Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9559

9560 - أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني قال : أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : نا أبو قصي الدمشقي قال : نا سليمان بن عبد الرحمن قال : نا سويد بن عبد العزيز قال : نا عثمان بن عطاء الخراساني عن أبيه عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أغلق بابه دون جاره مخافة على أهله و ماله فليس ذاك بمؤمن و ليس بمؤمن من لم يأمن جاره بوائقه أتدري ما حق الجار إذا استعانك أعنته و إذا استقرضك أقرضته و إذا افتقر عدت عليه و إذا مرض عدته و إذا أصابه خير هنأته و إذا أصابته مصيبة عزيته و إذا مات اتبعت جنازته و لا تستطيل عليه بالبناء تحجب عنه الريح إلا بإذنه و لا تؤذيه بقتار قدرك إلا أن تغرف له منها و إن اشتريت فاكهة فاهد له فإن لم تفعل فأدخلها سرا و لا يخرج بها ولدك ليغيظ بها ولده أتدرون ما حق الجار و الذي نفسي بيده ما يبلغ حق الجار إلا قليلا ممن رحم الله فما زال يوصيهم بالجار حتى ظنوا أنه سيورثه ثم قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجيران ثلاثة فمنهم من له ثلاثة حقوق و منهم من له حقان و منهم من له حق فأما الذي له ثلاثة حقوق فالجار المسلم القريب له حق الجار و حق الإسلام و حق القرابة و أما الذي له حقان فالجار المسلم له حق الجوار و حق الإسلام و أما الذي له حق واحد فالجار الكافر له حق الجوار قلنا يا رسول الله نطعمهم من نسكنا ؟ قال لا تطعموا المشركين شيئا من النسك سويد بن عبد العزيز و عثمان بن عطاء و أبوه ضعفاء غير أنهم غير متهمين بالوضع و قد روى بعض هذه الألفاظ من وجه آخر ضعيف

ہمیں خبر دی ابو سعد احمد بن محمد مالینی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو احمد بن عدی حافظ نے وہ کہتے ہیں کہا ابو قصی دمشقی نے وہ کہتے ہیں کہا سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ان کو سوید بن عبدالعزیز نے ان کو عثمان بن عطاء خراسانی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اس نے دادا سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا۔ جس شخص کے اپنی عزت پر اور مال پر ڈر کی وکہ سے کوئی اپنے پڑوسی اے اپنا دروازہ بند کر کے رکھتا ہے ۔ وہ مؤمن نہیں ہے ( جس سے خوف ہے ) اور وہ بھی مؤمن نہیں ہے جس کا پڑوسی اس کی تباہ کاریوں کی وجہ سے محفوظ نہ ہو ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہوتا ہے ؟ جس وقت وہ آپ سے مدد مانگے آپ اس کی مدد کریں اور وہ جب آپ سے قرض مانگے آپ اس کو قرض بھی دیں۔ اور وہ جب فقیر و غریب ہو جائے تو آپ اس کو ضرور پوچھیں اور اس کا خیال کریں اور وہ جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کریں اور اس کو جب اس کو کوئی خیر پہنچے آپ اس کو مبارک بادی دیں۔ اور اس کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو آپ اس کو صبر دلائیں اور افسوس کریں اور جب اس کا انتقال ہو جائے تو ان کے جنازے کے ساتھ جائیں اور ا سکے سامنے اتنی اونچائی نہ بنائیں جس س اس کی ہوا رک جائے ہاں مگر اس کی اجازت کے ساتھ ۔ اور اس کو اپنی ہنڈیاں کی خوشبو سے ایذاء نہ دیں بلکہ اس میں سے اس کے لئے بھی کچھ حصہ نکالیں اور اگر آپ کوئی پھل خرید کریں تو اسکو بھی ہدیہ دیں۔ اور اگر کسی وجہ سے ایسا نہ کر سکیں تو اس سے چھپا کر استعمال کریں۔ بلکہ تیرا بچہ اس کو لے کر باہر نہ نکلے شاید اس کو دیکھ کر اس کے بیٹے کا دل بھی اس کا تقاضا کرے۔ کیا تم جانتے ہو کہ پڑوسی کا حق کیا ہے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے پڑوسی کا حق کو کوئی پورا نہیں کرتا مگر کم لوگ ان میں سے جن پر اللہ رحم کرتا ہے ہمیشہ مجھے وصیت کرتے رہے پڑوسی کے بارے میں حتیٰ کہ سب نے گمان کیا کہ عنقریب اس کو وارث بنا دیں۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کا ایک ہی حق ہوتا ہے بہر حال جن کے تین حقوق ہوتے ہیں وہ پڑوسی ہیں جو مسلمان ہو اور قرابت دار ہو اس کا ایک حق تو پڑوسی ہونے کا ہوتا ہے ۔ دوسرا حق اسلام کا اور تیسرا حق قرابت داری کا۔ اور جن کے دو حقوق ہوتے ہیں وہ وہ پڑوی ہوتے ہیں جو مسلمان ہو۔ اس کا ایک حق پڑوسی ہونے کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اسلام کا اور وہ جس کا صرف ایک حق ہوتا ہے وہ کافر پڑوی ہوتا ہے اس کے لئے صرف پڑوسی کا حق ہوتا ہے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہم ان سب کو اپنی قربانیوں میں سے کھانے کو دیں؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی میں سے مشرکوں کو کچھ بھی کھانے کے لئے نہ دیں۔ سوید بن عبدالعزیز اور عثمان بن عطاء اور ان کا والد سب ضعیف ہیں ہاں مگر حدیث وضع کرنے کی تہمت ان پر نہیں ہے اور اس روایت کے بعض الفاظ ایک دوسرے ضعیف طریقے سے بھی مروی ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو قصي الدمشقي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 9559

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9560

9561 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن درستويه الفارسي قال : نا عتبة الحمصي قال : نا إسماعيل و هو ابن عياش عن أبي بكر الهذلي عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قلت يا رسول الله و ما حق جاري علي ؟ قال : إن مرض عدته و إن مات شيعته و إن استقرضك أقرضته و إن عرى سترته و إن أصابه خير هنأته و إن أصابته مصيبة عزيته و لا ترفع بناءك فوق بنائه فتسد عليه الريح و لا تؤذه بريح قدرك و لا تغرف له منها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن جعفر بن درستویہ فارسی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عتبہ حمصی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسماعیل نے ابو بکر ہزلی سے اس نے بہنر بن حکیم سے اس نے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر وہ بیمار ہو جائے تو آپ اس کی عیادت کریں۔ اور اگر وہ مر جائے تو آپ اس کو دفن کرنے کے لئے ساتھ جائیں۔ اور اگر وہ آپ سے ادھار مانگے تو اس کو ادھار دیں اور اگ وہ کوئی عیب غلطی کرے تو آپ اس پر پردہ ڈالیں اور اگر اس کو کوئی بھلائی ملے تو اس کو مبارک بادی دیں اور اگر اسکو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کریں اور اپنی عمارت کو اس کی عمارت سے اونچا نہ کریں کہ اس کی ہوارک جائے اور اپنی ہنڈیا کی خوشبو سے اس کو ایذاء نہ دو کہ اس میں سے اس کو سالن ہی نہ دو۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، ← إسماعيل و هو ابن عياش ← عتبة الحمصي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9560

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9561

9562 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قال : نا بشر بن موسى قال : نا الحميدي قال : نا سفيان قال : نا بشير بن سليمان أبو إسماعيل عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو : أنه كان له جار يهودي و كان إذا ذبح الشاة قال : احملوا إلى جارنا منها فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو بشربن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو بشربن سلیمان ابو اسماعیل نے مجاہد سے ا س نے عبداللہ بن عمرو سے کہ ان کا ایک یہودی پڑوسی تھا۔ وہ جب بکری ذبح کرتے تھے تو فرماتے تھے کہ ہمارے پڑوی کا حصہ اس میں سے نکال کر دو بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ۔ جبرائیل بار بار مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کر لیا کہ عنقریب وہ اس کو وارث بھی ٹھہرادیں گے۔

مُجَاهِدٍ ← بشير بن سليمان أبو إسماعيل ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9561

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9562

9563 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ قال : نا جامع بن أبي حامد المقري قال : كنا ناتي عبد الله بن عمر فيسقينا لبنا حارا فأتيناه يوما فسقانا لبنا باردا قال : قلنا له : تسقينا لبنا حارا فما لك سقيتنا لبنا باردا ؟ قال : إن في الغنم كلبا فتنحيت عنها قال : و غلام له يسلخ شاة فقال : إذا فرغت فابدأ بجارنا اليهودي ثم حدث قليلا ثم قال : إذا فرغت فابدأ بجارنا اليهودي قال : قلنا : كم تذكر اليهودي قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوصينا بالجار حتى ظننا أنه سيورثه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو جامع بن ابو حامد مقری نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس آتے تھے وہ ہمیں گرم گرم دودھ پلاتے تھے حسب عادت ایک روز ہم ان کے پاس آئے تو انہوں نے ہمیں ٹھنڈا دودھ پلایا۔ لہذا ہم نے ان سے کہا کہ ہمیشہ آپ ہمیں گرم دودھ پلاتے تھے کیا ہوا آپ نے ہمیں اب ٹھنڈا دودھ پلایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ بکریوں میں حفاظتی کتا رکھا ہوا تھا میں ان سے ایک طرف ہو جاتا تھا ان کا ایک غلام تھا جو کہ بکری کی کھال اتار رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا جب کھال اتار کر فارغ ہو جاؤ تو ہمارے یہودی پڑوسی کو کوئی گوشت پہلے دینا اس کے بعد انہوں نے تھوری سی بات کی یا کہا مختصرسی بات کی ۔ اس کے بعد پھر انہوں نے کہا کہ جب تم فارغ ہو جاؤ تو پہلے ہمارے یہودی پڑوسی کو پہلے گوشت دو ہم لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے یہودی کا کتنا تذکرہ کریں گے فرمایا کہ رسول اللہﷺ ہمیں پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ اس کو وارث بنا دیں گے ۔

جامع بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 9562

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9563

9564 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز قال : أنا حنبل بن إسحاق قال : نا الفضل بن دكين قال : نا بشير بن مهاجر عن مجاهد قال : كنا جلوسا عند عبد الله بن عمرو بن العاص و غلامه يسلخ شاة فقال : لغلامه يا غلام إذا فرغت فابدأ بجارنا اليهودي حتى قالها ثلاثا فقال : رجل من القوم كم تذكر اليهودي أصلحك الله قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوصي بالجار حتى ظننا أو رأينا أنه سيورثه كذا قال : بشير بن مهاجر و هو غير بشير بن سليمان و أظنه خطأ فقد رواه البخاري في الأفراد عن أبي نعيم و قال : بشير بن سليمان

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے ابو جعفر محمد بن عمرو زاز نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی حنبل بن اسحٰق نے ان کو فضل بن دکین نے ان کو بشر بن مہاجر نے مجاہد سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور انکالڑکا کا بکری ک کھال اتار رہا تھا انہوں نے لڑکے سے کہا اے لڑکے جب تم فارغ ہو جاؤ تو پہلے پہلے ہمارے یہودی پڑوسی سے گوشت دینے کی ابتدا کرنا یہاں تک کہ انہوں نے یہ بات تین بار کہی لہٰذا لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ آپ کی اصلاح فرمائے آپ کتنا یہودی کو یاد کریں گے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا کہ وہ پڑوسی کے بارے میں وصیت فرماتے تھے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اور ہم نے دیکھا کہ وہ عنقریب اس کو وارث ٹھہرا دیں گے ۔ اسی طرح کہا بشر بن مہاجر نے مگر وہ بشر بن سلیمان سے الگ ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ غلط ہے۔ بخاری نے اسکو روایت کیا ہے ۔ افراد میں ابو نعیم سے اور انہوں نے کہا بشر بن سلیمان ۔

مُجَاهِدٍ ← بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9563

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9564

9565 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا محمد بن صالح الوراق قال : نا أحمد بن محمد بن نصير قال : نا أبو نعيم قال : نا بشر بن سليمان عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه و كذلك رواه عثمان بن عمرو محمد بن سابق عن بشير بن سلمان وقد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح وراق نے ان کو احمد بن محمد بن نصیر نے ان کو ابو نعیم نے ان کو بشر بن سلیمان نے ان کو مجاہد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے نبی کریم ﷺ سے مذکور کی مثل روایت کیا ہے اور اسی طرح روایت کیا ہے عثمان بن عمرو محمد بن اسحاق بشر بن سلیمان سے ۔

بشير بن سلمان وقد ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← بشر بن سليمان ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أحمد بن محمد بن نصير، ← محمد بن صالح الوراق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 9564

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9565

9566 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا عبد الله بن محمد الصيدلاني قال : نا محمد بن أيوب قال : أخبرني أحمد بن منصور المروزي قال : نا عبد العزيز بن أبي أيوب قال : نا بشير بن إسماعيل عن عبد الله بن أبي المجالد عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه و قد قيل في هذا الإسناد عن مجاهد عن عائشة و قيل عن مجاهد عن أبي هريرة و هو الثاني و العشرون من الأمالي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد صیدلانی نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو خبر دی احمد بن منصو مروزی نے ان کو عبدالعزیز بن ابو رزمہ نے ان کو بشر بن اسماعیل نے ان کو عبداللہ بن ابو المجاہد نے ان کو مجاہد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے نبی کریم ﷺ سے مذکور کی مثل اور تحقیق کہا گیا ہے اس اسناد میں کہ مروی ہے مجاہد سے اس نے حضرت عائشہ سے ۔ اور یوں بھی کہا گیا ہے کہ مروی ہے مجاہد سے اس نے ابو ہریرہ سے اور یہ امالی میں بائیس نمبر پر ہے۔

أبي هريرة و هو الثاني و العشرون من الأمالي ← مُجَاهِدٍ ← عائشة و قيل ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، ← بَشِيرِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ← عبد العزيز بن أبي أيوب ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9565

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9566

9567 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو العباس قاسم بن القاسم السياري بمرو قال : نا محمد بن موسى بن حاتم قال : نا علي بن الحسن بن شقيق قال : نا الحسين بن واقد قال : نا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله دلني على عمل إذا عملت به دخلت الجنة ؟ قال : كن محسنا قال : كيف أعلم أني محسن ؟ قال : سل جيرانك فإن قالوا إنك محسن فإنك محسن و إن قالوا إنك مسيء فأنت مسيء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس القاسم بن قاسم سبار نے مرو میں ان کو محمد بن موسیٰ بن حآتم نے ان کو خبر دی علی بن حسن بن شفیق نے ان کو احسن بن واقد نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میںا سکا عمل کروں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ فرمایا کہ آپ محسن بن جاؤ انہوں نے پوچھا کہ میں کیسے جانوں کہ میں محسن ہوں؟ فرمایا کہ آپ اپنے پڑوسیوں سے پوچھیں۔ اگر وہ آپ کو محسن کہیں تو بجا طور پر آپ محسن ہیں یعنی نیکو کار ہیں اور اگر وہ آپ کو کہیں کہ آپ خطا کار ہیں تو سمجھے کہ واقعی آپ خطا کار ہیں۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← محمد بن موسى بن حاتم ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9566

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9567

9568 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ قال : نا محمد بن صالح بن هانىء قال : نا إبراهيم بن إسماعيل العنبري و تميم بن أحمد قالا : نا محمد بن أسلم العابد قال : نا مؤمل بن إسماعيل قال : نا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يموت فيشهد له أربعة من أهل أبيات جيرانه الأدنين أنهم لا يعلمون إلا خيرا إلا قال الله عز و جل : قد قبلت قولكم أو قال : شهادتكم و غفرت له ما لا تعلمون

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی ان کو ابراہیم بن اسماعیل عنبری نے اور تمیم بن احمد نے ان دونوں کو محمد بن اسلم عابد نے ان کو مؤمل بن اسماعیل نے ان کو حماد بن سلمہ ن ان کو ثابت نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو مسلمان مر جائے اور اس کے پڑوس کے چار لوگ گواہی دے دیں کہ ہم اس کے بارے میں خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے تم لوگوں کا قول قبول کر لیا ہے یا فرمایا تھا کہ تم لوگوں کی شہادت قبول کر لی ہے اور اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے ہیں جو تم نہیں جانتے تھے ۔ یعنی صرف میں ہی جانتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَابِدُ، ← إبراهيم بن إسماعيل العنبري و تميم بن أحمد ← محمد بن صالح بن هانىء ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9567

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في مراعاة حق الرفيق · حديث 9568

9569 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان قال : أنا عبد الله بن جعفر قال : نا يعقوب بن سفيان قال : نا أبو نعيم عبد الرحمن بن هانىء النخعي قال : نا عبد الله بن المؤمل عن عبد الله بن أبي مليكة قال : قيل لابن عباس من أكرم الناس عليك ؟ قال : جليسي الذي يتخطى الناس حتى يجلس إلي لو استطعت أن لا يقع الذباب على وجهه لفعلت

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو نعیم عبدالرحمٰن بن ہانی نخعی نے انکو عبداللہ بن مؤمل نے ان کو عبداللہ بن مؤمل نے ان کو عبداللہ بن ابو ملیکہ نے وہ کہتے ہیں حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا آپ کے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ عزت کا مستحق کون ہے ۔ میرا وہ ساتھی جو لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آئے اور میرے پاس بیٹھے ۔ اگر میرا بس چلے تو میں اس کے چہرے پر مکھی کو بھی نہ بیٹھنے دوں۔

قيل لابن عباس من أكرم الناس عليك ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَؤَمَّلِ ← أبو نعيم عبد الرحمن بن هانىء النخعي ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 9568

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في مراعاة حق الرفيق · حديث 9569

9570 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس هو الأصم قال : نا سعيد بن عثمان التنوخي قال : نا محمد بن ثمال قال : نا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال : قال عبد الله بن العباس ثلاثة لا يكافئهم عني إلا رب العالمين رجل فسح لي في مجلسه و رجل تخطى الخلق و المجالس حتى جلس إلي و رجل ذكر في الليل حاجته فرآني أهلا لذلك لا يكافئه عني إلا رب العالمين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو سعید بن عثمان تنوخی نے ان کو محمد بنثمالی نے ان کو عبدالرزاق نے معمر سے اس نے زہری سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن کو میری طرف سے اللہ تعالیٰ ان کے احسان کا بدلہ دے گا ایک تو وہ شخص جو میرے لئے مجلس میں جگہ کشادہ کرتا ہے دوسرا وہآدمی جو لوگوں کر گردنیں پھلانگ کر مجالس کو چیرتا ہوا آکر میرے پاس بیٹھتا ہے تیسرا وہ آدمی وہ جو رات کے وقت اپنی حاجت کو یاد کرتا ہے اور پھر اس حاجت پور اکرنے کا مجھے اہل سمجھتا ہے اور وہ حاجت لے کر میرے پاس آتا ہے آپ کو بھی میری طرف سے رب العالمین احسان کا بدلہ عطا کرے گا۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن ثمال ← سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 9569

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في مراعاة حق الرفيق · حديث 9570

9571 - أخبرنا أبو محمد السكر ببغداد قال : أنا أبو بكر الشافعي قال : نا جعفر بن محمد بن الأزهر قال : نا المفضل بن غسان الغلابي قال : أنا أبي عن بشر بن المفضل بن لاحق عن أيوب السختياني : إن رجلا صحبه إلى مكة فاشتكى الرجل في بعض الطريق فأقام عليه أيوب حتى برأ و قال : أردت أن أدع الحج و أجعلها عمرة

ہمیں خبر دی ابو محمد سکر نے بغداد میں ان کو ابو بکر شافعی نے ان کو جعفر بن محمد بن ازہر نے ان کو مفضل بن غسان غلابی نے ان کو خبر دی ان کے والد نے بشر بن مفضل بن لاحق سے اس کو ایوب سختیانی نے کہ ایک آدمی مکے کا سفر کرتے ہوئے ان کا ہم سفر بنا دوں ان سفر وہ شخص بیمار ہو گیا۔ ایوب سختیانی نے رک کر اس کی تیمار داری کی اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ اور کہنے لگے کہ میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ میں حج کو چھوڑ دوں اور اس کو عمرہ سے بدل لوں۔

بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لَاحِقٍ ← أَبِي ← الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ← أبو محمد السكر

Hadith 9570

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood