شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4320
4320 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا نعيم بن حماد نا ابن المبارك نا السري بن يحيى حدثني العلاء بن هلال الباهلي : أن رجلا من قوم صلة قال لصلة يا أبا الصهباء إني رأيت أني أعطيت شهادة و أعطيت أنت شهادتين فقال صلة خيرا رأيت تستشهد و استشهد أنا و ابني إن شاء الله فلما كان يوم يزيد بن زياد لقيهم الترك بسجستان و كان أول جيش انهزم من المسلمين ذلك الجيش فقال صلة لابنه ارجع إلى أمك فقال ابنه : يا أبتاه تريد الخير لنفسك و تأمرني بالرجعة فأنت و الله كنت خيرا لأمي مني فقال : أما إذ قلت هذا فتقدم فقاتل حتى أصيب قال : فرمى صلة و كان رجلا راميا حتى تفرقوا و أقبل يمشي إليه حتى قام عليه فدعا له ثم قاتل حتى قتل
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو نعیم بن حماد نے ان کو ابن مبارک نے ان کو سری بن یحییٰ نے ان کو علاء بن ہلال باہلی نے کہ صلہ نامی قوم کے ایک آدمی نے اس سے کہا اے ابوصہباء میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں ایک شہادت عطا کیا گیا ہوں اور تم دوشہادتیں عطا کئے گئے ہو۔ صلہ نے جواب دیا کہ۔ اچھا خواب ہے تم اکیلے شہید ہو گے۔اور میں بیٹے سمیت شہید ہو جاؤں گا۔انشاءاللہ جب یزید بن زیاد کا دن آیا تو ان سے ترک ٹکرائے سجستان میں اور مسلمان شکست کھا گئے بہر حال یہ مسلمانوں کا پہلا لشکر تھا جس نے شکست کھائی تھی تو اس وقت صلہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم اپنی ماں کے پاس واپس چلے جاؤ۔ بیٹے نے کہا ابا جان آپ بھلائی صرف اپنے لئے چاہتے ہیں۔ اور مجھے واپسی کا حکم دیتے ہیں حالانکہ اللہ کی قسم آپ میری والدہ کے لئے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں (یعنی ان کو مجھ سے زیادہ آپ کی ضرورت ہے) صلہ نے کہا کہ اچھا جب تم بھی یہی کہتے ہو تو پھر آگے بڑھو لہذا وہ آگے بڑھا اور شہید ہو گیا کہتے ہیں کہ صلہ نے تیراندازی کی وہ ماہر تیرانداز تھا یہاں تک کہ مقابل منتشر ہو گئے لہذا وہ پیدل چلتا ہوا بیٹے کی لاش پر آیا اور اس کے لئے دعا کی اس کے بعد اس نے پھر لڑنا شروع کیا اور لڑتے لڑتے وہ بھی شہید ہو گیا۔
العلاء بن هلال الباهلي أن رجلا من قوم صلة ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 4320
