Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9405

9406 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا سعيد بن أسد نا ضمرة عن رجاء عن عبادة بن نسي قال : كانت لأبي الدرداء إلى معاوية حاجة قال : فحجبه لشغل كان فيه فوجد في نفسه فقال : من أتى باب السلطان قام و قعد و من وجد بابا مغلقا وجد إلى جنبه بابا فتحا رحبا إن سأل أعطى و إن دعى أجيب و إن أول نفاق المرء طعنه على إمامة

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن اسد نے ان کو حمزہ نے ان کو رجاء نے ان کو عبادہ بن نسی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء کو حضرت امیر معاویہ کے پاس کوئی حاجت تھی ۔ مگر وہ اپنی کسی مصروفیات کی وجہ سے ان کو نہ مل سکے مگر انہوں نے اپنے دل میں کوئی بات رکھ لی اور دل میں ناراض ہوئے ۔ اور فرمایا کہ جو شخص بادشاہ کے دروازے پر آئے کھڑا ہوا اور بیٹھ جائے اور جو شخص دروازہ بند پائے وہ اس کے پہلو میں ایک دروازہ کھلا پائے گا جس سے استقبال ہوگا اگر سوال کرے گا تو اس کو عطاء کیا جائے گا اور اگر کچھ دعا مانگے تو اس کی اجابت کی جائے گی بے شک کسی آدمی کا پہلا نفاق اس کا اپنے امام و بادشاہ کے بارے میں طعن واعتراض کرنا ہے ۔

فحجبه لشغل كان فيه فوجد في نفسه ← كانت لأبي الدرداء إلى معاوية حاجة ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← رَجَاءٍ ← ضَمْرَةُ ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9405

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9406

9407 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى بن الفضل نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثني إسماعيل بن عبيد الله المخزومي عن أم الدرداء قالت : أتى أبو الدرداء باب معاوية فوجده مغلقا فقال : من أتى باب السلطان يقوم و يقعد و من يجد بابا مغلقا يجد عنده بابا فتح إن سأل أعطى و إن استغفر غفر له قالت : و كان رجل من أهل الذمة استعانوا به على معاوية ليكلمه أن يخفف عنهم من الخراج قالت : فلما يؤذن له قال : انتم أظلم منه قالوا : لم أصلحك الله ؟ قال : لو شئتم أسلتم فلم يكن له عليكم سبيل

ہمیں خبر دی ابو سعید محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے ان کو اسماعیل بن عبید اللہ مخزومی نے ام درداء سے وہ کہتی ہیں کہ حضرت ابو درداء حضرت معاویہ کے دروازے پر آئے انہوں نے درواز ہ بند پایا لہٰذا کہنے لگے جو شخص بادشاہ کے دروازے پر آئے وہ اٹھے اور بیٹھے اور جو شخص دروازہ بند پائے وہ اس کے پاس ایک دروازہ کھلا ہوا بھی پائے گا اگر سوال کرے گا تو اس کو عطا کیا جائے گا اگر بخشش مانگے گا تو اس کو بخشش دیا جائے گا۔ فرماتی ہیں کہ اہل ذمہ میں سے ایک آدمی تھا اس کے بارے میں حضرت معاویہ سے مدد مانگتے تھے کہ وہ ان سے بات کریں کہ حضرت معاویہ ان کے خراج و ٹیکس میں کچھ تخفیف کر دے ۔ فرماتی ہیں کہ ان کو ملنے کی اجازت نہ ملی۔ انہوں نے کہا کہ تم لوگ اس سے بھی بڑے ظالم ہو ( بادشاہ سے ) انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسے اللہ آپ کی اصلاح فرمائے ؟ فرمایا کہ اگر تم لوگ چاہو تو مان جاؤ تو اس کو تمہارے اوپر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔

أتى أبو الدرداء باب معاوية فوجده مغلقا ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9406

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9407

9408 - و أخبرنا أبو سعيد أنا أبو العباس نا الحسن نا أبو أسامة عن عيسى و هو ابن سنان سمعت وهبا يقول لعطاء : إياك و أبواب السلطان فإن على أبواب السلطان فتنا كمبارك الإبل و لا تصيب من دنياهم شيئا إلا أصابوا من دينك مثله ثم قال : يا عطاء : إن كان يكفيك ما يغنيك فكل عيشك يكفيك و إن كان لا يغنيك ما يكفيك فليس شيء يسعه يسعك إنما بطنك بحر من البحور أو وادي من الأودية لا تشبعه إلا التراب و قد روى الكلام الأول من وجه ضعيف مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو العباس نے ان کو حسن نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عیسیٰ نے وہ ابن سنان ہے اس نے سنا وہب سے وہ حضرت عطاء سے کہہ رہے تھے کہ تم بادشاہوں کے درواز ہ پر جانے سے بچو بے شک ان کے دروازہ پر فتنے ہوتے ہیں۔ یا فتنے آتے ہیں جیسے اونٹ اپنے ٹھکانے پر یعنی اپنے بیٹھنے کی جگہ پر آتے ہیں۔ اور تم جتنا ان کی دولت حاصل کرو گے وہ اسی قدر تمہارا دین لے لیں گے (یعنی تمہارے دین کا نقصان ہوگا۔) اس کے بعد فرمایا اے عطاء اگر وہ بادشاہ اس قدر آپ کی ضرورت پوری کر دے جو آپ کی حاجت پوری کر دے تو کیا وہ تیری ساری زندگی کی ضرور تیں پوری کر دے گا؟ اور اگر وہ اس قدر تیری مدد نہیں کرتا جس سے تیری ہر ضرورت پوری کر دے تو سمجھ لو کہ تیرا پیٹ دریا ہے دریاؤں میں سے یاوادی ہے وادیوں میں سے جس کو مٹی کے سوا کوئی شئی نہیں بھر سکتی ۔ تحقیق کلام اول مروی ہے ضعیف طریق سے۔

وَهْبًا ← عيسى و هو ابن سنان ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9407

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9408

9409 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني نا أبو أحمد بن فارس نا محمد بن إسماعيل نا ربيع عن علي بن أبي طالب : اتقوا أبواب السلطان

ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحاق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو ربیع نے ان کو علی بن ابو طالب نے فرمایا کہ بادشاہوں کے دروازوں سے بچو۔

علي بن أبي طالب اتقوا أبواب السلطان ← رَبِيعٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9408

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9409

9410 - حدثنا موسى نا إسحاق هو ابن عثمان : سمع قتادة يعني عن الربيع

ہمیں حدیث بیان کی موسیٰ نے ان کو اسحٰق بن عثمان نے اس نے سنا قتادہ سے یعنی ربیع سے۔

الرَّبِيعِ، ← قتادة يعني ← إسحاق هو ابن عثمان ← مُوسَى

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9409

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9410

9411 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا يعلي بن عبيد حدثني موسى الجهني عن قيس بن يزيد حدثتني مولاتي سدرة أن جدك سلمة بن قيس حدث قال : لقيت أبا ذر فقال : يا سلمة بن قيس ثلاثا فاجتنبها لا تجمع بين الضره فإنك لن تعدل و لو حرصت و لا تعمل على الصدقة فإن صاحب الصدقة زائد أو ناقص و لا تغش ذا سلطان فإنك لا تصيب من دنياهم إلا أصابوا من دينك أفضل منه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو موسیٰ جہنی نے ان کو قیس بن یزید نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی میری مملوکہ سدرۃ نے کہ میرے دادا سلمہ بن قیس نے حدیث بیان کی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ابو ذر سے ملا انہوں نے تین بار کہا اے سلمہ بن قیس۔ اجتناب کر دو سوکنیں اکٹھی نہ کر بے شک تو ان کے مابین انصاف نہیں کر سکے گا ۔ اگر چہ تو انتہائی حرص و کوشش کر لے ۔اور صدقہ وصول کرنے کے لئے عامل نہ بن کیونکہ صاحب صدقہ یا زیادہ لے لیتا ہے یا کم۔ اور صاحب اقتدار کے پاس نہ جا۔ بے شک تو جس قدر ان کی دنیا سے حصہ لے گا وہ اس سے زیادہ قیمتی تیرے دین کا نقصان کر دیں گے۔

لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ ← قيس بن يزيد حدثتني مولاتي سدرة أن جدك سلمة بن قيس حدث ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9410

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9411

9412 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد أنا محمد بن العياس المؤدب نا عفان نا وهيب نا يونس عن الحسن قال : قال ابن مسعود : إن على أبواب السلطان فتنا كمبارك الإبل لا تصيبوا من دنياهم شيئا إلا أصابوا من دينكم مثله

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن عباس مؤدب نے ان کو عفان نے ان کو وہب نے ان کو یونس نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے کہا بے شک بادشاہوں کے دروازوں پر فتنے آتے ہیں جیسے اونٹ اپنے ٹھکانوں پر کثرت کے ساتھ آتے ہیں تم ان سے جس قدر دنیا حاصل کرو گے وہ اسی قدر تمہارے دین کا نقصان کر دیں گے۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، ← محمد بن العياس المؤدب ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9411

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9412

9413 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن عمارة بن عبد عن حذيفة قال : إياكم و مواقف الفتن قيل و ما مواقف الفتن يا أبا عبد الله قال : أبواب الأمراء يدخل أحدكم على الأمير فيصدقه بالكذب و يقول ما ليس فيه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو اسحٰق نے ان کو عمارہ بن عبد نے ان کو حذیفہ نے انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپ کو بچاؤ فتنوں کے وقوع کے مقامات سے ۔ پوچھا گیا کہ فتنوں کے واقع ہونے کے مقامات کون سے ہیں؟ اے ابو عبداللہ! فرمایا کہ امیروں و حکمرانوں کے دروازے۔ تم میں سے کوئی آدمی جب امیر کے پاس جاتا ہے جھوٹ پر بھی اس کی تصدیق کرتا ہے اس کی وہ تعریف کرتا ہے جو چیز اس میں نہیں ہوتی۔

حُذَيْفَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ عَبْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9412

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9413

9414 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب قال : سمعت علي بن عثام يقول : قال معاوية بن أبي سفيان اتقوا السلطان فإن السلطان يغضب غضب الصبي و يبطش بطشة الأسد قال : و قال علي : قال عبد الله بن وهب : اتقوا السلطان اتقوا شرطيهم اتقوا مسلحيهم اتقوا عريفهم فإنهم مصرع لهم قال علي : يغضب الحارس فيغضب المسلحي فيغضب الأمير الخليفة متى يقوى بهم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عثام سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابو سفیان نے فرمایا: بچو تم لوگ بادشاہ سے بے شک ایسے ناراض ہوتا ہے جیسے بچہ ہوتا ہے اور سخت ایسے پکڑتا ہے جیسے شیر پکڑتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا ہ عبداللہ بن وہب نے کہا بادشاہ سے بچو اور ا س کے پولیس میں سے بچو اور اس کے ہتھیار بردار سے بچو اس کے لوگوں کی شناخت کرنے والے ماہر سے بچو وہ سب لوگوں کو پچھاڑ نے والے ہیں علی نے کہا کہ محافظ غصے ہوتا ہے تو ہتھیار بردار کو بھی غصہ آجاتا ہے وہ امیر کو غضبناک کر دیتا ہے پھر وہ اپنے نائب اور خلیفہ کو بھی غضبناک کر دیتا ہے لہٰذا انسان کہاں ان سب کے غضب کی برداشت کی سکت رکھے گا۔

عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9413

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9414

9415 - أخبرنا أبو ذر الهروي أنا عمر بن أحمد الواعظ ببغداد و أبو مسلم الكاتب بمصر قالا : نا أبو بكر بن دريد نا أبو حاتم عن أبي عبيدة عن يونس قال : كان في محراب عمدان بصنعاء ثلاثة أسطر مكتوب في صدره سلط السكوت على لسانك إن كانت العافية من شأنك و في الجانب الأيمن السلطان نار فانصرف عن مكافحتها و في الجانب الأيسر ول الكلام غيرك

ہمیں خبر دی ابو زہری نے ان کو عمر بن احمد و اعظ نے بغداد میں اور ابو مسلم کاتب نے مسر میں دونوں نے کا کہ ان کو ابو بکر ن درید نے ان کو ابو حاتم نے ابو عبیدہ سے اس نے یونس سے وہ کہتے ہیں کہ شہر صنعا ء میں لکڑی کے منطر پر تین سطریں کندہ کی ہوتی تھیں اوپر یہ لکھا تھا کہ خاموشی کو اپنی زبان پر مسلط رکھ تیری حالت میں عافیت ہو گی اور دائیں جانب لکھا تھا بادشاہ آگ ہے اس کے گرم سانس لینے سے بھی بچ اور بائیں جانب یہ لکھا تھا اپنے سوا کسی اور کو بولنے کی ذمہ داری سپرد کر دیجئے۔

يُونُسَ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبُو حَاتِمٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دُرَيْدٍ، ← عمر بن أحمد الواعظ ببغداد و أبو مسلم الكاتب ← أَبُو ذَرٍّ الْهَرَوِيُّ،

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9414

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9415

9416 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي المؤذن أنا إسماعيل بن أحمد الصوفي نا محمد بن موسى الحلواني نا أبو بكر الأثرم نا عبد الصمد بن يزيد سمعت الفضيل بن عياض يقول : آفة القرآء العجب و احذروا أبواب الملوك فإنها تزيل النعم

ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالخالق بن علی مؤذن نے ان کو اسماعیل بن احمد صوفی نے ان کو محمد بن موسیٰ حلوانی نے ان کو ابو بکراثرم نے ان کو عبدالصمد بن یزید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ قاریوں کی آفت و ہلاکت عجب اور خود پسندی ہے ۔ اور بادشاہوں کے دروازوں سے بچو بے شک وہ نعمتوں کو زائل کرتے ہیں۔

آفة القرآء العجب و احذروا أبواب الملوك فإنها تزيل النعم ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← عبد الصمد بن يزيد ← أَبُو بَكْرٍ الأَثْرَمُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ، ← إسماعيل بن أحمد الصوفي ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9415

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ و من هذا الباب مجانبه الظلمة · حديث 9416

9417 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية نا أبو حامد العفصي نا جعفر بن محمد بن سوار قال : قال ابن خيبق قال الفضيل : كنا نتعلم اجتناب السلطان كما نتعلم سورة من القرآن

ہمیں خبر دی ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن علی بن معاویہ نے ان کو ابو حامد عفصی نے ان کو جعفر بن محمد بن سوار نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن خبیق نے وہ کہتے ہیں کہ ابن فضیل نے کہا ہم لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے بادشاہ سے اجتناب کرنے کی جیسے ہم لوگ قرآن کی سورۃ سیکھتے تھے۔

الفضيل كنا نتعلم اجتناب السلطان كما نتعلم سورة من القرآن ← ابن خيبق ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ ← أبو حامد العفصي ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter - And from this section he avoids darkness · Hadith 9416

chevron_left Previous
12345…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood