Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9523

9524 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في قوله : ـ { و الجار ذي القربى } يعني الذي بينك و بينه قرابة { و الجار الجنب } الذي ليس بينك و بينه قرابة { و الصاحب بالجنب } يقول : الرفيق في السفر و هكذا ذكره مجاهد و قتادة ثم الكلبي : و مقاتل بن حيان و مقاتل بن سليمان زاد مقاتل بن سليمان في { الصاحب بالجنب } يعني الرفيق في السفر و الحضر

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علی بن ابو طلحہ نے ان کو ابن عباس نے اس قول باری کے بارے میں۔ والجارذی القربی یعنی وہ پڑوسی جس کی تیرے اور اس کے درمیان قرابت داری رشتہ داری ہو۔ والجار الجنب یعنی وہ پڑوسی جو غیر ہو جس کے ساتھ آپ کی رشتہ داری نہ ہو۔ والصاحب بالجب : یعنی رفیق سفر۔ اسی طرح اس کو ذکر کیا ہے مجاہد نے اور قتادہ نے پھر کلبی نے اور مقابل بن حیان نے اور مقاتل بن سلیمان نے صاحب بالجنب کے بارے میں یعنی اس سے رفیق سفر و حضر مراد ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9523

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9524

9525 - و روينا عن علي و عبد الله ثم عن إبراهيم و غيره : في الصاحب بالجنب أنها المرأة

اور ہم نے روایت کی علی سے اور عبداللہ سے پھر ابراہیم وغیرہ سے کہ صاحب بالجنب سے مراد عورت مراد ہے ۔

إبراهيم و غيره في الصاحب بالجنب أنها المرأة ← علي و عبد الله ثم ← و روينا

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9524

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9525

9526 - و عن سعيد بن جبير في رواية : كذلك و في رواية الرفيق الصالح

اور سعید بن جبیر سے اسی طرح مراد ہےایک روایت میں کہ اس سے مراد رفیق صالح مرد ہے ۔

سعيد بن جبير في رواية كذلك و في رواية الرفيق الصالح ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9525

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9526

9527 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن سلمان الفقيه نا الحسن بن مكرم نا يزيد بن هارون قال : أنا يحيى بن سعيد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العتكي قال : نا الفضل بن محمد الشعراني قال : نا ابن أبي أويس قال : حدثني مالك عن يحيى بن سعيد قال : أخبرني أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة أم المؤمنين : أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه ليورثه و في رواية يزيد عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره و قال : سيورثه رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل بن أبي أويس و رواه مسلم عن قتيبة عن مالك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے وہ کہتے ہیں کہ ہمی خبر دی یحییٰ بن سعید نے ح اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی محمد بن قاسم بن عبدالرحمٰن عتکی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی فضل بن محمد شرانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابن اوب اویس نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مالک نے یحییٰ بن سعید سے ان کو ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے اس نے سیدہ عائشہ سے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہمیشہ جبرائیل مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ شاید یہ اس کو وارث قرار دے دیں گے۔ اور یزید کی سیدہ عائشہ سے ایک روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: پھر راوی نے حدیث ذکر کی ۔اور فرمایا سیورثہ۔ عنقریب اس کو وارث بنا دے گا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں اسماعیل بن ابو اویس سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا قتبیہ بن مالک سے۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَتَكِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9526

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9527

9528 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري بمرو قال : نا أبو الموجه محمد بن عمرو قال : نا عمرو بن محمد الناقد نا عبد العزيز بن أبي حازم قال : حدثني هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم يزل جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه رواه مسلم في الصحيح عن عمرو بن محمد الناقد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حآفظ نے ان کو ابو العباس قاسم بن قاسم سیاری نے مرو میں ان کو ابو الموجہ محمد بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عمرو بن ناقد نے ان کو عبدالعزیز بن ابو حازم نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جبرائیل ہمیشہ مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے کہ میں نے خیال کیا کہ عنقریب یہ اس کو وارث ٹھہرائیں گے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عمرو بن محمد ناقد سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9527

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9528

9529 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار قال : نا أحمد بن محمد البرقي قال : نا محمد بن المنهال قال : نا يزيد بن زريع قال : نا عمر بن محمد بن يزيد بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما زال جبريل عليه السلام يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن المنهال و رواه مسلم عن القوارير عن يزيد

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبردی ابو عبداللہ بن محمد بن عبداللہ صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی محمد بن منہال نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو یزید بن زریع نے ۔ ان کو عمر بن یزید بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا دائمی طور پر جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے کہ میں نے گمان کر لیا کہ بے شک وہ عنقریب اس کووارث بنا دیں گے بخاری نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن منہال سے اور مسلم قواریر سے اس نے یزید سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عمر بن محمد بن يزيد بن عبد الله بن عمر ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9528

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9529

9530 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : أنا أبو سعيد بن الأعرابي قال : نا سعدان بن نصر قال : نا سفيان عن عمرو بن نافع بن جبير بن مطعم عن أبي شريح الخزاعي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليحسن إلى جاره من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب و ابن نمير عن سفيان

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے اس نے ابو سعید بن اعرابی سے اس نے سعد ان بن نسر سے اسد نے سفیان سے اس نے عرمو بن نافع بن جبیر بن مطعم سے اس نے ابو شریح خزاعی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسیہ کے ساتھ نیک سلوک کرے اور جو شخص اللہ کے ساتھ اور آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ یا تو خیر کی بات کرے ورنہ چپ رہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب اور ابن غیر سے اس نے سفیان سے۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← عمرو بن نافع بن جبير بن مطعم ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9529

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9530

9531 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو النضر الفقيه قال : نا معاذ بن نجدة ابن العريان القرشي قال : نا عاصم بن علي قال : نا ليث بن سعد عن سعيد المقبري عن أبي شريح العدوي أنه قال : سمعته أذناي و أبصرته عيناي حين تكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم جاره و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته قالوا و ما جائزته ؟ قال : يوم و ليلة و الضيافة إلى ثلاث فما كان وراء ذلك فهو صدقة عليك و لا يثوى عنده حتى يخرجه رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن الليث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو النضر فقدیہ نے ان کو معاذ بن نجدہ بن عربان قرشی نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو شریح عدوی نے فرماتے ہیں اس حدیث کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور حضور ﷺ کو میری دونوں آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہﷺ کلام فرما رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا: جو شخص ایمان رکھتا ہے اللہ کے ساتھ اور آخرت کے ساتھ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے بطور احسان اور اکرام کے ۔ لوگوں نے پوچاھ کہ اس کا اکرام کس قدر ہو گا؟ آپ نے فرمایا کہ ایک دن اور ایک رات۔ اور ضیافت تین دن رات ہے ۔ اس کے بعد جوکچھ ہو گا وہ پ کے اوپر صدقہ بوجھ ہو گا اور وہ نہ ٹھہرے اس کے پاس ا سوقت تک کہ وہ اس کو خود نکال دے ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن یوسف سے اس نے لیث سے۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← معاذ بن نجدة ابن العريان القرشي ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9530

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9531

9532 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد منصور الرمادي ح و أخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان قال : نا أحمد بن يوسف السلمي قالا : أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فلا يؤذي جاره و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو ابو منصور مادی نے ح اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے زہری سے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کےساتھ اور آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ کےساتھ یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے ورنہ چپ رہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و، ← أحمد منصور الرمادي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9531

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9532

9533 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا إسماعيل بن أحمد الجرجاني قال : أنا محمد بن الحسن ابن قتيبة قال : نا حرملة بن يحيى قال : أنا ابن وهب قال : أخبرني يونس عن ابن شهاب : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : فليكرم جاره رواه مسلم في الصحيح عن حرملة و أخرجه البخاري من حديث معمر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن احمد جرجانی نے ان کو محمد بن حسن ابن قتبیہ نے ان کو حرملہ بن یحییٰ نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی یونس نے ابن شہاب سے اس نے اس کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے مذکور کی مثل۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا۔ اس کو چاہیے کہو ہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حرملہ سے اور بخاری نے اس کو نقل کیا حدیث معمر سے۔

حرملة و أخرجه البخاري من حديث معمر ← فليكرم جاره رواه مسلم في الصحيح ← ابن شهاب فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← محمد بن الحسن ابن قتيبة ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9532

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9533

9534 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان قال : أنا إبراهيم بن الحارث البغدادي قال : نا يحيى بن أبي بكير قال : نا ابن أبي ذئب عن سعيد المقبري و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا مخلد بن جعفر الباقرجي نا محمد بن يحيى بن سليمان نا عاصم بن علي نا محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذئب عن المقبري عن أبي شريح الكعبي : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : و الله لا يؤمن و الله لا يؤمن و الله لا يؤمن ثلاثا قالوا : و من ذاك يا رسول الله ؟ قال : الجار لا يأمن جاره بوائقه قالوا و ما بوائقه ؟ قال شره رواه البخاري في الصحيح عن عاصم بن علي

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث بغداری نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابن ابو ذئب نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو عبداللہ حافظ نے ان کو مخلد بن جعفر باقرجی نے ان کو محمد بن یحییٰ بن سلیمان نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ابو ذئب نے ان کو مقبری نے انکو ابو شریح کعبی نے نبی کریم ﷺ سے آپ نے فرمایا اللہ کی قسم نہیں ایمان رکھتا۔ اللہ کی قسم نہیں ایمان رکھتا۔ اللہ کی قسم نہیں رکھتا تین بار فرمایا۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ یا رسول اللہ آپﷺ نے فرمایا: کہ جس کا پڑوسی ادس کی ہلاکتوں سے پرامن نہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ اس کی ہلاکتیں کیا ہیں؟ فرمایا اس کا شر بخاری نے صحیح میں اس کو روایت کیا ہے ۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← محمد بن يحيى بن سليمان ← مخلد بن جعفر الباقرجي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ. و ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9533

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9534

9535 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري قال : أنا أحمد بن يحيى بن منصور القاضي قال : نا أحمد بن سلمة قال : نا قتيبة بن سعيد قال : نا إسماعيل يعني ابن جعفر عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی احمد بن یحییٰ بن منصور قاضی نے وہ کہتے ہی ہمیں خبر دی احمد بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ اسکو قتبیہ بن سعید نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے العلاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ دشخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کا پڑوسی اس کی ہلاکت خیزیوں سے محفوظ نہ ہو ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتبیہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أحمد بن يحيى بن منصور القاضي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9534

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood