Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4241

4241 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي نا الحارث بن أبي أسامة نا يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق حدثني الحارث بن الفضل الأنصاري عن محمود بن لبيد الأنصاري عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الشهداء على بارق نهر بباب الجنة في قبة خضراء يخرج عليهم رزقهم بكرة و عيشا

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن حسین قاضی نے ان کو حارث بن ابواسامہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو حارث بن فضل انصاری نے ان کو محمد بن سعید انصاری نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ کہ شہدا نہر جنت کے کنارے پر ہیں (جو جنت کے دروازے پر بہتی ہے) ہرے خیموں میں ہیں صبح و شام ان کا رزق ان کو دیا جاتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← الحارث بن الفضل الأنصاري ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4241

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4242

4242 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن علي بن السقا و أبو الحسن المقرىء قالا نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن أبي بكر نا عبد الواحد بن زياد قال يوسف : و حدثنا أبو موسى نا أبو معاوية قالا : نا الأعمش عن عبد الله بن مرة عن مسروق قال : سألنا عبد الله بن مسعود عن هذه الآية : { ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون } قال : أما إنا قد سألنا عن ذلك أرواحهم كطير خضر تسرع في الجنة في أيها شاءت ثم تأوي إلى قناديل معلقة بالعرش قال : فبينما هم كذلك إذ أطلع عليهم ربك اطلاعه فقال : سلوني ما شئتم قالوا : يا ربنا ماذا نسألك و نحن في الجنة نسرح في أيها شئنا قال غيرهما في هذا الحديث : أولا بد من أن يسألوا قالا في حديثهما قالوا : نسألك أن ترد أرواحنا إلى أجسامنا فنقاتل في سبيل الله أخرجه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى عن أبي معاوية

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن محمد بن علی بن سفار نے اور ابوالحسن مقری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن ابوبکر نے ان کو عبدالواحد نے بن زیاد نے کہا ہے یوسف نے اور ان کو حدیث بیان کی ہے ابو موسیٰ نے ان کو ابومعاویہ نے ان دونوں کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن مرہ نے ان کو مسروق نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے پوچھا اس آیت کے بارے میں۔ ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل اللّٰه امواتاً بل احیاء عند ربهم يرزقون . مت گمان کرو ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے ہیں کہ وہ مردے ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں رزق دیئے جاتے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا۔ بہر حال ہم نے اس بارے میں پوچھا تھا ان کی ارواح سبر پرندوں کی طرح ہوتی ہیں جنت میں سیر کرتے ہیں جہاں چاہیں اس کے عرش کے ساتھ لٹکے ہوئے قندیلوں میں آکر رہتے ہیں۔ وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ یکایک ان کے اوپر تیرا رب جھانکتا ہے اور فرماتا ہے۔ سوال کرو مجھ سے مانگو جو چاہو اروان کہتی ہیں اے ہمارے رب ہم آپ سے اور کیا مانگیں ہم جنت میں گھوم رہے ہیں جہاں پاتے ہیں۔ان دونوں کے علاو ودیگر نے اس حدیث کے علاوہ میں کہا ہے۔ یا مانگنے سے چارہ نہیں ہوتا۔ ان دونوں نے کہا کہ دونوں کی روایت میں ہے۔ کہ ہم آپ سے یہ مانگتے ہیں کہ آپ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دے تا کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال کریں۔ مسلم نے اس کو نقل لیا ہے صحیح میں۔یحییٰ بن یحییٰ سے اس نے ابومعاویہ سے۔

عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسين علي بن محمد بن علي بن السقا و أبو الحسن المقرىء

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4242

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4243

4243 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر نا عمرو بن عاصم نا همام نا قتادة عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من أهل الجنة أحد يسره أن يرجع إلى الدنيا و له عشر أمثالها إلا الشهيد فإنه يود أنه لو يرد إلى الدنيا عشر مرات فاستشهد لما رأى من الفضل

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالازہر نے ان کو عمرو بن عامر نے ان کو ہمام نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا۔ اہل جنت میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ دنیا کی طرف واپس آجائے۔ اور اس کو اس سے دس گونا زیادہ بھی ملے گا (کوئی بھی نہیں چاہتا) سوائے شہید کے وہ پسند کرتا ہے کہ دنیا کی طرف دس مرتبہ آجائے اور ہر بار شہید کیا جائے۔ اس لئے کہ اس نے شہاد کی فضیلت دیکھی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4243

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4244

4244 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسن العلوي و أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يوسف نا حميد بن عياش الرملي نا مؤمل حدثنا حماد عن ثابت عن أنس قال : و شعبة عن قتادة عن أنس و شعبة عن معاوية بن قرة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من نفس تخرج من الدنيا و لها عند الله خير يسرها أن ترجع إلى الدنيا و لها مثل الدنيا عشر مرات إلا الشهيد فإنه يتمنى أن يرجع إلى الدنيا فيقتل في سبيل الله مرة أخرى أو قال : عشر مرات لما يرى من الكرامة

ہمیں خبر دی ابو حسن محمد بن حسن علوی نے اور ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب بن یوسف نے ان کو محمد بن عیاش رملی نے ان کو مؤمل نے ان کو حماد بن ثابت نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ (روایت کی ہے) شعبہ نے قتادہ سے اس نے انس سے اور شعبہ نے معاویہ بن قرہ سے اس نے انس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ کوئی ایسی روح نہیں ہے جو دنیا سے نکل جائے اور اللہ کے ہاں اس کے لئے خیر بھی ہو۔ پھر وہ یہ پسند کرے کہ وہ دنیا میں واپس آجائے اور دنیا اس کو دس گونہ بڑی کر دے دی جائے (کوئی روح پسند نہیں کرتی) سوائے شہید کے بے شک وہ تمنیٰ کرتا ہے (یعنی اس کی روح) کہ وہ دنیا میں لوٹ کر آئے اور ایک بار اور شہید ہو جائے یا یوں فرمایا تھا کہ دس مرتبہ بوجہ اس کے جو وہ دیکھتا ہے عزت اور اعزاز۔

أَنَسٍ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← أنس و شعبة ← قَتَادَةَ ← و شعبة ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ، ← حميد بن عياش الرملي ← أبو العباس محمد بن يوسف ← أبو الحسن محمد بن الحسن العلوي و أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4244

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4245

4245 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن الأديب نا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسره نا عبد الله بن يزيد المقري نا حيوة بن شريح نا أبو هاني الخولاني أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي يقول : سمعت عبد الله بن عمرو يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من غازية تغزوا في سبيل الله فيصيبون غنيمة إلا تعجلوا ثلثي أجرهم من الآخرة و بقي لهم الثلث فإن لم يصيبوا غنيمة تم لهم أجرهم أخرجه مسلم في الصحيح من حديث المقبري

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ حسین بن حسن ادیب نے ان کو عبداللہ بن احمد بن زکریا بن ابومسرہ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو ابوہانی خولانی نے انہوں نے سنا ابوعبدالرحمٰن حبلی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ کوئی ایسے مجامد نہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور غنیمت حاصل کر لیں مگر وہ اپنی آخرت سے بھی دو تہائی اجر جلدی لے لیتے ہیں اور ان کے لئے ایک تہائی باقی رہ جاتا۔ اور اگر و ہ غنیمت نہ حاصل کرسکیں تو پورا ہو جاتا ہے ان کا اجر۔ مسلم نے نقل کیا ہے اس کو مقبری کی حدیث سے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسرة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَدِيبُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4245

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4246

4246 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسن القطان نا أبو الأزهر نا أبو النضر نا أبو عقيل حدثني موسى بن المسيب نا سالم بن أبي الجعد عن سبرة بن أبي الفاكه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الشيطان قعد لابن آدم في طرقه فقعد له بطريق الإسلام فقال : تسلم و تذر دينك و دين آبائك فعصاه فأسلم ثم قعد له بطريق الهجرة فقال : أتهاجر و تذر أرضك و سماك إنما مثل المهاجر كالفرس يعني في طوله فعصاه فهاجر ثم قعد له بطريق الجهاد فقال : هو جهد النفس و المال تقاتل فتقتل فتنكح المراة و يقسم المال فعصاه فجاهد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فمن فعل ذلك منهم فمات كان حقا على الله أن يدخله الجنة أو وقصته دابة كان حقا على الله أن يدخله الجنة قال : كذا في كتابي سبرة بن أبي فاكه و قيل ابن الفاكه و قد

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوبکر ازہر نے ان کو ابوالنضر نے ان کو ابوعقیل نے ان کو موسیٰ بن مسیّب نے ان کو سالم بن ابوالجعد نے ان کو سبرہ بن ابوالفاکہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ بے شک شیطان ابن آدم کو پھسلانے کے لئے اس کے راستوں پر بیٹھتا ہے پہلے تو اس کے اسلام کے راستے پر بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ تم مسلمان ہو جاؤ گے اور اپنے دین کو چھوڑ دو گے اور باپ دادا کے دین کو چھوڑ دو گے ابن آدم شیطان کی نافرمانی کرتا ہے اور اسلام لے آتا ہے۔ پھر وہ اس کو بہکانے کے لئے ہجرت کے راستے پر جا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا تم ہجرت کرو گے اسی طرح تم اپنی زمین کو چھوڑ دو گے اور اپنی تہذیب و اقامت کو چھوڑ دو گے۔سوائے اس کے نہیں کہ ہجرت کرنے والے کی مثال گھوڑے جیسی ہے یعنی اپنے لمبا ہونے میں۔ مؤمن اس کی نافرمانی کرتا ہے اور ہجرت کر لیتا ہے تو پھر شیطان اس کے جہاد کے راستے پر جا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بڑا جان جوکھونے کا کام ہے جان بھی جائے گی مال بھی جائے گا۔ تو لڑے گا اور تو قتل کر دیا جائے گا تیری بیوی سے دوسرے نکاح کر لیں گے مال تقسیم کر لیا جائے گا۔ مؤمن اس کی نافرمانی کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے (جب وہ اپنے دشمن شیطان کا اس قدر مقابلہ کرتا ہے تو پھر) رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ کے ذمہ حق بنتا ہے کہ وہ جو شخص ان میں سے یہ سب کچھ کرے اور جان دے بیٹھے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کر دے یا اس کو سواری گرا دیتا ہے تو اللہ پر حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کر دے۔ سبرہ بن فاکھ نے کہا ہے کہ میری کتاب میں اسی طرح مرقوم ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابن الفاکہ ہے۔

سبرة بن أبي الفاكه ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مُوسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ ← أَبُو عَقِيلٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أبو بكر محمد بن الحسن القطان ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4246

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4247

4247 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن أيوب أنا محمد بن إسماعيل نا طارق بن عبد العزيز بن طارق عن محمد بن عجلان عن أبي جعفر يعني موسى بن المسيب قال سمعت سالم بن أبي الجعد يقول : حدثني جابر بن أبي سبرة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر الجهاد فقال : إن الشيطان جلس لأبن آدم بطرقه فجلس له على طريق الإسلام فذكره بنحوه غير أنه زاد في ذكر الهجرة و مولدك فتضيع عيالك و ذكر في الجهاد أيضا و تضيع عيالك و لم يذكر مثل المهاجر و قال في آخره : من فعل ذلك فخر من دابته فمات وقع أجره على الله و إن لسعته دابة فمات وقع أجره على الله و إن غرق فمات و قع أجره على الله و إن قتل عقصا يعني صبرا فحق على الله أن يدخله الجنة قال الشيخ أحمد : هكذا في كتابي جابر بن سبرة و كذلك رواه أبو مصعب أحمد بن أبي بكر الزهري عن أبيه عن ابن عجلان عن موسى بن المسيب عن سالم بن أبي الجعد عن جابر بن أبي سبرة و هو في الثاني و السبعين من التاريخ

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو طارق بن عبدالعزیز بن طارق نے ان کومحمد بن عجلان نے ان کو ابوجعفر نے یعنی موسیٰ بن مسیّب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سالم بن ابوالجعد سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے جابر بن ابوسبرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ سے وہ جہاد کا ذکر رہے تھے۔ تو فرمایا۔ کہ بے شک شیطان بیٹھا اولاد آدم کے لئے اس کے راستوں پر لہذا وہ اس کے بہکانے کو اسلام سے راستے پر بھی بیٹھا۔ انہوں نے اس کو ذکر کیا اسی مذکور کی مثل۔ مگر ذکر ہجرت میں یہ اضافہ کیا کہ تو اپنی جائے پیدائش کو چھوڑے دے گا ایسے کرنے سے تو تو اپنے عیال اور ٹبر کو ہلاک کر دے گا۔ اور جہاد کے ذکر میں بھی یہ ذکر کیا کہ تو اپنے عیال کو ضائع کرے گا۔ مگر اس روایت میں سابق کی طرح۔ ہجرت کرنے والے کی مثال ذکر نہیں کی۔ اور اس کے آخر میں کہا ہے جس نے جہاد کیا اور اپنی سواری سے گر کر فوت ہو گیا تو اس کا اجر بھی اللہ کے ذمے لازم ہو گیا۔ اور اگر اس کو اسی راستے کسی زہریلے جانور مثلاً سانپ وغیر نے ڈس لیا اور فوت ہو گیا تو بھی اس کا اجر اللہ کے ذمے لازم ہوگیا۔ اور اگر وہ کہیں پانی میں ڈوب کر اسی سفر میں ہلاک ہو گیا تو بھی اس کا ثواب اللہ کے ذمہ لازم ہو گیا ۔ اور وہ گھیر کر مار دیا گیا یا باندھ کر قتل کر دیا گیا تو بھی اللہ کے ذمے لازم ہے کہ ان کو جنت میں داخل کر دے۔ شیخ احمد نے کہا کہ اسی طرح ہے بابر بن ثمرہ کی دونوں کتابوں میں۔ اور اس کو اسی طرح روایت کیا ہے ابومصعب احمد بن ابوبکر زہری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عجلان نے موسیٰ بن مسیّب سے ان کو سالم بن ابوالجعد نے ان کو جابر بن ابوسبر و نے وہ بہتر میں ہے تاریخ میں۔

جابر بن أبي سبرة ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← أبي جعفر يعني موسى بن المسيب ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← طارق بن عبد العزيز بن طارق ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4247

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4248

4248 - أخبرنا أبو أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو علي الحسين بن علي الحافظ نا محمد بن محمد بن سليمان قالا أنا عبد الوهاب بن نجده نا بقية بن الوليد نا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان و في رواية أبي داود عن ابن ثوبان عن جعفر يرد إلى مكحول إلى عبد الرحمن بن عثمان الأشعري أن أبا مالك الأشعري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من فصل في سبيله الله فمات أو قتل فهو شهيد أو وقصه فرسه أو بعيره أو لدغته هامة أو مات على فراشه بأي خيف شاء الله فإنه شهيد و إن له الجنة

ہمیں خبر دی ابوعلی روز باری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعلی حسین بن علی حافظ نے ان کو محمد بن محمد بن سلیمان نے دونوں نے کہ ان کو خبر دی ہے عبدالوہاب بن نجدہ نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبان نے اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے ابن ثوبان سے ان کو ان کے والد نے وہ اس کی نسبت کرتے ہیں مکحول کی طرف وہ عبدالرحمٰن بن عثمان اشعری کی طرف یہ کہ ابومالک اشعری نے کہا کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔ جوشخص اللہ کی راہ میں روانہ ہوا اور وہ فوت ہو گیا یا قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے یا اس کے گھوڑے نے اس کو گرا کر یا اس کے اونٹ نے، یا اسے کسی موذی جانور نے ڈس لیا یا اپنے بستر پر مر گیا اسی راستے میں ہر صورت جونسی گھاٹی میں بھی اللہ چاہے بے شک وہ شہید ہے اور بے شک اس کے لئے جنت ہے۔

ابْنُ ثَوْبَانَ، ← عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان و في رواية أبي داود ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ← محمد بن محمد بن سليمان، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أبو أبو علي الروذباري

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4248

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4249

4249 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو نا أبو قلابة نا روح ابن جريج قال : قال سليمان بن موسى نا مالك بن عامر أن معاذ بن جبل حدثهم أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قاتل في سبيل الله من رجل مسلم فواق ناقة فقد و جبت له الجنة و من سأل الله القتل من عند نفسه صادقا ثم مات أو قتل فله أجر شهيد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی بکر بن محمد بن ھمدان صیرفی نے مرو میں ان کو ابوقلابہ نے ان کو روح نے ابن جریج نے وہ کہتے ہیں کہ کہا سلیمان بن موسیٰ نے ان کو مالک بن عامر نے یہ کہ معاذ بن جبل نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ جو شخص مسلمان اللہ کی راہ میں قتال کرے اور اپنی اونٹنی کی حفاظت کرے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ اور جو شخص اپنے دل سے اللہ سے شہادت مانگ رہا تھا سچے دل کے ساتھ پھر وہ مر گیا یا قتل ہو گیا اس کے لئے شہید کا اجر ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَّهُ ← مالك بن عامر أن معاذ بن جبل ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← روح ابن جريج ← أَبُو قِلَابَةَ ← بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4249

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4250

4250 - و حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني نا أبو بكر محمد بن الحسين القطان أنا علي بن الحسن الهلالي نا أبو عاصم نا ابن جريج قال : قال سليمان بن موسى إن مالك بن عامر حدثهم عن معاذ بن جبل قال : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قاتل في سبيل الله فواق ناقته و جبت له الجنة و من سأل القتل من قلبه صادقا ثم مات أو قتل فله أجر شهيد و من جرح جرحا أو نكب نكبة في سبيل الله جاء يوم القيامة كأغزر ما كانت لونها كالزعفران و ريحها كالمسك و من جرح جرحا في سبيل الله كان عليه طابع الشهداء

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو علی بن حسین ہلالی نے ان کو ابوعامر نے ان کو ابن جریج نے وہ کہتے ہیں کہ سلیمان بن موسیٰ نے کہا کہ بے شک مالک بن عمار نے ان کو حدیث بیان کی ہے معاذ بن جبل سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں قتال کیا اورا پنی اونٹنی کی حفاظت کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس نے سچے دل سے شہادت مانگی پھر وہ مر گیا یا قتل ہو گیا اس کے لئے شہید کا اجر ہے اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو گیا یا اللہ کی راہ میں اس نے تکلیف اٹھائی قیامت کے دن آئے گا اسی زخم کے ساتھ زخم کا رنگ زعفران کا ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی ہوگی۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوا اس پر شہداء کی مہر ہوگی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← سليمان بن موسى إن مالك بن عامر ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← و،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4250

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4251

4251 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود أنا ابن المصفي نا بقية عن ابن ثوبان عن أبيه يرد إلى مكحول إلى مالك بن عامر أن معاذ بن جبل حدثهم أنه سمع : رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول فذكر الحديث بمعناه غير أنه قال في آخره و من جرح به جراح في سبيل الله فإن عليه طابع الشهداء قال الحليمي رحمه الله : و المعنى في الشهداء انهم بينوا بما بذلوا من أنفسهم في سبيل الله إيمانهم و صدقهم و إخلاصهم و استوى ظواهرهم و بواطنهم في طاعة الله عز و جل وأصل الشهادة التبيين قال الله عز و جل شهد الله أي بين الله لعباده أنه إلههم و لا إله غيره بما ألزم خلقه من دلائل الحديث و وضع في عقولهم من إدراكها و الاستبصار بها و قيل لشهادة الشهود بينه كذلك و قيل معنى الشهيد أنه يكون يوم القيامة بمنزلة الرسول فيشهد على غيره بمثل ما يشهد الرسول قال الله عز و جل { وجيء بالنبيين والشهداء وقضي بينهم } فالشهيد من تكون له الشهادة و قال غير الحليمي الشهيد المقتول له معان منها : أنه مشهود عليه بالجنة و تلقى الروح و الريحان و منها أنه مشهود تشهد ملائكة الرحمة و منها أن الشهيد بمعنى الشاهد أي أنه يشهد مشاهد الجنة برحمة الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو ابن مصفیٰ نے ان کو بقیہ نے ان کو ابن ثوبان نے ان کوان کے باپ نے ان کو مکحول نے ان کو مالک بن عامر نے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے۔ کہ اس نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے تھے۔ پھر راوی نے حدیث بیان کی ہے مذکورہ کے مفہوم میں سوائے اس کے کہ آخر میں اس نے کہا۔ جس کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم آیا اس پر شہداء کی مہر ہوگی۔

الحديث بمعناه غير أنه ← أَنَّهُ ← أبيه يرد إلى مكحول إلى مالك بن عامر أن معاذ بن جبل ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← بَقِيَّةُ ← ابْنُ الْمُصَفَّی ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4251

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4252

4252 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا حميد بن داود بن إسحاق نا زيد بن خالد حدثني عبد الرحمن بن ثابت عن أبيه عن مكحول عن كثير بن مرة عن قيس الجذامي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن للقتيل عند الله ست خصال يغفر له خطيئته في أول دفقة من دمه و يجار من عذاب القبر و يحلى حلة الكرامة و يرى مقعده من الجنة و يؤمن من الفزع الأكبر و يزوج من الحور العين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو مجید بن داؤد بن اسحاق نے ان کو زید بن خالد نے ان کو عبدالرحمٰن بن ثابت نے ان کو ان کے والد نے ان کو مکحول نے ان کو کثیر بن مرہ نے ان کو قیس جذامی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک شہید فی سبیل اللہ کے لئے اللہ کے نزدیک خصلتیں ہیں۔(۱) اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اس کے خون کے پہلے فوارے کے وقت۔ (۲)عذاب قبر سے پناہ دیا جائے گا۔ (۳)اور عزت کی پوشاک پہنایا جائے گا (کہ ہر کوئی اس کی عزت کرتا رہے گا)۔ (۴)اور جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لے گا۔ (۵) اور قیامت والی سب سے بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔(۶) اور بڑی آنکھوں والی گوری حور سے اس کا نکاح کر دیا جائے گا۔

قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← حميد بن داود بن إسحاق ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4252

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood