Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4308

4308 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا معاوية بن عمرو نا أبو إسحاق عن موسى بن عقبة عن سالم أبي النضر أن عبد الله بن أبي أوفى كتب إليه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تتمنوا لقاء العدو و اسألوا الله العافية فإذا لقيتموهم فاصبروا و اعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن محمد عن معاوية بن عمرو

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابواسحاق نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو سالم ابوالنضر نے ان کو عبداللہ بن ابواوفیٰ نے لکھا اس کی طرف کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم دشمن سے ٹکراؤ کی آرزو نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو لیکن جس وقت تم کفار سے ٹکرا جاؤ تو صبر کرو اور یقین جانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عبداللہ بن محمد سے اس نے معاویہ بن عمرو سے۔

إِلَيْهِ ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4308

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4309

4309 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب نا سليمان بن بلال ح قال : و أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا حسين بن حسن بن مهاجر نا هارون بن سعيد الأيلي أنا ابن وهب عن سليمان بن بلال عن نور عن أبي الغيث عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و اجتنبوا السبع الموبقات قيل : يا رسول الله و ما هن ؟ قال : الشرك بالله و السحر و قتل النفس التي حرم الله إلا بالحق و أكل الربا و أكل مال اليتيم و التولي يوم الزحف و قذف المحصنات الغافلات رواه مسلم في الصحيح عن هارون بن سعيد و أخرجه البخاري عن عبد العزيز الأويسي عن سليمان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب ان کو سلیمان بن بلال نے ’’ح“۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حسین بن حسن بن مہاجر نے ان کو ہارون بن سعید ایلی نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو نور نے ان کو ابوالغیث نے ان کو ابوہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والے اعمال سے بچو۔سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سے ہیں؟ جواب ارشاد فرمایا کہ: ۱..اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ ۲..جادو کرنا۔ ۳.. ایسی جان کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا حرام ہے سوائے اس قتل کے جو حق کے ساتھ ہو۔ ۴..سود کھانا ۔۵..یتیم کا مال کھانا۔ ۶.. جنگ کے دن فرار ہونا۔ ۷.... پاک دامن عورتوں کو تہمت لگانا جو گناہ سے بے خبر ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ہارون بن سعید سے اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے عبدالعزیز اویسی سے اس نے سلیمان سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْغَيْثِ، ← نور ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← حسين بن حسن بن مهاجر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← و، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4309

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4310

4310 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن شيبان الرملي نا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار قال : قال ابن عباس كتب عليهم أن لا يفر عشرون من مائتين ثم قال الآن خفف الله عنكم و علم أن فيكم ضعفا فإن يكن منكم مائة صابرة يغلبوا مائتين فكتب عليهم أن لا يفر مائة من مائتين قال سفيان : لا يجتمع غبار سبيل الله و دخان جهنم في جوف مؤمن قد روينا هذا الملام من وجه آخر مرفوعا إلى النبي صلى الله عليه و سلم و الحديث الذي رويناه عن ابن عباس أخرجه البخاري في الصحيح من حديث ابن عيينة

ہمیں خبر دی ابومحمد جناج بن نذیر بن جناح قاضی نے کوفہ میں ان کو ابوجعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغرزہ نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو علی بن صالح نے ان کو یزید بن ابوزیاد نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک لشکر میں تھا پس لوگوں نے واپسی کی میں بھی ان میں تھا جنہوں نے واپسی کی تھی۔سو ہم لوگوں نے کہا کہ ہم نے اللہ کے غضب کے ساتھ رجوع کر لیا ہے۔ کاش کہ ہم لوگ (واپس نہ آ تے بلکہ) ایک طرف ہو جاتے جہاں ہمیں کوئی بھی نہ دیکھتا۔ اس کے بعد ہم نے کہا کہ ہم مدینے چلیں اور وہاں سے سامان سفر لے آئیں۔لہذا ہم مدینے میں آ گئے۔اور ہم نے کہا کہ ہم اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کریں شاید کہ ہمارے لئے توبہ ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز کے لئے باہر آئے تو ہم لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ہم بھگوڑے ہیں (بھاگ کر آ گئے ہیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؟ (نہیں تم بھگوڑے نہیں ہو) بلکہ تم پلٹ کر مکرر حملہ کرنے والے ہو میں ہر مسلمان کا حامی ہوں۔

عَلَيْهِمْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4310

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4311

4311 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله بن موسى أنا صالح عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن ابن عمر قال : كنت في جيش فحاص الناس حيصة فكنت فيمن حاص فقلنا قد بؤنا من الله بغضب فلو تنحينا فلم يرنا أحد ثم قلنا لو أتينا المدينة فتزودنا منها فأتينا المدينة فقلنا لو عرضنا أنفسنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم لعل لنا توبة فلما خرج إلى الصلاة الغداء فقلنا يا رسول الله نحن الفرارون قال : بل أنتم الكرارون أنا فئة كل مسلم

ہمیں خبر دی ابومحمد جناج بن نذیر بن جناح قاضی نے کوفہ میں ان کو ابوجعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغرزہ نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو علی بن صالح نے ان کو یزید بن ابوزیاد نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک لشکر میں تھا پس لوگوں نے واپسی کی میں بھی ان میں تھا جنہوں نے واپسی کی تھی۔سو ہم لوگوں نے کہا کہ ہم نے اللہ کے غضب کے ساتھ رجوع کر لیا ہے۔ کاش کہ ہم لوگ (واپس نہ آ تے بلکہ) ایک طرف ہو جاتے جہاں ہمیں کوئی بھی نہ دیکھتا۔ اس کے بعد ہم نے کہا کہ ہم مدینے چلیں اور وہاں سے سامان سفر لے آئیں۔لہذا ہم مدینے میں آ گئے۔اور ہم نے کہا کہ ہم اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کریں شاید کہ ہمارے لئے توبہ ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز کے لئے باہر آئے تو ہم لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ہم بھگوڑے ہیں (بھاگ کر آ گئے ہیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؟ (نہیں تم بھگوڑے نہیں ہو) بلکہ تم پلٹ کر مکرر حملہ کرنے والے ہو میں ہر مسلمان کا حامی ہوں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← صَالِحٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4311

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4312

4312 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا الأديب نا الفضل أحمد بن سلمة نا الحسن بن عيسى نا ابن المبارك أنا سعد عن حبيب بن أبي ثابت عن نعيم بن أبي هند قال : قال رجل يوم القادسية اللهم إن تذمه سوداء تذمه يعني امرأته فزوجني اليوم مكانها من الحور العين فمروا عليه و هو معانق فارسا فذكر من عظمه و هو يتلوا هذه الآية : { من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه } حتى أتم الآية فماتا جميعا

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن محمد بن احمد بن زکریا ادیب نے ان کو ابوالفضل احمد بن سلمہ نے ان کو حسن بن یحییٰ نے ان کو ابن مبارک نے ان کو سعد نے ان کو حبیب بن ابوثابت نے ان کو نعیم بن ابوھند نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا جنگ قادسیہ کے دن۔ اے اللہ اگر تو مجھے قبول کرتا (اس عورت کے لئے) ارادہ کر رہے تھے اپنی ہوا کام تو پھر تو مجھے آج اس کی جگہ کسی حور کے ساتھ شادی کے بندھن میں جوڑ دے۔ چنانچہ میدان جنگ میں دیکھا گیا کہ وہ ایک سوار کو گرا کر چڑھے ہوئے تھے اور یہ آیت پڑھ رہے تھے۔ من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهد واللّٰه عليه الخ مؤمنوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا ہے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ سے کیا ہے۔ دیکھا تو دونوں کا انتقال ہو چکا تھا۔

نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سَعْدٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← الفضل أحمد بن سلمة ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا الأديب ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4312

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4313

4313 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة نا جعفر بن محمد بن شاكر نا عفان نا أبو عوانة أنا داود بن عبد الله الأزدي عن حميد بن عبد الرحمن الحميري : أن رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يقال له حممه جاء إلى أصبهان في خلافة عمر فقال : اللهم إن حممه يزعم أنه يحب لقاءك فإن كان حممه صادقا فيما يقول فاعزم له على صدقة و إن كان كاذبا فاعزم له عليه اللهم لا ترد حممه من سفره هذه فأخذه بطنه فمات بأصبهان فقام أبو موسى الأشعري فقال : يا أيها الناس إنا و الله ما سمعنا فيما سمعنا من نبيكم صلى الله عليه و سلم و لا فيما بلغ علمنا إلا أن حممه مات شهيدا

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی سے ان کو ابوسعید احمد بن محمد بن زیاد بصری سے مکہ میں ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو ابوعوانہ نے ان کو داؤد بن عبداللہ ازدی نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہ ایک آدمی اصحاب رسول میں سے تھے اسے حممہ کہتے تھے حضرت عمر کی خلافت میں اصفہان میں گیا۔ اور کہنے لگا اے اللہ بے شک حممہ گمان کرتا ہے کہ وہ تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے اگر حممہ کیا ہے اپنے قول میں تو اس کو اس کی سچائی پر پکا کر دے اور اگر سچا نہیں ہے تو بھی سچائی پر اس کو پکا کر دے۔اے اللہ تو حممہ کو اس سفر سے واپس نہ بھیج۔ چنانچہ اس کو پیٹ کی تکلیف شروع ہوگئی اور وہی اصفہان میں ہی فوت ہو گیا۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعری نے کھڑے ہو کر فرمایا۔ لوگو بے شک ہم نے جو کچھ تمہارے نبی سے سنا ہے اور جہاں تک ہماری معلومات ہیں وہ یہی ہیں کہ حممہ شہید ہے۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← داود بن عبد الله الأزدي ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4313

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4314

4314 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى نا أبو العباس هو الأصم نا الربيع بن سليمان نا أيوب بن سويد عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثني القاسم أبو عبد الرحمن قال : غزونا مع فضالة بن عبيد و لم يغزو فضالة بن عبيد في البر غيرها فبينا نحن نسير أو نسرع في السير و هو أمير الجيش و كانت الولاة إذ ذاك يستمعون ممن استدعاهم الله عليه فقال له قاتل : يا أيها الأمير إن الناس قد فقف حتى يلحقوك فوقف في مرج عليه قلعة فيها حصن فمنا الواقف و منا النازل إذا نحن برجل ذي شوارب حمر بين أظهرنا فأتينا به فضالة فقلنا إن هذا هبط من الحصن بلا عهد و لا عمد فسأله فضالة ما شأنه ؟ فقال : إني البارحة أكلت الخنزير و شربت الخمر فبينا أنا نائم أتاني رجلان غسلا بطني و جاءتني امرأتان لا تفضل أحداهما على الأخرى فقالتا أسلم فأنا مسلم فما كانت كلمة أسرع من أن رمينا فافتل يهودي حتى أصابه فدمر عنقه فقال فضالة : الله أكبر عمل قليلا و أجر كثيرا صلوا على صاحبكم فصلينا ثم دفناه قال القاسم : هذا شيء أنا رأيته قال الشيخ أحمد : و قد وقع من أمثال هذا في عهد النبي صلى الله عليه و سلم و قال في ذلك ما قال فضالة بن عبيد رضي الله عنه و كأنه أخذه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ایوب بن سوید نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے ان کو قاسم ابوعبدالرحمٰن نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے فضالہ بن عبید کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور فضالہ بن عبید نے، خشکی کا یہ پہلا جہاد تھا یکایک ہم چل رہے تھے یا یوں کہا کہ ہم دوڑ رہے تھے اور وہ امیر لشکر تھے۔ اور اس وقت امیر اور حکمراں توجہ سے سنتے تھے ان لوگوں سے جو ان کو اللہ کا واسطہ دے کر استدعا کرتے چنانچہ کسی کہنے والے نے ان سے کہا اے امیر بیشک لوگ کٹ کر پیچھے رہ گئے ہیں آپ رک جائے حتیٰ کہ لوگ آپ سے مل جائیں۔ لہذا وہ رک گئے ایک چراگاہ میں جس کے کنارے پر ایک قلعہ تھا اس میں اور قلعہ مضبوط تھا۔ بعض لوگ ہم میں سے ابھی سواری پر کھڑے تھے اور بعض اتر رہے تھے اچانک ایک سرخ مونچھوں والا آدمی وہاں سے ہمارے سامنے نمودار ہوا ہم اسے حضرت فضالہ کے پاس لے آئے ہم نے کہا کہ یہ شخص قلعے سے بغیر کسی عہد اور معاہدے کے نیچے اتر آیا ہے۔ حضرت فضالہ نے اس سے پوچھا کہ تیرا کیا معاملہ ہے؟ تم قلعے سے بغیر کسی ضمانت کے اور پناہ کے کیسے اور کیونکر اتر آئے ہوں؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے گذشتہ رات خنزیر کھایا تھا اور شراب پی تھی۔ میں سو رہا تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے انہوں نے میرے پیٹ کو دھو دیا ہے اور دو عورتیں آئی ہیں میرے پاس جو کہ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت تھی انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ اب میں مسلمان ہو چکا ہوں۔بس یہی بات چیت جاری تھی کہ اچھانک ہم لوگوں پر قلعے سے تیروں کی بوچھاڑ ہوگئی کسی یہودی نے اسے تیر مارا جو اس کی گردن پر لگا جس نے اس کی گردن توڑ دی۔ حضرت فضالہ نے کہا اللہ اکبر۔ عمل تو اس نے قلیل کیا ہے اور اجر کثیر لے گیا ہے چلو جنازہ پڑھو اپنے ساتھی پر چنانچہ ہم نے اس کا جنازہ پڑھا پھر اس کو اسلامی طریقہ پر دفن بھی کیا۔ قاسم کہتے ہیں کہ یہ ایسی شئی ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ شیخ احمد بیہقی نے فرمایا اس طرح کی کئی مثالیں عہد نبوی میں بھی سامنے آئیں۔اور اس واقعہ میں جو کچھ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے کہا تھا دراصل اس نے نبی کریم کے فرمان سے اخذ کیا تھا جو کہ درج ذیل ہے۔

القاسم أبو عبد الرحمن ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4314

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4315

4315 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إسماعيل بن إسحاق نا عبد الله بن رجا أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل متقنع في الحديد فقال يا رسول الله أقاتل أو أسلم فقال : لا بل أسلم ثم قاتل فاسلم فقاتل ثم قتل فقال : هذا عمل قليلا و أجر كثيرا أخرجناه في الصحيح

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو عبداللہ بن رجاء نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابواسحاق نے ان کو براء نے کہتے ہیں کہ ایک آدمی لوہے میں ڈھکا ہوا اسلحہ پوش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یا رسول اللہ میں پہلے قتال کروں یا اسلام لاؤں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے مسلمان ہو جاؤ اس کے بعد قتال کرو چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔اور لڑنا شروع کر دیا لڑتے لڑتے شہید ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے عمل تو کم کیا ہے مگر اجر کثیر لے گیا ہے۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عبد الله بن رجا ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4315

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4316

4316 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا موسى بن إسماعيل نا حماد أنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن عمرو بن أقيش كان له ربا في الجاهلية فكره أن يسلم حتى يأخذه فجاء يوم أحد فقال أين بنو عمي قالوا بأحد قال : أين فلان قال بأحد قال : أين فلان قالوا بأحد فلبس لامته و ركب فرسه ثم توجه قبلهم فلما رآه المسلمون قالوا إليك عنا يا عمرو فقال إني آمنت فقاتل حتى جرح فحمل إلى أهله جريحا فجاءه سعد بن معاذ قال لأخيه : سألته حمية لقومك أو غضبا لهم أم غضبا لهم أم غضبا لله عز و جل قال : بل غضبا لله و رسوله فمات و دخل الجنة و ما صلى الله صلاة

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو حماد نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ نے کہ عمرو بن اقیش کا جاہلیت میں سود تھا وہ چاہتا تھا کہ پہلے میں سود وصول کر لوں اس کے بعد مسلمان ہو جاؤں جنگ احد کے دن آیا اور اس نے پوچھا کہ میرے چچا زاد کہاں ہیں لوگوں نے کہا کہ میدان احد میں پہنچے ہوئے ہیں۔ بولا فلاں کہاں ہے؟ جواب ملا کہ احد میں ہے۔ پھر پوچھا کہ فلاں کہاں ہے؟ جواب ملا وہ بھی احد میں ہے۔لہذا اس نے بھی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے چچا زادوں کی جانب چل پڑے مسلمانوں نے وہاں جب دیکھا تو پوچھا کہ اے عمرو تم یہاں پر ہماری طرف سے ہو یا دوسری طرف سے بولا کہ میں ایمان لے آیا ہوں چنانچہ اس نے قتال کیا حتیٰ کہ شدید زخمی ہوگیا زخمی حالت میں اپنے گھر والوں کی طرف اٹھا کر لایا گیا۔ حضرت سعد بن معاذ اس کے پاس آئے اور اس کے بھائی سے کہا کہ پوچھا ہے آپ نے اس سے کہ وہ اپنی قوم کی حمیت و غیرت کے لئے لڑے ہیں؟ یا قومی غصے سے لڑے ہیں یا اللہ کے لئے غصے سے اس نے کہا کہ بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے غصے اور غیرت کے لئے لڑے ہیں لہذا وہ فوت ہو گئے اور جنت میں داخل ہو گئے حالانکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے ایک نماز بھی نہیں پڑھی تھی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4316

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4317

4317 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في الجزء الذي وجدته فيه سماعي بخط الشعبي قال أنا أبو جعفر أحمد بن عبيد الحافظ نا إبراهيم بن الحسين نا عبد الله بن أبي بكر العتكي نا ربيعة بن كلثوم بن حر عن زياد بن مخراق عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم مر بخباء أعرابي و هو في أصحابه يردون الغزو فرفع الأاعربي ناحية من الخباء فقال من القوم ؟ فقيل له رسول الله صلى الله عليه و سلم و أصحابه يريدون الغزو فقال : هل من عرض الدنيا يصيبون ؟ قيل له نعم يصيبون الغنائم ثم تقسم بين المسلمين فعمد إلى بكر له فاعتقله و سار معهم فجعل يدنو بكره إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم و جعل أصحابه يذودون بكره عنه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوا لي النجدي فو الذي نفسي بيده إنه لمن ملوك الجنة قال : فلقوا العد فاستشهد فأخبر بذلك النبي صلى الله عليه و سلم فأتاه فقعد عند رأسه مستبشرا أو قال : مسرورا يضحك ثم أعرض عنه فقلنا يا رسول الله رأيناك مستبشرا تضحك ثم أعرضت عنه فقال : أما ما رأيتم من استبشاري أو قال : سروري فلما رأيت من كرامة روحه على الله تعالى و أما اعراضي عنه فإن زوجته من الحور العين الآن عند رأسه

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے۔ اسی جز میں جسے میں نے پایا ہے اس میں جس میں میری مسموعات ہیں شعبی کے خط کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اس کو خبر دی ہے ابوجعفر احمد بن عبید حافظ نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو عبداللہ بن ابوبکر عتکی نے ان کو ربیعہ بن کلثوم بن حر نے ان کو زیادہ بن مخراق نے ان کو ابن عمر نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے خیمے کے پاس سے گزرے اور آپ اپنے اصحاب کے ساتھ جہاد کے ارادے سے جا رہے تھے۔ چنانچہ اعرابی نے خیمے کا کونہ اٹھا کر پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟ اسے بتایا گیا کہ رسول اللہ ہیں اور آپ کے صحابہ کرام ہیں۔ جو کہ جہاد کے لئے نکلے ہیں۔ اس نے پوچھا۔ کیا ان کو اس عمل میں کچھ دنیاوی سامان بھی ہاتھ آئے گا؟ اسے بتایا گیا کہ ہاں غنیمتیں حاصل کریں گے پھر وہ مسلمانوں میں تقسیم کر دی جائیں گی چنانچہ وہ اعرابی اپنے اونٹ کی طرف لوٹا اور اس کے پیر میں رسی ڈالی اور وہ خود مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں چلدیا اس کا اونٹ بار بار رسول اللہ کی طرف قریب ہونے لگا اور صحابہ کرام اس کو آپ سے ہٹانے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو میرے لئے مشقت کر رہا ہے بس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے بے شک وہ جنت کے بادشاہوں میں سے ہے۔ کہتے ہیں جب مسلمان دشمن سے جا کر ٹکرائے تو وہ اعرابی شہید ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں خبر دی گئی آپ اس کے پاس تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھے مگر آپ خوش تھے یا یوں کہا راوی نے کہ خوشی سے ہنسنے لگے۔ پھر اس سے منہ پھر لیا ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے دیکھا کہ آپ خوشی سے اس کو دیکھ کر ہنس رہے تھے پھر اچانک آپ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ آپ نے جواب دیا کہ جو تم نے میری خوشی دیکھی یا کہا کہ جو تم نے میرا خوش ہونا دیکھا وہ تو ایسے تھا کہ میں نے جب اس کی روح کی اللہ کے پاس عزت دیکھی اور میرا منہ پھیر دینا اس وجہ سے تھا کہ بے شک حورالعین میں سے اس کی بیوی اس وقت اس کے سرہانے آ گئی تھی۔

ابْنِ عُمَرَ ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← ربيعة بن كلثوم بن حر ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْعَتَكِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر أحمد بن عبيد الحافظ ← أبو عبد الله الحافظ في الجزء الذي وجدته فيه سماعي بخط الشعبي

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4317

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4318

4318 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو حبيب محمد بن أحمد بن موسى المصاحفي نا سهل بن عمار نا عبيد الله بن موسى نا أبو حمزة الثمالي عن أبي اليقظان عن زاذان عن جرير قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على رواحلنا فرفع له شخص فقال : هذا رجل لا عهد له بالطعام منذ كذا و كذا و إياي يريد فأسرع النبي صلى الله عليه و سلم و أسرعنا معه حتى استقبله فإذا فتى قد انتثرت شفتاه من أكل الثلج فسأله من أين أقبلت فحدثه فقال : و أنا أريد يثرب أريد محمدا لأبايعه قال : فأنا محمد أنا رسول الله قال السلام عليك يا رسول الله صف لي الإسلام قال : أن تشهد أن لا إله إلا الله و إني رسول الله و تقر بما جئت من عند الله قال : أقررته قال : و تقيم الصلاة قال : أقررت قال : و تؤدي الزكاة قال : أقررت قال : و تصوم رمضان قال : أقررت قال : و تحج البيت قال : أقررت ثم انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم قال جرير : وازدحمنا حين أنشأ يصف له الإسلام لننظر إلى أي شيء تنتهي صفته و كنا نهابه أن نسأله ثم انصرف و انصرفنا معه فوقع يد بكره في أذاقيق الجرذان فاندقت عنقه فمات فقالوا قد مات يا رسول الله فأتاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر إليه ثم أعرض عنه بوجهه فقال : احملوه إلى الماء فأمرنا فدفناه فغسلناه و حنطناه ثم قال : احفروا له لحدا و لا تشقوا له اللحد فإن لنا و الشق لأهل الكتاب و جلس على قبره لا يحدثنا بشيء ثم قال : ألا أحدثكم حديث هذا الرجل هذا امرء عمل قليلا و أجر كثيرا هذا ممن قد قال : الله عز و جل : { الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم } إني أعرضت عنه أنفا و ملكان يدسان في شدقه من ثمار الجنة فعرفت أن الرجل كان جائعا

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوحبیب محمد بن احمد بن موسیٰ مصاحفی نے کہ ہم لوگ اپنی اپنی سواریوں پر رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ صحابہ ایک شخص کو حضور کے پاس لے آئے اور عرض کیا یہ ایسا آدمی ہے کہ اتنے اتنے عرصے سے اس نے کچھ نہیں کھایا اور کھانے کا کوئی اس کے پاس انتظام نہیں ہے (اور یہ شاید حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا ہے) حضور نے پوچھا کہ وہ صرف محمد سے ملنا چاہتا ہے؟ چنانچہ نبی کریم جلدی سے اٹھ کھڑے ہوئے صحابہ بھی ساتھ کھڑے ہو گئے حضور آگے بڑھ کر اس کو ملے اس آدمی کے برف کھانے سے ہونٹ پھٹ چکے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے بتایا اور کہا کہ میں یثرب جا رہا ہوں میں محمد سے ملوں گا اور اس کے ہاتھ بیعت اسلام کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بتا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوں میں ہی اللہ کا رسول ہوں۔اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ میرے لئے اسلام کی وضاحت کر دیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تو شہادت دے اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور تم اس کا اقرار کرو جو کچھ میں اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں۔ اس نے فورا کہا کہ میں اقرار کرتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نماز قائم کرو گے اسنے کہا کہ میں اقرار کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم زکوۃ ادا کرو گے۔اس نے کہا کہ میں اقرار کرتا ہوں آپ نے فرمایا کہ تم رمضان کے روزے رکھو گے۔ اس نے کہا کہ میں اقرار کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم حج بیت اللہ کرو گے اس نے کہا میں اقرار کرتا ہوں۔ اس کے بعد رسول اللہ وہاں سے ہٹ گئے۔ جریر کہتے ہیں کہ ہم اس وقت سب جمع ہو گئے تھے حضور جب اس کو اسلام کی وضاحت بتا رہے تھے۔ تا کہ ہم دیکھیں کہ اس کی تفصیل کہاں ختم ہوتی ہے۔ چونکہ ہم براہ راست سوال کرتے ہوئے آپ کا لحاظ کرتے تھے پھر وہ آدمی وہاں سے چل پڑا ہم بھی اس کے ساتھ چل پڑے چنانچہ اس کے اونٹ کا اگلا پاؤں کسی گہری کھائی میں جا گرا جس سے اونٹ گر گیا اور وہ آدمی گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور فوت ہو گیا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ وہ مر گیا۔ حضور اس کے پاس تشریف لائے اور اس کو دیکھا پھر اس سے اپنا منہ پھیر لیا اور فرمایا کہ اس کو پانی کے قریب لے چلو آپ نے ہم لوگوں کو حکم دیا ہم نے اسے دفن کیا ہم نے اسے غسل دی اور خوشبو لگائی پھر حضور نے فرمایا۔ کہ اس کے لئے سیدھی قبر کھود بغلی نہ شق بے شک لحد مسلمانوں کے لئے ہے اور شق اہل کتاب کے لئے ہے دفن کے بعد حضور اس کی قبر پر بیٹھے رہے ہم سے کوئی بات نہیں کر رہے تھے پھر دیر کے بعد فرمایا کیا میں تمہیں اس آدمی کی بات بتاؤں۔ یہ ایسا آدمی ہے جس نے عمل بہت کم کیا ہے اور اجر سارا لے گیا ہے۔ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے اللہ نے فرمایا ہے: الذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو انہوں نے شرک سے آلودہ نہیں کیا۔ میں نے ابھی ہی اس سے منہ پھیر لیا ہے حالانکہ فرشتے اس کی باچھوں میں جنت کے پھل بھر رہے تھے تو میں نے سمجھ لیا ہے کہ بھوکا تھا۔ (اس لئے کر رہے ہیں)۔

جَرِيرٌ ← زَاذَانَ ← أَبِي الْيَقْظَانِ ← أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ← أبو حبيب محمد بن أحمد بن موسى المصاحفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4318

شعب الإيمان · الثامن و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الثبات للعدو و ترك الفرار من الزحف · حديث 4319

4319 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الحسين بن أبي القاسم المذكر يقول سمعت عمر بن أحمد بن علي الجوهري يقول : أخبرني أبي أبو العباس أحمد بن علي الجوهري قال : قال عبده بن عبد الرحيم : خرجنا في سرية إلى أرض الروم فصحبنا شاب لم يكن فينا أقرا القرآن منه و لا أفقه منه و لا أفرض صائم النهار قائم الليل فمررنا بحصن لم نؤمر أن نقف على ذلك الحصن فمال الرجل منا عن العسكر و نزل بقرب الحصن فظننا أنه يبول فنظر إلى امرأة من النصارى تنظر من وراء الحصن فعشقها فقال لها بالرومية كيف السبيل إليك قالت حين تتنصر و نفتح لك الباب و أنا لك قال ففعل فادخل الحصن قال : فقضينا غزاتنا في أشد ما يكون من الغم كان كل رجل منا يرى ذلك بولده من صلبه ثم عدنا في سرية أخرى فمررنا به ينظر من فوق الحصن مع النصارى فقلنا يا فلان ما فعل قراءتك ما فعل علمك ؟ ما فعل صلاتك و صيامك ؟ قال : اعلموا أني نسيت القرآن كله ما أذكر منه إلا هذه الآية { ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين } { ذرهم يأكلوا ويتمتعوا ويلههم الأمل فسوف يعلمون } قال الشيخ أحمد رحمه الله : هكذا يكون حال من تدركه الشقاوة و العياذ بالله و كما تقدم ذكره يكون حال من تدركه السعادة نسأل الله التوفيق و العصمة بفضله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالحسین بن ابوالقاسم واعظ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے عمر بن احمد بن علی جوہری سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے میرے والد نے ان کو ابوالعباس احمد بن علی جوہری نے وہ کہتے ہیں کہ اس کے عبد بن عبدالرحیم نے کہا ہم لوگ ایک جہاد میں نکلے سرزمین روم کی طرف ایک نوجوان ہمارے ساتھ ہوا جس سے اچھا قرآن پڑھنے والا دوسرا کوئی بھی ہم لوگوں میں نہیں تھا۔ اور نہ ہی اس سے زیادہ کوئی دین کی فہم رکھنے والا تھا۔ اور نہ ہی فرائض پر عمل کرنے والا اس سے زیادہ کوئی تھا دن میں روزے سے ہوتا تو رات کو قیام کرتا۔ چنانچہ ہمارا ایک قلعے کے ساتھ گذر ہوا ہمیں اس قلعے کے پاس رکنے کا حکم نہیں ملا تھا ایک آدمی ہم میں سے قلعے کی طرف چلا گیا لشکر سے ہٹ کر اور وہ قلعے کے قریب اتر گیا ہم سمجھے کہ شاید پیشاب کرے گا اس نے ایک عورت کی طرف دیکھا جو نصرانیوں میں سے تھی۔ جو کہ قلعے کے پیچھے سے دیکھ رہی تھی۔ وہ اس پر عاشق ہو گیا اور اسے رومی زبان میں کہا کہ تیری طرف آنے کی کیا سبیل ہے وہ بولی آپ جب عیسائی بن جا ئیں گے تو ہم تیرے لئے درواز کھول دیں گے اور میں تیری ہوں گی کہتے ہیں کہ اس نے ایسا کر لیا لہذا اس کو قلعے میں داخل کر لیا گیا۔ چنانچہ اس بات پر ہمارے غازیوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہم میں سے ہر ایک اس کو ایسے سمجھنے لگا جیسے اس کے حقیقی بیٹے کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہو۔ (ہم واپس ہو گئے) پھر کچھ عرصے کے بعد جب ہم ایک اور جہاد میں دوبارہ گئے تو ہم وہاں سے گذرے وہ ہم لوگوں کو قلعے کے اوپر سے نصرانیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر دیکھ رہا تھا ہم نے کہا اے فلاں کیا بنا تیری قرأت کا؟ کیا ہوا تیرے علم کا؟ تیری نماز کا کیا ہوا تیرے روزے کا کیا حال ہے؟ بولا کہ یقین جانو میں پورا قرآن بھول چکا ہوں مجھے اس میں کچھ بھی یاد نہیں ہے سوائے اس ایک آیت کے: ربما يودالذين كفروا لو كانوا مسلمين ذرهم ياكلوا ويتمتعوا ويلههم الامل فسوف يعلمون. کبھی کبھی کافر بھی یہ چاہتے ہیں کاش کہ وہ مسلمان ہوتے۔ چھوڑیئے ان کو کہ کھا لیں اور نفع اٹھا لیں انہیں جھوٹی امیدوں نے غافل کر دیا ہے عنقریب وہ جان لیں گے۔ شیخ احمد بیہقی فرماتے ہیں کہ: یہی حال ہوتا ہے اس شخص کا جس کو شقاوت اور بدبختی کھیر لیتی ہے اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے آمیں ثم آمین۔ اور اس سے پہلے اس کا حال بھی گذر چکا ہے جس کو سعادت اور نیک بختی پالیتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سعادت کا سوال کرتے ہیں۔ اور توفیق کا اور حفاظت کا محض اس کے فضل سے۔

أبي أبو العباس أحمد بن علي الجوهري ← عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ← أبا الحسين بن أبي القاسم الم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-eighth people of faith › And it is a door to the stability of the enemy and let go from crawling · Hadith 4319

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood