Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4320

4320 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا نعيم بن حماد نا ابن المبارك نا السري بن يحيى حدثني العلاء بن هلال الباهلي : أن رجلا من قوم صلة قال لصلة يا أبا الصهباء إني رأيت أني أعطيت شهادة و أعطيت أنت شهادتين فقال صلة خيرا رأيت تستشهد و استشهد أنا و ابني إن شاء الله فلما كان يوم يزيد بن زياد لقيهم الترك بسجستان و كان أول جيش انهزم من المسلمين ذلك الجيش فقال صلة لابنه ارجع إلى أمك فقال ابنه : يا أبتاه تريد الخير لنفسك و تأمرني بالرجعة فأنت و الله كنت خيرا لأمي مني فقال : أما إذ قلت هذا فتقدم فقاتل حتى أصيب قال : فرمى صلة و كان رجلا راميا حتى تفرقوا و أقبل يمشي إليه حتى قام عليه فدعا له ثم قاتل حتى قتل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو نعیم بن حماد نے ان کو ابن مبارک نے ان کو سری بن یحییٰ نے ان کو علاء بن ہلال باہلی نے کہ صلہ نامی قوم کے ایک آدمی نے اس سے کہا اے ابوصہباء میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں ایک شہادت عطا کیا گیا ہوں اور تم دوشہادتیں عطا کئے گئے ہو۔ صلہ نے جواب دیا کہ۔ اچھا خواب ہے تم اکیلے شہید ہو گے۔اور میں بیٹے سمیت شہید ہو جاؤں گا۔انشاءاللہ جب یزید بن زیاد کا دن آیا تو ان سے ترک ٹکرائے سجستان میں اور مسلمان شکست کھا گئے بہر حال یہ مسلمانوں کا پہلا لشکر تھا جس نے شکست کھائی تھی تو اس وقت صلہ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم اپنی ماں کے پاس واپس چلے جاؤ۔ بیٹے نے کہا ابا جان آپ بھلائی صرف اپنے لئے چاہتے ہیں۔ اور مجھے واپسی کا حکم دیتے ہیں حالانکہ اللہ کی قسم آپ میری والدہ کے لئے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں (یعنی ان کو مجھ سے زیادہ آپ کی ضرورت ہے) صلہ نے کہا کہ اچھا جب تم بھی یہی کہتے ہو تو پھر آگے بڑھو لہذا وہ آگے بڑھا اور شہید ہو گیا کہتے ہیں کہ صلہ نے تیراندازی کی وہ ماہر تیرانداز تھا یہاں تک کہ مقابل منتشر ہو گئے لہذا وہ پیدل چلتا ہوا بیٹے کی لاش پر آیا اور اس کے لئے دعا کی اس کے بعد اس نے پھر لڑنا شروع کیا اور لڑتے لڑتے وہ بھی شہید ہو گیا۔

العلاء بن هلال الباهلي أن رجلا من قوم صلة ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4320

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4321

4321 - حدثنا أبو محمد بن يوسف املاء قال : أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو داود السجستاني قال قرىء على الحارث بن مسكين و أنا شاهد أخبرك ابن القاسم قال مالك : بلغني أن عبد الوهاب بن بخت خرج إلى الغزو فانبعثت به راحلته فقال : عسى ربي أن يهديني سواء السبيل فاستشهد

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد بن یوسف نے بطور املاء کے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابو دادؤد سجستانی نے وہ کہتے ہیں یہ بات پڑھی گئی تھی حارث بن مسکین کے سامنے اور میں موجود تھا میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ ابن قاسم نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے کہ عبدالوہاب بن بخت جہاد کی طرف نکلا تو ان کی سواری ہلاک ہوگئی انہوں نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے یہ کہا عسٰى ربي ان يهدني سوآء السبيل۔ قریب ہے میرا رب مجھے سیدھے راستے کی رہنمائی کرے گا۔ پھر وہ شہید ہو گیا۔

شاهد أخبرك ابن القاسم ← قرىء على الحارث بن مسكين و ← أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 4321

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4322

4322 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن إسماعيل السكري نا أبو بكر محمد بن إسحاق نا محمد بن المثنى نا عبد الله بن سنان قال : كنت مع ابن مبارك و المعتمر بن سليمان بطرطوس فصاح الناس النفير النفير قال : فخرج ابن المبارك و المعتمر و خرج الناس فلما اصطف المسلمون و العدو خرج رجل من الروم يطلب البراز فخرج إليه مسلم فشد العلج على المسلم فقتل المسلم حتى قتل من المسلمين مبارزة فجعل يتبختر بين الصفين بطلب المبارزة لا يخرج إليه أحد قال : فالتفت إلى ابن المبارك فقال : يا عبد الله إن حدث بي حادث الموت فافعل كذا قال : و حرك دابته و خرج العلج فعالج معه ساعة فقتل العلج ثم طلب المبارزة فخرج إليه علج آخر فقتله حتى قتل ستة من العلوج مبارزة ثم طلب البراز فكأنهم كاعوا عنه فضرب دابته و نظر بين الصفين و غاب فلم أشعر بشيء إذا أنا بابن المبارك في الموضع الذي كان فقال لي يا عبد الله لئن حديث بهذا أحدا و أنا حي فذكر كلمة قال : فما حدثت به أحدا و هو حي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی محمد بن اسماعیل سکری نے ان کو ابوبکر محمد بن اسحٰق نے ان کو محمد بن مثنی نے ان کو عبداللہ بن سنان نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن مبارک اور معتمر بن سلیمان کے ساتھ تھا طرطوس میں تھا اتنے میں لوگوں کے شّر کی آواز سنائی دی النفیر النفیر۔ چلو چلو جہاد کے لئے کوچ کرو نکلو جلدی کرو جہاد کے لئے کہتے ہیں حضرت ابن مبارک اور معتمر جہاد کے لئے نکلے لوگ باہر نکلے جب مسلمانوں اور دشمنوں نے صف بندی کی رومیوں میں سے ایک آدمی نکلا مد مقابل کو ڈھونڈھ رہا تھا چنانچہ ایک مسلمان اس کے مقابلے کے لئے سامنے آیا اس نے مسلمان کے ساتھ سخت مقابلہ کیا اور اس کوقتل کر دیا اور اسی طرح مقابلہ کر کے اس نے بہت سے مسلمانوں کو قتل کر دیا اس کے بعد وہ صفوں میں خوب اکڑنے اور اترانے لگا اور کہنے لگا ہے کوئی تو نکل آئے سامنے لہذا کوئی اس کے مقابل آنے کے لئے تیار نہ ہوا اور وہ ابن مبارک کی طرف متوجہ ہوا اور بولا اے عبداللہ اگر میرے ساتھ موت کا حادثہ ہو جائے تو تم ایسے ایسے کرنا اور اس نے اپنی سواری کی ایڑ ماری اور علج سامنے آیا وہ ایک لحظہ اس کے ساتھ گتھم گھتا رہا اوراس کو بھی اس نے قتل کر دیا اس کے بعد پھر وہ مقابل مانگنے لگا پھر اس کی طرف ایک بہادر نکلا اس کو بھی اس نے قتل کر دیاحتیٰ کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے اس نے چھ بہادرں کو مار دیا مقابلے میں پھر وہ مد مقابل مانگنے لگا گویا کہ گھبرائے تھے لوگ اس سے پھر اس نے سواری کو حرکت دی اور دونوں صفوں کے درمیان وہ دیکھنے لگا پھر وہ غائب ہو گیا۔ میں نے کچھ بھی نہ سمجھا اچھانک میں اس جگہ پر آ گیا جہاں ابن مبارک کھڑے تھے انہوں نے مجھے فرمایا اے عبداللہ (البتہ اگر تم نے) یہ بات کسی کو بیان کر دی اور میں زندہ ہوں( تو تیرے لئے مناسب نہیں ہوگا) پس اس نے ایک کلمہ ذکر کیا کہتے ہیں کہ میں نے وہ کسی کو نہیں بتایا۔ جب تک کہ وہ زندہ تھا۔

عَبْدِ اللهِ بْن سِنَانٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← محمد بن إسماعيل السكري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4322

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4323

4323 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقرىء قالا نا أبو العباس هو الأصم نا الخضر بن أبان نا سيار قال : سمعت مالك بن دينار قال : لما كان يوم الرواية قال عبد الله بن غالب إني لأرى أمرأ مالي عليه صبر روحوا بنا إلى الجنة قال : فكسر جفن و تقدم فقاتل حتى قتل قال : و كان يوجد من قبره ريح المسك قال مالك فانطلقت إلى قبره فأخذت منه ترابا فشممته فوجدت منه ريح المسك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن مقری نے دونوں کو خبر دی ابوالعباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مالک بن دینار سے وہ کہتے ہیں کہ جب یوم راویہ پیش آیا۔ تو عبداللہ بن غالب نے کہا میں ایک معاملہ دیکھ رہا ہوں میں اس پر صبر نہیں کر سکتا چلو ہمارے ساتھ جنت میں۔ کہتے ہیں کہ اس نے میان اور ڈھال توڑ دی اور آگے بڑھا اور سخت مقابلہ کیا حتیٰ کہ شہید ہو گیا کہتے ہیں کہ اس مجاہد (عبد اللہ بن غالب) کی قبر سے کستوری کی خوشبو آتی تھی مالک بن دینار کہتے ہیں کہ میں اس کی قبر پر گیا اور میں نے اس کی مٹی لے کر سونگھی تو واقعی اس میں خوشبو تھی۔

لما كان يوم الرواية ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقرىء

Hadith 4323

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4324

4324 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر محمد بن جعفر المزكي نا محمد بن إبراهيم العبدي نا محبوب بن موسى قال : سمعت علي بن بكار يقول لقد رأيت رجلا ببلاد الروم و إن أمعائه على قربوس سرجه فأدخلها بطنه ثم شد بطنه بعمامة ثم قاتل فقتل بضعة عشر علجا

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر محمد بن جعفر مزکی سے اس نے محمد بن ابراہیم عبدی سے اس نے محبوب بن موسیٰ سے وہ کہتے میں نے سنا علی بن بکار سے وہ کہتے ہیں البتہ تحقیق میں نے بلادروم میں لڑتے ہوئے ایک مجاہد کو دیکھا تھا حالانکہ اس کی آنتیں گھوڑے کے لگام پر لٹک کر پہنچ گئی تھیں اس نے انہیں واپس اپنے پیٹ میں داخل کر تے ہوئے اپنی پگڑی اتارکر پیٹ پر باندھی اور پھر لڑنا شروع کر دیا یہاں تک کہ مزید دس بہادروں کو مار دیا۔

عَلِيُّ بْنُ بَكَّارٍ، ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4324

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4325

4325 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا ابن أبي الدنيا حدثني محمد بن علي بن الحسين حدثني إبراهيم بن شماس قال : سمعت محمد بن الفضيل بن عياض يقول رأيت عبد الله بن المبارك في المنام فقلت أي العمل وجدت أفضل ؟ قال : الأمر الذي كنت فيه قلت الرباط و الجهاد في سبيل الله ؟ قال : نعم قلت : فأي شيء صنع بك ربك فقال غفر لي مغفرة تتبعها مغفرة و كلمتني امرأة من أهل الجنة أو امرأة من الحور العين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن علی بن حسین نے ان کو ابراہیم بن شماس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو دیکھا خواب میں۔تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کون سا عمل افضل پایا؟ انہوں نے بتایا کہ وہی عمل کہ میں جس میں تھا میں نے کہا کہ جہاد کے لئے تیار رہنا اور جہاد فی سبیل اللہ کرنا؟ بولے ہاں وہی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تیرے ساتھ آپ کے رب نے سلوک کیا ہے؟ بولے کہ میرے لئے اس نے مغفرت کر دی ہے ایسی مغفرت کہ جس کے بعد اور مغفرت ہے اور میرے ساتھ اہل جنت کی عورت نے بات چیت کی ہے یا یوں کہا کہ حورالعین میں سے ایک عورت نے۔

نعم قلت فأي شيء صنع بك ربك ← الأمر الذي كنت فيه قلت الرباط و الجهاد في سبيل الله ← رأيت عبد الله بن المبارك في المنام فقلت أي العمل وجدت أفضل ← محمد بن الفضيل بن عياض ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَمَّاسٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4325

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4326

4326 - أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن الخليل الماليني أنا أبو القاسم بكير بن محمد بن بكير نا علي بن يعقوب بن محمد و قال مرة بن إبراهيم نا أبو بكر محمد بن أحمد سميكة حمدوية التميمي قال : سمعت قاسم بن عثمان الجرعي يقول : رأيت في الطواف حول البيت رجلا فتقدمت منه فإذا هو لا يزيد على قوله اللهم قضيت حاجة المحتاجين و حاجتي لم تقض فقلت له مالك لا يزيد على هذا الكلام فقال : أحدثك كنا سبعة رفقاء من بلدان شتى غزونا أرض العدو فاستؤمرنا كلنا فاعتزل بنا لتضرب أعناقنا فنظرت إلى السماء فإذا سبعة أبواب مفتحة عليها سبع حوار من الحور العين على كل باب جارية فقدم رجل منا فضربت عنقه فرأيت جارية في يدها منديل و قد هبطت إلى الأرض حتى ضربت أعناق ستة و بقيت أنا و بقي باب و جارية فلما قدمت لتضرب عنقي استوهبني رجاله فوهبني له فسمعتها تقول : أي شيء فاتك يا محروم و اغلقت الباب و أنا يا أخي متحسر على ما فاتني قال قاسم بن عثمان : أراه أفضلهم لأنه رأى ما لم يروا و ترك يعمل على الشوق

ہمیں خبر دی ہے ابوسعید احمد بن محمد بن خلیل مالینی نے ان کو ابوالقاسم بکیر بن محمد بن بکیران کو علی بن یعقوب بن محمد نے اور کہامرۃ بن ابراہیم نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد سمیکہ حمدویہ تمیمی نے انہوں نے سنا قاسم بن عثمان جرعی سے وہ کہتے میں نے دوران طواف بیت اللہ کے گرد طواف کرتے ایک شخص کو دیکھا میں اس سے آگے بڑھا تو وہ صرف یہ دعا کر رہا تھا۔ اے اللہ اپنے سارے حاجت مندوں کی حاجات پوری کر اور آپ نے میری حاجت پوری نہیں کی۔ بس وہ یہی کہے جا رہا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے آپ صرف یہی کہہ رہے ہیں اور کچھ بھی نہیں مانگ رہے۔ اس نے بولا میں تمہیں بتاتا ہوں ہم لوگ سات دوست تھے۔ جو مختلف شہروں سے تعلق رکھتے تھے ہم نے دشمن کی سر زمین پر جہاد کیا ہم میں سے ہر آدمی گرفتار ہو گیا اور ہمیں قتل کرنے کے لئے علیٰحدہ کر دیا گیا میں نے اچھانک آسمان کی طرف جو نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ سات دروازے کھلے ہوئے ہیں ان میں سے ہر دروازے پر ایک حور منتظر ہے حورالعین میں سے اور ہر دروازے پر ایک خادمہ ہے۔ہم میں سے ایک آیا اور اس کی گردن مار دی گئی اتنے میں میں نے دیکھا کہ وہ خادمہ ہاتھ میں ایک رومال لئے ہوئے اتر آئی ہے زمین پر اسی طرح چھ کی گردن ماری گئی اور یہی منظر جاری رہا اب میں نے دیکھا تو صرف ایک دروازہ اور ایک خادمہ رہ گئی تھی لہذا مجھے قتل کرنے کے لئے جب لایا گیا تو وہاں جو لوگ موجود تھے ان میں سے ایک نے مجھے مانگ لیا کہ یہ بندہ مجھے دے دیا جائے بطور انعام کے لہذا مجھے اس کے حوالے کر دیا گیا اور یوں میں بچ گیا اتنے میں میں نے سنا کہ وہ خادمہ کہ رہی تھی۔اے بد قسمت محروم کیا چیز تجھ سے رہ گئی تھی یا کیا عمل تجھ سے رہ گیا تھا اور میں نے دیکھا تو وہ ایک باقی دروازہ بھی بند ہو چکا تھا اور میں اے بھائی اسی پر حسرت اور افسوس کر رہا ہوں جو چیز مجھ سے رہ گئی جو مجھے نہ مل سکی (اس لئے میں یہی دعا کر رہا ہوں) قاسم بن عثمان نے کہا کہ میں اس کو ان لوگوں میں افضل سمجھتا ہوں کیونکہ اس نے وہ منظر دیکھا جو دوسرے نہ دیکھ سکے اور وہ زندہ اس لئے چھوڑ دیا گیا تھا تا کہ شوق میں مزید عمل کرتا رہے۔

قاسم بن عثمان الجرعي ← أبو بكر محمد بن أحمد سميكة حمدوية التميمي ← مرة بن إبراهيم ← علي بن يعقوب بن محمد و ← أبو القاسم بكير بن محمد بن بكير ← أبو سعيد أحمد بن محمد بن الخليل الماليني

Hadith 4326

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood