Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9369

9370 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا ابن أبي قماش نا أبو الشعثاء الحسن بن علي عن يحيى بن آدم عن الحسن بن صالح عن علي بن الأقمر عن عمرو بن أبي جندب عن عبد الله قال : لما نزلت { يا أيها النبي جاهد الكفار و المنافقين و اغلظ عليهم } أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يجاهد بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فعليه بوجه مكفهر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ابو قماش نے ان کو ابو شعشا ئء حسن بن علی نے ان کو یحیٰ بن آدمی نے ان کو حسن بن صالح نے ان کو علی بن اقمر نے ان کو عمرو بن ابو جندب نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : اے نبی کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔ تو رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ انسان اپنے ہاتھ کے ذریعے سے جہاد کرے اگر وہ اس بات کی استطاعت نہ رکھے تو پھر اپنی زبان کے ساتھ اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھے تو اس پر لازم ہے کہ وہ غضبناک چہرے کے ساتھ اپنائے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عمرو بن أبي جندب ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أبو الشعثاء الحسن بن علي ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9369

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9370

9371 - أخبرنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي رحمه الله أنا عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي نا عبد الله بن هاشم بن حيان الطوسي نا سفيان بن عيينة ح و أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري نا الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني نا عبد الجبار نا سفيان سمعناه من عمرو يقول : أخبرني حسن بن محمد أخبرني عبيد الله بن رافع و هو كاتب علي قال : سمعت عليا رضي الله عنه يقول : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا و الزبير و المقداد قال : انطلقوا حتى تأتوا روضة خاخ فإن بها ظعينة معها كتاب فخذوه منها فانطلقنا تعادي بنا خيلنا حتى أتينا الروضة فإذا نحن بالظعينة فقلنا لها أخرجي الكتاب فقالت : ما معي من كتاب فقلنا : لتخرجن الكتاب أو لتلقين الثياب فأخرجته من عقاصها فأتينا به رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا فيه من حاطب بن أبي بلتعة إلى ناس من قريش من المشركين من أهل مكة يخبرهم ببعض أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما هذا يا حاطب ؟ فقال : يا رسول الله لا تعجل علي إني كنت امرأ ملصقا في قريش و لم أكن من أنفسهم و كان معك من المهاجرين لهم قرابات بمكة يحمون قرابتهم و أهليهم و لم يكن لي قرابة أحمي بها أهلي فأحببت إذ فاتني ذلك من النسب أن أتخذ عندهم يدا يحمون بها قرابتي و أهلي و الله يا رسول الله ما فعلت ذلك ارتدادا عن ديني و لا أرضى بالكفر بعد الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذا قد صدقكم فقال عمر بن الخطاب : يا رسول الله دعني أضرب عنق هذا المنافق فقال : إنه شهد بدرا و ما يدريك لعل الله قد اطلع على أهل بدر فقال : اعملوا ما شئتم فإني قد غفرت لكم و أنزل فيه { يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي و عدوكم أولياء } الآية

ہمیں خبر دی سید ابو الحسن محمد بن حسین علوی رحمہ اللہ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو عبداللہ بن ہاشم بن حیان طوسی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ح اور ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے ان کو حسن بن محمد بن صباح زعفرانی نے ان کو عبدالجبار نے ان کو سفیان نے ہم نے اس کو سنا ہے عمرو سے وہ ک ہتے ہیں مجھے خبر دی حسن بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عبید اللہ بن رافع نے وہ حضرت علی کے منشی تھے وہ کہتے ہیں میں نے سنا حضرت علی المرتضیٰ سے فرماتے تھے کہ رسول اللہ نے مجھے اور زبیر کو اور مقداد کو روانہ فرمایا اور فرمایا کہ تم لوگ چلتے رہو یہاں تک کہ مقام روضتہ خاخ پر پہنچ جاؤ وہاں ایک عورت ہو گی اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ ہم روانہ ہوئے گھوڑ ے ہمیں اڑا کر لے گئے۔ حتیٰ کہ ہم لوگ روضتہ خاخ پر پہنچ گئے ہم نے دیکھا وہاں پر ایک عورت محو سفر تھی ہم نے اس سے کہا تمہارے پاس جو خط ہے وہ ہمارے حوالے کردو۔ سا نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ۔ ہم نے کہا یا تو آپ ہمیں خط دے دیں ورنہ آپ کپڑے اتاریں۔ لہذا میں نے وہ خط اس کی چٹیا میں سے برآمد کر لیا ہم وہ خط رسول اللہﷺ کے پاس لے کر آئے جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے خط تھا قریش کے بعض لوگوں کی طرف اہل مکہ کے مشرکین میں سے جس میں وہ ان کو رسول اللہﷺ کے بعض راز اور امور کے بارے میں خبر دے رہے تھے۔ رسول اللہﷺ نے حاطب کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اے حاطب۔ اس نے کہا یا رسول اللہ میرے بارے میں آپ کوئی جلدی کاف یصلہ نہ کیجئے میں ایسا آدمی ہوں جو قریشد کے ساتھ قریبی میل جول رکھتا تھا جب کہ میں قریشی نہیں تھا۔ آپ کے پاس جتنے مہاجرین ہیں ان کی مکے میں رشتے داریاں ہیں وہ اپنے قرابت داروں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ میری واہں کوئی قرابت داری نہیں ہے جس کی وجہ سے میرے گھر والوں کی وہ حٖفاظت کریں یا میں اپنے گھر والوں کی حفاظت کا سامان کر سکوں لہذا میں نے یہ چاہا ہے کہ جب یہ چیز مجھ سے فوت ہو گئی ہے کہ میرا کوئی ان سے نسبتی تعلق نہیں ہے تو کم از کم میں ان پر کوئی احسان ہی کروں جس کی وجہ سے وہ میری قرابت کا اور میرے گھر انے کا خیال کریں۔ یا رسول اللہ یہ کام میں نے محض اسی لئے کیا ہے حدانخواستہ دین سے مرتد ہو کر نہیں کیا اور نہ ہی میں اسدلام لانے کے بعد کفر پر راضی ہو سکتا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا بے شک اس نے تم لوگوں سے یہ سچ بولا ہے ۔ حضرت عمر خطاب نے کہا یا رسول اللہﷺ میں اس منافق کی گردن مارتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمادیا بے شک وہ شخص جنگ بدر میں شریک ہوا تھا تمہیں کیا معلوم شاید کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو جھانک کر فرمایا تھا اے اہل بدر آج کے بعد تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی تھی ۔ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔

و الزبير و المقداد ← بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيًّا ← عبيد الله بن رافع و هو كاتب علي ← حسن بن محمد ← سفيان سمعناه من عمرو ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← و، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عبد الله بن هاشم بن حيان الطوسي ← عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9370

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9371

9372 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد العدل نا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان نا عمرو بن دينار أخبرني الحسن بن محمد بن علي أنه سمع عبيد الله بن أبي رافع كاتب علي بن أبي طالب قال : سمعت علي بن أبي طالب يقول : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث بمثله غير أنه قال : غير انه قال : يحمون بها أهليهم و أموالهم بمكة فأحببت إذ فاتني ذلك من النسب فيهم أن اتخذ عندهم يدا يحمون بها قراباتي و ما فعلت ذلك كفرا و لا ارتدادا عن ديني ثم ذكره و قال : في آخره فقال : عمرو بن دينار فنزلت فيه { يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي و عدوكم أولياء } الآية قال سفيان : فلا أدري أذلك الحديث أم من قول عمرو بن دينار رواه البخاري في الصحيح عن الحميدي و رواه مسلم عن ابن أبي عمر و غيره عن سفيان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ عدل نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے انو ک سفیان نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو خبر دی حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے بھیجا تھا۔ اس کے بعد راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے اسی کی مثل سوائے اس کے کہ اس نے کہا ہے کہ وہ لوگ اس قرابت کے ذریعے اپنے گھر وں اور اپنے مالوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مکے میں میں نے یہ چاہا ہے کہ جب ان میں میرانسبی تعلق نہیں ہے تو کم از کم میں ان پر کوئی احسان ہی کر دوں جس کی وجہ سے وہ میری قرابتوں اور میرے رشتوں کی حفاظت کریں گے ۔ میں نے یہ کام کفر یا مرتد ہونے کی وجہ سے نہیں کیا کہ میں خدانخواستہ اپنے دین سے مرتد ہو گیا ہوں۔ راوی نے پھر اسی مذکورہ بات کو ذکر کیا ہے اور ادس کے آخر میں کہا ہے کہ عمرو بن دینار نے کہا پھر یہ آیت نازل ہوئی اس بارے میں اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ سفیان نے کہا میں نہیں جانتا کہ یہ حدیث ہے یا عمرو بن دینار کے قول میں سے ہے ۔ اور ادس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے حمیدی سے ۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابن ابو عمر سے اور دیگر نے سفیان سے ۔

الحسن بن محمد بن علي ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← علي بن حمشاد العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9371

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9372

9373 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إبراهيم بن عبد الله أبو مسلم نا حجاج نا حماد و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا عبد الواحد بن غياث نا حماد بن سلمة عن الحجاج بن أرطأة عن إسماعيل ابن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن جرير بن عبد الله البجلي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أقام مع المشركين فقد برئت منه الذمة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ ابو مسلم نے ان کو حجاج نے ان کو حماد نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عبدالواحد بن غیاث نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو حجاج بن ارطاۃ نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو قیس بن ابو حازم نے ان کو جریری بن عبداللہ بجلی نے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص مشرکوں کے ساتھ قیام رکھے اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو جاتا ہے ۔

جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إسماعيل ابن أبي خالد ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ ← حَمَّادٌ, و ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9372

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9373

9374 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب ح و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان و أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز قالا : أنا أبو سهل بن زياد القطان أنا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن إسماعيل ابن أبي خالد عن قريش بن أبي حازم عن جرير بن عبد الله قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سرية إلى خثعم فاعتصم ناس منهم بالسجود فأسرع فيهم القتل فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فأمر لهم بنصف العقل و قال : أنا بريء من كل مسلم مقيم بين أظهر المشركين قالوا يا رسول الله و لم قال : لا ترايا ناراهما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہےابو العباس محمد بن یعقوب نے ح اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے اور ابو الحسن علی بن احمد بن محمد بن داؤد درزاز نے۔ ان دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اسماعیل بن ابو خآلد نے ان کو قریش بن ابو حازم نے ان کو جریر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسدول اللہﷺ نے قبیلہ خثعم کی طرف ایک جہادی لشکر بھیجا کچھ لوگوں نے ان میں سے سجدوں کو مضبوط پکڑ لیا لشکریوں نے ان کے قتل کرنے میں جلدی کی حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو ان کے لئے نصف دیت کا فیصلہ فرمایا اور فرمایا کہ میں لاتعلق ہوں ہر مسلم سے جو مشرکوں کے بیچ میں جا کر مقیم ہو جائے ۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہﷺ:

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9373

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9374

9375 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا هشيم أنا العوام بن حوشب عن الأزهر بن راشد قال : كانوا يأتون أنس بن مالك فإذا حدثهم بحديث فلم يدروا ما هو أتوا الحسن ففسره لهم قال : فحدثهم ذات يوم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تنقشوا في خواتيمكم عربيا و لا تستضيئوا بنار أهل الشرك فلم يدروا ما هو حتى أتوا الحسن فقالوا إن أنسا حدثنا حديثا لم ندر ما هو قال : ما حدثكم أنس ؟ قالوا : حدثنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تنقشوا في خواتيمكم عربيا و لا تستضيئوا بنار أهل الشرك قال : أما قوله لا تنقشوا في خواتيمكم عربيا قال : لا تنقشوا في خواتيمكم محمد و قوله لا تستضئوا بنار أهل الشرك يقول : تستشيروا المشركين في شيء من أموركم قال : ثم قال الحسن : تصديق ذلك في كتاب الله تعالى قال : فتلا هذه الآية : { يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا يألونكم خبالا }

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابو الربیع نے ان کو ہثیم نے ان کو عوام بن حوشب نے انکو ازہر بن راشد نے وہ کہتے ہیں کہ لوگ حضرت انس بن مالک کے پاس آتے تھے وہ جب ان کو کوئی حدیث بیان کرتے تو وہ اس کو نہ سمجھ سکتے لہذا حسن کے پاس آتے وہ ان کے سامنے اس کی تفسیر کرتے کہتے ہیں کہ ایک دن انہوں ن ے ان کو یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا تھا۔ اپنی انگوٹھیوں میں عربی نقش نہ کراؤ اور اہل شرک کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو۔ لوگوں نے اس کا مطلب نہ سمجھا لہذا حضر ت حسن کے پاس آئے اور آکر کہا کہ بے شکا نس نے ہمیں ایک حدیث بیان کی ہے ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے جو کہا اس کا کیا مطلب ہے ۔ حسن نے پوچھا کہ انس نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ اس نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا تم لوگ اپنی انگوٹھیوں میں عربی نقش نہ کرایا کرو اور اہل شرک کی آگ کے ساتھ روشنی حاصل نہ کیا کرو حسن نے فرمایا : کہ جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ اپنی انگوٹھیوں میں عربی نقش نہ کراؤ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم اپنی انگوٹھوں میں اسم محمد نقش نہ کرایا کرو۔ اور دوسرے اس قول کا مطلب کہ مشرکوں کہ آگ سے روشنی حاصل نہ کیا کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ تم مشرکوں کو اپنے امور اور معاملات مشورے میں شریک نہ کیا کرو۔ اور اس کے بعد حضرت حسن نے فرمایا کہ اس بات کی تصدیق کتاب اللہ میں موجود ہے پھر انہوں نے دیہپ آیت تلاوت کی ۔ اے اہل ایمان مسلمانوں کے علاوہ ( یعنی کافروں مشرکوں) کو دلی دوست نہ بنایا کرو وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔

فحدثهم ذات يوم ← بحديث فلم يدروا ما هو أتوا الحسن ففسره لهم ← كانوا يأتون أنس بن مالك فإذا ← الْأَزْهَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9374

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9375

9376 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن بهز بن حكيم بن معاوية عن أبيه عن جده قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله و الله ما جئتك حتى حلفت بعدد أصابعي هذه أن لا أتبعك و لا أتبع دينك و إني أتيت أمرا لا أعقل شيئا إلا ما علمني الله و رسوله و إني أسألك بالله بما بعثك ربك إلينا ؟ قال : اجلس ثم قال : بالإسلام فقلت : و ما آية الإسلام ؟ قال : تشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تفارق الشرك و أن كل مسلم على كل مسلم حرام إخوان نصيران لا يقبل الله من مشرك أشرك معه إسلامه عملا و إن ربي داعي فسائلي هل بلغت عبادي فليبلغ شاهدكم غائبكم و إنكم تدعون مغدما على أفواهكم بالغدام فأول ما يسأل عن أحدكم فخذه و كفه قال : قلت يا رسول الله فهذا ديننا ؟ قال : نعم و إنما تحشر بكفك و إنكم تحشرون على وجوهكم و على أقدامكم و ركبانا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو بہنر بن حکیم بن معاویہ نے اپنے والد سے اس نے اپنی دادی سے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا۔ اور مدیں نے کہا یا رسول اللہ اللہ کی قسم میں نے آپ کے پاس آنےسے قبل دس بار قسم کھائی ہے کہ میں آپ کی اتباع نہیں کروں گا اور ندہ ہی آپ کے دین کی پیروی کروں گا میں آیا ہوں ایک ایسے کام کے لئے کہ میں کچھ بھی نہیں سمج رہا مگر جو مجھے اللہ نے اور اس کے رسول نے سکھایا ہے اور میں آپ سے اللہ کے واسطے سے سوال کروں گا اس نے کون سے دین کے ساتھ ہمارے پاس آپ کو بھیجا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بیٹھئے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے مجھے آپ لوگوں کے پاس دین اسلام کے ساتھ بھیجا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ اسلام کی آیت اور پہچان کیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یہ کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کےردسول ہیں۔ اور تم نماز کی پابندی کرو اور تم زکوٰۃ ادا کرو۔ اور تم شرک کو اپنے آپ سے دور کر دو۔ اور یہ کہ ہر مسلم کا دوسرے مسلم پر احترام اور حرمت لازمی ہے جیسے کہ سگے بھائی کی حرمت ہوتی ہے دونوں ایک دوسرے کے مدد گار بھائی ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسے آدمی سے اسلام کو قبول نہیں کریں گے جس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا ہو گا اور کسی بھی عمل کو در حقیقت میرا رب داعی ہے ( جو سب کو اپنی طرف بلاتا ہے ) ( یا رب کا داعی ہوں) اور وہ مجھ سے پوچھے گا کہ کیا تم نے میرا دین پہچا دیا تھا۔ دچاہے کہ تم لوگوں میں سے جو یہاں موجود ہیں وہ میرا دین ان کو بھی پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ بے شک تم سب لوگ اس حالت میں رب کے ہاں بلائے جاؤ گے اس حال میں کہ تمہارے مونہوں پر بندش لگا دی گئی ہو گی ۔ بس پہلی چیز جس کے بارے میں تم میں سے کسی ایک سے بھی پوچھی جائے گی وہ اس کی شرم گاہ اور اس کے ہاتھ ہوں گے ۔ صحابی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا بس ہمارا بھی یہی دین ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بالکل یہی دین ہو گا۔ یقینی بات ہے کہ تم قیامت میں اپنے ہاتھ یعنی اعمال کے ساتھ اکٹھے کئے جاؤ گے ۔ اور تم لوگ اپنے منہ کے بل اور اپنے قدموں پر پیدل اور سوار کی حالت میں جمع کئے جاؤ گے ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9375

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9376

9377 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا عبد الله بن عمر بن أحمد بن شوذب الواسطي نا شعيب بن أيوب نا أبو أسامة نا زكريا عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي الخليل قال : قال علي بن أبي طالب سمعت رجلا يستغفر لوالديه و هما مشركان فقلت : لم تستغفر لوالديك و هما مشركان ؟ قال : أليس استغفر إبراهيم لأبيه و كان مشركا فنزلت { و ما كان استغفار إبراهيم لأبيه إلا عن موعدة وعدها إياه } الآية

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو عبداللہ بن عمر بن احمد بن شوذب واسطی بن ایوب نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو زکریا نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن ابو خلیل نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابو طالب نے فرمایا کہ میں نے ایک آدمی سے سنا کہ وہ اپنے والدین کے لئے استغفار کر رہا تھا۔ حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے والدین کے لئے استغفار کیوں کر رہے ہو حالانکہ وہ تو مشرک ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ کیا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لئے بخشش نہیں مانگی تھی حالانکہ وہ مشرک تھا۔ لہٰذا یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ ابراہیم علیہ السلام کا اپن باپ کے لئے استغفار کرنا محض پہلے تھا کہ اللہ نے اس سے وعدہ فرما رکھا تھا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو أُسَامَةَ ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← عبد الله بن عمر بن أحمد بن شوذب الواسطي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9376

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9377

9378 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا ابن شوذب نا شعيب نا الفضل بن دكين عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الخليل عن علي قال : سمعت رجلا يستغفر لأبويه و هما مشركان فقلت : أتستغفر لأبويك و هما مشركان ؟ قال : ألم يستغفر إبراهيم لأبيه قال : فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فنزلت : { ما كان للنبي و الذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين } و قد ذكرنا في غير هذا الموضع سائر ما ورد في سبب نزول هذه الآية

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابن شوذب نے ان کو شعیب نے ان کو فضل بن دکین نے ان کو سفیان نےان کو ابو اسحاق نے ان کو ابو الخلیل نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ایک آدمی اپنے مشرک والدین کے لئے استغفار کر رہا ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ اپنےو الدین کے لئے بخشش مانگ رہے ہو۔ حالانکہ وہ تو مشرک ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ کیا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لئے استغفار نہیں کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی لہٰذا یہ آیت نازل ہوئی ۔ کسی نبی کو او رمؤمنوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکوں کے لئے استغفار کریں۔ اور ہم نے اس مقام کے علاوہ دوسری جگہ اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں ورد احادیث ذکر کر دی ہیں۔

ألم يستغفر إبراهيم لأبيه ← رجلا يستغفر لأبويه و هما مشركان فقلت أتستغفر لأبويك و هما مشركان ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← شُعَيْبٌ، ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9377

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9378

9379 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو اليمان نا جرير عن سليمان : عن الحارث بن معاوية أنه قدم على عمر بن الخطاب فقال له : كيف تركت أهل الشام ؟ فأخبره عن حالهم فحمد الله ثم قال : لعلكم تجالسون أهل الشرك ؟ فقال : لا يا أمير المؤمنين قال : إنكم إن جالستموهم أكلتم و شربتم معهم و لن تزالوا بخير ما لم تفعلوا ذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو الیمان نے ان کو جریر نے ان کو سلیمان نے حارث بن معاویہ سے کہ وہ عمر بن خطاب کے پاس آئے ۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اہل شام کو کیسے چھوڑا ہے (یعنی کیا حال ہے ان کا )؟ حضرت حارث بن معاویہ نے ان کو ان کا حال بتایا تو انہوں نے الحمد للہ پڑھ کر خطبہ پڑھا۔ اس کے بعد فرمایا کہ شاید تم لوگ مشرکوں کے ساتھ بیٹھتے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں اے امیر المؤمنین فرمایا کہ بے شک تم لوگ ان کو اپنے پاس بٹھاتے ہو اور تم ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہو۔ تم لوگ ہمیشہ خیر کے ساتھ رہو گے جب تک تم یہ کام نہیں کرو گے۔

لا يا أمير المؤمنين ← لعلكم تجالسون أهل الشرك ← حالهم فحمد الله ثم ← له كيف تركت أهل الشام ← الحارث بن معاوية أنه قدم على عمر بن الخطاب ← سُلَیْمَانَ ← جَرِيرٌ ← أَبُو الْيَمَانِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9378

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9379

9380 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد نا عيسى بن سليمان نا داود بن رشيد نا خلف بن خليفة عن حصين عن سعيد بن جبير قال : أربعة تعد من الجفاء دخول الرجل المسجد يصلي في مؤخره و يدع أن يتقدم في مقدمه و يمر الرجل بين يدي الرجل و هو يصلي و مسح الرجل جبهته قبل أن يقضي صلاته و مؤاكلة الرجل مع غير أهل دينه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو خبر دی دعلج بن احمد نے ان کو عیسیٰ بن سلیمان نے ان کو داؤد بن رشید نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو حصین نے سعید بن جبیر سے وہ کہتے ہیں کہ چار چیزیں ظلم شمار ہوتی ہیں آدمی کا مسجد میں داخل ہونا اور پیچھے پیچھے نماز پڑھنا اور آگے گنجائش ہونے کے باوجود چھوڑ دینا اور نماز پڑھنے والے کے آگے گزرنا اور نماز پوری کرنے سے قبل پیشانی صاف کرنا اور غیر اہل دین کو یعنی کافر کو ساتھ کھلانا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حُصَيْنٍ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9379

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9380

9381 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو القاسم سليمان بن أحمد الطبراني نا علي بن عبد العزيز نا أبو نعيم قال : و حدثنا أبو مسلم نا ابن كثير قالا : نا سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا لقيتم المشركين في الطريق فلا تبدؤهم بالسلام و اضطروهم إلى أضيقها أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الثوري و غيره

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو نعیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو مسلم نے انکو ابن کثیر نے دونوں نے کہا کہ ہمں خبر دی سفیان نے سہیل بن ابو صالح نے اپنے وال دسے اس نے ابو ہریرہ سے وہ فرماتے ہیں رسدول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ جب راستے میں مشرکوں سے ملو تو ان پر سلام کرنے کی پہل نہ کرو اور ان کو تنگ ترین راستے کی طرف مجبور کر دو۔ ادس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث ثور وغیرہ ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ کَثِيرٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← و، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9380

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood