Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4348

4348 - ـ : و قال النبي صلى الله عليه و سلم : المسلمون عند شروطهم أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا بهلول الأنباري نا إبراهيم بن حمزة بن محمد بن حمزة بن مصعب بن الزبير بن العوام نا عبد العزيز بن أبي حازم عن كثير بن زيد و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن خلف المروزي نا إبراهيم بن حمزة نا عبد العزيز بن أبي حازم و سفيان بن حمزة عن كثير بن زيد عن الوليد بن رباح عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المسلمون على شروطهم قال : و زاد سفيان في حديثه ما وافق الحسن منها قال الحليمي رحمه الله : فكل من عقد عقدا من العقود التي أثبتها الشريعة و جعلت لها حكما بين يدي الله تعالى و بين العبد أو بين العباد بعضهم مع بعض فصح ذلك منه و انعقد عليه و لزمه فعليه أن يوفي به فذكر من جمله ذلك عقد الإسلام و تقبله ثم عقد الصوم المفروض ثم عقد الإحرام ثم نذر ما يكون طاعة و قد ورد في النذر عن النبي صلى الله عليه و سلم أخبارا منها ما

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المسلمون عند شروطهم مسلمان اپنی شرائط پر پکے ہوتے ہیں۔ ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو بھلول انباری نے ان کو ابراہیم بن حمزہ بن محمد بن حمزه بن مصعب بن زبیر بن عوام نے ان کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو علی بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن خلف مروزی نے ان کو ابراہیم بن حمزہ نے ان کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے اور ابی سفیان بن حمزہ نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو ولید بن رباح نے ان کو ابوہریرہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان اپنی شرائط پر قائم رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سفیان نے اس حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے۔مــاوافـق الحسن منها۔ ان میں سے جو اچھائی کے موافق ہوں۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو کوئی عقد باندھے عقود میں سے (کوئی گرہ باندھے عہدوں اور وعدوں کی) جسے شریعت نے ثابت کیا ہو اور اس کا حکم فرمایا ہو۔ خواہ وہ عقد و عہد اللہ کے اور بندے کے درمیان ہو۔ یا بندوں کے آپس میں بعض کے بعضوں کے درمیان ہو جو صحیح ہوں اس کی طرف سے اور اس پر منعقد ہو جاتے ہیں، اور اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ ان کو پورا کرے۔ پھر شیخ نے ان جملہ عہدوں اور پیمانوں میں سے اسلام کے عقد کو اور اس کے عہد و پیمان کو اور اس کے قبول کرنے کو ذکر کیا ہے۔اس کے بعد فرض روزے کا عقد و عہد ہے پھر عقد احرام ہے اس کے بعد وہ نذر ہے جو اللہ کی اطاعت ہو۔ تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نذر کی بابت کئی اخبار وارد ہوئے ہیں بعض ان میں سے درج ذیل ہیں۔

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4348

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4349

4349 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب أخبرني مالك بن أنس عن طلحة بن عبد الملك الأيلي عن القاسم بن محمد عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من نذر أن يطيع الله فليطعه و من نذر أن يعصي الله فلا يعصه أخرجه البخاري في الصحيح من حديث مالك

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے مالک بن انس نے ان کوعلی بن عبدالملک ایلی نے ان کو قاسم بن محمد نے سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ روایت کرتی ہیں رسول اللہ سے کہ آپ نے فرمایا۔جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا اسے چاہئے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور جو شخص نذر مانے کہ اللہ کی نافرمانی کریگا پس وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ (یعنی اگر جائز منت ہو تو ضرور پوری کرے اگر ناجائز کام کی منت ہوتو وہ پوری نہ کرے۔) اس کو بخاری نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث مالک سے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، ← مالک بن أنس ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4349

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4350

4350 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا خلاد بن يحيى نا سفيان الثوري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني بكير بن أحمد بن سهل الحداد الصوفي بمكة نا بشر بن موسى الأسدي نا أبو نعيم نا سفيان عن منصور عن عبد الله بن مرة عن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن النذر و قال : إنه لا يرد شيئا إنما يستخرج به من الشحيح و في رواية خلاد و لكن يستخرج به من الشحيح رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم و أخرجه مسلم من وجه آخر عن سفيان و خلاد بن يحيى و فيه دلالة على وجوب ما التزمه بالنذر فلولا وجوبه لما حصل به الاستخراج من البخيل و ورد في الصداق ما

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن محمد روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابویحییٰ بن ابومسرہ نے ان کو خلاد بن یحییٰ نے ان کو سفیان ثوری نے ’’ح“اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو بکیر بن احمد بن سہل حداد صوفی نے مکہ مکرمہ میں ان کو بشر بن موسیٰ اسدی نے ان کو ابونعیم نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے انکو عبداللہ بن مرہ نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے نذر ماننے سے منع فرمایا تھا اور کہا تھا کہ نذرکسی شئی کو رد نہیں کرسکتی سوائے اس کے نہیں کہ اس کے ذریعے بخیل سے کچھ نکلوایا جاتا ہے۔ اور خلاد کی ایک روایت میں ہے۔ لیکن اس کے ذریعے بخیل سے کچھ نکالا جاتا ہے۔ اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابونعیم سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے دوسرے طریق سے سفیان سے اور خلاد بن یحییٰ سے۔ اور اس میں دلیل ہے اس نذر کے واجب ہونے پر جس کو انسان خود اپنے اوپر لازم کرے اگر اس کا وجوب نہ ہوتا تو اس کے ذریعے بخیل سے استخراج حاصل نہ ہوتا اور اسی طرح مہر کے بارے میں بھی احادیث وارد ہوئی ہیں۔

النذر و ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← بكير بن أحمد بن سهل الحداد الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4350

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4351

4351 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح بالكوفة نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله بن موسى أنا عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد الله عن عقبة بن عامر الجهني قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أحق الشروط أن يوفى به ما استحللتم به فروج النساء أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه عن عبد الحميد

ہمیں خبر دی ہے ابومحمد جناح بن نذیر بن جناح نے کوفے میں ان کو ابوجعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن غرزه نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو عبدالحمید بن جعفر نے ان کو یزید بن ابوحبیب نے ان کو مرثد بن عبداللہ نے ان کو عقبہ بن عامر جھنی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک شرائط میں سے زیادہ حق دار اس بات کے لئے کہ وہ پوری کی جائیں وہ ہیں جن کے ذریعے تم لوگ عورتوں کی شرم گاہوں کو اپنے لئے جائز اور حلال کرتے ہو (یعنی عورتوں کا حق مہر ادائیگی کے لحاظ سے زیادہ ضروری ہے۔) اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں کئی طریقوں سے عبدالحمید سے۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جُنَاحٍ بِالْكُوفَةِ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4351

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4352

4352 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد عبد الله يعقوب نا الحسن عبد الله علي بن عفان نا ابن نمير عن الأعمش و أخبرنا أبو عبد الله محمد عبد الله يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا يحيى بن منصور الهروي نا محمد بن عبد الله بن نمير نا أبي عن الأعمش عن عبد الله بن مرة عن مسروق عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أربع من كن فيه كان منافقا خالصا و من كانت فيه خلة منهن كانت فيه خلة من النفاق حتى يدعها إذا حدث كذب و إذا عاهد غدر و إذا وعد أخلف و إذا خاصم فجر و في رواية ابن عفان خصلة بدل خلة و الباقي سواء رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن عبد الله بن نمير و أخرجاه من حديث الثوري عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو یحییٰ بن منصور هروی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ان کو ابوالاعمش نے ان کو عبداللہ بن مرہ نے ان کو مسروق نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار خصلتیں ایسی ہیں وہ جس میں ہو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک عادت ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دے۔ جس وقت بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے۔ اور جب معاہدہ کرتا ہے تو دھوکہ کرتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب جھگڑا کرتا ہے تو گالیاں دیتا ہے۔ اور ابن عفان کی ایک روایت میں ہے خصلۃ بجائے خلۃ کے اور باقی برابر ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ صحیح میں محمد بن عبداللہ بن نمیر سے اور بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے۔ حدیث ثوری سے اس نے اعمش سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← يحيى بن منصور الهروي، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أبو عبد الله محمد عبد الله يعقوب ← الأَعْمَشِ، وَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الحسن عبد الله علي بن عفان ← أبو العباس محمد عبد الله يعقوب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4352

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4353

4353 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن عبيد الله بن يزيد نا وهب بن جرير نا شعبة ح و أنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن الأعمش قال : سمعت أبا وائل يحدث عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لكل غادر لواء يوم القيامة فقال : هذه غدرة فلان و في رواية وهب عن أبي وائل و الباقي سواء مخرج في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رزاز نے ان کو محمد بن عبداللہ بن یزید نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ’’ح‘‘ان کو ابوبکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو اعمش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابووائل سے وہ حدیث بیان کرتے تھے عبداللہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ ہر ہر دھوکہ کرنے والے کے لئے قیامت کے دن (بطور علامت کے) ایک جھنڈا ہوگا اور وہ کہے گا یہ فلانے کی غداری ہے۔ اور وھب کی روایت میں ہے ابووائل سے اور باقی برابر ہے اور بخاری میں نقل ہے حدیث شعبہ سے۔

هذه غدرة فلان و في رواية وهب ← لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ ← و، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4353

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4354

4354 - أخبرنا أبو الخير جامع بن أحمد الوكيل أنا أبو طاهر المحمد أبادي نا عثمان بن سعيد نا مسلم بن إبراهيم نا أبو هلال عن قتادة عن أنس قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لا إيمان لمن لا أمانة له و لا دين لمن لا عهد له

اور ہمیں خبر دی ابوالخیر جامع بن احمد وکیل نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو مسلم بن ابراہبیم نے ان کو ابوہلال نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خطبہ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور فر مایا کوئی ایمان نہیں ہے اس کا جس کی امانت نہیں ہے۔ (یعنی جو امانت میں خیانت کرتا ہے) اور اس شخص کا کوئی دین نہیں ہے جس کا کوئی وعدہ نہیں ہے (یعنی جو وعدہ خلافی کرتا ہے۔)

خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أبو الخير جامع بن أحمد الوكيل،

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4354

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4355

4355 - أخبرنا زيد بن أبي هاشم العلوي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم نا محمد بن الحسن الحنيني نا قتيبة بن سعيد نا ليث بن سعد عن مرثد بن أبي حبيب عن سعد بن سنان عن أنس بن مالك : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : تقبلوا لي بست أتقبل لكم بالجنة قالوا : و ما هي ؟ قال : إذا حدث أحدكم فلا يكذب و إذا وعد فلا يخلف و إذا ائتمن فلا يخن غضوا أبصاركم و كفوا أيديكم و احفظوا فروجكم

ہمیں خبر دی زید بن ابو ہاشم علوی نے کوفے میں ان کو ابوجعفر بن دحیم نے ان کو محمد بن حسن حسینی نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو لیث بن سعید نے ان کو مرثد بن ابوحبیب نے ان کو سعد بن سنان نے ان کو انس بن مالک نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انہوں نے فرمایا تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں لوگوں نے کہا کہ وہ کون سی ہیں؟ فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولا کرے اور جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف نہ کرے اور جب امانت رکھوایا جائے تو خیانت نہ کرے اور اپنی نگاہیں نیچی رکھا کرو۔اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھا کرو (کسی کو تکلیف پہنچانے سے) اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کرو(نگاہ نیچے کرنے سے۔)

و ما هي ← تقبلوا لي بست أتقبل لكم بالجنة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ← مرثد بن أبي حبيب ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن الحسن الحنيني ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← زيد بن أبي هاشم العلوي بالكوفة

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4355

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4356

4356 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدرامي نا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة : عن ابن عباس في قوله : { يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود } يعني بالعهود و يعني ما أحل الله و ما حرم و ما فرض و ما حد في القرآن كله

ہمیں خبر دی ہے ابوزکریا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کوعلی بن ابوطلحہ نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا اس قول کے بارے میں: ياايها الذين امنوا اوفوا بالعقود. یعنی عهود. اے ایمان والو عقد پورے کرو یعنی عہد پورے کرو اس کی مراد ہے کہ اللہ نے جو کچھ حلال کیا ہے اور جو کچھ حرام کیا ہے اور جو کچھ فرض کیا ہے اور جس کو حد مقرر کیا ہے قرآن میں و وسب پورا کرو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4356

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4357

4357 - أخبرنا أبو الحسن علي بن الحسين بن علي البيهقي صاحب المدرسة أنا أبو حفص عمر بن أحمد بن محمد بقرميسين نا محمد بن إبراهيم بن زياد الطيالسي نا الحسن بن أحمد بن أبي شعيب الحراني نا مسكين بن بكير نا معاذ بن رفاعة عن علي بن زيد عن القاسم عن أبي أمامة قال : جاء ثعلبة بن حاطب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ادع الله أن يرزقني مالا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا ثعلبة قليل تؤدي شكره خير من كثير لا تطيقه قال : يا رسول الله ادع الله أن يرزقني مالا فو الله لئن أعطاني الله لأتصدقن و لأفعلن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم ارزقه مالا قال : فصارت له غنيمة فكان يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما كثرت غنمه و نمت خرج من المدينة فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا المغرب و العشاء فنمت غنمه فتقدم فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا الجمعة فنمت غنمه و كثرت فتقدم فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جمعة و لا غيرها قال : فبعث النبي صلى الله عليه و سلم رجالا يأخذون الصدقة فذهبوا إليه فقال لهم : إذا فرغتم و انصرفتم اجعلوا طريقكم علي أو نحوها قال : فلما فرغوا و انصرفوا أتوه فقال : و الله ما هذه إلا جزية فانصرفوا عنه و لم يأخذوا منه الصدقة فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فأخبروه بما قال : فأنزل الله عز و جل : { ومنهم من عاهد الله لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين } إلى قوله : { يكذبون } قال : فلما نزل فيه القرآن جاء بصدقته إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأبى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يأخذها فلما قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء بصدقته إلى أبي بكر فأبي أن يأخذها و قال شيء لم يأخذها رسول الله صلى الله عليه و سلم لا أخذها و أبى أن يأخذها فلما قبض أبو بكر جاء بصدقته إلى عمر فأبى أن يأخذها و قال شيء لم يأخذها رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا أخذها و أبى ذلك قال الشيخ أحمد رحمه الله : و إنما لم يأخذ النبي صلى الله عليه و سلم زكاة ماله و جرى في ذلك أبو بكر و عمر على سنته لأنه كان قد ناففق و الكتاب الذي نزل في شأنه ناطق بذلك حيث قال : { فأعقبهم نفاقا في قلوبهم إلى يوم يلقونه بما أخلفوا الله ما وعدوه وبما كانوا يكذبون } و علموا بهذا بقاؤه على نفاقه حتى يموت و أن إتيانه بصدقة ماله مخافة أن يؤخذ منه قهرا و في إسناد هذا الحديث نظر و هو مشهور فيما بين أهل التفسير و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن حسن بن علی بیہقی صاحب مدرسہ نے ان کو ابوحفص عمر بن احمد بن محمد قرمیسین میں ان کو محمد بن ابراہیم بن زیاد طیالسی نے ان کو حسن بن احمد بن ابوشعیب حرانی نے ان کو مسکین بن بکیر نے ان کو معاذ بن رفاعتہ نے ان کو علی بن زید نے قاسم سے اس نے ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن حاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا یا رسول اللہ آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ثعلبہ قلیل مال جس کا تو شکر ادا کرتا ہے وہ اس کثر مال سے بہتر ہے جس کا تو شکر نہ ادا کر سکے۔ کہنے لگا یا رسول اللہ نہیں بس آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے اللہ کی قسم اگر اس نے مجھے مال دے دیا تو میں ضرور صدقہ کروں گا۔اور میں یہ کروں گا وہ کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اللہ ثعلبہ کو مال عطا کر۔ قاسم کہتے ہیں کہ اللہ نے اس کو بکریاں عطا کر دیں اس سے پہلے وہ رسول اللہ کے پاس حاضری دیتا تھا جب بکریاں زیادہ ہوگئیں اور بڑھ گئیں تو وہ مدینے سے باہر نکل گیا پھر وہ صرف مغرب اور عشاء میں رسول اللہ کے پاس آتا تھا جب بکریاں بڑھ اور زیادہ ہو گئیں تو پھر وہ صرف جمعہ میں حضور کے پاس آتا تھا جب بکریاں اور بڑھ کر زیادہ ہوگئیں تو اس نے جمعہ کے دن آنا بھی چھوڑ دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگ بھیجے کہ اس سے صدقہ یعنی زکوٰۃ کا مال وصول کر آئیں وہ جب پہنچے تو اس نے ان کو ٹال دیا اور کہا کہ پہلے اور لوگوں سے لیں جب واپس جانے لگیں تو میری طرف سے آئیں (میں جب دے دوں گا ابھی تو میں مصروف ہوں) وہ لوگ فارغ ہوکر جب پہنچے تو اس نے کہا اللہ کی قسم یہ مال دینا تو تاوان ہی ہے یا ایسے ہی کچھ جواب دیا راوی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے یہ سن کر مال زکوٰۃ وصول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر شکایت کی جو کچھ اس نے کہا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ومنهم من عاهد اللّٰه لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين فلما اتاهم من فضله بخلوا به وتولوا وهم معرضون فاعقبهم نفاقا في قلوبهم الى يوم يلقونه بما اخلفوا اللّٰه ما وعدوه وبما كانوا يكذبون. کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں مال عطا کرے تو ہم ضرور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اور ہم ضرور نیکوکار بن جائیں گے جب انہیں اللہ نے اپنا فضل دے دیا تو انہوں نے اس کے ساتھ بخل کرنا شروع کر دیا اور اپنے عہد سے پھر گئے۔اور منہ پھیرنے لگے۔ان کے جھوٹ بولنے اور اللہ سے وعدہ خلافی کرنے کی وجہ سے اس نے خیانت کیا ان کے دل میں نفاق بھر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب قرآن اتر اتو ثعلبہ اپنی زکوٰۃ اور صدقات کا مال لے کر حضور کے پاس آیا مگر آپ نے اس سے مال لینے سے انکار کر دیا حضور جب فوت ہو گئے تو وہ اپنا صدقہ لے کر ابوبکر صدیق کے پاس آیا انہوں نے بھی لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لیا میں بھی نہیں لوں گا جب ابوبکر صدیق کا انتقال ہوگیا تو وہ مال لے کر حضرت عمر کے پاس آیا انہوں نے بھی لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو مال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لیا اور ابوبکر نے نہیں لیا میں بھی نہیں لوں گا۔ شیخ احمد بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ حضور نے مال نہ لیا اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی سنت پر عمل کیا اس لئے کہ وہ منافق ہو چکا تھا اور وہ آیت کتاب اللہ جو اس کے بارے میں نازل ہوئی وہ اس بات کی دلیل ہے اور اسی پر ناطق ہے۔وہ یہ ہے: فاعقبهم نفاقا في قلوبهم الخ. اسی آیت سے شیخین نے جان لیا تھا کہ اب وہ قیامت تک اور موت تک نفاق پر قائم رہے گا۔ باقی رہا اس کا اپنے مال کی زکوۃ و صدقہ لے کر پیش ہونا تو وہ اس کی اس خوف سے تھا تا کہ اُس سے جبراً نہ لے لیا جائے۔ اور اس حدیث کی اسناد میں ضعف ہے حالانکہ مشہور ہے اہل تفسیر کے درمیان۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ الطَّيَالِسِيُّ، ← أبو حفص عمر بن أحمد بن محمد بقرميسين ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ صَاحِبُ الْمَدْرَسَةِ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4357

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4358

4358 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن عبيد الله النرسي نا يحيى بن أبي بكير نا شعبة عن أبي الفيض قال : سمعت سليم بن عامر قال : كان بين معاوية و بين الروم عهد فأراد أن يغزوهم فتعجل شهرا قال : فجعل رجل في أرض الروم على برذون يقول : و قالا : غدر فإذا هو عمرو بن عنبسة فدعاه معاوية فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان بينه و بين قوم عهد فلا يحل له أن يحل عقدة حتى ينقضي أمدها أو ينبذ إليهم على سواء

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن عبیداللہ نرسی نے ان کو یحییٰ بن ابوعبید نے ان کو شعبہ نے ان کو ابوالفیض نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سلیم بن عامر سے وہ کہتے کہ حضرت معاویہ اور رومیوں کے مابین معاہدہ تھا (جنگ نہ کرنے کا) انہوں نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا اور طے شدہ مہینے سے عجلت کی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سرزمین روم پر خچر پر سوار ہوا اور کہنے لگا اور دونوں نے کہا کہ یہ تو غدر ہے، دھوکہ ہے، دیکھا تو وہ عمر بن عبسہ تھا حضرت معاویہ نے اسے بلایا اور پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا تھا جس آدمی کے اور کسی قوم کے مابین کوئی معاہدہ ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے عقد کو توڑے بلکہ مدت پوری کرے یا ان کو بھی برابر کا اختیار دے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← غدر فإذا هو عمرو بن عنبسة فدعاه معاوية ← و، ← فجعل رجل في أرض الروم على برذون ← كان بين معاوية و بين الروم عهد فأراد أن يغزوهم فتعجل شهرا ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْفَيْضِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4358

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4359

4359 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله نا سليمان بن حرب نا شعبة عن أبي الفيض شيخ من بني عقيل عن سليم بن عامر قال : كان بين معاوية و بين الروم عهد قال : فكان يسير حتى يكون قريبا من أرضهم فإذا انقضت المدة غزاهم فجاء رجل على فرس له و هو يقول : الله أكبر وفاء لا غدر فإذا رجل من بني سليم يقال له عمرو بن عنبسة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان بينه و بين قوم عهد فلا يشد عقده فلا يشد عقده و لا يحلها حتى ينقضي أمدها أو ينبذ إليهم على سواء قال : فرجع معاوية بالجيوش

اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابومسلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو ابوالفیض نے جو شیخ تھے بنو عقیل سے اس نے سلیم بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ اور اہل روم کے درمیان کوئی معاہدہ تھا مگر وہ ان سے لڑنے کے لئے تیاری کر کے روانہ ہوگئے یہاں تک کہ جب ان کی سرزمین کے قریب پہنچے تو اس وقت مدت پوری ہوگئی۔لہذا انہوں نے ان سے جہاد شروع کیا۔ چنانچہ ایک آدمی اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا اللہ اکبر معاہدہ پورا کرنا چاہئے دھوکہ نہیں کرنا چاہئے۔ اچھانک دیکھا تو بنی سلیم میں سے تھا اسے عمرو بن عبسہ کہتے تھے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی تھی فرماتے تھے۔ جس کے درمیان اور کسی قوم کے درمیان کوئی معاہدہ ہو وہ نہ تو اس کو سخت کرے اور نہ اس کو توڑے بلکہ مدت پوری ہونے دے ورنہ اس کو بھی اختیار دے۔ کہتے ہیں کہ (یہ حدیث سن کر) حضرت معاویہ اپنے لشکروں کو واپس لے آئے۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← أبي الفيض شيخ من بني عقيل ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4359

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood