Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4296

4296 - و بإسناده عن أبي أمامة الباهلي : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من رجل يغبار وجهه في سبيل الله إلا أمن الله وجهه يوم القيامة و ما من رجل يغبار قدماه في سبيل الله إلا من سبيل الله إلا أمن الله قدميه من النار يوم القيامة

اور اس کی اسناد کے ساتھ مروی ہے ابوامامہ باہلی سے کہ نبی کریم نے فرمایا جو آدمی اپنے چہرے کواللہ کی راہ میں غبار آلود کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو قیامت کے دن امان دے گا اور جو آدمی اللہ کی راہ میں اپنے قدموں کو غبار آلود کرتا ہے اللہ اس کے قدموں کو آگ سے قیامت کے دن امن دے گا۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← و بإسناده

Hadith 4296

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4297

4297 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر بن عبيد نا إبراهيم بن الحسين نا أبو صالح عبد الله بن صالح أن عبد الرحمن رجل من الأزد يقال له شعوذ بن عبد الرحمن حدثه قال : سمعت ابن عائذ يقول خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة رجل فلما وضع قال عمر بن الخطاب : لا تصل عليه يا رسول الله فإنه رجل فاجر فالتفت رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الناس فقال : هل رآه أحد منكم على عمل الإسلام فقال رجل نعم يا رسول الله حرس ليلة في سبيل الله فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم و حثى التراب عليه و قال أصحابك يظنون أنك من أهل النار و أنا أشهد أنك من أهل الجنة و قال يا عمر إنك لا تسأل عن أعمال الناس و لكن تسأل عن الفطرة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر بن عبید نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابوصالح عبداللہ بن صالح نے یہ کہ عبدالرحمٰن آدمی تھے قبیلہ ازد سے انہیں شعود بن عبدالرحمٰن کہا جاتا تھا اس نے ان کو حدیث بیان کی اس نے سنی ابن عائذ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے جنازے میں گئے جب میت رکھی گئی تو عمر بن خطاب نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر آپ نماز جنازہ نہ پڑھائیے یہ فاسق فاجر آدمی تھا (یا بد کردار تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے اس کو اسلام کا کوئی عمل کرتے دیکھا تھا۔ ایک آدمی نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ اس نے ایک رات جہاد کی سبیل اللہ میں چوکیداری کی تھی یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور اس پر مٹی بھی ڈال دی اور فرمایا کہ تیرے احباب گمان کرتے ہیں کہ تو اہل جہنم میں سے ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ تو اہل جنت میں سے ہے۔ اور فرمایا اے عمر بے شک تم لوگوں کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھے جاؤ گے بلکہ تم فطرت کے بارے میں پوچھے جاؤ گے۔ (فطرت اسلام) یا یوں تعبیر ہے کہ تم لوگوں کے عمومی اعمال سے بحث نہ کرو ان کی فطرت کے بارے میں جانو۔

أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر بن عبيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4297

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4298

4298 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر المقرىء نا سعيد بن أبي أيوب نا يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير مرئد بن عبد الله بن البزني : عن عقبة بن عامر أنه تلا هذه الآية : { وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة } قال : ألا إن القوة الرمي

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالازہر مقری نے ان کو سعید بن ابوایوب نے ان کو یزید بن ابوحبیب نے ان کو ابوالخیر مرثد بن عبداللہ بن یزنی نے ان کو عقبہ بن عامر نے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی - واعـد و الـهـم مـا استطعتم من قوة کفار دشمنوں کے مقابلے کے لئے جس قدر استطاعت رکھتے ہو تم طاقت تیار کرو۔عقبہ بن عامر نے کہا الا ان الـقـوة الـرمی۔ بے شک طاقت تیراندازی ہے۔

ألا إن القوة الرمي ← عقبة بن عامر أنه تلا هذه الآية ← أبي الخير مرئد بن عبد الله بن البزني ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو الأزهر المقرىء ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 4298

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4299

4299 - و قد روينا هذا عن أبي علي ثمامة بن شفي أنه سمع عقبة بن عامر يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : { وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة } ألا إن القوة الرمي قالها ثلاثا أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا أحمد بن صالح نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن أبي علي بهذا الحديث أخرجه مسلم في الصحيح من حديث ابن وهب

تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے ابوعلی ثمامہ بن شفی سے اس نے سنا عقبہ بن عامر سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں کہ واعــد و الـهـم ما استطعتم من قوة۔دشمنوں کے مقابلے کے لئے جتنی ہو سکے طاقت تیار کرو۔ الا ان القوۃ الرمی خبر دار ہو کہ طاقت تیر پھینکنا ہے۔ تین بار یہی جملہ فرمایا۔ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن عدوس نے سے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو احمد بن صالح نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے ان کو ابوعلی نے اسی حدیث کے ساتھ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث بن وہب سے۔

أبي علي بهذا الحديث أخرجه مسلم في الصحيح من حديث ابن وهب ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ألا إن القوة الرمي قالها ثلاثا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أبي علي ثمامة بن شفي أنه ← و قد روينا هذا

Hadith 4299

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4300

4300 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أبو الأزهر نا عبد الرزاق أنا الثوري عن الأعمش عن زياد بن حصين عن أبي العالية عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم مر بقوم و هم يرمون فقال : رميا بني إسماعيل لقد كان أبوكم راميا

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو ابوالازہر نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ثوری نے ان کو اعمش نے ان کو زیاد بن حصین نے ان کو ابوالعالیہ نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم پر گذرے وہ لوگ تیراندازی کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوب تیراندازی کرو اے اولاد اسماعیل بے شک تمہارا باپ (اسماعیل علیہ السلام) بھی تیرانداز تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 4300

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4301

4301 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم نا عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن أبي كثير عن زيد يعني أبا سلام عن عبد الله بن زيد الأزرق قال : كان عقبة بن عامر الجهني يخرج كل يوم و يستبعه فكان كاد أن يمل فقال : ألم أخبرك ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال بلى قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أن الله عز و جل يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة صانعه الذي يحتسب في صنعته الخير و الذي يجهز به في سبيل الله و الذي يرمي به في سبيل الله و قال : ارموا و اركبوا فإن ترموا خير من أن تركبوا و قال كل شيء يلهو به ابن آدم فهو باطل إلا ثلاثة رميه عن قوسه و تأديبه فرسه و ملاعبة أهله فإنهن من الحق قال : و توفي عقبة و له بضعة و سبعون قوسا مع كل قوس قرن و نبل فأوصى بهن في سبيل الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبدالله۔ محمد بن علی صنعانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو زید نے یعنی ابوسلام نے ان کو عبداللہ بن زید ازرق نے وہ کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر جھنی روزانہ نکلتے تھے۔ زید ازرق پیچھے ہوئے قریب تھا کہ تھک جائیں فرمانے لگے کیا میں تجھے نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ سے حدیث سنی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں ضرور بتائیے فرمایا کہ میں نے سنا تھا آپ نے فرمایا تھا کہ بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے بدلے میں تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریں گے۔ایک وہ جس نے تیر بنایا تھا جو بنانے میں ثواب کے حصول کی نیت رکھتا تھا۔ دوسرا وہ شخص جس نے تیر کو خرید کر مجاہد فی سبیل اللہ کو دے دی۔ تیسرا وہ مجاہد جس نے اس تیر کو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے پھینک دیا۔اور فرمایا تیراندازی کرو دیکھو اور سواری سیکھو تمہارا تیراندازی سیکھنا سواری سیکھنے سے بہتر ہے۔ اور فرمایا کہ ہر وہ کام ابن آدم جس کے ساتھ کھیل کرتا ہے وہ سب کا سب باطل ہے۔ مگر تین لوک۔ یا تین کام۔ اپنی کمان سے تیر پھینکنا۔ اس کا اپنے گھوڑے کو سدھانا اور اس کا اپنی اہلیہ سے کھیلنا۔ یہ تینوں کا حق ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ جب فوت ہوئے تو ان کے گھر میں ستر سے زائد کمانیں تھیں ہر کمان کے ساتھ سینگ بھی تھا اور بھالہ پھر انہوں نے وصیت کی تھی کہ یہ ساری کمانیں اللہ کی راہ میں دے دی جائیں۔

كان عقبة بن عامر الجهني يخرج كل يوم و يستبعه فكان كاد ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ← زيد يعني أبا سلام ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4301

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4302

4302 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق نا معمر عمن سمع حرام بن معاوية يقول كتب إلينا عمر بن الخطاب : أن لا يجاوركم خنزير و لا يرفع فيكم صليب و لا تأكلوا على مائدة يشرب عليها الخمر و أدبوا الخيل و أمسوا بين الفرضين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اس کو ابوعبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے اس نے جس سے سنا حرام بن معاویہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہماری طرف حکم لکھا عمر بن خطاب نے کہ تمہارے پاس خنزیر نہیں ہونا چاہئے۔ اور تمہارے اندر صلیب اونچی نہیں کی جانی چاہئے۔ اور تم ایسے دستر خوان پر کھانا مت کھاؤ جس پر شراب دی جائیں اور گھوڑوں کو سدھاؤ اور دو فرضوں کے درمیان وقفہ کرو شام کا۔

حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← معمر عمن ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4302

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4303

4303 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن هو ابن سفيان نا حبان نا عبد الله بن المبارك أنا طلحة بن أبي سعيد قال : سمعت سعيد المقرىء حدث أنه سمع أبا هريرة يقول : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من احتبس فرسا في سبيل الله إيمانا بالله و تصديقا بوعده فإن شبعه و ريه و روثه و بوله في ميزانه يوم القيامة رواه البخاري في الصحيح عن علي بن حفص عن ابن المبارك

ہمیں خبر دی ابوعمر اور محمد بن عبداللہ الادیب نے ان کو ابوبکر اسماعیل نے ان کو خبر دی ہے حسن نے وہ ابن سفیان ہیں ان کو حبان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو طلحہ بن ابوسعید نے انہوں نے سنا سعید مقبری سے اس نے حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں گھوڑا روک کر رکھے اللہ پر ایمان کے ساتھ اور اس کے وعدے کی تصدیق کے ساتھ بے شک اس کا کھانا پینا اور اس کا لید و پیشاب وغیرہ قیامت کے دن سب وزن ہوگا بخاری نے اس کو روایت کیا ہے علی بن حفص سے اس نے ابن مبارک سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سعيد المقرىء حدث أنه ← طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ ← الحسن هو ابن سفيان ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Hadith 4303

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4304

4304 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن غالب أنا عبد الله بن مسلمة عن مالك ح أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني أنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم نا يحيى بن بكير نا مالك عن زيد بن أسلم عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الخيل لثلاثة لرجل أجر و لرجل ستر و على رجل وزر فأما الذي أجر فرجل ربطها في سبيل الله تعالى فأطال لها في مرج أو روضة فما أصابت في طيلها ذلك من المرج أو الروضة كانت له حسنات و لو أنها قطعت طليها ذلك فاستنت شرقا أو شرفين كانت آثارها و أرواثها حسنات له و لو أنها مرت بنهر فشربت منه و لم يرد أن يسقي به كان ذلك له حسنات فهي لذلك أجر و رجل ربطها تغنيا و تعففا و لم ينس حق الله في رقابها و لا ظهورها فهي لذلك ستر وجل و رجل ربطها فخرا ورياء و نوأ لأهل الإسلام فهي على ذلك وزر و سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن الحمر فقال : لم ينزل علي فيها شيء إلا هذه الآية الجامعة الفاذة فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره و من يعمل مثقال ذرة شرا يره رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن مسلمة و أخرجه مسلم من وجه آخر عن زيد بن أسلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو عبداللہ بن مسلمہ نے ان کو مالک نے۔ ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابواحمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہرجانی نے ان کو ابوبکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو مالک نے زید بن اسلم نے ان کوا بوصالح سمان نے ان کو ابوہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ گھوڑے البتہ تین طرح کے ہیں ایک آدمی کے لئے اجر و ثواب ہیں۔ دوسرے آدمی کے لئے ستر اور پردہ ہیں۔ تیسرے آدمی کے لئے گناہ اور بوجھ ہیں۔ بہر حال وہ گھوڑے جو آدمی کے لئے اجر و ثواب ہیں وہ ہے۔ جو اس کو اللہ کی راہ میں باندھ کر رکھتا ہے۔ اسے پالتا ہے پھر اس کی رسی خوب لمبی کرتا ہے۔ کسی چراگاہ میں یا ہریالی میں تا کہ وہ چاروں طرف گھوم کر چر سکے۔ لہذا وہ اس چراگاہ میں یا باغ میں جہاں تک گھومتا ہے مالک کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اگر وہ رسی توڑ کر ایک دو قدم بھاگ جائے تو بھی اس کے قدموں کے نشان اور اس کی لید پیشاب تابقدر اس کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ کسی گھاٹ یا شہر سے گذرتے ہوئے پانی پیتا ہے حالانکہ مالک کا پانی پلانے کا ارادہ بھی نہیں ہوتا پھر بھی اس کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ یہ گھوڑا ایسے آدمی کے لئے اجر و ثواب کا باعث ہے۔ دوسرا وہ آدمی ہے جس نے گھوڑا باندھ رکھا ہے غنی ہونے کا اظہار کرنے کے لئے اور سوال سے بچنے کے لئے اور اس کے ساتھ وہ اس کی گردن اور اس کی پیٹ پر اللہ کا حق بھی نہیں بھولتا وہ اس کے لئے ستر اور پردہ ہے تیسرا وہ آدمی ہے جس نے گھوڑ باندھا ہے فخر کرنے دکھاوا کرنے کے لئے اور اہل اسلام کی دشمنی کرنے کے لئے یہ گھوڑا مالک کے لئے وبال جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ ان کے بارے میں مجھ پر کوئی واضح حکم نازل نہیں ہوا مگر یہ آیت جو جامع ہے اور منفرد ہے کہ جو کوئی ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اس کا بدلہ پالے گا اور جو کوئی ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اس کو بھی وہ پالے گا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن مسلمہ سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے زید بن اسلم سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4304

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4305

4305 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخيل معقود في تواصيها الخير إلى يوم القيامة و الخيل ثلاثة خيل أجر و خيل وزر و خيل ستر فأما خيل ستر فمن اتخذها تعففا و تكرما و تجملا و لم ينس ظهورها و بطونها في عسره و يسره و أما خيل الجر فمن ارتبطها في سبيل الله فإنها لا تغيب في بطونها شيئا إلا كان له أجر حتى ذكر أرواثها و أبوالها و لا تعدوا في واد شرطا أو شوطين إلا كان في ميزانه و أما خيل الوزر فمن ارتبطها تبذخا على الناس فإنها لا تغيب في بطونها شيئا إلا كان ورزا عليه حتى ذكر أرواثها و أبوالها و لا تعدوا في واد شوطا أو شوطين إلا كان عليه وزر

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری سے اس نے اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے اس نے عبدالرزاق سے اس نے معمر سے اس نے سہیل بن ابوصالح سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ گھوڑے ایسی چیز ہیں کہ خیران کی پیشانیوں سے قیامت تک وابستہ ہے گھوڑے تین طرح ہیں۔ ایک گھوڑا اجر و ثواب ہے دوسرا گھوڑا گناہ اور بوجھ ہے تیسرا گھوڑ استر و پردہ بہر حال ستر وہ پردہ وہ گھوڑا ہے جو مالک رکھتا ہے سوال سے بچنے کے لئے عزت و شرف کے لئے خوبصورتی کے لئے اور اس کے پیٹھ اور پیٹ کو بھی نہیں بھولتا اپنی تنگی میں بھی اور سہولت میں بھی، (یعنی اس کو خوب کھلاتا ہے اور اللہ کے واسطے ضرورت مندوں کو سوار بھی کرتا ہے) بہر حال وہ گھوڑا جو باعث اجر و ثواب ہے۔ جو گھوڑا باندھتا ہے جہاد میں حفاظت کے طور پر۔ بے شک وہ ایسا ہے کہ اس کے پیٹ سے کوئی شئی غائب نہیں ہوتی مگر اس پر بھی اس کو اجر ملتا ہے حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لید اور پیشاب کو بھی ذکر کیا جہاں کہیں کسی وادی میں وہ دوڑتا ہے خواہ ایک دو قدم بھی ہوں وہ بھی اس کے میزان میں وزن کئے جائیں گے۔ بہر حال وہ جو بوجھ اور وبال ہوگا وہ وہ ہے جو گھوڑا باندھے لوگوں پر اترانے کے لئے اور اکڑنے کے لئے اس کے پیٹ سے جو کچھ بھی غائب ہوتا ہے وہ اس پر وبال ہوتا ہے حتیٰ کہ آپ نے اس کی لید اور پیشاب کا ذکر کیا اور وہ جہاں وادی میں ایک دو قدم بھی دوڑتا ہے وہ اس پر و بال ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Hadith 4305

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4306

4306 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر المخرمي نا سفيان بن عيينة قال : سمعت شعيب بن عروة بن غرقدة عن عروة البارقي قول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أو قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : و الخير معقود في نواصي الخيل إلى يوم القيامة قال سفيان و زاد فيه مجالد عن الشعي عن عروة البارقي الأجر و المغنم أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان عن شبيب

ہمیں خبر دی ابوعلی حسین بن محمد روذ باری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر مخرمی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا شبیب بن عروہ بن غرقدہ سے اس نے عروہ باری سے ایک قول جو رسول اللہ نے کہا۔ یا اس نے کہا کہ۔ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ خیر اور بھلائی قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں سے بندھی ہوئی ہے۔سفیان کہتے ہیں کہ مجاہد نے اس میں اضافہ کیا ہے شعبی سے اس نے عروہ بارقی سے۔اجر اور غنیمت کا بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث سفیان سے اس نے شبیب سے۔

عروة البارقي قول ← شعيب بن عروة بن غرقدة ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سعدان بن نصر المخرمي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Hadith 4306

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4307

4307 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق نا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفزاري عن سفيان قال : حدثني شعبة عن رجل من بني عجل : عن عكرمة و أعدوا لهم ما استطعتم من قوة و من رباط الخيل قال : القوة ذكور الخيل و الرباط الإناث قال الشيخ أحمد : و قد ذكرنا سائر الأحاديث التي وردت في إعداد الخيل و حبسها في كتاب السير و كتاب القسم و كتاب السبق و الرمي من كتاب السنن

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر بن حسن نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو معاویہ بن عمر نے ان کو ابواسحاق فزاری نے ان کو سفیان نے ان کو شعبہ نے ایک آدمی سے جو کہ بنو عجل سے ہیں۔ اس نے مکرمہ سے۔ کہ واعدو الهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخیل۔ عکرمہ نے کہا کہ قوت سے مراد گھوڑے ہیں۔رباط سے مراد مادہ گھوڑیاں ہیں۔ شیخ احمد بیہقی نے فرمایا۔ ہم نے وہ تمام احادیث جو گھوڑوں کے تیاری اور ان کو باندھنے کے بارے میں آئی ہیں ان کو ذکر کر دیا ہے کتاب السیر اور کتاب القسم اور کتاب السبق و الرمی میں۔ کتاب السنن میں۔

القوة ذكور الخيل و الرباط الإناث ← عكرمة و أعدوا لهم ما استطعتم من قوة و من رباط الخيل ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي عِجْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Hadith 4307

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood