Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 625

624 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير حدثني مصعب : أن عبد الملك ابن مروان كتب إلى عامله بالمدينة هشام بن إسماعيل أنه بلغني أن الحسن بن الحسن يكاتب أهل العراق فإذا جاءك كتابي هذا فابعث إليه فليؤت به قال : فجيء به و شغله شيء قام فقام إليه علي بن الحسين فقال : يا ابن عم قل كلمات الفرج : لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله العلي العظيم سبحان الله رب السماوات السبع و رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين قال فخلا للآخر وجهه فنظر إليه فقال أرى وجها قد قشب بكذبة خلوا سبيله و ليراجع أمير المؤمنين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حسن بن علی بن عفان نے ، ان کو حسین بن علی نے زائدہ سے ، ان کو عبدالملک بن عمیر نے ، ان کو مصعب نے یہ کہ عبدالملک بن مروان نے مدینے میں اپنے عامل ھشام بن اسماعیل کو لکھا کہ مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ حضرت حسن بن حسن اہل عراق کے ساتھ خط و کتابت کر رہے تھے ۔ تیرے پاس جب میرا یہ خط پہنچے تو ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں گرفتار کر لیا جائے ۔ مصعب کہتے ہیں کہ ان کے پاس جب وہ لائے گئے ہشام کچھ مصروف تھے ، چنانچہ ان کے پاس علی بن حسین اٹھے اور فرمایا کہ اے چچازاد بھائی مشکل کشائی کے کلمات پڑھے لیجئے ۔ ( وہ یہ ہیں ) لا الٰہ الا اللہ الحلیم الکھیم ، لا الٰہ الا اللہ العلی العظیم ۔ سبحان اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظیم ۔ الحمد اللہ رب العلمین ۔ مصعب فرماتے ہیں کہ ہشام نے ان کو دیکھ کر چہرہ دوسری طرف پھیر لیا اور کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ یہ ایسا چہرہ ہے جو جھوٹ کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے اور امیر المومنین سے بات اور مر اجعت کر لی جائے ۔

مصعب ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 625

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 626

625 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا حامد بن أبي حامد المقرئ ثنا إسحاق بن سليمان يعني الرازي أنا عبد الرحمن بن عبد الله يعني المسعودي عن عبد الله بن المخارق بن سليم عن أبيه عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : إذا حدثناكم بحديث أتيناكم بتصديق ذلك من كتاب الله عز و جل إن العبد إذا قال : سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر و تبارك الله قبض عليهن ملك فضمهن تحت جناحه فصعد بهن لا يمر بهن على جمع من الملائكة إلا استغفروا لقائلهن حتى يجيء بهن وجه الرحمن تبارك و تعالى ثم تلا عبد الله : قوله : { إليه يصعد الكلم الطيب و العمل الصالح يرفعه }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ، ان کو حامد بن ابی حامد مقری نے ، ان کو اسحٰق بن سلیمان رازی نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ یعنی مسعودی نے ، ان کو عبداللہ بن محارق بن سلیم نے، ان کو ان کے والد نے ، ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، فرماتے ہیں کہ جس وقت ہم تمہیں کوئی حدیث بیان کرتےہیں تو ہم تمہارے پاس کتاب اللہ سے اس کی تصدیق بھی پیش کرتے ہیں بے شک بندہ جب کہتا ہے : سبحان اللہ ، والحمد اللہ ، والاالٰہ الا اللہ ، واللہ اکبر و تبارک اللہ ۔ تو ایک فرشہ ان کلمات کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور انہیں اپنے پر کے نیچے محفوظ کر لیتا ہے ۔ پھر ان کو لے کر وہ اوپر کو چڑھ جا تا ہے ، وہ ان کلمات کو لئے ہو فرشتوں کی جس کسی جماعت کے ساتھ گذرتا ہے تو وہ اس کے لئے استغفار کرتے ہیں جس نے یہ الفاظ پڑھے تھے ۔ یہاں تک کہ انہیں لے کر وہ رحمٰن کے سامنے پہنچ جا تا ہے ۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت پڑھی: الیہ یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یر فعہ(فاطر) اسی کی بار گاہ میں چڑھتے ہیں پاکیزہ کلمات اور عمل صالح بلند کرتا ہے اسی کو ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ ← عبد الرحمن بن عبد الله يعني المسعودي ← إسحاق بن سليمان يعني الرازي ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 626

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 627

626 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا الحسن بن موسى الأشيب ثنا حماد عن ثابت البناني : أن رجلا أعتق أربع رقاب في الرحبة فقال رجل سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر ثم دخل المسجد فإذا حبيب السلمي و أصحابه فقال : ما تقولون في رجل أعتق أربع رقاب فقال آخر اللهم إن هذا أعتق أربع رقاب و إني أقول سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر فأيهم أفضل ؟ فنظروا هنية فقالوا ما نعلم شيئا أفضل من ذكر الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحٰق نے ، ان کو حسن بن موسیٰ اشیب نے ، ان کو حماد نے ، ان کو ثابت بنانی نےکہ ایک آدمی نے فراخی میں چار غلام آزاد کئے اور دوسرے آدمی نے کہا: سبحان اللہ ۔ والحمد اللہ والا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ۔ پھر مسجد میں داخل ہو اتو دیکھتا ہے حبیب سلمی او اس کے رفقاء بیٹھے ہیں ۔ ا س نے ان سے پوچھا ، آپ لوگ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو جس نے چار غلام آزاد کئے اور دوسرے نے کہا اے اللہ اس نے تو چار گردنیں غلامی سے آزاد کرائی ہیں اور میں تنہاہوں ۔ سبحان اللہ ۔ والحمد اللہ والا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر۔ دونوں میں سے کون افضل ہے ؟ پس تھوڑی سی دیر انہوں نے غور کیا ، پھر بولے ہم اللہ کے ذکر سے افضل کوئی چیز نہیں سمجھتے ۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 627

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 628

627 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن سالم بن أبي الجعد : أن رجلا قال : لأبي الدرداء رضي الله عنه إن أبا سعد بن منبه أعتق مائة محرر قال : إن مائة محرر من مال رجل لكثير و إن شئت أنبأتك بما هو أفضل من ذلك إيمان ملزوم بالليل و النهار لا يزال لسانك رطبا بذكر الله تعالى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بتائی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو ہارون بن سلمان نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن جھدی نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو منصور نے ، ان کو سالم بن ابو الجعد نے کہ ایک آدمی نے حضرت ابو دردا ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ ابو سعد بن منبہ نے ایک سو غلام آزاد کئے ہیں ۔ فرمایا کہ بے شک سو غلام آزاد کرنا ایک آدمی کے مال میں بہت ہوتا ہے ۔ لیکن اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس سے بھی افضل کی خبر دوں ؟ ایمان جو شب و روز کے ساتھ لازم و ملزوم ہو اور تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر کے ساتھ تر رہنی چاہئے ۔

لأبي الدرداء إن أبا سعد بن منبه أعتق مائة محرر ← سالم بن أبي الجعد أن رجلا ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 628

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 629

628 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد بن الصفار ثنا أحمد بن عبيد الله النرسي ثنا حجاج بن محمد الأعور قال : قال ابن جريج أخبرني موسى بن عقبة عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من جلس مجلسا يكثر فيه لغطه ثم قال قبل أن يقوم : سبحانك ربنا و بحمدك لا إله أنت أستغفرك و أتوب إليك إلا غفر له ما كان في مجلسه ذلك

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید بن صفار نے ، ان کو احمد بن عبید اللہ نرسی نے ، ان کو حجاج بن محمد اعور نے ، کہتے ہیں کہ ابن جریح نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے موسیٰ بن عقبہ نے سہیل بن ابی صالح سے ، ان کو ان کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی محفل میں بیٹھے جس میں شورو شغب زیادہ ہو ۔ پھر وہاں سے اٹھنے سے قبل وہ یہ کہے : سبحانک ربنا و بحمدک لا لٰہ الا انت استغفرک و اتوب الیک ( الا غفرلہ ماکان فی مجلسہ ذلک) اس کے وہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں جو اس محفل میں ہوئے تھے ۔

من جلس مجلسا يكثر فيه لغطه ثم ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الصَّفَّارِ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 629

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 630

629 - أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني أنا أبو سلمة الخزاعي أنا خلاد بن سليمان ـ و كان من الخائفين ـ عن خالد بن أبي عمرو عن عروة بن الزبير عن عائشة رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا جلس مجلسا أو صلى تكلم بكلمات فسألته عن الكلمات فقال : إن تكلم بخير كان طابعا عليهن إلى يوم القيامة و إن تكلم بغير ذلك كان كفارة له سبحانك اللهم و بحمدك لا إله ألا أنت أستغفرك و أتوب إليك

ہمیں خبر دی ہے احمد بن حسن قاضی نے ، ان کو ابو العباس اصم نے ، ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ، ان کو ابو مسلمہ خزاعی نے ، ان کو خلاد بن سلیمان نے ( اور وہ خداترس لوگوں میں تھے ) ان کو خالد بن عمران نے ، ان کو عروہ بن زبیر نے ، ان کو سید ہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کسی مجلس میں بیٹھتے تھے یا نماز پڑھتے تھے تو کچھ کلمات کے ساتھ تکلم فرماتے تھے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کلمانت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر کسی بھی خر اور اچھائی کے ساتھ کلام کرتا ہے تو قیات تک اس خیر پر ان کلمات سے طابع اور مہر لگانے والا ہوگا اور اگر اس کے بغیر مکمل کرے تو بھی اس کے لئے کفارہ ہوتے ہیں ( وہ یہ ہیں ) سبحانک اللھم وبحمد ک لا الٰہ الا انت استغفرک و اتوب الیک۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← خالد بن أبي عمرو ← خلاد بن سليمان و كان من الخائفين ← أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أحمد بن الحسن القاضي،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 630

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 631

630 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد ابن إسحاق ثنا أبو جعفر بن الأصبهاني ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن عبد الله رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أحب الكلام إلى الله : سبحانك اللهم و بحمدك و تبارك اسمك و تعالى جدك و لا إله غيرك : و إن أبغض الكلام إلى الله عز و جل أن يقول الرجل للرجل : اتق الله فيقول : عليك بنفسك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس اصم نے ، ان کو محمد اسحٰق نے ، ان کو ابو جعفر اصفہانی نے ، ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے ، ان کو ابراہیم تمیمی رحمۃ اللہ علیہ نے ، ان کو حارث بن سوید نے ، ان کو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ فرمایاتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اللہ کے ہاں محبوب ترین کلام : سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جد ک و لا الٰہ غیرک ہے اور اللہ کے یہاں مبغوض ترین کلام یہ ہے کہ ایک آدمی سے کہے : اتق اللہ ۔۔۔۔ تو اللہ سے ڈر۔ یا اللہ کی نافرمانی کرنے سے بچ ۔ تو دوسر ا جواب دے تو ہی بچا اپنے آپ کو یا تو ہے ڈر ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو جعفر بن الأصبهاني ← محمد ابن إسحاق ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 631

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 632

631 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبا أبو خليفة بن حباب الجمحي بالبصرة ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن جري النهدي عن رجل من بني سليم قال : عدهن رسول الله صلى الله عليه و سلم في يدي أو في يده : التسبيح نصف الميزان و الحمد لله تملأه و التكبير تملأ ما بين السماء و الأرض و الصوم نصف الصبر و الطهور نصف الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ، ان کو ابو حنیفہ بن حباب جمحی نے بصرہ میں ان کو محمد بن کثیر نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو ابو اسحاق نےجری نھدی سے ان کو ایک آدمی نے بنو سلیم سے کہتے ہیں کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شمار کیا میرے ہاتھ میں یا اپنے ہاتھ میں : التسبیح نصف المیزان ۔ والحمد اللہ تملاء ۔ و التکبیر تملاء مابین السماء والارض والصوم نصف الصبر ، والطھور نصف الایمان ۔ سبحان اللہ کہنا ترازاکو آدھا بھر دیتا ہے ۔ الحمد اللہ کہنا پور بھر دیتا ہے ۔ اللہ اکبر کہنا زمین و آسمان کے درمیان خلاء کو بھر دیتا ہے۔ روزہ رکھنا آدھا صبر ہے اور طہارت نصف ایمان ہے۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبا أبو خليفة بن حباب الجمحي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 632

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 633

632 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا قبيصة ثنا سفيان بن سعيد عن أبي حيان عن أبيه قال : كان شيخ لنا إذا سمع السائل يقول من يقرض قرضا حسنا قال : سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر هذا القرض الحسن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس بن محمد بن یعقوب نے ، ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ، ان کو قبیصہ نے ، ان کو سفیان بن سعید نے ، ان کو ابو احیان نے ، ان کو ان کے والد نے ، وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ایک شیخ تھے جب سنتے کہ کوئی سائل کہتا ہے کون ہے جو قرضہ حسنہ دے دے ۔ فرماتے : سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر ۔ یہ قرضہ حسنہ ہے۔

من يقرض قرضا حسنا ← السَّائِلَ ← كان شيخ لنا إذا ← أَبِيهِ ← أَبِي حَيَّانَ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← قَبِيصَةُ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 633

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 634

633 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو عبد الله محمد بن عبيد الله الجرجاني ثنا أبو بكر محمد بن القاسم الأنباري ثنا أبي ثنا الحسن بن عبد الرحمن ثنا العباس بن الفرج ثنا الأصمعي عن عيسى بن عمر قال : كان نابغة بني شيبان إذا أنشد الشعر قبض على لسانه ثم قال لأسلطن عليك ما يسوءك : سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ جرجانی نے ، ان کو ابو بکر محمد بن قاسم انباری نے ، ان کو میرے والد نے، ان کو حسن بن عبدالرحمٰن نے ، ان کو عباس بن الفرح نے ، ان کو اصمعی نے ، ان کو عیسیٰ بن عمر نے ، فرماتے ہیں کہ نابغہ بنی شیبان شاعر جب شعر کہتا تو اپنی زبان کو قابو کر لیتا ، پکڑ لیتا ۔ کہتا میں ضرور تیرے اوپر مسلط کروگا جو تجھے برالگے گا: سبحان اللہ ۔ والحمداللہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ۔ یعنی اگر دنیاوی باتوں میں شعر کہنے سے زبان آلودہ کرتے تو اس کی تلافی مافات کےطور پر مذکورہ ذکر کرتے )۔

كان نابغة بني شيبان إذا أنشد الشعر قبض على لسانه ثم ← عيسى بن عمر ← الْأَصْمَعِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَنْبَارِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن عبيد الله الجرجاني ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 634

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 635

634 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو أحمد بن حمزة بن محمد بن العباس ثنا عبد الكريم بن الهيثم ثنا أبو صالح ثنا معاوية ابن صالح أن شعوذ بن عبد الرحمن حدثه عن ابن عائذ : أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أمر بضرب رجلين جعل أحدهما يقول بسم الله و الآخر يقول سبحان الله فقال : ويحك خفف عن المسبح فإن التسبيح لا يستقر إلا في قلب مؤمن

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو احمد بن حمزہ بن محمد بن عباس نے ، ان کو عبدالکریم بن ھثیم نے ، ان کو ابو الصالح نے ، ان کو معاویہ بن صالح نے ، یہ کہ شعوذبن عبدالرحمٰن نے اس کو بیان کیا ابن عائذ سے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوآدمیوں کی پٹائی کرنے کا حکم فرمایا ۔ ایک کہتا بسم اللہ اور دوسرا کہتا سبحان اللہ ۔ امیر المومنین نےفرمایا تو ہلاک جائے تخفیف کو مسبح سے ، بے شک تسبیح صرف مومن کے دل میں استقرار پکڑتی ہے۔

المسبح فإن التسبيح لا يستقر إلا في قلب مؤمن ← سبحان الله فقال ويحك خفف ← بسم الله و الآخر ← ابن عائذ أن عمر بن الخطاب أمر بضرب رجلين جعل أحدهما ← معاوية ابن صالح أن شعوذ بن عبد الرحمن ← أَبُو صَالِحٍ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ← أبو أحمد بن حمزة بن محمد بن العباس ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 635

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 636

635 - أخبرنا أبو عبد الله ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد ثنا محمد بن عبيد ثنا وائل قال : سمعت الحسن البصري يحدث قال : بينا رجل رأى في المنام إن مناديا ينادي من السماء : أيها الناس خذوا سلاح فزعكم فعمد الناس فأخذوا السلام حتى أن الرجل ليجيء و ما معه إلا عصا فنادى من السماء ليس هذا سلاح فزعكم فقال رجل من أهل الأرض و ما سلاح فزعنا ؟ قال : لا إله إلا الله و سبحان الله و الله أكبر و الحمد لله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن محمد نے، ان کو محمد بن عبید نے ، ان کو وائل نے، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت حسن بصری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ اعلان کرنے والا اعلان کر رہا ہے آسمان سے : اے لوگو! اپنے خطر ے سے بچنے کے لئے اپنے اپنے ہتھیار سنبھال لو ۔ لوگ ہٹے ہیں اور انہوں نے ہتھیار سنبھال لئے ہیں ۔ ایک آدمی آیا اس کے پاس ڈنڈے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ اس نے وہی لے لیا ۔ پھر آسمان سے پکار نے والے نے پکار را ، تمہارے خطرے سے بچنے کے لئے تمہارے ہتھیار یہ نہیں ہیں ، لہذا اہل زمین میں سے کسی نے پوچھا کہ ہمارے خطرے کے لئے ہمارے ہتھیار کیا ہیں ؟ منادی کرنے والے نے کہاکہ وہ ہتھیار یہ ہیں : لا الٰہ الا اللہ سبحان اللہ و اللہ اکبر و اللہ الحمد ۔

الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← وَائِلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 636

chevron_left Previous
1…1011121314
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood