Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4253

4253 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد بن شريك نا عبد الوهاب نا بقية عن ابن ثوبان عن أبيه يرده إلى مكحول إلى كثير بن مرة إلى قيس الجذامي حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : للقتيل عند الله ست خصال فذكرهن غير أنه قال حلة الإيمان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو بقیہ نے ان کو ابن ثوبان نے ان کو ان کے والد نے ان کو مکحول نے ان کو کثیر بن مرہ نے ان کو قیس بن جذامی نے اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ شہید مقتول کے لئے اللہ کے نزدیک اچھے انعام ہیں۔ پھر مذکورہ انعام گنوائے ہیں سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ایمان کی پوشاک۔

أبيه يرده إلى مكحول إلى كثير بن مرة إلى قيس الجذامي ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← بَقِيَّةُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← أحمد بن عبيد بن شريك ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4253

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4254

4254 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا خلف بن عمرو العكبري نا سعيد بن منصور نا إسماعيل بن عباس ح و أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي الذهلي نا يحيى بن يحيى أنا إسماعيل بن عياش عن بحير بن سعد الكلاعي عن خالد بن معدان عن المقدام بن معدي كرب : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن للشهيد عند الله عز و جل خصالا بغفر له في أول دفقة من دمه و يرى مقعده من الجنة و يحلى عليه حلة الإيمان و يزوج من الحور العين و يجار من عذاب القبر و يأمن يوم الفزع الأكبر و يوضع على رأسه تاج الوقار الياقوتة منه خير من الدنيا و ما فيها و يزوج اثنين و سبعين زوجة من الحور العين و يشفع في سبعين إنسان من أقاربه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو خلف بن عمرو عکبری نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عباس نے۔ ’’ح‘‘۔ شہید کے لئے کچھ انعامات: ان کو ابوبکرمحمد بن محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی ذہلی نے ان کو یحییٰ بن بکران کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو بحیر بن سعد کلاعی نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو مقدام بن معد یکرب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا۔ بے شک شہید کے لئے اللہ کے ہاں کچھ انعامات ہیں۔ (۱)اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔اس کے خون کے پہلے فوارے کے پھوٹتے ہی۔ (۲) اور وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے۔ (۳) اور اس پر ایمان کی پوشاک آراستہ کر دی جاتی ہے۔ (۴) اور حورالعین سے اس کی شادی ہو جاتی ہے۔ (۵)اور عذاب قبر سے بچا لیا جاتا ہے۔ (۶)اور فزع اکبر سے بڑی قیامت والی گھبراہٹ سے اس کو امن مل جاتا ہے۔ (۷ ) اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جو کہ یاقوت سے مرصع ہوتا ہے اور وہ یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔ (۸)اور بہتّر ۷۲ حوروں سے اس کی شادی کی جاتی ہے۔ (۹)اور اس کے قریبی رشتہ داروں میں سے ستر انسانوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعد الكلاعي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ← عمرو بن مطر ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ ← و، ← إسماعيل بن عباس ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4254

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4255

4255 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي المؤملي نا عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا الفضل بن محمد البيهقي نا محمد بن معاوية النيسابوري بمكة نا مسلم الزنجي عن شريك بن عبد الله بن أبي نمر عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الشهداء ثلاثة رجل خرج بنفسه و ماله محتسبا في سبيل الله يريد أن لا يقتل و لا يقتل و لا يقاتل يكثر سواد المسلمين فإن مات أو قتل غفرت له ذنوبه كلها و أجير من عذاب القبر و أومن من الفزع الأكبر و زوج من الحور العين و حلت عليه حلة الكرامة و وضع على رأسه تاج الوقار و الحسن و الثاني رجل خرج بنفسه و ماله محتسبا يريد أن يقتل و لا يقتل فإن مات أو قتل كانت ركبته مع ركبة إبراهيم خليل الرحمن بين يدي الله عز و جل في مقعد صدق عند مليك مقتدر و الثالث رجل خرج بنفسه و ماله محتسبا يريد أن يقتل و يقتل فإن مات أو قتل جاء يوم القيامة شاهرا سيفه واضعه على عاتقه و الناس جاثون على الركب يقولون ألا أفسحوا لنا مرتين فإنا قد بذلنا دمائنا و أموالنا لله تعالى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي نفسي بيده لو قالوا ذلك لإبراهيم خليل الرحمن أو لبني من الأنبياء لتنحى لهم عن الطريق لما يرى من واجب حقهم حتى يأتوا منابر من نور عن يمين العرش فيجلسون فينظرون كيف يقضي بين الناس لا يجدون غمر الموت و لا يغتمون في البرزخ و لا تفزعهم الصيحة و لا يهمهم الحساب و لا الميزان و لا الصراط ينظرون كيف يقضي بين الناس و لا يسألون شيئا أعطوا و لا يشفعون في شيء إلا شفعوا فيه و يعطي من الجنة ما أحب و ينزل من الجنة حيث أحب محمد بن معاوية النيسابوري غيره أوثق منه

ہمیں خبر دی ابومحمد بن حسن بن علی مؤملی نے ان کو ابوعثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو فضل بن محمد بیہقی نے ان کومحمد بن معاویہ نیساپوری نے مکہ میں ان کو مسلم زنگی نے ان کو شریک بن عبداللہ بن ابوعمر نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ... شہداء تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو اپنی جان اور مال سمیت نکلتا ہے اللہ کی راہ میں ثواب کے حاصل کرنے کی نیت کے ساتھ۔ ارادہ کرتا ہے کہ نہ وہ کسی کوقتل کرے اور نہ ہی اس کو کوئی قتل کرے اور نہ ہی وہ لڑے مگر مسلمانوں کی جماعت کو زیادہ کر دے یہ شخص اگر مر جائے یا قتل ہو جائے اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اور عذاب قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت والی سب سے بڑی گھبراہٹ سے امن دیا جائے گا۔ اور حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی اور اس پر عزت و اکرام کی پوشاک پہنائی جائے گی اور اس کے سر پر حسن وقار کا تاج رکھا جائے گا۔ دوسری قسم شہداء کی یہ ہے کہ جو شخص اپنے نفس اور مال کے ساتھ طلب ثواب کی نیت کے ساتھ نکلے ارادہ کرتا ہے کہ وہ قتل ہو جائے مگر کسی کو قتل نہ کرے اگر یہ شخص مر جائے یا قتل ہو جائے اس شہید کا گھٹنا قیامت کے دن حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے گھٹنے کے ساتھ ملا ہوا ہوگا اللہ تعالیٰ کے سامنے۔ سچائی کے ٹھکانے میں صاحب اقتدار بادشاہ کے سامنے۔ تیسری قسم کا شہید وہ ہے۔ جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلتا ہے جب کہ ثواب کی نیت کے ساتھ ارادہ یہ کرتا ہے کہ کافروں کو قتل کرے اور خود بھی قتل کر دیا جائے اگر یہ شخص مر جائے یا قتل کر دیا جائے قیامت کے دن یہ ننگی تلوار لہراتا ہوا آئے گا اور اپنے کندھے پر رکھ لے گا اور لوگ سواریوں پر آئیں گے اور کہیں گے خبر دار ہمارے لئے جگہ دو فراخ کرو دوبار بے شک ہم لوگوں نے اپنے خون اور اپنے مال اللہ کے لئے خرچ کئے تھے رسول اللہ نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ اگر وہ لوگ یہ بات ابراہیم خلیل اللہ سے کہیں یا نبیوں میں سے کسی اور نبی سے کہیں تو وہ بھی ان کے لئے راستے سے کنارے ہو جائیں گے اس لئے کہ وہ جب ان کا حق واجب دیکھیں گے حتیٰ کہ وہ نور کے ممبروں میں آئیں گے عرش کی دائیں جانب اور وہ بیٹھ کر نظارہ کریں گے کہ کیسے لوگوں کے مابین فیصلہ کیا جاتا ہے۔ نہ وہ موت کی بیہوشی پائیں گے نہ وہ برزخ میں غمگین ہوں گے۔ اور نہ قیامت کی بھیانک چیخ ان کو ڈرائے گی۔ اور نہ ان کو حساب کی فکر ہوگی نہ میزان کی۔ نہ ہی پل صراط کی۔ وہ دیکھیں گے کہ لوگوں کے مابین کیسے فیصلہ ہوتا ہے جو بھی شئی مانگیں گے فوراً ملے گی جس کی سفارش کر یں گے قبول ہوگی جو پسند کریں گے جنت سے وہی ملے گا جنت سے جہاں چاہیں گے اتر جائیں گے۔ محمد بن معاویہ نیساپوری سے اس کے غیر زیادہ ثقہ ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← مُسْلِمٌ الزَّنْجِيُّ، ← محمد بن معاوية النيسابوري بمكة ← الفضل بن محمد البيهقي ← عثمان عمرو بن عبد الله البصري ← أبو محمد الحسن بن علي المؤملي

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4255

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4256

4256 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي نا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لغدوة في سبيل الله أو روحة خير من الدنيا و ما فيها رواه مسلم في الصحيح عن العقنبي

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالنضر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ البتہ ایک صبح یا ایک شام اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں گذارنا) ساری دنیا سے اور اس سے جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔اس کو مسلم نے قعنبی سے روایت کیا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4256

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4257

4257 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان رحمه الله املاء و أبو عبد الله الحافظ و أبو طاهر الفقيه و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو سعيد بن أبي عمرو قراءة عليهم قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم نا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا أبي و شعيب بن الليث قالا : أنا الليث بن سعد عن ابن الهاد عن سهيل بن أبي صالح عن صفوان بن أبي يزيد عن القعقاع بن اللجلاح عن أبي هريرة أنه : سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يجتمع غبار في سبيل الله و دخان جهنم في جوف عبد أبدا و لا يجتمع الشح و الإيمان في قلب عبد أبدا

ہمیں حدیث بیان کی امام ابوالطیب سہل بن محمد بن سلیمان اصم نے بطور املاء کے اور ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوطاہر فقیہ نے اور ان کو ابوزکریا بن ابواسحاق نے اور ابوسعید بن ابوعمرو نے بطور ان پر قرأت کے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب اصم نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے ان کو میرے والد نے اور شعب بن لیث نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو ابن الھاد نے ان کو سہیل بن ابوصالح نے ان کو صفوان بن یزید نے ان کو قعقاع بن لجاج نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔ اللہ کی راہ میں لگنے والا غبار اور جہنم کا دھواں کسی بندے کے پیٹ میں جمع نہیں ہو سکتے اور بخل اور ایمان بھی کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← القعقاع بن اللجلاح ← صَفْوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أبي و شعيب بن الليث ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4257

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4258

4258 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل نا جدي نا عبد الله بن صالح أن أبا شريح المغافري حدثه عن أبي هاني عن أبي علي الجنبي عن أبي سعيد الخدري : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من رضي بالله ربا و بالإسلام دينا و بمحمد رسولا وجبت له الجنة قال أبو سعيد : فحمدت الله تعالى و كبرت و سررت به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و أخرى يرفع الله بها في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء و الأرض أو أبعد ما بين السماء و الأرض قال : قلت و ما ذاك يا رسول الله قال : الجهاد في سبيل الله الجهاد في سبيل الله و قد أخرجناه في كتاب السنن من حديث ابن وهب عن أبي هاني و من ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن محمد بن فضل نے ان کو ان کے دادا نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو ابوشریح مغافری نے ان کو ابوھانی نے ان کو ابوعلی جنبی نے ان کو ابوسعید خدری نے اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ جو شخص اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اورمحمدصلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ ابوسعید نے کہا میں نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کی اور آہستہ کہا۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ اور دوسری چیز اللہ جس کے ساتھ جس کے ساتھ جنت میں ایک سو درجہ بلند کریں گے۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جیسے آسمان و زمین کا۔ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کہا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ جہاد فی سبیل اللہ۔ اور تحقیق ہم نے اس کو نقل کیا ہے کتاب السنن میں ابن وہب کی حدیث سے اس نے ابوہانی سے اور اسی طریق سے نقل کیا ہے اس کو مسلم نے صحیح میں۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4258

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4259

4259 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب أنا عمرو بن الحارث أن أبا عشانة المغافري حدثه أنه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن أول ثلاثة تدخل الجنة الفقراء المهاجرين الذين يتقي بهم المكاره إذا أمروا سمعوا و أطاعوا و إن كانت لرجل منهم حاجة إلى السلطان لم يقض له حتى يموت و هي في صدره و إن الله يدعو يوم القيامة الجنة فتأتي بزخرفها و زينتها فيقول أي عبادي الذين قاتلوا في سبيل الله و قتلوا أو أوذوا في سبيلي و جاهدوا في سبيلي أدخلوا الجنة فيدخلونها بغير حساب و لا عذاب فتأتي الملائكة فيقولون ربنا نحن نسبح لك الليل و النهار و نقدس لك من هؤلاء الذين آثرتهم علينا ؟ فيقول الرب تبارك و تعالى : و هؤلاء الذين قاتلوا في سبيلي و أوذوا في سبيلي فتدخل عليهم الملائكة من كل باب سلام عليكم بما صبرتم فنعم عقبى الدار

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو حمد بن عبدالحکم نے ان کو ابن وہب نے ان کو مرد بن حارث نے یہ کہ ابوعشانہ مغافری نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ سے وہ فرماتے تھے۔ پہلے تین گروہ جو جنت میں داخل ہوں گے فقراء مہاجر ہوں گے وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے مشکلات سے بچاؤ کیا جاتا ہے جب انہیں حکم ملتا ہے تو وہ سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں اور ان کے کسی آدمی کی حکمران تک کوئی حاجت ہو تو وہ پوری نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے اور حاجت اس کے دل میں ہی ہوتی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کو بلائے گا وہ اپنی خوبصورتی اور آراستگی سمیت آئے گی اور حکم دے گا اے میرے بندو جنہوں نے اللہ کی راہ میں قتال کیا تھا اور وہ قتل کر دیئے گئے تھے۔ یا میری راہ میں ستائے گئے تھے۔ اور جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا تھا تم سب جنت میں داخل ہو جاؤ لہذا وہ بغیر حساب کے اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔اور فرشتے آئیں گے اور آ کر کہیں گے اے ہمارے رب ہم رات دن تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ جن کو آپ نے ہمارے اوپر ترجیح دی ہے۔ پس رب تعالیٰ فرمائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا تھا اور میری راہ میں ستائے گئے تھے لہذا ان پر فرشتے داخل ہوں گے ہر دروازے سے (اور کہیں گے) سلام ہو تم پر بسبب اس صبر کے جو تم نے کیا تھا پس اچھا ہے آخری گھر۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَنَّهُ ← عمرو بن الحارث أن أبا عشانة المغافري ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4259

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4260

4260 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس المعقلي أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب أخبرني سعيد بن أبي أيوب عن عياش بن عباس عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتعلم أول زمرة دخل الجنة من أمتي ؟ قلنا : الله و رسوله أعلم قال : فقراء المهاجرين يأتون يوم القيامة إلى باب الجنة و يستفتحون فنقول لهم الخزنة أو قد حوسبتم ؟ قالوا : بأي شيء تحاسبونا و إنما كانت أسيافنا على عواتقنا في سبيل الله حتى متنا على ذلك قال : فيفتح لهم فيقيلون فيها أربعين عاما فيل أن يدخلها الناس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس معقلی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن حکم نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی سعید بن ابوایوب نے ان کو عیاش بن عباس نے ان کو ابوعبدالرحمٰن حیلی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا۔ کیا تم جانتے ہو میری امت کے پہلے گروہ کو جو جنت میں داخل ہوگا ؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتا ہے۔ فرمایا کہ وہ فقراء مہاجرین ہوں گے قیامت کے دن وہ جنت کے درازے پر آئیں گے اور دروازہ کھلوائیں گے جنت کے دربان ان سے پوچھیں گے کیا تمہارا حساب ہو گیا ہے؟ وہ جواب دیں گے کہ کس چیز کا تم لوگ ہم سے حساب لو گے تلواریں ہمارے کندھوں پر تھیں ہم اللہ کی راہ میں تھے کہ ہم لوگ اسی حال میں فوت ہو گئے تھے۔ فرمایا کہ پھر ان کے لئے دروازہ کھلے گا اور باقی لوگوں کے داخل ہونے سے قبل پالیس سال جنت میں آرام کریں گے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَعْقِلِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4260

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4261

4261 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني أنا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق عن صفوان يعني ابن عمرو عن ابن المثنى عن عتبة بن عبد السلمي و كان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : القتلى ثلاثة رجل مؤمن جاهد بنفسه و ماله في سبيل الله حتى إذا لقي العدو و قاتلهم حتى يقتل فذلك الشهيد الممتحن في جنة الله تحت عرشه لا يفضله النبيون إلا بدرجة النبوة و رجل مؤمن فرق على نفسه من الذنوب و الخطايا جاهد بماله و نفسه في سبيل الله حتى إذا لقي العدو و قاتل حتى يقتل فتلك مخمصة تحط من ذنوبه و خطاياه عن السيف محاء الخطايا و أدخل من أي أبواب الجنة شاء فإن ثمانية أبواب و لجهنم سبعة أبواب و بعضها أفضل من بعض و رجل منافق جاهد بنفسه و ماله حتى إذا لقي العدو قاتل في سبيل الله حتى يقتل فإن ذلك في النار إن السيف لا يمحو النفاق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کومحمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابواسحاق نے ان کو صفوان نے یعنی ابن عمر نے ان کو ابن مثنیٰ نے ان کو عتبہ بن عبدالسلمی نے اور وہ اصحاب رسول میں سے تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مقتول تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو ایماندار آدمی جو اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے یہاں تک کہ وہ جب دشمن کے ساتھ ٹکرائے ان سے لڑے حتیٰ کہ خود بھی قتل ہو جائے یہ شہید ہے جو آزمایا جا چکا ہے یہ اللہ کی جنت میں ہوگا اس کے عرش کے نیچے اس کے نبی صرف درجہ نبوت کے ساتھ ہی ان سے فضیلت رکھیں گے۔ دوسر اوہ آدمی جو اپنے نفس کے ساتھ گناہوں اور خطاؤں سے الگ ہوا اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ جب وہ دشمن سے جا ٹکرایا اور قتال کیا حتیٰ کہ خود بھی قتل ہو گیا۔ یہ ایسی چادر ہے کہ جس نے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی ہیں بے شک تلوار (شہید کرنے والی) گناہوں کو خوب مٹاتی ہے وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل کر دیا جائے بے شک جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں بعض بعض سے افضل ہیں۔ تیسرا و ہ آدی جو منافق ہے کبھی وہ بھی اپنے مال اور جان سمیت جہاد کرتا ہے حتیٰ کہ جب وہ دشمن سے ٹکراتا ہے اللہ کی راہ میں لڑتا ہے حتیٰ کہ وہ قتل ہو جاتا ہے یہ شخص جہنم میں ہو گا بے شک تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔

ابْنُ الْمُثَنَّی ← صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4261

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4262

4262 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا عبد الله بن المبارك عن عبد الله بن عقبة الحضرمي عن عطاء بن يزيد الهذلي عن أبي يزيد الخولاني أنه سمع فضالة بن عبيد الأنصاري يقول : سمعت عمر بن الخطاب يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الشهداء أربعة فمؤمن جيد الإيمان لقي العدو فصدق الله فقاتل حتى يقتل فذلك الذي يرفع الناس إليه أعينهم و رفع رأسه حتى وقعت قلنسوة كانت على رأسه أو رأس عمر فهذا في الدرجة الأولى و رجل مؤمن جيد الإيمان إذا لقي العدو فكأنما يضرب جلده بشوك الطلح من الجبن أتاه سهم غرب فقتله فهذا في الدرجة الثانية و رجل مؤمن خلط عملا صالحا و آخر سيئا لقي العدو فصدق الله عز و جل فقتل فهذا في الدرجة الثالثة و رجل لأسرف على نفسه فلقي العدو فقاتل حتى يقتل فهذا في الدرجة الرابعة

ہمیں خبر دی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو عبداللہ بن عقبہ حضرمی نے ان کو عطاء بن یزید ھذلی نے ان کو ابویزید خولانی نے اس نے سنا فضالہ بن عبید انصاری سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا عمر بن خطاب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ کہ شہداء چار قسم پر ہیں ایک تو مؤمن ہے جو جید اور کھرے ایمان والا ہے۔ وہ دشمن سے ٹکراتا ہے وہ اللہ کو سچا مانتا ہے اور لڑتا ہے یہاں تک کہ خود قتل ہو جاتا ہے یہ وہ شخص ہے کہ لوگ (ان کے مقام کو دیکھے کے لئے) ان کی طرف آنکھوں کو اور نظروں کو اٹھائیں گے (یہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے اپنا سر اوپر اٹھا کر دیکھا) یہاں تک کہ ان کی ٹوپی گر پڑیں جوان کے سر پرتھی۔ یا جو حضرت عمر کے سر پرتھی۔ یہ شہید اول درجے میں ہوں گے۔ دوسرا وہ آدمی جو جید ایمان والا ہے جب دشمن سے ٹکراتا ہے تو گویا کہ اس کی جلد کو کیکر کا کانٹا چبھتا ہے ڈر کی وجہ سے (مگر قسمت یاوری کرتی ہے) اچانک کہیں سے کوئی غیبی تیر آ کر اس کو لگ جاتا ہے اور وہ شہید ہو جاتا ہے۔ یہ دوسرے درجے پر ہے۔ تیسرا وہ آدمی جو مؤمن ہے اس نے ملے جلے اعمال کر رکھے ہیں نیک بھی اور بد بھی وہ دشمن سے ملتا ہے تو اللہ کی تصدیق کرتا ہے اور شہید ہو جاتا (یعنی ٹکراتے ہی) یہ تیسرے درجے پر ہوگا۔ اور چوتھا وہ آدمی جو اپنے نفس پر زیادتی کرتا ہے دشمن سے ٹکراتا ہے اور قتال کرتا ہے اور قتل ہو جاتا ہے۔ یہ چوتھے درجے پر ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ: ← أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ ← عطاء بن يزيد الهذلي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4262

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4263

4263 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي علي السقا و أبو الحسن علي محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا سليمان بن حرب نا شعبة عن عمرو بن أبي وائل عن أبي موسى قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : الرجل يقاتل للمغنم و الرجل يقاتل للذكر و الرجل يقاتل ليرى مكانه فمن في سبيل الله ؟ قال : من قاتل لتكون كلمة الله هي أعلى فهو في سبيل الله رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب و أخرجاه من حديث غندر عن شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن بن ابوعلی سقانے اور ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابووائل نے ان کو ابوموسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک آدمی لڑتا ہے مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے۔ دوسرا آدمی لڑتا ہے اپنے تذکرے یا نام وری کے لئے تیسرا آدمی لڑتا ہے تا اس کا مقام دیکھا جائے اور بہادری بھی۔ ان سب میں سے کون سا فی سبیل اللہ ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قتال کرے تا کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو بس فی سبیل اللہ صرف وہی ہے۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ سلیمان بن حرب سے اور بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے غندر کی شعبہ سے روایت ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← عمرو بن أبي وائل ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن بن أبي علي السقا و أبو الحسن علي محمد المقرىء

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4263

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4264

4264 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا مسلم بن حاتم الأنصاري نا عبد الرحمن بن مهدي نا محمد بن أبي الوضاح عن العلاء بن عبد الله بن رافع عن حنان بن خارجة عن عبد الله بن عمرو قال : قال عبد الله بن عمرو يا رسول الله أخبرني عن الجهاد و الغزو فقال : يا عبد الله بن عمرو إن قاتلت صابرا محتسبا بعثك الله صابرا محتسبا و إن قاتلت مرائيا مكاثرا بعثك الله مرائيا مكاثرا يا عبد الله بن عمرو على أي حال قاتلت بعثك الله على ذلك الحال

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو مسلم بن حاتم انصاری نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کومحمد بن ابوالوضاح نے ان کو علاء بن عبداللہ بن رافع نے ان کو حنان بن خارجہ نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ بن عمرو نے یا رسول مجھے جہاد کے بارے میں بتائیے۔اور غزوہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ بن عمر اگر تو قتال کرے صبر کرنے والا ثواب کی نیت کرنے والا اللہ تجھے اٹھائے گا صبر کرنے والا اور ثواب کی نیت کرنے والا۔ اور اگر تو قتال کرے ریاکاری کرنے والا زیادہ دیکھانے والا تو اللہ تجھے اٹھائے گا دکھاوا کرنے والا اے عبداللہ بن عمرو جس حال پر تو قتال کرے اور تو قتل ہو جائے اللہ تعالیٰ تجھے اسی حال پر اٹھائے گا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4264

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood