خرج علينا رسول الله فقال يا أيها الناس إن لله عز و جل سرايا من الملائكة تقف و تحل على مجالس الذكر فارتعوا في رياض الجنة قلنا ابن رياص الجنة يا رسول الله ؟ قال : مجالس الذكر اغدوا و روحوا في ذكر الله و اذكروا بأنفسكم من كان يحب أن يعلم كيف منزلته من الله عز و جل فلينظر كيف منزلة الله عنده فإن الله تبارك و تعالى ينزل العبد حيث أنزله من نفسه قال البيهقي رحمه الله لفظ حديث أبي عبد الله و في رواية أبي محمد قال : مجالس الذكر في الأرض و قال : منزلته عند الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے دو پچھلی احادیث میں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو العباس بن محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو ابو شعیب نے ان کو عمر مولیٰ غفرۃ نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حسن بن !حمد بن ابراہیم بن فراس نے مکہ میں ۔ان کو ابو حفص عمر بن محمد جمحی نے ان کو علی بند عبدالعزیز نے ان کو محمد بن مخلد حضرمی نے ان کو بشر بن مفضل نے ان کو عمر بن عبداللہ مولیٰ غفرہ نے کہتے کہ میں نے سنا ایوب بن خالد بن صفو ان سے ان کو خبر دی جابر بن عبداللہ انصاری نے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا لوگو بے شک اللہ عزوجل کے لئے ( سرایا) گھومنے والی جماعتیں ہیں فرشتوں میں سے ٹھہرتی ہیں اور داخل ہوتی ہیں ذکر کی محافل میں پس چر لیا کر وتم جنت کے باغوں میں ۔ ہم نے عرض کیا یار سول اللہ جنت کے باغ کہاں ہیں ؟ فرمایاکہ وہ محافل ذکر ہے صبح کیا کرو اور شام کیا کرو اللہ کے ذکر میں ، اور یاد کیا کرو اس کو اپنے دلوں مین جو شخص چاہے یہ کہ جانے اس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے؟ اسے چاہئے کہ یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کا س کے نزدیک کیامقام ہے ؟ اللہ تعالیٰ بندے کو اس مقام پررکھتا ہے جس مقام پر وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں رکھتا ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ ابو عبداللہ کی روایت کے ہیں اور ابو محمد کی روایت میں یہ الفاظ فرماتے ہیں ۔

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أيوب بن خالد بن صفوان أنه ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَوْلَی غُفْرَةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← محمد بن مخلد الحضرمي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو حفص عمر بن محمد الجمحي ← أبو محمد الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن فراس بمكة ← و، ← عُمَرَ مَوْلَی غُفْرَةَ ← أَبُو شُعَيْبٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Hadith 529

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 530

529 - أخبرنا أبو سعد سعيد بن محمد الشعيبي أنا أبو الحسن علي بن هارون السمسار الحربي ببغداد ثنا موسى بن هارون الحمال ثنا عبد الله بن عون الخراز ثنا أبو عبيدة الحداد ثنا محمد بن ثابت قال : سمعت أبي يذكر عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مررتم برياض الجنة فارتعوا قالوا : يا رسول الله و ما رياض الجنة ؟ قال : حلق الذكر و كذلك رواه البغوي عن ابن عون و ذكر :

ہمیں خبر دی ابو سعید بن محمد شعیبی نے ان کو خبر دی ابو الحسن علی بن ہارون سمسار حربی نے بغداد میں ان کو خبر دی موسیٰ بن ہارون حمال نے ان کو عبداللہ بن عون خرازنے ان کو ابو عبیدہ حداد نے ان کو محمد بن ثابت نے کہتے ہیں میں نے سنا اپنے والد سے وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک سے ذکر کرتے تھے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جس وقت تم جنت کے باغوں کے ساتھ گذرو تو چرلیا کر۔ لوگوں نے سوال کیا یار سول اللہ جنت کے باغ کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ذکر کے حلقے اور محافل ۔ اسی طرح اس کو بغوی ابن عون سے روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي يَذْکُرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ← عبد الله بن عون الخراز ← موسى بن هارون الحمال ← أبو الحسن علي بن هارون السمسار الحربي ببغداد ← أبو سعد سعيد بن محمد الشعيبي

Hadith 530

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 531

530 - ما أخبرنا الأستاذ أبو بكر بن فورك رحمه الله أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود الطيالسي ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن الأغر قال : أشهد على أبي هريرة و أبي سعيد رضي الله عنهما أنهما شهدا على رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا يقعد قوم يذكرون الله إن حفتهم الملائكة و غشيتهم الرحمة و نزلت عليهم السكينة و ذكرهم الله فيمن عنده أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

اور ذکر کیا اس روایت کو جس کی ہمیں خبر دی استاذابو بکر بن فورک رحمۃ اللہ علیہ نےان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کو شعبہ نے ابو اسحٰق نے ان کو اغرنے فرمایا کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر شہادت دیتا ہوں ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شہادت دی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی جماعت بھی جب اللہ کا ذکر کرنے بیٹھتے ہیں اللہ کے فرشتے انہیں احاطہ کر لیتے ہیں اور اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ اور وقار نازل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ ان فرشتوں کے سامنے فرماتے ہیں جو فرشتے اس کے پاس ہیں ۔ اس روایت کو مسلم نے صحیح میں شعبہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔

الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← مَا

Hadith 531

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 532

531 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا عن إسحاق بن إسماعيل ثنا جرير ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم ثنا مسدد بن قطن ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله ملائكة فضلا عن كتاب الأيدي يطوفون في الطريق يلتمسون أهل الذكر فإذا وجدوا قوما يذكرون الله تبارك و تعالى ينادون هلم إلى حاجتكم قال : فتحفهم بأجنحتها إلى السماء الدنيا قال : فيسألهم ربهم ـ و هو أعلم بهم ـ ما يقول عبادي ؟ قال : يقولون : يسبحونك و يكبرونك و يحمدونك و يحجدونك قال : و هل رأوني ؟ قال : فيقولون : لا و الله يا رب ما رأوك فيقول : فيكف لو أنهم رأوني ؟ قال : فيقولون : لو رأوك كانوا لك أشد عبادة و أشد تحميدا و أكثر تسبيحا فيقول : فما يسألوني ؟ فيقولون : يسألونك الجنة فيقول : و هل رأوها ؟ فيقولون : لا و الله يا رب ما رأوها فيقول : كيف لو رأوها ؟ فيقولون : لو رأوها كانوا أشد عليها حرصا وأشد لها طلبا و أعظم فيها رغبة فيقول : مما يتعوذون ؟ قال : يتعوذون : من النار فيقول : هل رأوا النار ؟ فيقولون ما رأوها فيقول : كيف لو رأوها ؟ فيقولون : لو رأوها كانوا أشد منها فرارا وأشد لها مخافة فيقول : فإني أشهدكم أني قد غفرت لهم فيقول ملك من الملائكة : فيهم فلان و ليس منهم إنما جاء لجاحة قال : هم الجلساء لا يشقي بهم جليسهم هذا لفظ حديث أبي عبد الله غير أنه كان قد سقط من روايته فيقول مما يعوذون قال : يقولون : من النار و هو في رواية ابن بشران رواه البخاري في الصحيح عن قتيبة عن جرير و أخرجناه في كتاب الدعوات من حديث وهيب عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة مرفوعا و فيه من الزيادة قال : فقال قد أجرتهم مما استجاروا و أعطيتهم ما سألوا و من ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح و في بعض هذه الروايات فيقولون رب فيهم فلان عبد خطاء إنما مر فجلس معهم قال : فيقول و له قد غفرت هم القوم لا يشقى بهم جليسهم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابی الدنیا نے اسحٰق بن اسماعیل نے ان کو جریر نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ بن ابراہیم نےا ن کو مسند دبن قطن نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ان کو جریر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ اضافی عظمت والے فرشتے ہیں ہاتھوں سے لکھنے والے راستے میں گھومتے پھرتے ہیں جو ذکر کرنے والوں کو تلاش کر تے رہتے ہیں وہ جب کسی ایسی جماعت کو پالیتے ہیں جو اللہ عزوجل کا ذکر کررہے ہوتے ہیں تو وہ پکارتے ہیں ( اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی ) کہ ادھر اپنے مقصود کی طرف آجاؤ۔ فرمایا کہ پھر وہ اہل ذکر کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں آسمان دنیا تک فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ انہیں اچھی طرح جانتا ہے ۔ کیا کہتے ہیں میرے بندے ؟ فرمایاکہ وہ کہتے ہیں تیری تسبیح ۔ تیری تکبیر تیری تمحید ، تیری تمجید کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ پو چھتے ہیں کہ کیا انہوں نےمجھے دیکھ رکھا ہے ؟ فرمایاکہ وہ جواب دیتے ہیں کہ نہیں انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا ہے اللہ کی قسم ہے ۔ فرمایا کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر تیرے بندے تجھے بندے تجھے دیکھ لیں تو پھر بہت زیادہ سخت ہوں گے عبادت کرنے میں اور تیری تحمید اور تسبیح کرنے میں ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کیا مانگ رہے رہیں مجھ سے ۔ فرشتے بتاتے ہیں کہ وہ تیری جنت کا تجھ سے سوال کررہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں انہوں نے جنت کو اللہ کی قسم سے نہیں دیکھا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو فرشتے جواب دیتے ہیں ۔ اگر وہ دیکھ لیتے تو جنت کا زیادہ حرص کرنے اور جنت کو زیادہ طلب کرتے ۔ اور اس میں بہت بڑی رغبت کرتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ پو چھتے ہیں کہ وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ جہنم سے پناہ مانگ رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں اسے دیکھا ہے ۔ فرشتے کہتے ہیں نہیں انہوں نے جہنم کونہیں دیکھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو بڑی شدت کے ساتھ اس سے بھاگتے اور بڑی شدت کے ساتھ اس سے ڈرتے اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں آپ لوگوں کو گواہ کرتاہوں کہ بے شک میں نے انہیں بخش دیا ہے چنانچہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے اے اللہ ان لوگوں میں فلاں آدمی بھی ہے جو ان میں سے نہیں وہ کسی ضرورت کے لیے آیا تھا (اور ان میں بیٹھ گیا تھا ) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ایسے اہل محفل ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے وال بھی محروم نہیں کیا جا تا ۔ یہ الفاظ میں ابو عبداللہ کی روایت کے سوائے اس کے کہ اس کی روایت سے یہ الفاظ ساقط ہوگئے تھے (بس اب تو پوچھتا ہے کہ کس چیز سے وہ پناہ مانگتے ہیں ؟ فرمایا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جہنم سے ۔ اور ابن بشران کی روایت میں بھی وہی ہے ۔ اور بخاری نے اس کو صحیح میں قتیبہ سے انہوں نے جریر سے اس کو رایت کیا ہے ۔ اور ہم نے اس کو کتاب الدعوات میں وھیب کی روایت میں سہیل بن ابی صالح سے اس نے اپنے والد سے اس نے بوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ اور اس میں یہ بات زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں پناہ دی ہے جس چیز سے وہ پناہ مانگ رہے ہیں ۔ اور میں نے انہیں عطا کردیا ہے جو کچھ انہوں نے مانگا ہے ۔ اور اسی طریق سےمسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے ۔ اور بعض ان روایات میں سے ہے کہ فرشتے کہتے ہیں ۔ اسے پروردگار ان میں فلاں گہنگار بندہ بھی ہے جو کہ ان کے قریب سے گذر رہا تھا ان کے پاس بیٹھ گیا تھا ۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کو بھی میں نے بخش دیا ہے یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں کیا جا تا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← جَرِيرٌ ← إسحاق بن إسماعيل ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 532

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 533

532 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا مرحوم بن عبد العزيز العطار ثنا أبو نعامة السعدي عن أبي عثمان عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : خرج معاوية رضي الله عنه على حلقة في المسجد فقال : ما أجلسكم ؟ قالوا : جلسنا نذكر الله قال : الله ما أجلسكم إلا ذلك ؟ قالوا : و الله ما أجلسنا إلا ذلك قال : أما إني لم أستحلفكم تهمة لكم و ما كان أحد بمنزلتي من رسول الله صلى الله عليه و سلم أقل عنه حديثا مني إن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج على حلقة من أصحابه فقال : ما أجلسكم ؟ قالوا : جلسنا نذكر الله و نحمده على ما هدانا للإسلام و من علينا بك قال : الله ما أجلسكم إلا ذلك ؟ قالوا : و الله ما أجلسنا إلا ذلك قال : أما إني لم أستحلفكم تهمة لكم و لكنه أتاني جبريل عليه السلام فأخبرني أن الله يباهي بكم الملائكة رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن مرحوم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبدمحمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے ان کو مرحوم بن عبدالعزیز عطار نے ان کو ابو نعامہ سعدی نے ان کو ابو عثمان نے ان کو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکلےمسجد میں ایک حلقے کی طرف اور فرمایا کہ آپ لوگ کس غرض سے بیٹھے ہیں ۔ بولے ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کیا واقعی تم اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہو؟ بولے اللہ کی قسم ہم صرف اس غرض کے لئے بیٹھے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں قسم دی ہے وہ کسی تہمت یابد گمانی کی بنا پر نہیں تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرنے میں میرا شمارکم روایت کرنے والوں میں سے مجھ سے کم کوئی روایت نہیں کرتا ۔ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے ایک حلقے کی طرف نکلے اور پوچھا کہ کس چیز نے تمہیں بیٹھایا ہے ، بولے ہم اس لئے بیٹھے ہیں کہ ہم اللہ عزوجل کا ذکر میں اس کی حمد کریں اور اس نعمت پر کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی اور ہمارے اوپر آپ کورسول بنا کر بھیجنے کا احسان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا واقعی اللہ کی قسم تمہیں صرف اسی غرض نے یہاں بیٹھایا ہے بولے اللہ کی قسم صرف اسی مقصد نے ہمیں یہاں بیٹھایا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سنو میں نے تمہیں یہ قسم کسی تہمت یا شک کی بنا پر نہیں دی لیکن میرے پاس جبرائیل آیا ہے اور اس نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے تمہارے ساتھ فخر مار رہے ہیں ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں ابو بکر بن ابو شیبہ سے اس نے مرحوم سے روایت کیا ہے ۔

و الله ما أجلسنا إلا ذلك ← آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ؟ ← جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، ← ما أجلسكم ← خرج معاوية على حلقة في المسجد ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 533

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 534

533 - أخبرنا أبو حامد أحمد بن أبي خلف الصوفي الإسفرايني بها ثنا أبو بكر محمد بن يزداد بن مسعود ثنا محمد بن أيوب الرازي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا شداد بن سعيد أبو طلحة الراسبي ثنا أبو الوازع جابر بن عمرو عن عبد الله بن مغفل : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من قوم اجتمعوا في مجلس فيتفرقوا و لم يذكروا الله عز و جل إلا كان ذلك عليهم حسرة يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو حامد احمد بن ابی خلف صوفی اسفر ائینی نے ان کو ابو بکر محمد بن یزداد بن مسعود نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو شداد بن سعید ابو طلحہ راسبی نے ان کو ابو الوارع جابر بن عمرو ن ان کو عبداللہ بن مغفل نے ا س کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرماتے ہیں ۔کوئی جماعت جب کسی محفل میں جمع ہوتی ہے پھر وہ اللہ کا ذکر کئے بغیر مجلس بر خاست کر لیتے ہیں قیامت کے دن یہ مجلس ان پر حسرت و افسوس کا سبب ہو گی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← أبو الوازع جابر بن عَمْرو ← شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ ← أبو حامد أحمد بن أبي خلف الصوفي الإسفرايني بها

Hadith 534

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 535

534 - و بهذا الإسناد عن عبد الله بن مغفل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من قوم اجتمعوا يذكرون الله عز و جل إلا ناداهم مناد من السماء قوموا مغفورا لكم قد بدلت سيئاتكم حسنات

اور اسی اسناد کے ساتھ عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی قوم یا جماعت جب اللہ کا ذکر کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں تو آسمان سے اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے اٹھو تمہیں بخش دیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں نیکیوں میں بدل دی گئی ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← و بهذا الإسناد

Hadith 535

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 536

535 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المديني أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أحمد بن عيسى ثنا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن دراج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : يقول الرب يوم القيامة سيعلم أهل الجمع اليوم من أهل الكرم فقيل و من أهل الكرم يا رسول الله ؟ قال : مجالس الذكر في المساجد قال الحليمي رحمه الله : و منها ما جاء في ذكر عمارة البيت بذكر الله فذكر الحديث الذي :

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مدینی نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو احمد بن عیسیٰ نے ان کو وہب نے ان کو عمر وبن حارث نے ان کو دراج نے ان کو ابوالھیثم نے ان کو ابو سعید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا۔ رب تعالیٰ فرمائیں گے قیامت کے دن عنقریب اہل قیامت جان لیں گے کہ اہل کرم کون ہیں ؟ پو چھا گیا کہ اہل کرم کون ہیں؟ اے اللہ کے رسول ۔ فرمایاکہ مساجد میں ذکر کی مجالس ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ ۔ اس سلسلہ کی بعض احادیث وہ ہیں جو گھر کی آبادی کے ذکر کے ساتھ آئی ہیں یعنی اللہ کے ذکر کے ساتھ گھر کا آباد ہونا ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أحمد بن عيسى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المديني

Hadith 536

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 537

536 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا أبو أسامة حدثني بريد بن عبد الله عن جده أبي بردة عن أبي موسى رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مثل البيت الذي يذكر الله فيه و البيت الذي لا يذكر فيه مثل الحي و الميت رواه البخاري و مسلم في الصحيح عن محمد بن العلاء عن أبي أسامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو برید بن عبداللہ نے ان کو ان کے داد ابو بردہ نے ان کو حضرت ابو موسیٰ ؑ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا کہ اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے اور اس کی مثال جس میں اللہ کا ذکر نہیں ہوتا مثال زندہ اور مردہ کی ہے بخاری اور مسلم نے اس کو صحیح میں محمد علآئ سے اس نے ابو اسامہ سے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ← بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 537

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 538

537 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن يعقوب الشيباني ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا أبو العميس عن عون عن أبيه قال : قال عبد الله و هو ابن مسعود رضي الله عنه : إن الجبل ينادي الجبل باسمه يا فلان هل مر بك اليوم لله ذاكر ؟ استبشارا بذكر الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یعقوب شیبانی نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون سے ان کو ابو العمیش نے ان کو عون نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کو آواز دیتا ہے اس کے نام کے ساتھ اے فلانے کیا آج تیرے ساتھ کوئی اللہ کا ذکر کرنے والا گذرا ہے ۔ یہ اللہ کے ذکر سے خوشی کا اظہار کرنے کے لیے کہتا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَوْنٌ ← أَبُو الْعُمَيْسِ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← محمد بن يعقوب الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 538

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 539

538 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبيد الله بن موسى أنا مسعر عن عبد الله بن واصل عن عون قال : قال عبد الله : إن الجبل لينادي الجبل باسمه يا فلان هل مر بك اليوم ذاكر ؟ فإن قال : نعم استبشر ثم قال عبد الله : { لقد جئتم شيئا إدا * تكاد السماوات يتفطرن منه وتنشق الأرض وتخر الجبال هدا } يسمعون الزور و لا يسمعون الخير ؟ ومنها الاحتراز من الشيطان بذكر الله عز و جل يروي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أوحى الله تعالى إلى يحيى بن زكريا بخمس كلمات أن يعمل بهن و يأمر بني إسرائيل أن يعملوا بهن فذكر الحديث إلى أن قال : و آمركم بذكر الله كثيرا و مثل ذلك كمثل رجل طلبه العدو سراعا في أثره حتى أتى حصنا حصينا فأحرز نفسه فيه و كذلك العبد لا ينجو من الشيطان إلا بذكر الله

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسن قطانی نے ان کو احمد بن یوسف سلمیٰ نے ان کوعبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو مسعرنے عبداللہ بن واصل سے اس نے عون سے کہتے ہیں کہ عبداللہ نے فرمایا کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کو آواز دے کر کہتا ہے اے فلا نے کیا تیرے پاس آج کوئی اللہ کا ذکر کرنے والا گذرا ہے وہ کہتا ہے جی ہاں خوش ہو جا تا ہے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت :البتہ تحقیق لائے ہو تم لو گ جھوٹی شے جس سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین چر جائے اور پہاڑ گرپڑیں کیا جھوٹ کو سنتے ہیں اور خیر کو نہیں سنتے؟

عَبْدُ اللَّهِ ← عَوْنٌ ← عبد الله بن واصل ← مِسْعَرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 539

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 540

539 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن زيد حبيب ثنا أبو داود ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن الحارث الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فذكره و قد خرجناه بطوله في كتاب الدعوات

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد نے ان کو ابان بن یزید نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو زیدبن سلام نے ان کوحارث اشعر ی نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاپھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے اور ہم نے اس طویل روایت کوکتاب الدعوات میں اس کے اصول سمیت روایت کیا ہے ۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يونس بن زيد حبيب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 540

chevron_left Previous
1234…14
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood