شعب الإيمان · الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في العتق ووجه التقرب إلى الله عز و جل · حديث 4335
4335 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسحاق بن الحسن الحربي نا أبو نعيم نا عيسى بن عبد الرحيم حدثني طلحة اليامي عن عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء قال : جاء أعرابي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله علمني عملا يدخلني الجنة قال : لئن كنت أقصرت الخطبة لقد أعرضت المسئلة أعتق النسمة و فك الرقبة قال : أوليستا واحدا ؟ قال : لا عتق النسمة أن تنفرد بعتقها و فك الرقبة في ثمنها و المنحة الوكوف أظنه قال : والفيء على ذي الرحم الظالم فإن لم تطق ذلك فأطعم الجائع واسق الظمآن و أمر بالمعروف و إنه عن المنكر فإن لم تطق ذلك فكف لسانك إلا من خير
ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو ابونعیم نے ان کو عیسیٰ بن عبدالرحیم نے ان کو طلحہ یامی نے ان کو عبد الرحمٰن بن عوسجہ نے ان کو براء نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور بولا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسا عمل سکھا دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آپ نے بات اگرچہ مختصر کی لیکن مسئلہ بہت بڑا دریافت کیا۔ تو غلام کو آزاد کیا کریں اور گردن چھڑایا کریں۔ اعرابی نے پوچھا کہ کیا یہ مذکورہ دونوں چیزیں ایک نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نسمہ کی آزادی یہ ہے کہ تو اکیلے اس کو آزاد کر کے اور گردن چھرانا اس کی قیمت میں ہے اور عطیہ دینا ہے۔ میرا گمان ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ ظالم قرابت دار پر مال فئی خرچ کرنا۔ اگر آپ اس کی طاقت نہ رکھتے تو پھر بھوکے کو کھانا کھلا۔ پیاسے کو پانی پلا اور اچھائی کی تلقین کر اور برائی سے روک۔اگر تو اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو پھر اپنی زبان کو خیر کے سوا ہر بات سے روک دے۔
جاء أعرابي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← الْبَرَاءِ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ ← عيسى بن عبد الرحيم ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Thirty people of faith › And it is a door to manumission and an approach to God Almighty · Hadith 4335
