Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9547

9548 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة قال : أنا أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج قال : نا عبد الله بن عثام بن حفص بن غياث بن حكم الأودي قال : أنا شريك عن أبي عمر عن أبي جحيفة قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو جاره فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اطرح متاعك على الطريق أو في الطريق فطرحه فجعل الناس يمرون عليه يلعنونه فجاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما لقيت من الناس قال : و ما لقيت منهم ؟ قال : يلعنوني قال : فقد لعنك الله عز و جل قبل الناس قال : فإني لا أعود أبدا يا رسول الله قال : فجاء الذي شكى إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ارفع متاعك فقد أمنت أو كفيت و قال : غيره عن علي بن حكيم أن لعنة الله فوق لعنتهم

ہمیں خبر دی ابو نصر عمر بن عبدالعزیز بن عمر بن قتادہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسن بن اسماعیل سراج نے اس نے کہا کہ ہمیں خبر دی عبداللہ بن عثام بن حفص بن غیاث سے اس نے علی بن حکیم اودی سے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی شریک نے انکو ابو عمر نے ابو جیفہ سے وہ کہتے ہیں ایک ادمی حضور ﷺ سے اپنے پڑوسی کی شکایت کرنے آیا تو حضور ﷺ نے اس کو حکم دا کہ اپنا سامان راستے پر رکھ دو یا یوں فرمایا راستے میں رکھ دو لوگ گذرتے ہوئے اس کے پڑوسی کو لعنت کرنے لگے جب بھی گذرتے ۔ چنانچہ وہ پڑوسی خود حضور ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ لوگ مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں۔ فرمایا کیا تکلیف دیتے ہیں؟ عرض کیا کہ لوگ مجھ کو لعنت دیتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تہیں لوگوں سے پہلے ہی لعنت کر چکا ہے ۔ چنانچہ اس شخص ن ے کہا کہ میں کبھی بھی دوبارہ تکلیف نہیں پہنچاؤں گا یا رسول اللہ لہٰذا جب شکایت کرنے والا حضور ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : اب تو سامان راستے سے اٹھا لے اب تو محفوظ ہو چکا ہے اور اس کے علاوہ دیگر نے کہا کہ مروی ہے علی بن حکیم سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت سب لوگوں کی لعنت کے علاوہ ہے ۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو جاره ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← أَبِي عُمَرَ، ← شَرِيکٍ ← عبد الله بن عثام بن حفص بن غياث بن حكم الأودي ← أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ← أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ،

Hadith 9547

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9548

9549 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أحمد بن محمد العنبري قال : نا عثمان بن سعيد الدارمي قال : نا مسلم بن إبراهيم قال : نا الأسود بن شيبان السدوسي عن يزيد بن عبد الله بن الشخير أبي العلاء عن مطرف بن عبد الله قال : كان يبلغني عن أبي ذر حديث و كنت أشتهي لقاءه فلقيته فقلت له : يا أبا ذر كان يبلغني عنك حديث و كنت أشتهي لقاءك قال : لله أبوك فلقد لقيتني قال : قلت : حديث بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثك قال : إن الله يحب ثلاثة و يبغض ثلاثة قال : فلا أخالني أكذب على خليلي فلا أخالني أكذب على خليلي فلا أخالني أكذب خليلي قال : قلت من هؤلاء الذين يحبهم الله عز و جل ؟ قال : رجل غزا في سبيل الله صابرا محتسبا مجاهدا فلقي العدو فقاتل حتى قتل و أنتم تجدونه عندكم في كتاب الله المنزل ثم قرأ هذه الآية { إن الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفا كأنهم بنيان مرصوص } قلت و من ؟ قال : رجل له جار سوء يؤذيه فيصبر على أذاه حتى يكفيه الله إما بحياة و إما بموت قلت : و من قال : رجل سافر مع قوم فأدلجوا حتى إذا كان من آخر الليل وقع عليهم الكرى و هو النعاس فضربوا رؤوسهم ثم قام فتطهر رهبة لله و رغبة فيما عنده قلت : فمن الثلاثة الذين يبغضهم الله ؟ قال : المختال الفخور و انتم تجدونه في كتاب الله { إن الله لا يحب كل مختال فخور } قال و من ؟ قال : البخيل المنان قال و من ؟ قال : التاجر الحلاف أو البائع الحلاف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی احمد بن محمد عنبری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی عثمان بن سعید دارمی نے ان کو خبر دی مسلم بن ابراہیم نے ان کو اسود بن شیبان سدوسی نے ان کو یزید بنعبداللہ بن شخیر نے ان کو ابو العلاء نے انکو مطرف بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ذر سے کوئی نہ کوئی حدیث پہنچتی رہتی تھی اور میں ان سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتا تھا ۔ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے والدکو نیکی آپ کی ملاقات مجھ سے ہو ہی گئی ہے ۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے کہآپ کو رسول اللہﷺ نے کوئی حدیث بیان فرمائی تھی انہوں نے فرمایا کہ ہاں آپ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں سے محبت کرتے ہیں اور تین سے نفرت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے مہلت نہدے کہ میں اپنے خلیل پر جھوٹ بولوں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق ہی نہ دے کہ میں اپنے محبوب پر جھوٹ باندھوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ہمت ہی نہدے کہ یں اپنے دوست پر جھوٹ بولوں۔ میں نے پوچدھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو اللہ محبوب رکھتا ہے فرمایا کہ ایک تو وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں ج ہاد کرے صبر کرنے الا۔ اجر و ثواب کی امید کرنےو الا پھر دشمن سے ٹکرائے قتال کرتے کرتے شہید ہو جائے ت لوگ اس بات کو کتاب اللہ بھی پاتے ہو اپنے پاس جو اللہ نے تم پر اتاری ہے اس کےبعد انہوں نے یہ آیت پڑھی۔بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر قتال کرتے ہیں جیسے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ میں نے پوچدھا کہ اور کون ہے ؟ فرمایا وہ آدمی جس کا پڑوسی برا ہوا سے تکلیف دیتا ہو اور وہ اس پر صبر کرتا رہے یہاں تک کہ اللہ اس کی طرف سے اس برے سے نمٹ لے خواہ اس کو زندہ رکھ کر یا س کو موت دےکر۔ پھر میں نے پوچھا کہ اور کون آدمی ہے ؟ فرمایا کہ وہ آدمی جو کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کر رہا ہو وہ رات بھر اندھیری رات میں سفر کرتے رہیں جب رات کا آخر ہو جائے ان پر نیند اور اونگھ غالب آجائے اور وہ سو جائیں۔ پھر وہ کھڑا ہو جائے اور وضو کر کے اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اجر و ثواب کی امید کرتے ہوئے جو اس کے پاس ہے ۔ میں نے پوچھا۔ کہ وہ تین لوگ کون کون ہیں اللہ تعالیٰ جن سے نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا کہ مغرور متکبر تم لوگ اس مسئلے کو قرآن میں بھی پاتے ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اس نے پوچھا کہ اور کون ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ بخیل آدمی جو احسان جتلانے والا ہو۔ پھر اس نے پوچھا کہ اور کون ہے ۔ فرمایا کہ قسمیں کھانے والا تاجر۔ یا یوں فرمایا کہ قسمیں بیچنے والا۔

مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← يزيد بن عبد الله بن الشخير أبي العلاء ← الأسود بن شيبان السدوسي ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9548

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9549

9550 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني قال : نا إسحاق الدبري قال : نا عبد الرزاق عن معمر عن ابن المنكدر أن عمر رضي الله عنه قال : ثلاثة هن فواقد جار سوء في دار مقامه و زوجة سوء إن دخلت عليها آذتك و إن غبت عنها لم تأمنها و سلطان إن أحسنت لم يقبل منك و إن أسأت لم يقلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی اسحاق و بری نے ان کو عبدالرزاق نے معمر سے اس نے ابن منکدر سے کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین شخص بہت برے ہیں برا پڑوسی شہر میں ۔ بری بیوی ایسی کہ آپ جب اس کے پاس آئی ں تو آپ کو اذیت دے اور اگر آپ اس کو چھوڑ کر چلے جائیں تو تمہیں اس پر اعتماد نہ ہو ۔ اور بادشاہ کہ جس کے ستاھ آپ نیکی کر بیٹھے اور وہ تم سے اس کو قبول نہ کرے اور اگر آپ برائی کریں تو وہ تجھے نہ چھوڑے۔

ابن المنكدر أن عمر ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9549

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9550

9551 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : انا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن الزهري قال : حدثني من لا أتهم من الأنصار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا توضأ أو تنخم ليبتدروا نخامته يمسحوا بها وجوههم و جلودهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم تفعلون هذا ؟ قالوا نلتمس به البركة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يحبه الله و رسوله فليصدق الحديث و ليؤد الأمانة و لا يؤذي جاره

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے انصار میں سے اس شخص نے حدیث بیان کی ہے میں جس کو جھوٹ کی تہمت نہیں لگا سکتا یہ کہ رسول اللہﷺ جس وقت وضو کرتے تھے یا تھوکتے تھے تو مسلمان ( وضو کے پانی کو اور) آپ کے تھوک و بلغم کو جلدی جلدی اپنے ہاتھوں پر لے لیتے تھے اور اس کو اپنے چہروں پر اور وجو پر مل لیتے تھے۔ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم ان میں بھی برکت تلاش کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرے اس کو چاہیے کہ وہ سچی بات کرے ۔ اور امانت میں خیانت نہ کرے ۔ اور پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔

من لا أتهم من الأنصار ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9550

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9551

9552 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : أنا أبو الفضل بن حميرويه قال : أنا أحمد بن نجدة قال : نا سعيد بن منصور قال : نا محمد بن فضيل قال : نا محمد بن سعد الأنصاري قال : سمعت أبا ظبية يقول : سمعت المقداد بن الأسود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يزني الرجل بعشرة نسوة خير عليه من أن يزني بامرأة جاره و لأن يسرق الرجل من عشرة أبيات أيسر عليه من أن يسرق من بيت جاره

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو محمد بن فضیل نے ان کو محمد بن سعید انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ مین نے سنا ابو ظبیہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مقداد بن اسود سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ پڑوسی کی عورت کے ساتھ زنا کرنا دیگر دس عورتوں کے ساتھ زنا کرنے سے بڑا گناہ ہے ۔ اور پڑوسی کے گھر سے چوری کرنا دس گھروں سے چوری کرنے سے بڑا گناہ ہے ۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أبا ظبية ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 9551

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9552

9553 - أخبرنا علي بن محمد بن علي المقري قال : نا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا محمد بن أبي بكر و نصر بن علي قالا : نا صفوان بن عيسى عن محمد بن عجلان عن سعيد المقبري عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : تعوذوا بالله من جار السوء في دار المقامة فإن الجار البادي يتحول و قال : محمد يتحول عنك

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر اور نصر بن علی نے ان کو صفوان بن عیسیٰ نے محمد بن عجلان سے اس نے سعید مقبری سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دارالمقامہ میں برے پڑوسی کے بارے میں اللہ سے پناہ مانگیں۔ کیونکہ دیہات کا پڑوسی ہٹ جاتا ہے ۔ اور محمد نے یوں کہا کہ وہ ہٹ جاتا ہے تم سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← محمد بن أبي بكر و نصر بن علي ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Hadith 9552

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9553

9554 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا العباس بن محمد قال : نا مسلم بن إبراهيم قال : نا الأشعث بن نزار الهجمي قال : نا علي بن زيد عن عمارة بن قيس مولى ابن الزبير عن أبي هريرة قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم تعوذوا بالله من ثلاث فواقر تعوذوا بالله من مجاورة جار سوء إن رأى خيرا كتمه و إن رأى شرأ أذاعه و تعوذوا بالله من زوجة سوء إن دخلت عليها السنتك كذا قال : و إن غبت عنها خانتك و تعوذوا بالله من إمام سوء إن أحسنته لم يقبل و أن أسأت لم يغفر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو اشعت بن نزارہجمی نے ان کو علی بن زید نے ان کو عمارہ بن قیس مولی بن زبیر نے ان کو ابو ریرہ نے نے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ کی پناہ مانگو تین پریشان کرنے والے لوگوں سے۔ برے پڑوسی کے پڑوس سے کہ اگر وہ خیر اور اچھا دیکھے تو اس کو چھپا دے اور عیب برائی دیکھے تو اس کو پھیلا دے اور اللہ کی پناہ مانگو بری بیوی سے کہ اگر آپ اس کے پاس آئیں تو وہ تم سے زبان چلائے اور اس کو پیچھے چھوڑ کر جائیں تو تیری خیانت کرے ۔ اور اللہ کی پناہ مانگو بری بیوی سے کہ اگر آپ اس کے پاس آئیں تو وہ تم سے زبان چلائے اور اس کو پیچھے چھوڑ کر جائیں تو تیری خیانت کرے ۔ اور اللہ کی پناہ مانگو برے امام اور حاکم سے کہ اگر آپ اس پر احسان کریں تو اسکو وہ قبول نہ کرے اور اگر آپ غلطی کریں تو وہ معاف نہ کرے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عمارة بن قيس مولى ابن الزبير ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← الأشعث بن نزار الهجمي ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9553

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9554

9555 - أخبرنا أبو بكر القاضي قال : أنا حاجب بن أحمد قال : نا محمد بن حماد قال : نا محمد بن الفضيل عن عمران بن سليمان التيمي قال : بلغني أن لقمان قال لابنه : يا بني قد حملت الحجارة و الحديد و الحمل الثقيل فلم أجد شيئا قط أثقل من جار السوء يا بني قد ذقت المركله فلم أذق شيئا قط أمر من الفقر

ہمیں خبر دی ابو بکر قاضی نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد نے ان کو محمد بن فضیل نے ان کو عمران بن سلیمان تیمی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اے بیٹے میں نے پتھر بھی اٹھائے ہیں اور لوہا بھی اور بڑے بھاری بوجھ بھی مگر میں نے برے پڑوس سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں پائی۔ اے بیٹے میں نے ہر کڑوی چیز چھکی ہے مگر میں نے فقیر و محتاجی سے زیادہ کڑوی چیز کوئی نہیں چھکی۔

بلغني أن لقمان ← عمران بن سليمان التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Hadith 9554

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9555

9556 - أخبرنا أبو الحسن المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا محمد بن أبي بكر قال : نا يحيى بن سعيد عن وائل عن داود قال : سمعت محمد بن سعد يحدث عن أبيه و قال : أربع من السعادة و أربع من الشقاء فأما الشقاء فالزوجة السوء و الجار السوء و المركب السوء و ضيق المسكن

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو وائل نے ان کو داؤد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن سعیدسے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ چار چیزیں نیک بختی میں سے ہیں اور چار چیزیں بدبختی میں سے ۔ بۃر حال بد نصیبی میں سے چار چیزیں یہ ہیں بری بیوی۔ برا پڑوسی بری سواری اور گھر کا تنگ ہونا۔

أَبِيهِ، [وَ] ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← دَاوُدُ، ← وَائِلٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Hadith 9555

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9556

9557 - قال : و نا محمد بن أبي بكر قال : نا عمر بن علي عن محمد بن أبي حميد عن إسماعيل بن محمد عن أبيه عن سعد : عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثله

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی محمد بن ابو بکر نے ان کو عمر بن علی نے ان کو محمد بن ابو حمید نے اس نے اسماعیل بن محمد سے اس نے اپنے والد سے اس نے سعد سے اس نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ روایت کی مثل روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم بمثله ← سَعْدٍ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن أبي حميد ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← و،

Hadith 9556

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9557

9558 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو العباس هو الأصم نا العباس هو الدوري نا محمد بن عبيد و أخبرنا أبو سعيد الخليل بن أحمد بن محمد المهلبي البستي أنا أبو العباس أحمد بن المظفر البكري نا ابن أبي خيثمة نا أبو نعيم قالا : نا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن جميل مولى نافع بن عبد الحارث عن نافع بن عبد الحارث و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من سعادة المسلم المسكن الواسع و الجار الصالح و المركب الهنيء لفظ حديث أبي عبد الله و ليس في رواية اليسنى مولى نافع بن عبد الحارث و قال : من سعادة المرء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو خبر دی ابو سعید خلیل بن احمد بن محمد مہلبی البستی نے ان کو ابو العباس احمد بن مظفر بکری نے ان کو ابن ابو خثیمہ نے ان کو ابو نعیم نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب بن ثابت نے ان کو جمیل بن مظفر مولیٰ نافع بن عبدالحارث نے نفع بن عبدالحارث سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بے شک مسلمان کی سعادت میں سے ہے گھر کا وسیع ہونا۔ پڑوسی کا نیک ہونا سواری کا اچھا ہونا یہ ابو عبداللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور البستی کی روایت میں مولیٰ نافع بن عبدالحارث نہیں ہے ۔ اور کہا ہے کہآدمی کی سعادت میں سے ہے یہ بات۔

نافع بن عبد الحارث و ← جميل مولى نافع بن عبد الحارث ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← ابن أبي خيثمة ← أبو العباس أحمد بن المظفر البكري ← أبو سعيد الخليل بن أحمد بن محمد المهلبي البستي ← محمد بن عبيد و ← الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9557

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9558

9559 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو حامد بن بلال قال : نا محمد بن إسماعيل قال : نا وكيع عن حماد بن زيد ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو عمرو بن السماك قال : نا حنبل بن إسحاق قال : نا عفان بن مسلم قال : نا حماد بن زيد نا محمد بن واسع قال : قال مسلم بن يسار قال : ما غبطت رجلا بشيء من الدنيا فأغبطته بثلاث بزوجة صالحة و بجار صالح و بمسكن واسع و في رواية وكيع عن حماد عن محمد بن واسع عن مسلم بن يسار قال : ما غبطت أحدا بشيء من الدنيا إلا جار صالح و مسكن واسع أو زوجة صالحة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن ہلال نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو وکیع ن ے ان کو حماد بن زید نے ح اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو عمرو بن سماک نے ان کو حنل بن اسحاق نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو حمد بن زید نے ان کو محمد بن واسع نے وہ کہتے ہیں کہا مسلم بن یسار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی آدمی کے ساتھ اس کی دنیا پر رشک نہیں کیا ہاں تین چیزوں پر مجھے رشک ہوتا ہے نیک بیوی اور نیک پڑوسی اور وسیع مکان کے بارے میں رشک کرتا ہوں۔ اور وکیع کی حماد سے ایک روایت میں محمد بن واسع سے مسلم بن یسار سے ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں کبھی کسی شئی پر کسی کے ساتھ رشک نہیں کیا دنیا میں سے مگر نیک پڑوسی ۔ وسیع مکان اور نیک بیوی پر کیا ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 9558

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood