شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9559
9560 - أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني قال : أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : نا أبو قصي الدمشقي قال : نا سليمان بن عبد الرحمن قال : نا سويد بن عبد العزيز قال : نا عثمان بن عطاء الخراساني عن أبيه عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أغلق بابه دون جاره مخافة على أهله و ماله فليس ذاك بمؤمن و ليس بمؤمن من لم يأمن جاره بوائقه أتدري ما حق الجار إذا استعانك أعنته و إذا استقرضك أقرضته و إذا افتقر عدت عليه و إذا مرض عدته و إذا أصابه خير هنأته و إذا أصابته مصيبة عزيته و إذا مات اتبعت جنازته و لا تستطيل عليه بالبناء تحجب عنه الريح إلا بإذنه و لا تؤذيه بقتار قدرك إلا أن تغرف له منها و إن اشتريت فاكهة فاهد له فإن لم تفعل فأدخلها سرا و لا يخرج بها ولدك ليغيظ بها ولده أتدرون ما حق الجار و الذي نفسي بيده ما يبلغ حق الجار إلا قليلا ممن رحم الله فما زال يوصيهم بالجار حتى ظنوا أنه سيورثه ثم قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجيران ثلاثة فمنهم من له ثلاثة حقوق و منهم من له حقان و منهم من له حق فأما الذي له ثلاثة حقوق فالجار المسلم القريب له حق الجار و حق الإسلام و حق القرابة و أما الذي له حقان فالجار المسلم له حق الجوار و حق الإسلام و أما الذي له حق واحد فالجار الكافر له حق الجوار قلنا يا رسول الله نطعمهم من نسكنا ؟ قال لا تطعموا المشركين شيئا من النسك سويد بن عبد العزيز و عثمان بن عطاء و أبوه ضعفاء غير أنهم غير متهمين بالوضع و قد روى بعض هذه الألفاظ من وجه آخر ضعيف
ہمیں خبر دی ابو سعد احمد بن محمد مالینی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو احمد بن عدی حافظ نے وہ کہتے ہیں کہا ابو قصی دمشقی نے وہ کہتے ہیں کہا سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ان کو سوید بن عبدالعزیز نے ان کو عثمان بن عطاء خراسانی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اس نے دادا سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا۔ جس شخص کے اپنی عزت پر اور مال پر ڈر کی وکہ سے کوئی اپنے پڑوسی اے اپنا دروازہ بند کر کے رکھتا ہے ۔ وہ مؤمن نہیں ہے ( جس سے خوف ہے ) اور وہ بھی مؤمن نہیں ہے جس کا پڑوسی اس کی تباہ کاریوں کی وجہ سے محفوظ نہ ہو ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہوتا ہے ؟ جس وقت وہ آپ سے مدد مانگے آپ اس کی مدد کریں اور وہ جب آپ سے قرض مانگے آپ اس کو قرض بھی دیں۔ اور وہ جب فقیر و غریب ہو جائے تو آپ اس کو ضرور پوچھیں اور اس کا خیال کریں اور وہ جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کریں اور اس کو جب اس کو کوئی خیر پہنچے آپ اس کو مبارک بادی دیں۔ اور اس کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو آپ اس کو صبر دلائیں اور افسوس کریں اور جب اس کا انتقال ہو جائے تو ان کے جنازے کے ساتھ جائیں اور ا سکے سامنے اتنی اونچائی نہ بنائیں جس س اس کی ہوا رک جائے ہاں مگر اس کی اجازت کے ساتھ ۔ اور اس کو اپنی ہنڈیاں کی خوشبو سے ایذاء نہ دیں بلکہ اس میں سے اس کے لئے بھی کچھ حصہ نکالیں اور اگر آپ کوئی پھل خرید کریں تو اسکو بھی ہدیہ دیں۔ اور اگر کسی وجہ سے ایسا نہ کر سکیں تو اس سے چھپا کر استعمال کریں۔ بلکہ تیرا بچہ اس کو لے کر باہر نہ نکلے شاید اس کو دیکھ کر اس کے بیٹے کا دل بھی اس کا تقاضا کرے۔ کیا تم جانتے ہو کہ پڑوسی کا حق کیا ہے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے پڑوسی کا حق کو کوئی پورا نہیں کرتا مگر کم لوگ ان میں سے جن پر اللہ رحم کرتا ہے ہمیشہ مجھے وصیت کرتے رہے پڑوسی کے بارے میں حتیٰ کہ سب نے گمان کیا کہ عنقریب اس کو وارث بنا دیں۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کا ایک ہی حق ہوتا ہے بہر حال جن کے تین حقوق ہوتے ہیں وہ پڑوسی ہیں جو مسلمان ہو اور قرابت دار ہو اس کا ایک حق تو پڑوسی ہونے کا ہوتا ہے ۔ دوسرا حق اسلام کا اور تیسرا حق قرابت داری کا۔ اور جن کے دو حقوق ہوتے ہیں وہ وہ پڑوی ہوتے ہیں جو مسلمان ہو۔ اس کا ایک حق پڑوسی ہونے کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اسلام کا اور وہ جس کا صرف ایک حق ہوتا ہے وہ کافر پڑوی ہوتا ہے اس کے لئے صرف پڑوسی کا حق ہوتا ہے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہم ان سب کو اپنی قربانیوں میں سے کھانے کو دیں؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی میں سے مشرکوں کو کچھ بھی کھانے کے لئے نہ دیں۔ سوید بن عبدالعزیز اور عثمان بن عطاء اور ان کا والد سب ضعیف ہیں ہاں مگر حدیث وضع کرنے کی تہمت ان پر نہیں ہے اور اس روایت کے بعض الفاظ ایک دوسرے ضعیف طریقے سے بھی مروی ہے ۔
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو قصي الدمشقي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ
Hadith 9559
