Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4205

4205 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا جعفر بن عون نا هشام بن سعد : عن زيد بن أسلم في قوله عز و جل { اصبروا } قال : على الجهاد { وصابروا ورابطوا واتقوا الله لعلكم تفلحون }

4205-ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو زید بن اسلم نے اللہ کے اس قول کے بارے میں ’’اصبروا‘‘ صبر کرو، قال علی الجہاد۔ فرمایا کہ جہاد پر۔ (۲۱)وصابروا ورابطوا واتقوا اللّٰه لعلكم تفلحون اے ایمان والوصبر کرو اور صبر میں بڑھے رہو اور جہاد کے لئے مستعد رہو۔اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو۔ فرمایا کہ صابر واعلی عدوکم اپنے دشمن پر صبر کرو۔ ورابطو۔ یعنی اپنے دین پر پکے رہو۔

على الجهاد وصابروا ورابطوا واتقوا الله لعلكم تفلحون ← زيد بن أسلم في قوله عز و جل اصبروا ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4205

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4206

4206 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك املاء نا إبراهيم بن الهيثم البلدي نا محمد بن كثير الصغاني نا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عبد الله بن سلام قال : فقدنا نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فقلنا : لو نعلم أي الأعمال أحب إلى الله عز و جل عملناه فأنزل الله عز و جل { سبح لله ما في السماوات والأرض وهو العزيز الحكيم } { يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون } { كبر مقتا عند الله أن تقولوا ما لا تفعلون } { إن الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفا كأنهم بنيان مرصوص } إلى آخر السورة فقرأها علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم هكذا قال الأوزاعي و قرأها علينا يحيى بن أبي كثير هكذا قال : محمد بن كثير و قرأها علينا الأوزاعي هكذا قال أبو الوليد : و قرأها علينا محمد بن كثير هكذا و قال أبو الحسن بن عقبة و قرأها علينا أبو الوليد هكذا قال أبو عبد الله : و قرأها علينا أبو الحسن الشيباني هكذا قال الشيخ أحمد مصنف الكتاب و قرأها علينا أبو عبد الله هكذا و قال : في حديث ابن السماك قال إبراهيم بن الهيثم : و قرأها علينا محمد بن كثير إلى أخر السورة هكذا قال لنا أبو عمرو بن السماك و قرأها علينا إبراهيم بن الهيثم إلى آخر السورة هكذا قال أبو عبد الله : و قرأها علينا أبو عمرو بن السماك من أول السورة إلى آخرها هكذا و قرأ علينا أبو عبد الله السورة هكذا قال علي الساوي و قرأها علينا الشيخ الإمام الزكي تقي الدين إلى آخر السورة و قال قرأها علينا الإمام أحمد هكذا إلى أخرها

4206-ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمرو عثمان بن احمد بن سماک نے بطور املاء کے ان کو ابراہیم بن ہثیم بلدی نے ان کو محمد بن کثیر صنعانی نے ان کو اوزاعی نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو عبداللہ بن سلام نے۔ اصحاب رسول کا ایک وفد ہم سے مفقود ہو گیا تو ہم نے کہا اگر ہم جانتے کہ کون سا عمل اللہ کو محبوب ہے تو ہم اس کا عمل کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے: (۲۲)سبح للّٰه ما في السموات وما في الارض وهو العزيز الحكيم. ياايها الذين امنو لم تقولون مالا تفعلون كبر مقتا عنداللّٰه ان تقولوا مالا تفعلون، ان اللّٰه يحب الذين يقاتلون في سبيله صفا كانهم بنيان مرصوص (صف) تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو مخلوقات ہے آسانوں میں اور جو ہے زمین میں اور وہی ہے غالب حکمت والا۔اے ایمان والو کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں؟ سخت ناپسند ہے اللہ کے یہاں کہ تم کہو وہ بات جو تم کرتے نہیں۔ بے شک اللہ پسند کرتا ہے ان کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں صفیں باندھ کر گویا کہ وہ ایک دیوار ہے سیسہ پلائی ہوئی۔ اختتام سورۃ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہمارے سامنے اسی طرح پڑھا۔ اوزاعی نے کہا ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے یحییٰ بن ابوکثیر نے اسی طرح کہا ہے محمد بن کثیر نے اور اس کو پڑھا ہمارے اوپر اوزاعی نے اسی طرح۔ ابوعبید نے کہا ہے کہ اس کو پڑھا ہے ہمارے سامنے محمد بن کثیر نے اسی طرح۔ اور کہا ہے ابوالحسن بن عقبہ نے اور پڑھا ہے اس کو ہمارے سامنے ابوالولید نے اسی طرح۔ ابوعبداللہ نے اور اس کو پڑھا ہے ہمارے اوپر ابوالحسن شیبانی نے اسی طرح۔ کہا ہے شیخ احمد مصنف کتاب نے اور اس کو پڑھا ہے ہمارے سامنے ابوعبداللہ نے اسی طرح۔ اور کہا ہے ابن سماک کے حدیث میں کہا ہے ابراہیم بن الھثیم نے۔ اور اس کو پڑھا ہے ہمارے اوپر محمد بن کثیر نے آخر سورۃ تک اسی طرح۔ ہم سے کہا تھا ابوعمر ابن سماک نے اور پڑھا تھا اس کو ہمارے سامنے ابراہیم بن الھثیم نے آخر سورۃ تک اسی طرح۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ اس کو پڑھا تھا ہمارے سامنے ابوعمرو بن سماک نے سورۃ کے شروع سے آخر تک اسی طرح۔اور پڑھا ہمارے سامنے ابوعبداللہ نے سورۃ کو اسی طرح۔ کہا ہے علی ساوی نے اور پڑھا ہے اس کو ہمارے سامنے شیخ امام زکی تقی الدین نے آخر سورۃ تک۔اور کہا کہ پڑھا ہے اس کو ہمارے سامنے امام احمد نے اسی طرح آخر تک۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد بن كثير الصغاني ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4206

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4207

4207 - قال الشيخ أحمد و رويناه في كتاب السنن من حديث أبي إسحاق الفزاري و الوليد بن مزيد عن الأوزاعي و كذلك رواه الوليد بن مسلم عن الأوزاعي و روى عن الهقل بن زياد عن الأوزاعي عن يحيى عن هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن عبد الله بن سلام : و الجماعة أولى بالحفظ من الواحد

کہا ہے شیخ احمد نے اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے کتاب السنن میں ابواسحٰق فزاری کی حدیث سے۔ اور ولید بن مزید سے اس نے اوزاعی سے۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ولید بن مسلم نے اوزاعی سے۔اور روایت کیا گیا ہے ھقل بن زیاد سے اس نے اوزاعی سے اس نے یحییٰ سے اس نے ہلال بن ابومیمونہ سے اس نے عطاء بن یسار سے اس نے عبداللہ بن سلام سے اور جماعت حفظ کرنے یاد رکھنے کے اعتبار سے ایک سے اولیٰ ہوتی ہے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

عبد الله بن سلام و الجماعة أولى بالحفظ من الواحد ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ← الأوزاعي و روى ← الأوزاعي و كذلك رواه الوليد بن مسلم

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4207

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4208

4208 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق نا معمر فيما أظن عن الزهري عن حبيب مولى عروة بن الزبير عن عبد الله بن أبي مرواح عن أبي ذر قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال يا رسول الله أي الأعمال أفضل ؟ قال : إيمان بالله و جهاد في سبيل الله قال : فأي العتاق أفضل ؟ قال : أنفسها قال : أفرأيت إن لم أجد قال : فتعين الصانع و تصنع لأخرق قال : أفرأيت إن لم استطع ؟ قال : تدع الناس من شرك فإنها صدقة تتصدق بها على نفسك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے اس میں جو میں گمان کرتا ہوں زہری سے اس نے حبیب مولیٰ عروہ بن زبیر سے اس نے عبداللہ بن زبیر اس نے ابومروح یا مراوح سے اس نے ابوذر سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا یا رسول اللہ کون سا عمل فضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان باللہ۔ اور جہادفی سبیل اللہ۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ عتاق کون سا افضل ہے؟ فرمایا کہ جو نفیس اور عمدہ۔ اس نے کہا آپ کیا کہتے کہ اگر میں نہ پاؤں (استطاعت ان امور کی) فرمایا تو پھر اعانت کر معاونت کر صانع کی۔ اور بنا تو کم عقل کے لئے۔ اس نے پوچھا کہ آپ بتائے اگر میں اس کی استطاعت نہ رکھوں؟ تو فرمایا کہ تو بچالے لوگوں کو اپنے شر سے بے شک یہ بھی صدقہ ہے جس کو صدقہ کرے گا اس کے ساتھ اپنے نفس پر۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عبد الله بن أبي مرواح ← حَبِيبٍ مَوْلَی عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ← الزُّهْرِيِّ، ← معمر فيما أظن ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4208

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4209

4209 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الأدمي بمكة نا إسحاق بن إبراهيم الدبري قال أنا عبد الرزاق أنا معمر : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : تعين الصانع أو الصائغ أو لتصنع لأخرق

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے اور مجھ کو خبر دی ہے ابوعبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید آدمی نے مکہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم دبری نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبدالرزاق نے ان کو معمر نے۔ پھر اسی کو ذکر کیا اس نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل سوا اس کے کہ آپ نے فرمایا کہ اعانت کر تو صانع یا ضائع کی یا بنا تو اخرق کے لئے (کم عقل ہے سمجھ کے لئے۔)

تعين الصانع أو الصائغ أو لتصنع لأخرق ← معمر فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الآدمي -بمكة-، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4209

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4210

4210 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن هشام بن عروة عن أبيه عن أبي مرواح عن أبي ذر بهذا الحديث قال هشام : في حديثه تعين الضائع أخرجاه في الصحيح من حديث هشام و أخرجه مسلم من حديث عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابومراوح نے ان کو ابوذر نے اسی حدیث کے ساتھ اور کہا ہے ہشام نے اپنی حدیث میں اعانت کر تو ضائع کی بخاری مسلم نے ان کو روایت کیا ہے حدیث ہشام سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث عبدالرزاق سے۔

أبي ذر بهذا الحديث ← أبي مرواح ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4210

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4211

4211 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن محمد بن إبراهيم الإشناني النيسابوري بها أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا أحمد بن يونس نا إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف نا ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الأعمال أفضل ؟ قال : الإيمان بالله و رسوله فقيل ثم ماذا ؟ قال : ثم الجهاد في سبيل الله قيل ثم ماذا ؟ قال ثم حج مبرور

اور ہمیں خبر دی ہے ابوبکر احمد بن محمد بن محمد بن ابراہیم اشنائی نیساپوری نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ابراہیم بن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سعید بن مسیّب نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا ایمان باللہ اور ایمان بالرسول۔ کہا گیا کہ اس کے بعد کیا افضل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جہادفی سبیل اللہ۔ پوچھا گیا کہ اس کے بعد کیا چیز؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد حج مبرور نیکیوں والا حج (یعنی حج مقبول)۔

ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ ← ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا ← الإيمان بالله و رسوله فقيل ثم ماذا ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الأعمال أفضل ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد بن محمد بن إبراهيم الإشناني النيسابوري بها

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4211

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4212

4212 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري : فذكره غير أنه قال : سأل رجل النبي صلى الله عليه و سلم و لم يقل رسوله أخرجاه في الصحيح من حديث إبراهيم بن سعد و أخرجه مسلم من حديث عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے پھر اسی کو ذکر کیا علاوہ ازیں اس نے کہا ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم سے پوچھا۔ اور یوں نہیں کہا رسولہ، بخاری مسلم نے ان کو نقل کیا ہے صحیح حدیث ابراہیم بن سعد سے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا حدیث عبدالرزاق سے۔

الزهري فذكره غير أنه ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4212

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4213

4213 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا محمد بن أحمد بن دلويه الدقامر نا محمد بن إسماعيل البخاري حدثني قيس بن حفص نا عبد الواحد بن زياد عن الحسن بن عبيد الله عن أبي عمرو الشيباني عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل العمل الصلاة لوقتها و الجهاد في سبيل الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو محمد بن احمد بن دلویہ دقامر نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو قیس بن حفص نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو حسن بن عبداللہ نے ان کو ابوعمرو شیبانی نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا افضل عمل نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← محمد بن أحمد بن دلويه الدقامر ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4213

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4214

4214 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد الدارمي قال : قرأت على أبي اليمان أن شعيب بن أبي حمزة أخبره عن الزهري قال : حدثني عطاء بن يزيد الليثي أنه : حدثه أبو سعيد الخدري أنه قيل يا رسول الله أي الناس أفضل ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مؤمن يجاهد في سبيل الله بنفسه و ماله قالوا ثم من ؟ قال : مؤمن في شعب من الشعاب يبقى الله و يدع الناس من شره رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان و أخرجاه من أوجد أخرى عن الزهري

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھی ابوالیمان کے سامنے یہ کہ شعیب بن ابوحمزہ نے ان کو خبر دی ہے زہری سے اس نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے۔ عطاء بن یزید لیثی نے کہ بے شک اس کو حدیث بیان کی ابوسعید خدری نے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ لوگوں میں سے کون افضل ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ وہ مؤمن جواپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے۔ صحابہ نے پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مؤمن جو کسی پہاڑ کی چوٹی یا وادی میں رہتا ہو وہ اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شرے بچائے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ابوالید سے اور بخاری مسلم نے اس کو روایت کیا ہے دیگر وجوہ سے زہری سے۔

أبو سعيد الخدري أنه قيل ← عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← على أبي اليمان أن شعيب بن أبي حمزة ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4214

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4215

4215 - و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنا علي بن محمد بن عيسى أنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني سعيد بن المسيب أن أبا هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : مثل المجاهد في سبيل الله و الله أعلم بمن يجاهد في سبيله كمثل الصائم القائم و تكفل الله للمجاهد في سبيله بأن يتوفاه فيدخله الجنة أو يرجعه سالما بما نال من أجر أو غنيمة رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابومحمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو علی بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابوالیمان نے ان کو خبر دی شعیب نے زہری سے ان کو سعید بن مسیّب نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے مجاہد فی سبیل اللہ کی مثال جو اس کی راہ میں جہاد کرے اللہ اس کو جانتا ہے اس روزہ رکھنے والے کے ہے جو رات کو عبادت بھی کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی اپنی راہ میں اللہ تعالیٰ ہی کفالت کرتا ہے بایں صورت کہ ان کو وفات دیتا ہے پھر اس کو جنت میں داخل کر دیتا ہے یا اس کو صحیح سالم واپس کر دیتا ہے اس سب کچھ سمیت جو کچھ اس نے اس جہاد میں پالیا ہے اجر ہو یا مال قیمت اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے ابوالیمان سے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4215

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4216

4216 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني املاء نا أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى البرتي نا عفان بن مسلم نا همام نا محمد بن جحادة أن حصين حدثه أن ذكوان حدثه أن أبا هريرة حدثه قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : علمني عملا يعدل الجهاد قال : لا أجده هل تستطيع إذا خرج المجاهد أن تدخل مسجد فتقوم و لا تفتر و تصوم و لا تفطر ؟ قال : لا أستطيع ذاك قال أبو هريرة : إن فرس المجاهد يستن في طوله فتكتب له حسنات

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن احمد اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابوالعباس احمد بن محمد بن عیسیٰ برنی نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو ہمام نے ان کو محمد بن مجاہد نے ان کو ابوحصین نے اس کو حدیث بیان کی ہے ذکوان سے یہ کہ ان کو ابوہریرہ نے حدیث بیان کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل تعلیم فرما دیجئے جو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو۔حضور نے فرمایا میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ مجاہد جب جہاد کے لئے گھر سے نکلے تو تم مسجد میں داخل ہو جاؤ اور عبادت میں کھڑے ہی رہ جاؤ اس میں رکاوٹ نہ آنے دو۔ اور تم روزہ رکھو ایسا کہ پھر افطار ہی نہ کرو؟ اس آدمی نے کہا کہ میں اس کی تو طاقت نہیں رکھتا۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں بے شک مجاہد کا گھوڑا جہاں تک اپنے طویل راستے میں چلتا ہے اس کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى البرتي ← أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4216

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood