شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 625
624 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير حدثني مصعب : أن عبد الملك ابن مروان كتب إلى عامله بالمدينة هشام بن إسماعيل أنه بلغني أن الحسن بن الحسن يكاتب أهل العراق فإذا جاءك كتابي هذا فابعث إليه فليؤت به قال : فجيء به و شغله شيء قام فقام إليه علي بن الحسين فقال : يا ابن عم قل كلمات الفرج : لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله العلي العظيم سبحان الله رب السماوات السبع و رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين قال فخلا للآخر وجهه فنظر إليه فقال أرى وجها قد قشب بكذبة خلوا سبيله و ليراجع أمير المؤمنين
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حسن بن علی بن عفان نے ، ان کو حسین بن علی نے زائدہ سے ، ان کو عبدالملک بن عمیر نے ، ان کو مصعب نے یہ کہ عبدالملک بن مروان نے مدینے میں اپنے عامل ھشام بن اسماعیل کو لکھا کہ مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ حضرت حسن بن حسن اہل عراق کے ساتھ خط و کتابت کر رہے تھے ۔ تیرے پاس جب میرا یہ خط پہنچے تو ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں گرفتار کر لیا جائے ۔ مصعب کہتے ہیں کہ ان کے پاس جب وہ لائے گئے ہشام کچھ مصروف تھے ، چنانچہ ان کے پاس علی بن حسین اٹھے اور فرمایا کہ اے چچازاد بھائی مشکل کشائی کے کلمات پڑھے لیجئے ۔ ( وہ یہ ہیں ) لا الٰہ الا اللہ الحلیم الکھیم ، لا الٰہ الا اللہ العلی العظیم ۔ سبحان اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظیم ۔ الحمد اللہ رب العلمین ۔ مصعب فرماتے ہیں کہ ہشام نے ان کو دیکھ کر چہرہ دوسری طرف پھیر لیا اور کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ یہ ایسا چہرہ ہے جو جھوٹ کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے اور امیر المومنین سے بات اور مر اجعت کر لی جائے ۔
مصعب ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 625
