Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4327

4327 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه نا أحمد بن بشر المرثدي نا خلف بن هشام ح و أخبرنا أبو صالح محمد أبي طاهر العنبري نا جدي يحيى بن منصور القاضي نا أحمد بن سلمة نا حامد بن عمر بن حفص البكراوي و أحمد بن عبده الضبي نا حماد بن زيد أنا أبو حمزة قال : سمعت ابن عباس يقول : قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : يا رسول الله إنا هذا الحي من ربيعه و قد حال بيننا و بينك كفار مضر و لسنا نخلص إليك إلا شهر حرام فمرنا بشيء نأخذ عنك و ندعوا إليه من ورائنا قال : آمركم بأربع و أنهاكم عن أربع الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله و إقامة الصلاة و إيتاء الزكاة و أن تؤدوا خمس ما غنمتم و أنهاكم عن عن الدباء و الحنتم و النقير و المزفت هذا لفظ حديث أحمد بن عبدة رواه مسلم في الصحيح عن خلف بن هشام ورواه البخاري عن مسدد و غيره عن حماد بن زيد و الحكم فيما أمرهم به ثابت و فيما نهاهم عنه من الأدعية منسوخ و هو من مذكور في موضعه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو احمد بن بشر مرثدی نے ان کو خلف بن ہشام نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوصالح بن ابوطاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا نے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو حامد بن عمر بن حفص بکراوی نے اور احمد بن عبدہ ضبی نے ان کوحماد بن زید نے ان کو ابوحمزہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ کے پاس آیا اور وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ بے شک ہم اس قبیلے والے ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر درمیان میں واقع ہیں ہم آپ کی طرف آنے کی خلاصی نہیں پا سکتے مگر حرمت والے مہینوں میں،لہذا آپ (دین کے تعلق سے) ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم فرما دیجئے جسے ہم آپ سے حاصل کریں اور جا کر ان لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں جو ہمارے پیچھے رہ رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں۔ اور چار چیزوں سے آپ لوگوں کو منع کرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں نماز کی پابندی کرنا۔ زکوۃ ادا کرنا۔ اور یہ کہ پانچواں حصہ دو اس کا جو کچھ تم غنیمت لاؤ۔ اور میں منع کرتا ہوں دباء حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے (یہ شراب کے چار طرح کے برتن تھے) شراب کا بڑا مٹکا۔ کدو کا سانچہ۔ لکڑی کا برتن مٹی کا مرتبان جو خاص شراب کے استعمال کے لئے تھے یہ الفاظ حدیث احمد بن عبدہ کے ہیں اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں خلف بن ہشام سے۔ اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے مسدد وغیرہ سے حماد بن زید سے کہ اور جن چیزوں کا ان کو حکم فرمایا تھا وہ حکم ثابت اور برقرار ہے۔ اور جن چیزوں سے ان کومنع کیا تھا برتنوں میں سے وہ منسوخ ہیں اور وہ اپنے مقام پر مذکور ہے۔

قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← حامد بن عمر بن حفص البكراوي و أحمد بن عبده الضبي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو صالح محمد أبي طاهر العنبري ← و، ← خلف بن هشام، ← أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4327

شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4328

4328 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن إسحاق نا عاصم بن علي نا شعبة أخبرني أبو حمزة قال : كان ابن عباس يقعدني على سريره فقال لي : أقم عندي حتى أجعل لك سهما من مالي فأقمت عنده شهرين شهرا مرضت و شهرا صححت فذكر الحديث إلى أن قال : سلوه عن شيء فقال : إن عبد القيس لما أتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من القوم أو من الوفد قالوا : من ربيعة قال : مرحبا بالوفد أو بالقوم غير الخزايا و لا الندامى قالوا : يا رسول الله إنا لا نستطيع أن نأتيك إلا في الشهر الحرام و إن بيننا و بينك هذا الحي من كفار مضر قريش فأخبرنا بأمر فصل و نخبر به من ورائنا و ندخل به الجنة قال : و سلوه عن الأشربة فأمرهم بأربع و نهاهم عن أربع أمرهم بالإيمان بالله و حده قال : تدرون ما الإيمان بالله وحده ؟ قالوا الله و رسوله أعلم قال : شهادة أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و إقامة الصلاة و إيتاء الزكاة و صيام رمضان و أن تعطوا من المغنم الخمس نهاهم عن الختم و الدباء و النقير قال فربما قال المقير أو المزفت قال : احفظوهن و أخبروا بهن من و رائكم أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة قال : و إذا وجب أن يكون أداء الخمس من الإيمان فكذلك أداه كل واحد من الجيش ما يصيبه وحده و احضاره المغنم و جمعه إلى ما أصابه غيره من الإيمان و الغلول فسق و لا يحل لأحد من حمله ما أصاب أو أصابه غيره إلا الطعام و العلف و قد ذكرنا ذلك في كتاب السير و كتاب قسم الفيء و الغنيمة

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو شعبہ نے اور ان کو خبر دی ہے اور ابوحمزہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا کرتے تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرے پاس بیٹھ تا کہ میں اپنے مال میں سے تیرا حصہ نکالوں میں ان کے پاس دو مہینے تک ٹھہرا رہا ایک ماہ تک میں بیمار رہا اور ایک ماہ صحیح رہا۔ پھر اس نے حدیث ذکر کی ہے یہاں تک کہ اس نے کہا پوچھو ان سے کسی شے کے بارے میں۔ انہوں نے کہا۔ کہ بے شک عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ کے پاس آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون لوگ ہو؟ یا یہ کہا کہ کونسا وفد ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا ہم قبیلہ ربیعہ کے لوگ ہیں۔ حضور نے فرمایا؟ خوش آمدید ہو وفد کو۔ یا کہا قوم کو نہ ہی نا کام آئے ہو اور نہ ہی پشیمان۔ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم لوگ آپ کے پاس آنے کی استطاعت نہیں رکھتے مگر حرمت والے مہینے میں بے شک ہمارے اور آپ کے درمیان فلاں قبیلہ ہے کفار مضر کا (قریش) پس ہمیں کسی پکی بات کی خبر دے دیجئے ہم اس کے بارے میں اپنے پچھلوں کو بھی خبر دیں۔اور ہم اس کے ذریعے جنت میں چلے جائیں۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پینے کی چیزوں کے یا پینے کے برتنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو چار چیزوں کا حکم فرمایا اور چار چیزوں سے منع فرمایا، ان کو آپ نے حکم فرمایا۔ اللہ کے ساتھ ایمان لانے کا درآں حالیکہ وہ اکیلا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ اللہ وحدہٗ کے ساتھ ایمان کیا چیز ہے؟ وہ بولے اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز کی پابندی کرنا۔ زکوٰۃ دینا۔ رمضان کے روزے رکھنا۔ اور یہ کہ تم غنیمت کے مال میں پانچواں حصہ دیا کرو۔ اور ان کو منع فرمایا۔ (ان چار قسم کے شراب کے برتنوں میں) دباء تقریر ختم مزفت سے۔ (دباء کدو خشک کر کے اس کا برتن نقیر لکڑی کو گود کر بنا ہوا برتن حنتم شراب کا ہرا کھڑا اور مٹکا مزفت خاص لیپ کیا ہوا۔) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان باتوں کو یاد رکھو اور پچھلوں کو ان کی خبر دو۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے شعبہ کی حدیث سے۔ فرمایا کہ جب یہ واجب ہے کہ خمس اداء کرنا ایمان میں سے ہے تو اسی طرح واجب ہوا ہر ایک پر لشکر میں سے جو اس کو اکیلے حاصل ہوا ہے کہ وہ اس کو لاکر غنیمت میں حاضر کر دے اور جمع کر دے اس مال میں جو دوسروں سے ملا ہے (واجب ہے) کہ یہ بھی ایمان میں سے ہو۔ اور مال غنیمت میں سے کچھ چھپانا فسق ہے کسی ایک کے لئے یہ حلال نہیں ہے جس کو مال حاصل ہو کہ وہ اس میں سے کچھ اٹھا لے سوائے کھانے کی چیزوں کے اور سواری کے چارے کے (کہ اس کی ممانعت نہیں ہے) اور ہم نے اس کو کتاب السیر میں ذکر کیا ہے۔ اور کتاب تقسیم فئی اور تقسیم غنیمت میں۔

أَبُو حَمْزَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4328

شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4329

4329 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا خالد بن عبد الله عن خالد عن عبد الله بن شقيق عن رجل من بلقين عن ابن عم له أنه قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو بوادي القرى فقلت : يا رسول الله بما أمرت ؟ قال : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله و يقيمون الصلاة و يؤتوا الزكاة قلت : من هؤلاء عندك ؟ قال : المغضوب عليهم اليهود و لا الضالين النصارى قلت : ما تقول في هذا المال ؟ قال : لله خمسة و أربعة أخماسه لهؤلاء يعني المسلمين قلت : فهل أحد أحق به من أحد ؟ قال : لا و لو انتزعت سهما من جنبك لم تكن بأحق به من أخيك المسلم

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے اور ابوبکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو خالد بن عبداللہ نے ان کو خالد نے عبداللہ بن شقیق نے، ان کو ایک آدمی نے بلقین سے ان کو ان کے چچا زاد نے کہ اس نے کہا کہ میں حضور کی خدمت میں آیا جب آپ وادی قریٰ میں تھے میں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو کس چیز کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ قتال کرتا رہوں یہاں تک کہ لوگ یہ اقرار کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں آپ کے پاس؟ فرمایا جس پر اللہ کا غضب ہے وہ یہودی ہیں۔ اور گمراہ انصاریٰ ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ اس مال (غنیمت) کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے لئے پانچواں حصہ ہے۔ اور چار اور پانچویں حصے ان لوگوں کے لئے یعنی مسلمانوں کے لئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے اس کا زیادہ حق دار بھی ہے؟ آپ نے فرمایا۔ نہیں اگر آپ کوئی سے حصہ میں سے کچھ حصہ نکال لیں تو تم اس کے لئے اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے زیادہ حقدار نہیں ہو گے۔

ابْنِ عَمٍّ لَهُ،أَنَّهَ ← رجل من بلقين ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4329

شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4330

4330 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر أنا الحسن بن سفيان نا أبو بكر بن أبي شيبة نا عبد الرحمن بن سليمان عن أبي حيان عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم خطيبا و ذكر الغلول فعظمه و عظم أمره ثم قال : أيها الناس لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بعير له رغاء يقول يا رسول الله اغثني فأقول لا أملك لك شيئا قد بلغتك لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته شاة لها ثغاء يقول يا رسول الله أغثني فأقول لا أملك لك شيئا قد بلغت لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بقرة لها خوار يقول : يا رسول الله أغثني فأقول لا أملك لك شيئا قد بلغت و لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته رقاع يقول : يا رسول الله أغثني فأقول : لا أملك لك من الله شيئا قد بلغتك و لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته صامت يقول : يا رسول الله أغثني فأقول لا أملك لك من الله شيئا قد بلغتك و لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته نفس لها صياح يقول يا رسول الله أغثني فأقول لا أملك لك من الله شيئا قد بلغتك رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة و أخرجاه من أوجه أخر عن أبي حيان التيمي

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوعمرو بن ابوجعفر نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابوبکر بن ابی شیبہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن سلیمان نے ان کو ابوحیان نے ان کو ابوزرعہ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور غلول کا یعنی مال غنیمت میں سے چوری کرنے کا ذکر فرمایا۔ اور آپ نے اس کو بہت بڑا گناہ بتایا اور اس کے معاملے کی بڑی رھبت بتائی پھر فرمایا۔ اے لوگو، تم میں سے ایک آدمی ایسا بھی قیامت میں پایا جائے گا کہ وہ جب آئے گا اس کی گردن پر اونٹ لدا ہوا بڑ بڑا رہا ہوگا جو اپنی مخصوص آواز نکال رہا ہوگا۔ اور وہ شخص کہے گا یا رسول اللہ میری فریاد سنئے۔ میں اس کو منع کرتے ہوئے کہوں گا کہ میں تیرے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا میں نے تجھے دنیا میں بات پہنچا دی تھی اور دوسرا ایسا آدمی بھی آئے گا جس کی گردن پر بکری میں میں کر رہی ہوگی وہ کہے گا یا رسول اللہ میری فریاد سنئے میں کہوں گا کہ میں آج تیرے لئے کسی شئی کا مالک نہیں ہوں دنیا میں میں نے تمہیں بات پہنچا دی تھی اور ایک ایسا آدمی بھی آئے جس کی گردن پر گائے بیل چڑھی ہوگی اور وہ بھائیں بھائیں کر رہی ہوگی اور وہ کہے گا یا رسول اللہ میری فریادرسی کیجئے میں کہوں گا کہ میں تیرے لئے کسی شئی کا مالک نہیں ہوں میں نے دنیا میں تجھے بات پہنچا دی تھی ..... اور ضرور ایسا آدمی پایا جائے گا۔ جس کی گردن پر کپڑوں کے ٹکڑے ہوں گے وہ کہے گا یا رسول اللہ میری فریاد سنئے میں کہوں گا کہ میں اللہ کی طرف تیرے لئے کسی شئی کا مالک نہیں ہوں میں نے تجھے حکم پہنچا دیا تھا۔ اور میں ایک تمہارے کو ایسا بھی پاؤں گا جو قیامت میں آئے گا جس کی گردن پر خاموش مال سونا چاندی، وغیرہ ہوگا وہ کہے گا یا رسول اللہ میری فریاد سنئے میں کہوں گا کہ میں آج اللہ کی طرف سے تیرے لئے کسی شئی کا مالک نہیں ہوں میں نے تجھے پہنچا دیا تھا اور ایسا آدمی بھی قیامت میں سامنے آئے گا جس کی گردن پر کوئی دوسرا انسان سوار ہوگا اور وہ چیخ رہا ہوگا۔ وہ مجھے کہیں گے یا رسول اللہ میری فریاد سنئے میں کہوں گا میں اللہ کی طرف سے تیرے لئے کسی شئی کا مالک نہیں ہوں میں نے پیغام پہنچا دیا تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابوبکر بن ابوشیبہ سے۔اور بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے کئی طریقوں سے ابوحیان تیمی سے۔

الغلول فعظمه و عظم أمره ثم ← قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم خطيبا و ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبِي حَيَّانَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4330

شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4331

4331 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا عباس بن الفضل و محمد بن حيان بن راشد نا أبو الوليد ح و أخبرنا الفقيه أبو طالب عمر بن إبراهيم بن سعيد الوقاصي البغدادي بمكة نا أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي قال نا الفضل بن حباب الجمحي نا أبو الوليد الطيالسي نا عكرمة بن عمار حدثني أبو زميل نا ابن عباس حدثني عمر بن الخطاب قال : لما قتل نضر يوم خيبر نادى مناد من أهل خيبر قتل نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا : فلان شهيد و فلان شهيد حتى ذكروا فقالوا فلان شهيد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلا إني رأيته في النار في عباءة غلها أو بردة غلها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا بن الخطاب أذهب فناد في الناس انه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون قال : فذهبت فناديت في الناس أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن عكرمة بن عمار

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عباس بن فضل نے اور محمد بن حیان بن راشد نے ان کو ابوالولید نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے فقیہ ابوطالب عمر بن ابراہیم بن سعید اور قاضی بغدادی نے مکہ میں ان کو ابوبکر احمد بن جعفر بن حمدان قطیعی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے فضل بن حباب جمحی نے ان کو ابوالولید طیالسی نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو ابوزمیل نے ان کو ابن عباس نے ان کو عمر بن خطاب نے وہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر کے دن نضر قتل ہو گیا تو اہل خیبر سے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اصحاب رسول میں سے ایک گروہ قتل ہو گیا ہے۔ بولے فلاں شہید ہے اور فلاں شہید ہے یہاں تک کہ انہوں نے کئی لوگوں کا ذکر کیا کہ فلاں بھی شہید ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہے میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے ایک کمبل کی وجہ سے یا ایک چادر کی وجہ سے جو اس نے مال غنیمت میں سے چرائی تھی۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا۔اے ابن خطاب جاؤ اور جا کر لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ نہیں داخل ہوں گے جنت میں مگر مؤمن ہی فرماتے ہیں کہ میں گیا اور جا کر لوگوں میں یہی اعلان کر دیا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے دوسرے طریق سے عکرمہ بن عمار سے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الفضل بن حباب الْجُمَحِيُّ ← أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي ← الفقيه أبو طالب عمر بن إبراهيم بن سعيد الوقاصي البغدادي ← و، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عباس بن الفضل و محمد بن حيان بن راشد ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4331

شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4332

4332 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبيد الله المنادي نا يزيد بن هارون نا يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن أبي عمرة مولى زيد بن خالد عن زيد بن خالد الجهني : أن رجلا من جهينة توفي بخيبر فذكروه لرسول الله صلى الله عليه و سلم قال : صلوا على صاحبكم فتغير وجوه الناس فلما رأى الذي بهم قال : إن صاحبكم غل في سبيل الله قال ففتشنا متاعه فوجدنا خرزا من خرز اليهود و الله ما يساوي درهمين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبیداللہ منادی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حبان نے ان کو ابوعمرو مولیٰ زید بن خالد نے ان کو زید بن خالد جہنی نے کہ قبیلہ جھینہ کا ایک آدمی خیبر میں وفات پا گیا لوگوں نے رسول اللہ سے اس کا تذکرہ کیا حضور نے فرمایا کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ لوگوں کے چہرے ناگواری سے متغیر ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے محسوس کرنے کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں مال غنیمت میں چوری کی تھی۔ خالد جہنی کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہم نے اس میں یہودیوں کے ہاروں میں سے ایک کوڑیوں کا ہار پایا اللہ کی قسم وہ دو درہم کا بھی نہیں ہو گا۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي عَمْرَةَ، مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4332

شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4333

4333 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أحمد بن عيسى نا ابن وهب ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو حكيم الأنصاري نا ابن وهب أخبرني ابن جريح عن مسدد رجل من آل أبي رافع أخبره عن الفضل بن عبيد الله عن أبي رافع قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى العصر ذهب إلى بني عبد الأشهل فيتحدث عندهم حتى المغرب قال أبو رافع : فبينا النبي صلى الله عليه و سلم يسرع إلى المغرب إذ مر بالبقيع فقال : أف لك أف لك فاستأخرت و ظننت أنه يريدني فقال مالك : امش فقلت : أحدثت حدثا أففت بي ؟ قال : لا و لكن هذا فلان بعثته ساعيا على بني فلان فغل نمرة فدرع الآن مثلها في النار

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو احمد بن عیسیٰ نے ان کو ابن وہب نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابوحکیم انصاری نے ان کو حرملہ نے ان کو ابن وہب نے ان کو ابن جریج نے ان کو مسدد نے آل ابورافع کے ایک جوان سے اس نے خبر دی فضل بن عبیداللہ سے اس نے رافع سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھ لیتے تھے تو نبی عبد الاشہل کی طرف چلے جاتے تھے ان کے ہاں باتیں کرتے رہتے یہاں تک کہ مغرب ہو جاتی ابورافع نے کہا کہ ایک دن اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ مغرب کے لئے آ رہے تھے جب بقیع کے ساتھ گذرے تو فرمانے لگے اُف ہے تیرے لئے اُف نے تیرے لئے تو میں پیچھے ہٹ گیا اور میں نے یہ گمان کیا کہ وہ میرا ارادہ کرتے ہیں اور فرمایا کہ کیا ہوا تجھے چل نا۔ میں نے کہا آپ نے نئی بات کہی ہے مجھے اُف کہی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ یہ فلاں آدمی تھا میں نے اس کو مجھے مال غنیمت ہانکنے کے لئے بھیجا تھا بنی فلاں پر اس نے ایک کپڑا قمیص چرایا تھا۔ وہ اسی وقت اسی کی مثل آگ کا جہنم میں کرتا پہنایا گیا ہے۔

أَبِي رَافِعٍ ← الفضل بن عبيد الله ← مسدد رجل من آل أبي رافع ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أبو حكيم الأنصاري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أحمد بن عيسى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4333

شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4334

4334 - أخبرنا أبو الحسن بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز أنا محمد بن عبد الملك بن مروان نا إسماعيل بن أبان الوراق الكوفي نا محمد بن أبان عن علقمة بن مرئد عن ابن بريدة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الحجر ليزن سبع حلقات فيلقى في جهنم فيهوي فيها سبعين خريفا و يؤتي بالغلول فيلقي معه ثم يكلف صاحبه أن يأتي به قال فهو قول الله : { ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة }

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر محمد بن عمر رزاز نے ان کو محمد بن عبدالملک بن مروان نے ان کو اسماعیل بن ابان الوراق کوفی نے ان کو محمد بن ابان نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو ابن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا۔ بے شک ایک پتھر سات مرتب تولا جائے گا سات حلقوں کے برابر پھر وہ جہنم میں پھینکا جائے گا وہ ستر سال تک اس کی گہرائی میں گرتا رہے گا۔ اور ایک غنیمت چور کو لا کر بھی اسی پتھر کے ساتھ پھینکا جائے گا پھر اس کو کہا جائے گا کہ تم وہ پھر نکال کر جہنم کی تہہ سے لے آؤ۔ فرمایا کہ یہی طلب ہے اس آیت کا کہ: ومن يغلل یأت بما غل يوم القيمة ۔جو شخص مال غنیمت میں چوری کرے گا قیامت کے دن اس چوری کو وہ لے کر آئے گا۔ اعادنا اللّٰه منه و عادنا اللّٰه منه۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← علقمة بن مرئد ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← إسماعيل بن أبان الوراق الكوفي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسن بن بشران

Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4334

All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood