Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9337

9338 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا مكرم بن أحمد القاضي ببغداد نا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم بن كثير الدورقي نا أبو معمر نا عبد الوارث نا عدي أبو الهيثم حدثني محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أخيه و الحكم ابن عيينة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن أبا أيوب الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله و ليرد عليه يرحمك الله و ليرد عليهم يهديكم الله و يصلح بالكم عدي هذا هو ابن عبد الرحمن وافق شعبة في إسناده و زاد في الإسناد الحكم بن عيينة و رواه يحيى بن سعيد القطان عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى فخالفهما في إسناده

9338 ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو مکرم بن احمد قاضی نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن احمد بن ابراہیم بن کثیر دارمی نے ان کو ابو معمر نے ان کو عبدالوارث نے ان کو عبدالوارث نے ان کو عدی ابوہیشیم نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن دبن ابو لیلیٰ نے ان کو ان کے بھائی نے اور حکم بن عیینہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ نے دیہ کہ ابو ایوب انصاری نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لیا کرے تو یہ کہا کر الحمدللہ اور اس کو جواب یہ دیا جائے یرحم اللہ اور اس کا جواب یہ دیا جائے ۔

عبد الرحمن بن أبي ليلى أن أبا أيوب الأنصاري ← أخيه و الحكم ابن عيينة ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← عدي أبو الهيثم ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← عبد الله بن أحمد بن إبراهيم بن كثير الدورقي ← مكرم بن أحمد القاضي ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9337

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9338

9339 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن عبد الله يعني الحفيد نا هارون بن عبد الصمد الرحبي نا علي بن المديني نا يحيى بن سعيد نا ابن أبي ليلى حدثني ابن أخي عبد الله بن عيسى عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله و ليقل له يرحمكم الله و ليقل يهديكم الله و يصلح بالكم

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ یعنی حفید نے ان کو ہارون بن عبدالصمد رحبی نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے ان کو ابن اخی عبداللہ بن عیسیٰ نے ان کو ان کے والد نے ان کو علی بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی چھینک لیا کرے ساتھ کہا کرے الحمد للہ۔ سننے والا کہے یرحمک اللہ۔ پھر وہ خود یہ کہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ابن أخي عبد الله بن عيسى ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← هارون بن عبد الصمد الرحبي ← أبو بكر محمد بن عبد الله يعني الحفيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9338

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9339

9340 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا ابن ملحان نا عمرو بن خالد نا ابن لهيعة عن أبي الأسود قال : سمعت عبيد بن أم كلاب يقول : سمعت عبد الله بن جعفر ذي الجناحين يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا عطس حمد الله جل ذكره فيقال له : يرحمك الله فيقول : يهديكم الله و يصلح بالكم

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ملحان نے ان کو عمر بن خالد نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو ابو الاسود نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سدنا عبید بن ام کلاب سے وہ کہتے ہیں میں نے سدنا عبداللہ بن جعفر ذولجناحین سے وہ کہتے تھے رسدول اللہﷺ جب چھینکتے تھے تو اللہ کا شکر ادا کرتے تھے اور اللہ کو یاد کرتے تھے۔ آپ کے جواب میں یرحمک اللہ کہا جاتا تھا لہٰذا حضور ﷺ یھیکم اللہ ویصلح بالکم کہتے تھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ذِي الْجَنَاحَيْنِ: ← عُبَيْدَ بْنَ أُمِّ كِلَابٍ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← ابْنُ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9339

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9340

9341 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا سوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا أبو معشر عن عبد الله بن يحيى بن عبد الرحمن عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة قالت : عطس رجل عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما أقول يا رسول الله ؟ قال : قل الحمد لله رب العالمين قال : فقالوا : ما نقوله له ؟ قال : قولوا يرحمك الله قال : فما أرد عليهم ؟ قال : قل : يهديكم الله و يصلح بالكم

اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابو الربیع نے ان کو ابو معشر نے ان کو عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالرحمٰن نے ان کو عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ان کو سیدہ عائشہ نے فرماتی ہیں۔ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ کے سامنے چھینک لی اور پوچھا کہ یا رسول اللہ میں اس موقع پر کیا کہوں؟دکہتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا الحمدللہ رب العلمین کہو۔ پھر لوگوں نے پوچھا کہ ہم کیا کہیں اس سے؟ فرمایا یوں کہو یرحمک اللہ۔ پھر اس آدمی نے سوال کیا کہ اس کے بعد میں ان لوگوں میں سے کیا کہوں فرمایا یہ کہو یھیکم اللہ ویصلح بالکم۔

مَا أَقُولُ ← عطس رجل عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو معشر ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← سوسف بن يعقوب القاضي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9340

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9341

9342 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا محمد بن بكر نا أبو داود نا عثمان بن أبي شيبة نا جرير عن منصور عن هلال بن يساف قال : كنا مع سالم بن عبيد فعطس رجل من القوم فقال : السلام عليكم فقال سالم : و عليك و على أمك ثم قال : إنما فعلت : لك كما قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ عطس رجل من القوم فقال : السلام عليكم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم و عليك و على أمك ثم قال : إذا عطس أحدكم فليحمد الله قال : فذكر بعض المحامد و ليقل له من يرحمك الله و ليرد يعني عليهم يغفر لنا و لكم

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عثمان بن ابو شیبہ نے ان کو جریر نے منصور سے اس کو بلال بن یساف نے وہ کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبدی کے پاس بیٹھے تھے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے چھینک لی اور یوں کہا السلام علیکم۔ لہٰذا سالم نے جواب دیا۔ وعلیک وعلیٰ امک تم پر بھی سلام ہو اور تمہاری ماں پر بھی۔ ان کے بعد سالم نے فرمایا اس شخص سے کہ میں نے جو کچھ کہا ہے اس سے شاید آپ ناراض ہو گئے ہیں۔ اسنے کہا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ آپ کسی طرح بھی میری ماں کا تذکرہ نہ کرتے نہ اچھائی میں نہ برائی میں۔ سالم نے جواب دیا کہ میں نے جو کچھ آپ کو کہا ہے وہ سنت رسول کے مطابق کہا ہے کہ یکا یک ہم لوگ رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے لوگوں میں سے کسی نے چھینک لی اور اس نے کہا السلام علیکم ۔ رسول اللہ نے فرمایا تھا وعلیک وعلیٰ امک تجھ پر بھی سلام ہو اور تیری اماں پر بھی۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب تم میں سے ایک آدمی چھینک لے تو الحمد للہ کہے۔ کہتے ہیں کہ آپ کسی حمد کو کرنے کے بعد کہا کہ جو اس کے پاس لوگ موجود ہوں وہ یوں کہیں یرحمک اللہ۔ اور وہ شخص ان کے جواب میں یوں کہے ددیغفرداللہ لنا ولکم کہ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔

إنما فعلت لك كما ← سالم و عليك و على أمك ثم ← السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. ← کُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9341

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9342

9343 - و أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا ورقاء عن منصور عن هلال بن يساف عن خالد بن عرفجة الأشجعي عن سالم بن عبيد الأشجعي بهذا الحديث : عن النبي صلى الله عليه و سلم غير انه قال : فليقل الحمد لله رب العالمين أو الحمد لله على كل حال و ليقل له أخوه : يرحمك الله و ليقل هو يغفر الله لي و لكم هذا حديث مختلف في إسناده

ہمیں خبر دی ابو برک بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو وقاء نے ان کو منصور نے ان کو ہلال بن یساف نے ان کو خالد بن عرفجہ اشجعی نے ان کو سالم بن عبید اشجعی نے اس حدیث کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے علاوہ ازیں یہ بھی کہ حضور ﷺ نے فرمایا اس کو چاہیے کہ الحمدللہ رب العلمین کہے یا الحمدللہ علی کل حال کہے۔ اور اس کو اس کا بھائی یوں کہے یرحمک اللہ اور وہ خؤد وہ شخص یوں کہے۔ یغفراللہ لی ولکم اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہیں معاف فرمائے ۔ یہ ایسی حدیث ہے جس کی سند میں اختلاف ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم غير انه ← سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَشْجَعِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ ← خَالِدِ بْنِ عَرْفَجَةَ الأَشْجَعِيِّ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← وَرْقَاءُ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9342

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9343

9344 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن بديل العقيلي عن أبي العلاء بن عبد الله بن الشخير قال : عطس رجل عند عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال : السلام عليكم فقال عمر : و عليك السلام و على أمك أما يعلم أحدكم ما يقول : إذا عطس فليقل الحمد لله و ليقل القوم يرحمك الله و ليقل هو يغفر الله لكم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی عبدالرزاق نے ان کو معمر نے بدیل عقیلی سے اس نے ابو العلاء بن عبداللہ بن شخیر سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے چھینک لی پھر کہا السلام علیکم عمر بن خطاب نے کہا وعلیک السلام وعلیٰ امک ۔ تم پر سلام ہو اور تمہاری اماں پر بھی ۔ کیا تم میں سے ایک آدمی نہیں جانتا کہ وہ کیا کہے جب وہ چھینک لے جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لے تو یوں کہے الحمد للہ اور لوگ یوں کہیں یرحمک اللہ اور وہ خؤد یوں کہے یغفراللہ لکم۔

عمر و عليك السلام و على أمك أما يعلم أحدكم ما ← السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. ← عطس رجل عند عمر بن الخطاب ← أَبِي الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيُّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9343

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9344

9345 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا الفضل بن دكين نا زهير عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال : كنت عند عبد الله بن مسعود فعطس رجل فقال : السلام عليكم فقال : عبد الله و عليك و على أمك لم تسلم إذا عطست فهلا حمدت الله كما حمد أبوك آدم فقال الرجل : لأبي إسحاق يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : أرى

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح قاضی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو فضل بن دکین نے ان کو زہیر نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو حارثہ بن مضرب نے وہ کہتے ہیڈں کہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے ایک آدمی نے محفل میں چھینک لی پھر کہا السلام علیکم تو حضر ت عبداللہ نے کہا وعلیک وعلیٰ امک ۔ تم نے سلام کیوں کیا جب آپ نے چھینک لی تو آپ نے اللہ کا شکر کیوں نہ کیا جیسے تمہارے باپ ادم نے حمد کی تھی اس آدمی نے کہا ابو اسحٰق سے کہ وہ اس کو مرفوع کرتے ہیں نبی کریم ﷺ تک۔

حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9344

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9345

9346 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا سفيان عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي أن ابن مسعود كان يقول : إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله رب العالمين و ليقل من يرد عليه يرحمكم الله و ليقل يغفر الله لي و لكم هذا موقوف و هو الصحيح و روى مرفوعا كما

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو سفیان نے ان کو عطابن سائب نے ان کو ابو عبدالرحمٰن سلمی نے یہ کہ ابن مسعود فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لے تو وہ الحمد للہ رب العلمین کہے اور اس کو جواب دینے والا کہے یرحمک اللہ۔ اور وہ شخص خود یہ کہے یغفراللہ لی ولکم اللہ مجھے بھی معاف کرے اور آپ لوگوں کو بھی یہ روایت موقوف ہے اور وہ صحیح ہے اور بھی مروی ہے جیسے ذیل میں۔

أبي عبد الرحمن السلمي أن ابن مسعود كان ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9345

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9346

9347 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبيدة بن دارم بن محمد بن السري التميمي بالكوفة نا أبو حصين محمد بن الحسين بن حبيب قال : نا أحمد بن عبد الله بن يونس نا أبيض بن أبان عن عطاء يعني ابن السائب عن أبي عبد الرحمن عن عبد الله قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يعلمنا يقول : إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله رب العالمين فإذا قال : ذلك فليقل من عنده : يرحمك الله فإذا قالوا ذلك فليقل : يغفر الله لي و لكم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو عبید ہ دارم بن محمد بن سری تمیمی نے کوفے میں ان کو ابو حصین محمد بن حسین بن حبیب نے ان کو احمد بن عبداللہ بن یونس نے ان کو ابیض بن ابان نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب ایک تمہارا چھینک لے تو اس کو چاہیے دکہ وہ الحمد للہ رب العلمین کہے وہ جب یہ کہہ دے تو جو لوگ وہاں موجود ہوں وہ کہی یرحمک اللہ ۔ اللہ تم پر رحم کرے وہ جب یہ کہہ دیں تو وہ شخص خود یہ کہے یغفراللہ لی ولکم اللہ مجھے اور تمہیں معاف فرمائے ۔

ذلك فليقل يغفر الله لي و لكم ← ذلك فليقل من عنده يرحمك الله فإذا ← إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله رب العالمين فإذا ← كان النبي صلى الله عليه و سلم يعلمنا ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عطاء يعني ابن السائب ← أبيض بن أبان ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← أبو حصين محمد بن الحسين بن حبيب، ← أبو عبيدة بن دارم بن محمد بن السري التميمي بالكوفة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9346

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9347

9348 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا حمزة بن العباس العقبي نا عبد الكريم بن الهيثم الدير عاقولي نا أحمد بن يونس : فذكره بإسناده و كذلك رواه جعفر بن سليمان عن عطاء بن السائب مرفوعا و الصحيح رواية الثوري

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حمزہ بن عباس عقبی نے ان کوعبدالکریم بن ہثیم دیر عاقول نے ان کو احمد بن یونس نے اس نے اس کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ۔ جعفر بن سلیما ن نے ان کو عطاء بن سائب نے بطور مرفوع روایت کے اور صحیح جو ہے وہ ثوری کی روایت ہے ۔

عطاء بن السائب مرفوعا و الصحيح رواية الثوري ← أحمد بن يونس فذكره بإسناده و كذلك رواه جعفر بن سليمان ← عبد الكريم بن الهيثم الدير عاقولي ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9347

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9348

9349 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد نا أبو عبد الرحمن المروزي نا ابن المبارك نا عبد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أنه كان إذا شمت عليه في العطاس قال : يرحمنا الله و إياك أو قال : و إياكم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مروزی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو نافع بن عمر نے کہ ان کو جب چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہا جاتا تو وہ یوں کہتے تھے ۔ یرحمنااللہ وایا کم۔

و إياكم ← يرحمنا الله و إياك أو ← ابن عمر أنه كان إذا شمت عليه في العطاس ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَرْوَزِيُّ ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9348

chevron_left Previous
1…891011
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood