شعب الإيمان · التاسع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في اداء خمس المغنم إلى الإمام أو عامله على الغانمين · حديث 4327
4327 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه نا أحمد بن بشر المرثدي نا خلف بن هشام ح و أخبرنا أبو صالح محمد أبي طاهر العنبري نا جدي يحيى بن منصور القاضي نا أحمد بن سلمة نا حامد بن عمر بن حفص البكراوي و أحمد بن عبده الضبي نا حماد بن زيد أنا أبو حمزة قال : سمعت ابن عباس يقول : قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : يا رسول الله إنا هذا الحي من ربيعه و قد حال بيننا و بينك كفار مضر و لسنا نخلص إليك إلا شهر حرام فمرنا بشيء نأخذ عنك و ندعوا إليه من ورائنا قال : آمركم بأربع و أنهاكم عن أربع الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله و إقامة الصلاة و إيتاء الزكاة و أن تؤدوا خمس ما غنمتم و أنهاكم عن عن الدباء و الحنتم و النقير و المزفت هذا لفظ حديث أحمد بن عبدة رواه مسلم في الصحيح عن خلف بن هشام ورواه البخاري عن مسدد و غيره عن حماد بن زيد و الحكم فيما أمرهم به ثابت و فيما نهاهم عنه من الأدعية منسوخ و هو من مذكور في موضعه
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو احمد بن بشر مرثدی نے ان کو خلف بن ہشام نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوصالح بن ابوطاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا نے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو حامد بن عمر بن حفص بکراوی نے اور احمد بن عبدہ ضبی نے ان کوحماد بن زید نے ان کو ابوحمزہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ کے پاس آیا اور وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ بے شک ہم اس قبیلے والے ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر درمیان میں واقع ہیں ہم آپ کی طرف آنے کی خلاصی نہیں پا سکتے مگر حرمت والے مہینوں میں،لہذا آپ (دین کے تعلق سے) ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم فرما دیجئے جسے ہم آپ سے حاصل کریں اور جا کر ان لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں جو ہمارے پیچھے رہ رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں۔ اور چار چیزوں سے آپ لوگوں کو منع کرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں نماز کی پابندی کرنا۔ زکوۃ ادا کرنا۔ اور یہ کہ پانچواں حصہ دو اس کا جو کچھ تم غنیمت لاؤ۔ اور میں منع کرتا ہوں دباء حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے (یہ شراب کے چار طرح کے برتن تھے) شراب کا بڑا مٹکا۔ کدو کا سانچہ۔ لکڑی کا برتن مٹی کا مرتبان جو خاص شراب کے استعمال کے لئے تھے یہ الفاظ حدیث احمد بن عبدہ کے ہیں اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں خلف بن ہشام سے۔ اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے مسدد وغیرہ سے حماد بن زید سے کہ اور جن چیزوں کا ان کو حکم فرمایا تھا وہ حکم ثابت اور برقرار ہے۔ اور جن چیزوں سے ان کومنع کیا تھا برتنوں میں سے وہ منسوخ ہیں اور وہ اپنے مقام پر مذکور ہے۔
قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← حامد بن عمر بن حفص البكراوي و أحمد بن عبده الضبي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو صالح محمد أبي طاهر العنبري ← و، ← خلف بن هشام، ← أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Twenty-ninth of the people of faith › And it is a chapter in giving one-fifth of the sheep to the imam or his treatment of the looters · Hadith 4327
