Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 661

660 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا أبو الأزهر ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال : سمعت منصور بن زاذان يحدث عن ميمون بن أبي شبيب عن قيس بن سعد بن عبادة : أن أباه دفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فخدمة قال : فأتى علي النبي صلى الله عليه و سلم و قد صليت ركعتين فضربني برجله و قال : ألا أدلك على باب من أبواب الجنة ؟ قال قلت : بلى قال : لا حول و لا قوة إلا بالله

ہمیں خبر دی ہے ابو حسن علوی نے ، ان کو احمد بن محمد بن حسن حافظ نے، ان کو ابو الازھر نے، ان کو وھب بن جریرنے ، ان کو ان کے والد نے ، فرماتے ہیں کہ میں نے منصور بن ذاذان سےسنا ، وہ حدیث بیان کرتے تھے میمون بن ابی شبیب سے، وہ قیس بن سعد بن عبادہ سےکہ ان کے والد نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا تھا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا (ایک مرتبہ ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں دو رکعت نماز پڑھ چکا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیر سے ہلکی ٹھوکر ماری اور فرمایا کہ کیا میں تجھے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کی رہنمائی نہ کروں ؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ضرور کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ ہے : لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔

قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 661

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 662

661 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أخبرنا أبو جعفر الرزاز ثنا حنبل بن إسحاق ثنا موسى بن إسماعيل أبو سلمة ثنا جرير بن حازم : فذكره بإسناده غير أنه زاد قال : فدخلت المسجد فصليت ركعتين فأتى النبي صلى الله عليه و سلم و قد صليت ركعتين و اضطجعت فضربني برجله

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو جعفر رزاز نے ، ان کو حنبل بن اسحٰق نے ، ان کو موسیٰ بن اسماعیل ابو سلمہ نے ، ان کو جریر حازم نے ، پھر اس کو اس نے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ علاوہ ازیں اس نے کہا کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے دو رکعت نماز ادا کی ۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ، حالانکہ میں دو رکعت نماز پڑھ کر لیٹا ہوا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیر مبارک کے مجھے ٹھوکر ماری ۔

جرير بن حازم فذكره بإسناده غير أنه زاد ← موسى بن إسماعيل أبو سلمة ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 662

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 663

662 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم أنا خالد الحذاء عن أبي عثمان عن أبي موسى رضي الله عنه قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في غزاة فجعلنا لا نصعد شرفا و لا نهبط واديا إلا رفعنا أصواتنا بالتكبير فالتفت إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أيها الناس غضوا من أصواتكم فإنكم لا تدعون أصم و لا غائبا إن الذي تدعون دون ركابكم و قال : يا عبد الله بن قيس يعني أبا موسى قلت : لبيك يا رسول الله قال : أدلك على كنز من كنوز الجنة ؟ قلت : بلى قال لا حول و لا قول إلا بالله أخرجاه في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبردی ابو العباس بن محمد بن یعقوب نے ، ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ، ان کو علی بن عاصم نے ، ان کو خالد حذاء نے ان کو ابو عثمان نے ، ان کو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ،کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں ہوتے تھے ہم جب کسی چڑھائی پر چڑھتے یا کسی گہرائی میں اترتے تو ہم لوگ زور زور کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا : لوگوں اپنی آواز وں کو پست کرلو ، اس لئے کہ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے ہو اور نہ ہی کسی غائب کو ، بے شک تم لوگ جس کو پکار رہے وہ تمہاری رکاب سے بھی قریب تر ہے اور فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس آپ ارادہ کرتے تھے ابوموسیٰ کا ۔ میں کہا لبیک یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ فرمایا کہ میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کی دلالت نہ کروں؟ میں عرض کیا ضرور کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہے لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ بخاری مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُثْمَانَ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 663

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 664

663 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو ثنا سعيد بن مسعود ثنا عبيد الله بن موسى أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن الأغر عن أبي هريرة و أبي سعيد رضي الله عنهما : أنهما شهدا على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا قال العبد لا إله إلا الله و الله أكبر صدقه ربه قال : صدق عبدي لا إله إلا الله أنا وحدي فإذا قال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له قال : صدق عبدي لا إله إلا أنا لا شريك لي و إذا قال : لا إله إلا الله له الملك و له الحمد قال : صدق عبدي لا إله إلا أنا لي الملك و لي الحمد و إذا قال : لا إله إلا الله و لا حول و لا قوة إلا بالله قال : صدق عبدي لا إله إلا أنا لا حول و لا قوة إلا بي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے مقام مرومیں ان کو سعید بن مسعود نے ، ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ، ان کو اسرائیل نے ، ان کو ابو اسحٰق نے ، ان کو اغرنے ، ان کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور ابو سعید نے وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت بندہ کہتا ہے کہ اللہ کے سواء کوئی معبود و مشکل کشا نہیں ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اس کا رب اس کا سچا قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا ، کوئی الٰہ نہیں ہے ، مگر میں ہی الٰہ ہوں ۔ میں ایک ہوں اور جب بندہ کہتا ہے کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے ، وہ اکیلا ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے سچ کہا ہے ۔ میرے سواکوئی معبود و مشکل کشا نہیں ہے ، مگر میں ہی ہوں واقعی میرا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اور جب بندہ کہتا ہے کہ بادشاہت اس کی ہے اور تعریف اسی کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے سچ کہا، میرے سواکوئی الٰہ نہیں ہے ، مگر میں ہی ہوں ۔ بادشاہت میری ہے اور تعریف میرے لئے ہے ۔ اور جب بندہ کہتا ہے لا الٰہ الا اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے نے سچ کہا ہے ۔ میرے سواکوئی الٰہ نہیں ہے ۔ نیکی کرنے اور بدی سے رکنے کی طاقت میری عنایت کے بغیر نہیں ہے ۔

الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 664

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 665

664 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر الداربردي محمد بن أحمد بن محمد بمرو ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا الهذيل بن إبراهيم البصري ثنا صالح بن بيان الساحلي ثنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي ـ ح و أخبرنا عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجاد المقرئ بالكوفة أنا علي بن الحسين بن شقيق ثنا أحمد بن عيسى بن هارون العجلي ثنا محمد بن عبد العزيز بن أبي رزمة أنا الهذيل بن عبد الله بن أبي شريح ثنا صالح بن بيان عن عبد الرحمن المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن أبيه عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم يوما فقلت لا حول و لا قوة إلا بالله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أتدري ما تفسيرها ؟ قلت : الله و رسوله أعلم قال : لا حول عن معصية الله إلا بعصمة الله و لا قوة على طاعة الله إلا بعون الله هكذا أخبرني جبرائيل عليه السلام لفظ حديث أبي عبد الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر در بردی نے ، یعنی محمد بن احمد بن محمد نے مرو میں ۔ ان کو ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بو شنجی نے ، ان کو ھذیل بن ابراہیم بصری نے ، ان کو صالح بن بیان ساحلی نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ مسعودی نے اور ہمیں خبر دی ہے عبدالواحد بن محمد بن اسحاق بن نجاد مقری نے ، کوفہ میں ان کو علی بن حسین بن شقیق نے ان کو احمد بن عیسیٰ بن ہارون عجلی نے ، ان کو محمد بن عبدالعزیز بن رزمہ نے ، ان کو ھذیل بن عبداللہ بن ابو شریح نے ، ان کو صالح بن بیان نے ، ان کو عبدالرحمٰن مسعود ی نے ، ان کو قاسم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود نے ، ان کو ان کے والد نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا۔ میں نے کہہ دیا لاحول ولاقوۃ الا باللہ ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اس کی تفسیر کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا کہ : لاحول عن مصیۃ اللہ الا بعصمۃ اللہ ۔ ولا قوۃ علی طاعتہ الا بعون اللہ ۔ اللہ کی نافرمانی سے ہٹنا نہیں ہے مگر اللہ کے بچانے کے ساتھ اور اللہ کی طاقت پر قدرت نہیں ہے ۔ مگر اللہ کی مدد کے ساتھ مجھے جبرئیل امین نے اسی طرح خبر دی ہے ۔ یہ ابو عبداللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ ← صَالِحُ بْنُ بَيَانٍ ← الهذيل بن عبد الله بن أبي شريح ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ هَارُونَ الْعِجْلِيُّ، ← علي بن الحسين بن شقيق ← عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجاد المقرئ ← و، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← صالح بن بيان الساحلي ← الهذيل بن إبراهيم البصري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو بكر الداربردي محمد بن أحمد بن محمد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 665

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 666

665 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله الخسروجردي ثنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني أبو العباس عبد الله بن الصقر السكري ثنا الفضل بن سخيت السندي ثنا صالح بن بيان عن المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : جئت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقلت لا حول و لا قوة إلا بالله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ألا أخبرك بتفسيرها يا ابن أم عبد ؟ قلت : بلى يا رسول الله قال : لا حول عن معصية الله إلا بعصمة الله و لا حول على طاعة الله إلا بعون الله قال : ثم ضرب منكبي و قال : هكذا أخبرني جبرائيل عليه السلام يا ابن أم عبد تفرد به صالح بن بيان السيرافي و ليس بالقوي و روي ذلك من وجه آخر ضعيف عن زر عن عبد الله مرفوعا و هو في السادس و الثلاثين في التاريخ

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن عبداللہ خسرو جردی نے ، ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ، ان کو خبر دی ہے ابو العباس عبداللہ بن صقر سکری نے ، ان کو فضل بن سخیط سندی نے ، ان کو صالح بن بیان نے مسعودی سے ، ان کو قاسم بن عبدالرحمٰن نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ا اور میں نے کہا: لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں آپ کو اس کی تفسیر کی خبر نہ دوں اے ابن ام عبد؟ میں نے عرض کی جی ہاں بتایئے یار سواللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ فرمایا کہ اللہ کی معصیت سے ہٹنا اور رکنا ممکن نہیں ہے ، مگر اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے ساتھ اور اللہ کی طاعت کی طاقت ممکن نہیں ہے مگر اللہ کی مدد کے ساتھ ۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا کندھا تھپتھپایا اور فرمایا کہ اسی طرح مجھے خبر دی تھی جبرئیل علیہ السلام نے اے ابن ام عبد۔ صالح بن بیان سیراخی اس کے ساتھ متفرد ہے اور وہ قوی بھی نہیں ہے اور یہ حدیث ایک اور ضعیف طریق سے رز سےبواسطہ عبداللہ مرفوعاً روایت کی گئی ہے اور یہ تاریخ میں چھتیس نمبر میں ہے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← صَالِحُ بْنُ بَيَانٍ ← الْفَضْلُ بْنُ سُخَيْتٍ السِّنْدِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّقْرِ السُّكَّرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو الحسن علي بن عبد الله الخسروجردي،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 666

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 667

666 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ حدثني عبد الله بن سعد ثنا أحمد بن محمد بن عبيدة ثنا سعيد بن يحيى ثنا الحسين بن الحسن عن أبي بكر بن عياش عن عاصم عن زر عن عبد الله بن مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم عن جبرائيل عليه السلام عن الله عز و جل في تفسير لا حول و لا قوة إلا بالله : لا تحويل عن معصية الله إلى طاعة الله إلا بعصمة الله و لا قوة على طاعة الله إلا بعون الله عز و جل

ہمیں اس کی خبر دی ہے عبداللہ حافظ نے ، ان کو عبداللہ بن سعد نے ، ان کو احمد بن محمد بن عیسر ہ نے ان کو سعید بن یحییٰ نے ان کو حسین بن حسن نے ، ان کو ابو بکر بن عیاش نے عاصم سے ، اس نے زر سے اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ، اس نے اللہ جل جلالہ سے لاحول ولا قوۃ کی تفسیر کے بارے میں کہ اللہ کی نافرمانی سےہٹنا اور اللہ کی اطاعت کی طرف رجوع ہونا نہیں ہو سکتا ، مگر اللہ تعالیٰ کی عصمت سے اور بچانے سے اور اللہ کی اطاعت پر قدرت نہیں ہو سکتی مگر اللہ کی مدد کے ساتھ ۔

جَبْرَائِيلَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ← أحمد بن محمد بن عبيدة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 667

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 668

667 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي العامري ثنا أبو أسامة حدثني حسين بن ذكوان عن عبد الله بن بريدة عن بشير بن كعب عن شداد بن أوس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيد الاستغفار أن يقول العبد : اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني و أنا عبدك و أنا على عهدك و وعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بذنوبي و أبوء لك بنعمتك علي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت أخرجه البخاري في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حسن بن علی عامری نے ، ان کو ابو اسامہ نے ، ان کو حسین بن ذکوان نے ، ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ، ان کو بشیر بن کعب نے ، ان کو شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سید الا استغفار یہ ہے کہ بندہ کہے : اللھم انت ربی لا لٰہ الا انت خلقتنی وانا عبدکل وانا علی عھد ک وو عدک ما ستطعت ۔ اعوذبک من شرما صنعت و ابوء لک بذنوبی ، وا بوء لک بنعمتک علی فاغفرلی انہ لا یغفرالذنوب الا انت۔ اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے سوائی کوئی معبود نہیں ہے ۔ مگر تو ہی ہے ، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں اور میں تیرے عہد پر ہوں اور تیرے وعدے پر ہوں ۔ جس قدر میں طاقت رکھتا ہوں میں تیری پناہ چاہتاہوں اپنے اعمال کے شر سے ، میں تیرے لئے رجوع کرتا ہوں اپنے گناہ کے ساتھ اور میں رجوع کرتا ہوں تیرے لئے مجھ پر تیری نعمت کے ساتھ ، مجھےمعاف کردے ۔ بے شک تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کر سکتا ، مگر صرف تو ہی۔ بخاری نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الحسن بن علي العامري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 668

chevron_left Previous
1…11121314
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood