Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9535

9536 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز قال : نا أحمد بن الوليد الفحام قال : نا أبو أحمد قال : نا سفيان عن عبد الملك بن أبي بشير عن عبد الله بن أبي المساور قال : سمعت ابن عباس و هو ينحل ابن الزبير يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ليس المؤمن الذي يشبع و جاره جائع إلى جنبه و قال : غير أبي أحمد عبد الله المساور

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر و رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو ابو احمد نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالملک بنابو بشر نے عبداللہ بن ابو المساور سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس سے وہ ابن زبیر کو مالی عطیہ دے رہے تھے فرمایا کہ میں نے سنا رسول اللہﷺ فرما رہے تھے وہ شخص مؤمن نہیں جو خود تو شکم سیر ہو مگر اس کا پڑوسی برابر میں بھوکار ہے ۔ اور دیگر نے کہا کہ ابو احمد عبداللہ بن مساور نام ہے ۔

غير أبي أحمد عبد الله المساور ← ليس المؤمن الذي يشبع و جاره جائع إلى جنبه و ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابن عباس و هو ينحل ابن الزبير ← عبد الله بن أبي المساور ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9535

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9536

9537 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار قال : نا الإسفاطي و هو العباس ابن الفضل قال : نا منجاب بن الحارث قال : ابن مسهر عن الأعمش عن حكيم بن جبير عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أنه دخل على ابن الزبير و أنا معه فقال ابن الزبير : أنت الذي تنحلني و تدنني ؟ فقال ابن عباس نعم : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليس المسلم الذي يشبع و يجوع جاره و ذكره باقي الحديث

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے انکو احمد عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے اور وہ عباس بن فضل ہیں۔ ان کو منجاب بن حارث نے کہا ابن مسہر نے ان کو اعمش نے حکیم بن جبیر سے اس نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے کہ وہ داخل ہوئے ابن زبیر پر اور میں ان کے ساتھ تھا چنانچہ ابن زبیر نے کہا ۔ آپ وہ ہیں جو مجھے عطیہ دیتے ہیں اور مجھ پر احسان فرماتے ہیں۔ابن عباس نے فرمایا جی ہاں بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ مسلمان وہ نہیں ہے جو خؤد تو شکم سیر ہو اور اس کا پڑوسی برابر میں بھوکا رہے ۔ اور بقیہ حدیث بھی ذکر فرمائی ۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ ← ابن الزبير أنت الذي تنحلني و تدنني ← مَعَهُ؟ ← ابن عباس أنه دخل على ابن الزبير و ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حكيم بن جبير ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ مُسْهِرٍ ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← الإسفاطي و هو العباس ابن الفضل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 9536

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9537

9538 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا أبو جعفر محمد بن علي الوراق حمدان قال : نا سعيد بن سليمان قال : نا ليث بن سعد عن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها و لو فرس شاة أخرجاه في الصحيح من حديث الليث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی وراق حمدان نے ان کو سعید بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو لیث بن سعد نے سعید مقری سے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے مسلمان عورتوں تم لوعگ کوئی پڑوسن چھوٹے سے عطیے کو اپنے دوسری پڑوسن کے لئے حقیر نہ سمجھے اگر چہ بکری کی چلی ہوئی کھری ہی سہی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو جعفر محمد بن علي الوراق حمدان ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9537

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9538

9539 - حدثنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي قال : نا جدي أبو عمرو قال : أنا عبد الله بن أحمد بن حنبل قال : حدثني أبو معمر قال : نا أبو عبد الصمد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو الفضل بن إبراهيم قال : نا أحمد بن سلمة قال : نا إسحاق بن إبراهيم قال : أنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي قال : أنا أبو عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا ذر إذا طبخت مرقة فأكثر ماءها و تعاهد جيرانك لفظ حديث إسحاق و في رواية أبي معمر إذا طبخت اللحم فأكثر المرق و تعاهد جيرانك رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی نے ان کو ان کے دادا ابو عمرو نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو حدیث بیان کی ابو معمر نے ان کو ابو عبدالصمد نے ح اور ہمی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو الفضل بن ابراہیم نے وہ کہتے یں کہ کہا احمد بن سلمہ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عبدالعزیز بن عبدالصمد عمی نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب آپ شوربا پکائیں تو ذرا اس کا پانی بڑھا دیا کریں اور اپنے پڑوسی کا خیال کیا کریں یہ الفاظ حدیث اسحاق کے ہیں۔ اور ابو معمر کی ایک روایت میں ہے کہا آپ گوشت پکائیں تو شوربا زیادہ بنائیں اور اپنے پڑوسی کا خیال کریں اس کو مسلم سے روایت کیا اسحاق بن ابراہیم سے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← جَدِّي أَبُو عَمْرٍو ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 9538

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9539

9540 - و أخبرنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن محمد بن يحيى قال : أنا أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي قال : أنا علي بن عبد العزيز قال : نا أبو نعيم قال : نا شعبة عن أبي عمران الجوني عن عبد الله بن الصامت عن أبي ذر قال : أوصاني خليلي صلى الله عليه و سلم قال : إذا طبخت مرقة فأكثر ماءها ثم انظر بعض أهل بيت من جيرانك فاغرف لهم منها أخرجه مسلم في الصحيح من حديث ابن إدريس عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ سے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابو علی حامد بن محمد بن عبداللہ ہروی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو نعیم نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں مجھے میرے خلیل محمد ﷺ نے وصت فرمائی تھی ۔ کہ تمجب شدوربا پکاؤ تو اس کا پانی بڑھاؤ اس کے بعد دیکھو بعض پڑوس کے گھر انوں کو ان کو ہی اس میں سے کچھ دیا کرو۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو ادریس کی شعبہ سے روایت ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن محمد بن يحيى ← و،

Hadith 9539

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9540

9541 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : أنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الفاكهي بمكة قال : نا أبو يحيى بن أبي مسرة قال : نا عبد الله بن يزيد المقري قال : نا حيوة و ابن لهيعة قالا : نا شرحبيل بن شريك أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي يحدث عن عبد الله بن عمر : و عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : خير الأصحاب عند الله خيرهم لصاحبه و خير الجيران عند الله خيرهم لجاره

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن اسحٰق فاکھی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو یحییٰ بن ابو میسرہ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو حیوۃ نے اور ابن لہیعہ نے انکو شرجیل بن شریک نے کہ اس نے سنا ابو عبدالرحمٰن حبلی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں عبداللہ بن عمرو سے اس نے رسول اللہﷺ سے کہ آپ نے فرمایا بہترین احباب اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو اپنے احباب کے لئے بہترین ہوں اللہ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہیں جو اپنے پڑوسی کے لئے بہترین ہوں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← عبد الله بْنِ عُمَرَ. و ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ ← حيوة و ابن لهيعة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 9540

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9541

9542 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا إبراهيم بن سعد قال : نا المقري عن حيوة عن شرحبيل بن شريك عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الصحابة خيرهم لصاحبه و خير الجيران خيرهم لجاره و رواه ابن المبارك عن حيوة بن شريح فوقفه و رأيته في المستدرك فيما لم يقرأ مرفوعا من حديث ابن المبارك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ بن فضل نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبردی ہے ۔ ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن سعد نے ان کو مقری نے ان کو حیوۃ نے شرجیل بن شریک نے ان کو ابو عبدالرحمٰن حبلی نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بہترین احباب اپنے احباب کے لئے بہترین ہوتے ہیں اور بہترین پڑوسی اپنے پڑوسیوں کے لئے بہترین ہوتے اس کو ابن صامت نے روایت کیا ہے حیوۃ بن شدریح سے اور اس کو موقوف بیان کیا ہے ۔ اور میں نے اس کو دیکھا مستدرک میں جو ابن مبارک کی حدیث میں سے مرفوع نہیں پڑھی گئی ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ، ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل ← و،

Hadith 9541

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9542

9543 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا أبو الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا محمد بن أبي بكر قال : نا جعفر بن سليمان عن أبي طارق عن الحسن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يأخذ هؤلاء الكلمات فيعمل بهن أو يعلمهن من يعمل بهن ؟ قال أبو هريرة : قلت : أنا فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم يدي فعقد فيها خمسا : اتق المحارم تكن أعبد الناس و ارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس و أحسن إلى جارك تكن مؤمنا و أحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما و لا تكثر الضحك فإن كثرة الضحك تميت القلب

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو الحسین بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ابو طائف نے ان کو حسن نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ان کلمات کو مجھ سے کون لیتا ہے جو ان پر عمل کرے گا؟ یا یوں فرمایا کہ کون ان کو سکھائے گا اس کو جوان پر عمل کرے ؟ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ میں لیتا ہوں۔ لہٰذا حضور ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور ان میں پانچ گرہ لگائیں یا پانچ حلقے بنائے ۔ فرمایا حرام کردہ امور سے بچو تم سب لوگوں سے زیادہ عبادت گذار بن جاؤ گے ۔ اور اللہ نے تمہارے لئے جو کچھ مقسوم بنایا ہے اسد پر راضی ہو جاؤ تم سب لوگوں سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے ۔ اور اپنے پڑوسی کے ساتھ نیکی کیجئے آپ حقیقی مؤمن بن جائیں گے ۔ اور دوسرے لوگوں کے لئے وہی کچھ پسند کیجئے جو کچھ اپنے لئے آپ پسند کرتے ہیں آپ حقیقیت میں مسلمان بن جائیں گے اور آپ ہنسنے کی کثرت نہ کیا کریں بے شک کثرت کے ساتھ ہنسنا دل مردہ کر دیتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← أَبِي طَارِقٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 9542

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9543

9544 - حدثنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك رحمه الله قال : أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني قال : نا يونس بن حبيب قال : نا أبو داود قال : أنا شعبة عن أبي عمران عن طلحة بن عبد الله عن عائشة أنها قالت : يا رسول الله إن لي جارين فإلى أيهما أهدي ؟ قال : إلى أقربهما منك بابا رواه البخاري في الصحيح عن الحجاج بن المنهال عن شعبة

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک رحمہ اللہ نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا یونس بن حبیب نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عمران نے ان کو طلحہ بن عبداللہ نے انکو سیدہ عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ میرے دو پڑوسی ہیں میں دونوں میں سے کس کو ہدیہ بھیجوں فرمایا جو تجھ سے زیادہ قریب ہے یعنی دروازے کے اعتبار سے۔ اس کو بخاری نےروایت کیا صحیح بن حجاج بن منہال سے اس نے شعبہ سے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي عِمْرَانَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Hadith 9543

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9544

9545 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا مسدد قال : نا عبد الواحد بن زياد قال : نا الأعمش قال : نا أبو يحيى مولى جعدة قال : سمعت أبا هريرة قال : قيل للنبي صلى الله عليه و سلم إن فلانة تقوم الليل و تصوم النهار و تفعل و تصدق و تؤذي جيرانها بلسانها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا خير فيها هي من أهل النار قيل و فلانة تصلي المكتوبة و تصدق بالأثوار و لا تؤذي أحدا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هي من أهل الجنة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو مسدد نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو اعمش نے ان کو ابو یحییٰ مولیٰ جعدہ نے انہوں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ فلاں عورت رات کو تہجد پڑھتی ہے دن کو روزہ رکھتی ہے اور اچھے کام کرتی ہے اور صدقہ کرتی ہے مگر زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے رسول اللہ نے فرمایا کہ اس میں کوئی خیرو بھلائی نہیں ہے یہ جہنی ہے ۔اور کہا گیا کہ فلاں عورت صرف فرض نماز پڑھتی ہے اور کبھی کبھی صدقہ کرتی ہے اور کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتی؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ عورت اہل جنت میں سے ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 9544

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9545

9546 - و أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر أحمد بن سليمان بن إسحاق العباداني قال : نا علي بن حرب ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس بن يعقوب قال : نا أحمد بن عبد الجبار العطاردي قالا : نا أبو معاوية قال : نا الأعمش و في رواية العطاردي عن الأعمش عن أبي يحيى مولى جعدة بن هبيرة عن أبي هريرة قال : قالوا يا رسول الله فلانة تصوم النهار و تقوم الليل و تؤذي جيرانها قال : هي من أهل النار قال : قالوا يا رسول الله فلانة تصلي المكتوبات و تتصدق بالأثوار من الأقط و لا تؤذي جيرانها قال : هي من أهل الجنة

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان بن اسحاق عبادانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی علی بن حرب نے ح اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار عطاری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے اور عطاردی کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے روایت کیا اعمش سے اس نے ابو یحییٰ مولیٰ جعدہ بن ہیرہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ فلاں عورت دن میں روزے رکھتی ہے رات کو تہجد پڑھتی ہے مگر اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچاتی ہے فرمایا کہ جہنی ہے ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ فلاں عورت صرف فرض نماز پڑھتی ہے اور پنیر یاچھا چھ وغیرہ کا صدقہ کرتی ہے مگر اپنے پڑوسی کو نہیں ستاتی فرمایا کہ جنتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي يحيى مولى جعدة بن هبيرة ← الْاَعْمَشِ ← الأعمش و في رواية العطاردي ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ← أبو بكر أحمد بن سليمان بن إسحاق العباداني ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Hadith 9545

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9546

9547 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : نا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب القاضي قال : نا نصر بن علي قال : نا صفوان بن عيسى عن ابن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة : أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو جاره فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اصبر ثم أتاه الثانية يشكو فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اصبر ثم أتاه يشكو فقال له : اصبر ثم أتاه الرابعة يشكوه فقال : اذهب فأخرج متاعك فضعه على ظهر الطريق فجعل لا يمر به أحد إلا قال له : شكوت جاري إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : اذهب فأخرج متاعك فضعه على ظهر الطريق فجعل لا يمر به أحد إلا قال : اللهم العنه اللهم أخره قال : فأتاه فقال : يا فلان ارجع إلى منزلك فوالله لا أؤذيك أبدا و له شاهد من حديث أبي عمر البجلي عن أبي جحيفة

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو نصر بن علی نے ان کو صفوان بن عیسیٰ نے ان کو ابن عجلان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر آیا حضور ﷺ نے اسے فرمایا کہ صبر کر پھر دوبارہ آیا تو فرمایا کہصبر کر پھر تیسری بار شکایت کی تو فرمایا صبر کر پھر چوتھی مرتبہ آئے جب شکایت کی تو فرمایا کہ اپنا سامان نکال کر بیچ راستے میں رکھ دو۔ اب تو جو بھی گذرے وہی پوچھے کہ ایسا کیوں کیا وہ بتا دے اس کو کہ میں نے حضور ﷺ کو اپنے پڑوسی کی شکایت کی تھی ۔ لہٰذا حضؤر ﷺ نے حکم دیا کہ سامان راستے میں رکھ دو۔ ابتو جو بھی گذرتا وہ اس کے پڑوسی کو لعنت کرتا اللہ س کو لعنت فرما اللہ اس کو رسوا کر ۔ چنانچہ وہ پڑوسی آکر اس سے کہنے لگا میاں تم اپنے گھر میدں آجاؤ میں تجھے کبھی اذیت نہیں دوں گا۔ اس حدیث کے شواہد میں ابو عمر بجلی کی حدیث سے اس نے ابو جیفہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 9546

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood