Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4265

4265 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ أنا أحمد بن علي بن المثنى نا عبد الله بن محمد بن أسما نا عبد الله بن المبارك عن بقية بن الوليد عن بحير بن سعيد عن خالد بن معدان عن أبي مخرمة عن معاذ بن جبل : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الغزو غزوان فأما من ابتغى وجه الله عز و جل فأطاع الإمام و أنفق الكريمة و اجتنب الفساد كان نومه و نبهه أجر كله و أما من غزى فخرا و رياء و سمعة عصى الإمام و أفسد فإنه لا يرجع بكفاف

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو احمد بن علی بن مثنی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو بحر بن سعید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو ابومخرمہ نے ان کو معاذ بن جبل نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جہاد کی مقصد کے اعتبار سے اقسام : جہاد دو طرح کے ہوتے ہیں۔ بہر حال جو شخص اللہ کی رضا تلاش کرے اور امام کی اطاعت کرے اور اچھا مال خرچ کرے اور فساد سے اجتناب کرے تو اس کا سونا جاگنا سب اجر ہی ہوگا اور جو شخص لڑے فخر کرنے اور دکھاوا کرنے کے لئے اور شہرت کے لئے امام کی نافرمانی کرے اور فساد پھیلائے بے شک وہ نہیں لوٹے گا ساتھ کامیابی کے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أبي مخرمة ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعيد ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عبد الله بن محمد بن أسما ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4265

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4266

4266 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة : أن رجلا من الشام يقال له شرحبيل الذي يقال له ابن المسط كان بالكوفة فاعتلاه رجل من قومه فحلف لا يساكنه بأرض وهو بها فأتى الشام فكان بها يوما جالسا و عنده ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فقال : من يحدثنا حديثا سمعه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رجل من يني سليم يقال له عمرو بن عنيسة أنا قال : إيها الله أبوك واحذر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من رمى بسهم في سبيل الله فهو يعدل رقبة فقال : ايها لله أبوك واحذر فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أصابه شيب في سبيل الله جعله الله عز و جل له نورا يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب بن ابوقلابہ نے کہ ایک آدمی اہل شام میں سے تھا اسے شرحبیل کہتے تھے اور ابن سمط بھی کہتے تھے کوفے میں تھا۔ اس پر اس کی قوم کے ایک آدمی نے زیادتی کی تھی اس نے قسم کھا لی کہ وہ ان کے ساتھ کسی جگہ سکونت نہیں رکھے گا وہ کوفے میں تھا لہذا وہ شام میں آ گیا ایک دن وہاں بیٹھا تھا اور اس کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے اصحاب رسول میں سے۔اس نے پوچھا کہ کون ہمیں حدیث بیان کرے گا جو اس نے رسول اللہ سے سنی ہو۔ چنانچہ بنی سلیم کے ایک آدمی نے اس سے کہا کہ میں سناتا ہوں اس کو عمرو بن عنبسہ کہتے تھے اس نے کہا کہ تم اللہ سے ڈرو اس نے کہا کہ میں نے سنا رسول اللہ فرماتے تھے جو شخص اللہ کی راہ میں تیر مارے وہ ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ہے۔اس آدمی نے کہا تیرا باپ فدا ہو اللہ سے ڈر کیا تمہیں اللہ کی قسم ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے سنا رسول اللہ فرماتے تھے جس کو اللہ کی راہ میں بالوں کی سفیدی پہنچ جائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت کے دن نور بنائیں گے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4266

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4267

4267 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن الأعمش قال : سمعت أبا عمرو الشيباني يحدث عن أبي مسعود : أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم بناقة مزمومة صدقة يعني في سبيل الله فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : لك يوم القيامة بها سبعمائة ناقة مزمومة أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة و غيره

ہمیں خبر دی ابوبکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو اعمش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعمرو شیبانی سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابومسعود سے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا مہار لگی ہوئی اونٹنی لے کر کہ یہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تیرے لئے قیامت کے دن اس کے بدلے میں سات سو مہار ڈلی ہوئی اونٹنیاں ہیں۔اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا حدیث شعبہ سے۔

أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4267

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4268

4268 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف أنا دعلج بن أحمد السجزي ببغداد نا محمد بن شاذان الجوهري نا معاوية بن عمر ح و أخرجه أبو عبد الله الحافظ قال حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالونه نا أبو بكر محمد بن أحمد بن النضر الأزدي ابن ابنة معاوية بن عمرو نا جدي معاوية بن عمرو نا زائدة نا الركين بن الربيع بن عميلة الفرازي عن أبيه عن يسير بن عملية عن خريم بن فاتك الأسدي : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أنفق نفقة في سبيل الله كتب سبعمائة ضعف

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یوسف نے ان کو دعلج بن احمد سجزی نے بغداد میں ان کو محمد بن شاذان جوہری نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ’’ح“ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن مالویہ نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن نضر ازدی نے ان کو معاویہ بن عمرو کے نواسے نے ان کو ان کے نانا معاویہ بن عمرو نے ان کو زائدہ نے ان کو رکین بن ربیع نے بن عمیلہ فزاری نے ان کو ان کے والد نے یسیر بن عمیلہ سے اس نے خریم بن فاتک اسدی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے اس کے لئے سات سو گنا زیادہ لکھا جائے گا۔

سبعمائة ضعف ← «مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ← يسير بن عملية ← أَبِيهِ ← الركين بن الربيع بن عميلة الفرازي ← زَائِدَۃَ، ← جَدِّي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن النضر الأزدي ابن ابنة معاوية بن عمرو ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← و أخرجه أبو عبد الله الحافظ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عُمَرَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4268

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4269

4269 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا عبد الرحمن بن حمدان الجلاب بهمدان نا هلال بن العلاء الرقي نا أحمد بن عبد الملك ثنا عبيدة بن عبد الرحمن عن الركين بن الربيع عن عمه عن خريم بن فاتك الأسدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و اللفظ لحديثه هذا قال : حدثني أبو بكر بن بالونه نا محمد بن أحمد بن النضر نا جدي معاوية بن عمرو نا سلمة بن جعفر البجلي عن الركين بن الربيع قال : حدثني عمي عن أبي يحيى خريم بن فاتك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الناس أربعة و الأعمال ستة فموجبات و مثل بمثل و عشرة أضعاف و سبع مائة و ضعف فمن مات كافرا وجبت له النار و من مات مؤمنا وجيت له الجنة و العبد يعمل بالسيئة فلا يجزي إلا بمثلها العبد يهم بالحسنة فتكتب له حسنة و العبد يعمل بالحسنة فتكتب له عشرا و العبد ينفق النفقة في سبيل الله فيضاعف له سبعمائة ضعف و الناس أربعة فموسع عليه في الدنيا و موسع عليه في الآخرة و موسع عليه في الدنيا و مقتر عليه في الآخرة و مقتر عليه في الدنيا و موسع عليه في الآخرة و شقي في الدنيا والآخرة

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حمدان جلاب ہمدان نے۔ ان کو ہلال بن علاءرقی نے ان کو احمد بن عبدالملک نے ان کو عبید بن عبدالرحمٰن نے ان کورکین بن ربیع نے ان کو ان کے چچا نے ان کو خریم بن فاتک اسدی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’ح“ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے اور یہ لفظ اسی کی حدیث کے ہیں۔ ان کو ابوبکر بن بالویہ نے ان کو محمد بن احمد بن نضر نے ان کو ان کے نانا معاویہ بن عمرو نے ان کو سلمہ بن جعفر بجلی نے ان کو رکین بن ربیع نے ان کو ان کے چچا نے ان کو ابویحییٰ خریم بن فاتک نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگ چار قسم کے ہیں اور اعمال چھ قسم میں کچھ موجبات ہیں۔ کچھ برابر سرابر ہیں کچھ دس گنا ہیں۔ کچھ سات سو گنا ہیں۔ جو شخص کافر مر گیا۔ اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی۔ جو مؤمن مر گیا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ بندہ عمل کرتا ہے برائی کا تو اس کی جزا اسی کے مثل دیا جاتا ہے، ایک بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لئے نیکی لکھ دی جاتی ہے اور ایک بندہ نیکی کا عمل کرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ایک آدمی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کے لئے سات سو گناہ نیکی لکھی جاتی ہے۔ اور لوگ چار قسم کے ہیں۔ ایک وہ جس پر دنیا میں وسعت دے دی گئی ہے۔ اور آخرت میں بھی وسعت دی گئی ہے۔ دوسرا وہ ہے جس کو دنیا میں کشادگی دی گئی ہے مگر اس پر آخرت میں تنگی ہے۔ تیسرا وہ ہے جس کی دنیا میں تنگی ہے اور آخرت میں فراخی ہے۔ چوتھا وہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کا محروم ہے۔

خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ← عَمِّہٖ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← عبيدة بن عبد الرحمن ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4269

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4270

4270 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أحمد بن علي الخزاز نا بشر بن آدم الضرير نا مسلمة بن جعفر البجلي : فذكره بإسناده و معناه غير أنه زاد عند الهم بالحسنة فتكتب له حسنة و عشرة أضعاف و العبد يعمل بالحسنة فتكتب له عشرا و سبعمائة ضعف و قال في آخره و مقتور عليه في الدنيا و الآخرة قال البخاري الأول أصح يعني رواية من رواه عن الركين عن أبيه عن عمه يسير بن خريم بن فاتك مقتر عليه في الدنيا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن علی خزاز نے ان کو بشر بن آدم فرید نے ان کو مسلمہ بن جعفر بجلی نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ اور اس کے مفہوم کو سوائے اس کے کہ اس نے یہ زیادہ کیا ہے۔ کہ اس کے نیکی کا ارادہ کرتے وقت اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور دس گنا۔ اور ایک بندہ نیکی کا عمل کرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکی لکھی جاتی ہیں اور سات سو گونہ اور اس کے آخر میں کہا ہے کہ ایک وہ ہے یوں ہے (جو دنیا اور آخرت دونوں میں محروم ہے یا محتاج و غریب ہے۔) بخاری نے کہا ہے کہ پہلی روایت زیادہ صحیح ہے یعنی وہ روایت جس کو کسی نے رکین سے روایت کیا ہو اس کے والد سے اس نے اپنے پچا یسیر بن عمیلہ سے اس نے حزیم بن فاتک سے کہ ایک وہ ہے جو دنیا میں تنگ دست ہے۔

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4270

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4271

4271 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عبد الله بن محمد بن اسما نا مهدي بن ميمون نا واصل مولى أبي عيينة عن ابن أبي سيف عن الوليد بن عبد الرحمن رجل من فقهاء أهل الشام عن عياض بن عطيف قال : دخلت على أبي عبيدة بن الجراح فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من أنفق نفقة فاضلة في سبيل الله فبسبع مائة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن محمد بن اسمانا مہدی بن میمون نے ان کو واصل مولیٰ ابوعینہ نے ان کو ابن ابوسیف نے ان کو ولید بن عبدالرحمٰن نے یہ فقہاء اہل شام میں سے ایک آدمی تھے وہ عیاض بن عطیف سے وہ کہتے ہیں کہ میں ابوعبیدہ بن جراح کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ جو شخص فاضل خرچ کرے اللہ کی راہ میں اس کے پاس ان کے لئے سات سو گنا ہے۔

من أنفق نفقة فاضلة في سبيل الله فبسبع مائة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← دخلت على أبي عبيدة بن الجراح فقال إني ← عياض بن عطيف ← الوليد بن عبد الرحمن رجل من فقهاء أهل الشام ← ابْنِ أَبِي سَيْفٍ، ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عبد الله بن محمد بن أسما ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4271

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4272

4272 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أبي علي بن السقا أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن المنهال نا يزيد بن زريع نا يونس بن عبيد عن الحسن عن صعصعة بن معاوية قال : دخلت على أبي ذر قال : قلت مالك قال لي عملي لي عملي قلت : حدثني رحمك الله قال : نعم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من عبد مسلم ينفق من ماله زوجين في سبيل الله تعالى إلا استبقته حجبة الجنة كلهم يدعوه إلى ما عنده قلت : كيف ذاك رحمك الله قال : إن كانت رجلا و إن كانت إبلا فبعيرين و إن كانت بقرا فبقرتين

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن سقاء نے ان کو حسن بن اسحاق بن یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن منھال نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے ان کو صعصعہ بن معاویہ نے کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوذ رکو ملنے گیا تو میں نے پوچھا کہ کیا ہوا تو انہوں نے فرمایا میرے لئے میر اعمل ہے میرے لئے میرا عمل ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے کوئی حدیث بیان کیجئے اللہ تجھ پر رحم کرے کہا کہ جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ جو بھی بندہ مسلم اپنے مال میں سے دو جوڑے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے مگر اس کو جنت کے محافظ سب کے سب اپنی طرف بلاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دو جوڑ کیسے؟ فرمایا کہ ایک آدمی ہے، تو دو آدمی اور ایک اونٹ ہے تو دو اونٹ اگر ایک گائے ہے تو دو گائے۔

نَعَمْ ← رحمك الله ← لي عملي لي عملي قلت ← قلت مالك ← دخلت على أبي ذر ← صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن أبي علي بن السقا

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4272

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4273

4273 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى نا إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم الخولاني : أن روح بن زنباع زار تميم الداري فوجده ينقي شعيرا لفرسه قال : و حوله أهله فقال له روح : أما كان في هؤلاء من يكفيك فقال تميم : بلى و لكني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من امرىء مسلم ينقي لفرسه شعيرا ثم يعلقه عليه إلا كتب الله له بكل حبة حسنة

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے اور ابوبکر فارسی نے ان کو ابوعمرو بن مضر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو شرحبیل بن مسلم خولانی نے ان کو روح بن زنباع نے کہ جنہوں نے تمیم داری سے ملاقات کی پسں انہوں نے پایا ان کو کہ جوکے دانے صاف کر رہے تھے اپنے گھوڑے کے لئے۔ اور کہا اس کے گرد اس کے گھر والے تھے لہذا روح نے انس سے کہا کیا ان لوگوں میں کوئی نہیں تھا جو یہ کام کر لیتا آپ کی طرف سے۔ تمیم نے کہا کہ ہاں ہے مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ جو مسلمان مرد اپنے گھوڑے کے لئے جو کو صاف کرتا ہے پھر اس کاگھوڑے کا تھیلا چڑھاتا ہے کھانے کے لئے مگر اللہ اس کے لئے ہر ایک دانے کے بدلے میں ایک نیکی لکھتا ہے۔

شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلاَنِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو عمرو بن مطر إبراهيم بن علي ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4273

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4274

4274 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو عمير عيسى بن محمد بن النحاس نا أحمد بن مزيد بن روح الرازي رجل من آل نعيم الداري عن محمد بن عقبة القاضي عن أبيه عن جده : أتينا تميم الداري و هو يعالج شعيرا لفرسه فقلنا له : يا أبا رقية أما لك من يكفيك ؟ قال : بلى و لكني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من ارتبط فرسا في سبيل الله عز و جل عالج علفه بيده كان له بكل حبة حسنة قال ابن عمير : لم يكن لتميم ذكر إنما كان له ابنة يقال لها رقية فتكنى بها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابوعمیر عیسیٰ بن محمد بن نحاس نے ان کو احمد بن فرید بن روح رازی نے وہ آدمی تمیم داری کے جوان تھے وہ روایت کرتے ہیں محمد بن عقبہ قاضی سے وہ ان کے والد سے وہ ان کے نانا سے وہ کہتے ہیں کہ ہم آئے تمیم داری کے پاس اور وہ اپنے گھوڑے کے لئے جو ملا رہے تھے (یا درست کر رہے تھے) ہم نے ان سے کہا اے ابورقیہ کیا دوسرا کوئی نہیں تھا جو آپ کا یہ کام کر دیتا آپ کو نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ہیں تو مگر میں نے چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ فرماتے تھے جو شخص اللہ کی راہ میں گھوڑا یا ندھے اس کا چارا اپنے ہاتھ ساتھ تیار کرے اس کے لئے ہر دانے کے بدلے میں ایک نیکی ہے۔ ابن عمیر نے کہا کہ تمیم کا بیٹا نہیں تھا۔ صرف ایک بیٹی تھی نام رقیہ تھا اس لئے ان کی یہی کنیت تھی۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الْقَاضِي ← أحمد بن مزيد بن روح الرازي رجل من آل نعيم الداري ← أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّحَّاسِ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4274

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4275

4275 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن رمح التجيبي حدثني الليث بن سعد عن حيوة بن شريح عن ابن شفى عن أبيه عن عبد الله بن عمر و بن العاص : أن رسول الله قال : قفلة كغزوة و قال النبي صلى الله عليه و سلم : للغازي أجرة و للجاعل أجرة و أجر الغازي

ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو محمد بن رحم تجیبی نے ان کولیث بن سعد نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو ابن شفی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جہاد کے لئے سواری بخشش کرنا جہاد کرنے کی طرح ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجاہد کے لئے معاوضہ ہے اور بنانے والے کی اجرت ہوتی ہے اور غازی کے لئے اجر ہے۔

عبد الله بن عمر و بن العاص ← أَبِيهِ ← ابْنِ شُفَيٍّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدَ بْنَ رُمْحٍ التُّجِيبِيَّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4275

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4276

4276 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو طاهر الفقيه و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو الشاذياخي و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم قال : نا أبي و شعيب بن الليث قالا : أنا الليث عن ابن الهاد عن الوليد بن أبي الوليد عن عثمان بن سراقة عن عمر بن الخطاب قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أظل رأس غازي أظله الله يوم القيامة و من جهز غازيا حتى يستقبل كان له مثل أجره حتى يموت أو يرجع ومن بنى مسجدا يذكر فيه اسم الله بنى الله له بيتا في الجنة قال : و قال الوليد فذكرت هذا الحديث للقاسم بن محمد فقال : قد بلغني هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فذكرته لمحمد بن المنكدر و لزيد بن أسلم و كلاهما قد قال بلغني هذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوطاہر فقیہ نے اور ابوزکریا بن ابواسحٰق نے اور ابوالعباس شاذیاخی نے اور ابوسعید بن ابوعمرو نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہمارے والد نے اور شعیب بن لیث نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے لیث نے ان کو ابن ھاد نے ان کو ولید بن ابوالولید نے ان کو عثمان بن سراقہ نے ان کو عمر بن خطاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو شخص غازی کے سر پر سایہ کرے اللہ قیامت کے دن اس کے اوپر سایہ کریں گے۔ اور جو شخص مجاہد کی تیاری کروائے یہاں تک کہ وہ تیار ہو کر روانہ ہو جائے اس کے لئے مجاہد کے برابر اجر ہوگا یہاں تک کہ وہ شہید ہو جائے یا زندہ واپس آ جائے۔اور جو شخص مسجد بنائے جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا۔ کہتے ہیں کہ ولید نے کہا کہ میں نے یہ حدیث ذکر کی قاسم بن محمد بن منکدر سے اور زید بن اسلم سے اور دونوں نے کہا کہ یہ حدیث میرے پاس بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سُرَاقَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← أبي و شعيب بن الليث ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4276

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood