شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4348
4348 - ـ : و قال النبي صلى الله عليه و سلم : المسلمون عند شروطهم أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا بهلول الأنباري نا إبراهيم بن حمزة بن محمد بن حمزة بن مصعب بن الزبير بن العوام نا عبد العزيز بن أبي حازم عن كثير بن زيد و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن خلف المروزي نا إبراهيم بن حمزة نا عبد العزيز بن أبي حازم و سفيان بن حمزة عن كثير بن زيد عن الوليد بن رباح عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المسلمون على شروطهم قال : و زاد سفيان في حديثه ما وافق الحسن منها قال الحليمي رحمه الله : فكل من عقد عقدا من العقود التي أثبتها الشريعة و جعلت لها حكما بين يدي الله تعالى و بين العبد أو بين العباد بعضهم مع بعض فصح ذلك منه و انعقد عليه و لزمه فعليه أن يوفي به فذكر من جمله ذلك عقد الإسلام و تقبله ثم عقد الصوم المفروض ثم عقد الإحرام ثم نذر ما يكون طاعة و قد ورد في النذر عن النبي صلى الله عليه و سلم أخبارا منها ما
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المسلمون عند شروطهم مسلمان اپنی شرائط پر پکے ہوتے ہیں۔ ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو بھلول انباری نے ان کو ابراہیم بن حمزہ بن محمد بن حمزه بن مصعب بن زبیر بن عوام نے ان کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو علی بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن خلف مروزی نے ان کو ابراہیم بن حمزہ نے ان کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے اور ابی سفیان بن حمزہ نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو ولید بن رباح نے ان کو ابوہریرہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اپنی شرائط پر قائم رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سفیان نے اس حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے۔مــاوافـق الحسن منها۔ ان میں سے جو اچھائی کے موافق ہوں۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو کوئی عقد باندھے عقود میں سے (کوئی گرہ باندھے عہدوں اور وعدوں کی) جسے شریعت نے ثابت کیا ہو اور اس کا حکم فرمایا ہو۔ خواہ وہ عقد و عہد اللہ کے اور بندے کے درمیان ہو۔ یا بندوں کے آپس میں بعض کے بعضوں کے درمیان ہو جو صحیح ہوں اس کی طرف سے اور اس پر منعقد ہو جاتے ہیں، اور اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ ان کو پورا کرے۔ پھر شیخ نے ان جملہ عہدوں اور پیمانوں میں سے اسلام کے عقد کو اور اس کے عہد و پیمان کو اور اس کے قبول کرنے کو ذکر کیا ہے۔اس کے بعد فرض روزے کا عقد و عہد ہے پھر عقد احرام ہے اس کے بعد وہ نذر ہے جو اللہ کی اطاعت ہو۔ تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نذر کی بابت کئی اخبار وارد ہوئے ہیں بعض ان میں سے درج ذیل ہیں۔
Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4348
