Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4229

4229 - و أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن علي بن السقا أنا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق : فذكر هذين الحديثين

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین علی بن محمد بن علی بن سقاء نے ان کو ابومحمد حسن بن محمد بن اسحٰق نے پھر اس نے ان دونوں حدیثوں کو ذکر کیا۔

أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق فذكر هذين الحديثين ← أبو الحسين علي بن محمد بن علي بن السقا ← و،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4229

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4230

4230 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر نا أبو عامر العقدي عن هشام بن سعد عن سعيد بن أبي هلال عن ابن أبي ذباب عن أبي هريرة : أن رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم مر بشعب فيه عيينة من ماء عذب فأعجبه طيبه فقال : لو أقمت في هذا الشعب و اعتزلت الناس و العمل قال : حتى استأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : لا تفعل فإن مقام أحدكم في سبيل الله أفضل من صلاته في أهله ستين عاما ألا تحبون أن يغفر الله لكم و يدخلكم الجنة اغزوا في سبيل الله من قاتل في سبيل الله فواق ناقة وجبت له الجنة

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالذھر نے ان کو ابوعامر غوری نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو سعید بن ابو ہلال نے ان کو ابن ابوذباب نے ان کو ابوہریرہ نے کہ اصحاب رسول میں سے ایک آدمی ایک وادی سے گذرا وہاں میٹھے پانی کا چھوٹا سا ایک چشمہ تھا اس کا صاف ستھرا ہونا اس کو اچھا لگا تو اس نے سوچا کہ میں کاش کہ ان سب لوگوں سے علیٰحدہ ہو کر رہنا شروع کر دوں اور علیٰحدہ کام بھی کروں اور سوچا کہ میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کروں لہذا اس نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو منع فرمایا۔ اور یہ فرمایا کہ تم میں سے کسی ایک آدمی کا اللہ کی راہ میں ٹھہرنا ساتھ سال تک اپنے گھر میں رہ کر نمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔ کیا تم لوگ یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تم لوگوں کو معاف کر دے اور تم لوگوں کو جنت میں داخل کر دے۔ جہاد کرو اللہ کی راہ میں جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرے اونٹنی کی دو مرتبہ دودھ نکالنے کا وقفہ کرنے کی مقدار اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔

ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4230

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4231

4231 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محمد العنبري نا عثمان بن سعيد الدارمي نا عبد الله بن صالح المصري حدثني يحيى بن أيوب عن هشام بن حسان عن الحسن عن عمران بن حصين : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مقام الرجل في الصف في سبيل الله أفضل عند الله من عبادة رجل ستين سنة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد عنبری نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو عبداللہ بن صالح مصری نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو حسن نے انکو عمران بن حسین نے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ایک آدمی کا جہاد کی صف میں کھڑا ہونا اللہ کے نزدیک افضل ہے آدمی کی ساٹھ سالہ عبادت سے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4231

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4232

4232 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن المصري نا محمد بن عمرو بن نافع نا عبد الله بن صالح : فذكره بإسناد نحوه غير أنه لم بقل عند الله

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن مصری نے ان کو محمد بن عمرو بن نافع نے ان کو عبداللہ بن صالح نے پھر اس نے اس کو اس کی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ سوائے اسکے کہ اس نے، لفظ عنداللہ (یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک) نہیں بولا۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَافِعٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4232

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4233

4233 - و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني الحسن بن حكيم المرزوي أنا أبو الموجه أنا عبدان أنا عبد الله أنا محمد بن معن الغفاري أبو معن نا زهرة بن معبد القرشي عن أبي صالح مولى عثمان قال : سمعت عثمان في مسجد الخيف بمنى و حدثنا أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يوم في سبيل الله خير من ألف يوم فيما سواه فلينظر كل امرىء لنفسه و القصد من هذه الأخبار و الله أعلم بيان تضعيف أجر الغزو على غيره و ذلك يختلف باختلاف الناس في نياتهم و إخلاصهم و يختلف باختلاف الأوقات و موقع الجهاد في وقته و يحتمل أن يعبر عن التضعيف و التكثير مرة بالأربعين و مرة بالستين و مرة بما دونها و مرة بما فوقها قال الشيخ أبو بكر محمد بن علي الشامي و كثير من نحو هذا يذكر بالسبعين كما قيل ما أضر من استغفر و لو عاد في اليوم سبعين مرة يعني و المراد بالسبعين الكثرة لا عدد السبعين بعينه

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی حسن بن حکیم نے ان کو مروزی نے ان کو ابوالموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ نے ان کو محمد بن معن غفاری نے ابومعن سے) ان کو زہرہ بن معبد قرشی نے ان کو ابوصالح مولیٰ عثمان نے ان کو عثمان بن عفان نے مسجد خیف میں منیٰ میں اور انہوں نے حدیث بیان کی اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے۔ جہاد فی سبیل اللہ میں ایک دن لگانا اس کے علاوہ عبادات میں ایک ہزار دن لگانے سے بہتر ہے۔ پس دیکھنا چاہئے ہر آدمی کو اپنے لئے کونسا راستہ اختیار کر رہا ہے۔

أَنَّهُ ← عثمان في مسجد الخيف بمنى و ← أَبِي صَالِحٍ مَوْلَی عُثْمَانَ ← زهرة بن معبد القرشي ← محمد بن معن الغفاري أبو معن ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن حكيم المرزوي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4233

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4234

4234 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن إسحاق الخزاعي بمكة نا ابن أبي مسرة نا عبد الله بن يزيد المقريء نا كهمس بن الحسن نا مصعب بن ثابت عن عبد الله بن الزبير قال : قال عثمان بن عفان و هو يخطب على المنبر إني أحدثكم حديثا لم يمنعني أن أحدثكم به إلا الضن بكم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حرس ليلة في سبيل الله أفضل من ألف ليلة يقام ليلها و يصام نهارها 4234 - مكرر و روينا عن ابن عمر مرفوعا : ألا أنبئكم بليلة أفضل من ليلة القدر حارس حرس في أرض خوف لعله أن لا يرجع إلى أهله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن اسحٰق خزاعی نے مکہ میں ان کو ابن ابومسرہ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو کھمس بن حسن نے ان کو مصعب بن ثابت نے ان کو عبداللہ بن زبیر نے وہ کہتے ہیں کہا عثمان بن عفان نے حالانکہ وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ مجھے کوئی مانع نہیں تھا اس بات سے کہ میں تم لوگوں کو اس کے بارے میں بتاؤں مگر بخل تمہارے ساتھ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرما رہے تھے۔ اللہ کی راہ میں ایک رات چوکیداری کرنا اس ہزار رات سے افضل ہے۔ جس میں رات کو نفل پڑھے جائیں اور دن کو روزہ رکھا جائے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← کهمس بن الحسن ← عبد الله بن يزِيد المقرىء ← ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4234

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4235

4235 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا حمزة بن العباس العقبي نا العباس بن محمد الدوري نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح بن كيسان قال : قال أبو عبد الرحمن سمعت أبا هريرة يقول : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : حرم على عينين أن تنالهما النار عين بكت من خشية الله و عين باتت تحرس الإسلام و أهله من أهل الكفر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حمزہ بن عباس عقبیٰ نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ابوصالح بن کیسان نے وہ کہتے ہیں کہ ابوعبدالرحمٰن نے کہا کہ میں نے سنا ابوہریرہ سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دو آنکھوں پر حرام ہے کہ ان دونوں کو جہنم کی آگ پہنچ سکے ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روتی ہے۔ اور دوسری وہ آنکھ جو اسلام کی حفاظت کرتے ہوئے رات کو جاگتی ہے۔ خصوصاً اس وقت جب کہ اس کے گھر والے بھی اہل کفر میں سے ہوں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4235

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4236

4236 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه أنا محمد بن أيوب أنا مسدد نا عبد الواحد بن زياد نا عمارة بن القعقاع و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و اللفظ له لهذا أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن عمارة عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يضمن الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه إلا جهدا في سبيلي و إيمانا بي و تصديقا برسولي فهو علي ضامن أن أدخله الجنة أو أرجعه إلى مسكنه الذي خرج منه نائلا ما نال من أجر أو غنيمة و الذي نفس محمد بيده ما من كلم يكلم في سبيل الله إلا جاء يوم القيامة كهيئته حين كلم لونه دم و ريحه مسك و الذي نفس محمد بيده لولا أن أشق على أمتي ما قعدت خلاف سرية تغزو في سبيل الله أبدا و لكني لا أجد سعة فأحملهم و لا يجدون سعة و يشق عليهم أن يتخلفوا عني و الذي نفس محمد بيده لوددت إني أغزو في سبيل الله فأقتل وثم أغزو فأقتل ثم أغزو فأقتل أخرجه البخاري في الصحيح من حديث عبد الواحد بعضه عن مسدد و بعضه عن غيره و رواه مسلم عن زهير بن حرب عن جرير

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابوالنصر فقیہ نے ان کومحمد بن ایوب نے ان کو مسدد نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو عمارہ بن قعقاع نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبیداللہ حافظ نے اور الفاظ اس سے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے عمارہ سے ان کو ابوزرعہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ ضمانت دیتا ہے اس آدمی کو جنت میں داخل کرنے کی جو اللہ کی راہ میں نکالا جس کا مقصد جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا اور میرے ساتھ ایمان اور میرے رسول کی تصدیق۔ یا وہ آدمی اپنے ٹھکانے پر واپس آ جائے جہاں سے نکلا تھا جو کچھ اجر کما سکا اس کو لے کر اور مال غنیمت کو ساتھ لے کر۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اللہ کی راہ میں جو بھی زخم لگا ہے قیامت کے دن جب آئے گا تو اسی زخم کی صورت میں سامنے آئے گا اس کا رنگ خون والا ہو گامگر خوشبو کستوری کی ہو گی۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی امت پر مشقت ڈالدوں گا تو میں خود کسی جہاد سے پیچھے نہ ہوتا کہیں بھی جو اللہ کی راہ میں لڑا جا رہا ہو۔ لیکن میں گنجائش نہیں پاتا ہوں کہ میں لوگوں کو سواری دوں اور وہ خود بھی گنجائش نہیں رکھتے ہیں۔ اور مجھے چھوڑ کر جانا بھی ان کو گھلتا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ میں پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور پھر میں قتل کر دیا جاؤں۔ بھر جہاد کروں پھر قتل کر دیا جاؤں۔ پھر جہاد کرو پھر قتل کر دیا جاؤں۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں حدیث عبدالواحد سے کچھ حصہ مسدد سے اور کچھ حصہ دیگر سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے زہیر بن حرب سے اس نے جریر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الحافظ و اللفظ له لهذا ← عمارة بن القعقاع و ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4236

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4237

4237 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسن القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي نفس محمد بيده لولا أن أشق على المؤمنين ما قعدت خلف سرية يغزوا في سبيل الله و لكني لا أجد سعة فأحملهم و لا يجدون سعة فيتبعوني و لا تطيب أنفسهم أن يقعدوا بعدي قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و كل كلم يكلمه المسلم في سبيل الله يكون يوم القيامة كهيئتها إذا طعنت يتفجر منها دم فاللون لون الدم و العرف عرف المسك رواهما مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسن قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن صفہ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر مؤمنوں سے مشکل نہ ہوتی تو میں کسی سریہ سے پیچھے نہ بیٹھتا جو اللہ کی راہ میں لڑا جائے۔لیکن میں گنجائش نہیں پاتا کہ میں لوگوں کو سواری دوں اور وہ خود بھی گنجائش نہیں رکھتے وہ میرے پیچھے پیچھے چلے آئیں گے کیونکہ ان کے دل اس بات سے خوش نہیں ہوں گے کہ وہ میرے بعد پیچھے بیٹھے رہ جائیں۔ کہتے ہیں کہ اور رسول اللہ نے فرمایا۔ کہ ہر وہ زخم جو مسلمان اللہ کی راہ میں کھاتا ہے قیامت کے دن بالکل اسی اصلی صورت پر ہوگا کہ جب تیر لگا تھا اور اس سے خون پھوٹا تھا لہذا رنگ تو خون کا ہوگا مگر خوشبو کستوری کی ہوگی۔ دونوں کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو بكر محمد بن الحسن القطان ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4237

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4238

4238 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم أنا العباس بن الوليد بن مزيد البيروتي أخبرني أبي نا الأوزاعي حدثني أبو مصبح قال : قيل لأبي عبد الله بأرض الروم يا أبا عبد الله ألا تركب فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أغبرت قدماه في سبيل الله عز و جل حرمهما الله على النار قال : واصلح دابتي و استغني عن عشيرتي فما رؤي يوما أكثر ماشيا منه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو عباس بن ولید بن مزید بیروتی نے ان کو خبر دی اوزاعی نے ان کو ابومصبح نے وہ کہتے ہیں کہ ابوعبداللہ سے کہا گیا ارض روم میں اے ابوعبداللہ کیا آپ سوار نہیں ہوئے سواری پر فرمایا کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس شخص کے قدم اللہ کی راہ میں غبارآلود ہو جائیں اللہ ان کو آگ پر حرام کر دے گا۔ اور فرمایا۔ کہ میری سواری کو درست کر دے اور مجھے میرے کنبے، قبیلے سے مستغنی کر دے۔ کہتے ہیں کہ اس دن اس سے زیادہ کسی کو پیدل چلتے نہیں دیکھا گیا۔

أبو مصبح ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4238

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4239

4239 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن علي الحزاز نا أحمد بن عيسى المصري نا ابن وهب عن ابن لهيعة و عمر بن مالك عن ابن أبي جعفر عن صفوان بن سليم عن سليمان الأغر عن أبي هريرة قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بسرية أن تخرج قالوا : يا رسول الله أنخرج الليلة أم نمكث حتى نصبح قال : أفلا تحبون أن تبيتوا في خراف الجنة و الخراف حديقة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن علی حزاز نے ان کو احمد بن عیسیٰ مصری نے ان کو ابن وہاب نے ان کو ابن لھیعہ نے اور عمرو بن مالک نے ان کو ابن ابوجعفر نے ان کو صفوان بن سلیم نے ان کو سلمان اغر نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضور نے ایک غزوہ میں (سریہ) جانے کا حکم دیا لوگوں نے کہا یا رسول اللہ کیا ہم رات کو ہی چلے جائیں یا ہم صبح کا انتظار کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے خراف میں جا کر رات گذارو۔ اور خراف باغیچہ کو کہتے ہیں۔

أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بسرية أن تخرج ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سليمان الأغر ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ← ابن لهيعة و عمر بن مالك ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَزَّازُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4239

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4240

4240 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن عيسى نا مسدد بن قطن نا عثمان بن أبي شيبة نا عبد الله بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن إسماعيل بن أمية عن أبي الزبير عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما أصيب إخوانكم بأحد جعل الله أرواحهم في جوف طير خضر ترد أنهار الجنة تأكل من ثمارها و تأوي إلى قناديل من ذهب معلقة في ظل العرش فلما و جدوا طيب مأكلهم و مشربهم و مقيلهم قالوا : يبلغ أخواننا أننا أحياء في الجنة نرزق لئلا يزهدوا في الجهاد و لا يتكلوا عند الحرب فقال الله عز و جل : أنا أبلغهم عنكم قال : فأنزل الله : { ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء } الآية

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو مسدد بن قطن نے ان کو عثمان بن ابوبشیر نے ان کو عبداللہ بن ادریس نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو اسماعیل بن امیہ نے ان کو ابوالزبیر نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ شہداء کرام کی حیات طیبہ: کہ جب جنگ احد میں تمہارے بھائی شہید ہو گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو جنت کے سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دیا وہ جنت کی نہروں پر جاتے، اور جنت کے پھل کھاتے۔ پھر وہ سونے کی ان قندیلوں اور چراغوں میں پناہ لیتے جو عرش کے سائے تلے لٹکی ہوئی ہیں۔ (شہدائے احد کی ارواح نے) جب جنت کے کھانوں کی اور مشروبات کی لذت محسوس کی اور دوپہر کے آرام کی راحت پالی تو وہ کہنے لگے۔ کون خبر پہنچائے گا؟ ہمارے بھائیوں کو اس بات کی کہ ہم زندہ ہیں جنت میں (دنیا میں تو قتل ہو چکے ہیں) اور ہمیں یہاں رزق دیا جا رہا ہے تا کہ جہاد سے سستی نہ کریں ۔ اور جنگ کے وقت بوجھل نہ ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (تمہاری اس خواہش کی اطلاع) میں تمہاری طرف سے ان کو پہنچا دیتا ہوں۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ولاتحسبن الذين قتلوا في سبيل اللّٰه امواتاً بل احياء عند ربهم يرزقون. فرحين بما اتاهم اللّٰه من فضله. ويستبشرون بالذين لم يلحقو بهم من خلفهم الاخوف عليهم ولا هم يحزنون. يستبشرون بنعمة من اللّٰه و فضل و ان اللّٰه لا يضيع اجر المومنين.مت خیال کروان لوگوں کو جو اللہ کی راہ قتل ہوگئے ہیں کہ وہ (ہر حال اور ہر جگہ) مردے ہیں بلکہ وہ زندے ہیں اپنے رب کے ہاں رزق دیئے جا رہے ہیں۔ اللہ نے جو فضل ان کو عطا کیا ہے (جس کی تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث مذکور میں فرمائی ہے) اس پر وہ بہت خوش ہیں۔ اور وہ ان لوگوں کو بھی بشارت دیتے جو تا حال پیچھے سے جاکر ان کو نہیں ملے میں (کہ ان کی اطلاع رہے کہ) ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی کوئی غم ہے۔ وہ خوش ہیں اللہ کی نعمت پر اور فضل پر اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کر یں گے۔ سبحان اللہ حیات شہداء کی کیسی پیاری تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ جس سے بے شمار اعتراضات اور خود ساختہ عقائد اور توہمات خود بخود باطل ہو جاتے ہیں۔ (مترجم)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4240

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood