شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4284
4284 - ـ : قال الله عز و جل : { يا أيها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقوا الله لعلكم تفلحون } قال : و المرابطة في سبيل الله تنزل من الجهاد و القتال منزلة الاعتكاف في المساجد من الصلاة لأن المرابط يقيم في وجه العدو متأهبا مستعدا حتى إذا أحسن من العدو و تحركه أو غفلة نهض فلا يفوته بالتأهب و الإتيان من بعد غرضه كما أن المعتكف يكون في موضع الصلاة مستعدا فإذا دخل الوقت و حضر الإمام قام إلى الصلاة و لم يشغله عن إتيان المساجد شاغل و لا حال بينه و بين الصلاة مع الإمام حائل و لا شك أن المرابطة أشق من الاعتكاف فإذا كان الاعتكاف مستحبا مندوبا إليه فالمرابطة مثله و الله أعلم 4284 - مكرر - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا هاشم بن القاسم نا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا و ما عليها و الروحة يروحها العبد في سبيل الله أو الغدوة خير من الدنيا و ما عليها و موضع سوط أحدكم في الجنة خير من الدنيا و ما عليها رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن منير عن هاشم أبي النضر
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ياايها الذين امنوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقو اللّٰه لعلكم تفلحون . اے اہل ایمان صبر کرو(جمے رہو) اور صبر کی تلقین کرو اور جہاد کے لئے تیار بیٹھو۔ اللہ سے ڈرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ مرابطہ فی سبیل اللہ جہاد اور قتال میں بمنزلہ اعتکاف کے ہے مساجد میں نماز میں سے (یعنی نماز میں اور عبادات مساجد جو مقام اعتکاف کو حاصل ہے وہی مقام جہاد میں مرابطہ کو ہے) اس لئے کہ مرابطہ کرنے والا دشمن کے سامنے اور اس کے منہ پر مستعد اور تیار کھڑا ہوتا ہے اور مورچہ سنبھالے ہوئے ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ جب دو دشمن سے ذرا سا بھی کوئی نقل و حرکت محسوس کرتا ہے فوراً کارروائی کرتا ہے۔ یا اس کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اٹھتا ہے اور اپنا کام کر جاتا ہے الغرض اس کے ہمہ وقت تیار اور مستعد رہنے کی وجہ سے اس سے اس کی کوئی کارروائی اور اس کا کوئی عمل فوت نہیں ہوتا جیسے معتکف نماز کے مقام پر مستعد ہوتا ہے جوں ہی وقت ہوتا ہے اور امام پہنچتا ہے یہ فوراً نماز کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے نہ مسجد کی طرف چل کر جانے کی فکر نہ جانے میں کوئی سستی نہ کوئی انتظار نہ ہی نماز کے اور اس کے درمیان اور کوئی حائل اور کوئی رکاوٹ باجماعت نماز میں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ (یہ تو اعتکاف کے ساتھ محض تمثیل ہے ورنہ) مرابطہ اور مورچہ پر ہتھیار باندھ کر مستعد رہنا اعتکاف سے بہت زیادہ سخت اور مشکل کام ہے۔ جب اعتکاف پسندیدہ مستحب اور مطلوب ہے تو مرابطہ بھی اسی طرح محبوب اور مطلوب ہے۔
الله عز و جل
Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4284
