Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في تشميت العاطس إذا حمد الله · حديث 9325

9326 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عمر بن حفص بن عمر قال : نا علي بن الجعد أنا زهير عن أبي همام الوليد بن قيس عن الضحاك بن قيس اليشكري قال : عطس رجل عند ابن عمر فقال : الحمد لله رب العالمين فقال : عبد الله لو تممتها و السلام على رسول الله صلى الله عليه و سلم

اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عمرو بن حفص بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی علی بن جعد ندے ان کو زہیر نے ان کو ابو ہمام ولید بن قیس نے ضحاک بن قیس یشکری سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے چھینک لی اور الحمد للہ رب العلمین کہا حضرت ابن عمر نے داگر آپکو اس کو مکمل کر لیتے اس طرح والسلام علی رسول اللہ ﷺ تو زیادہ بہتر ہوتا۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‏.‏ ← عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، ← الضحاك بن قيس اليشكري ← أبي همام الوليد بن قيس ← زُهَيْرٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عمر بن حفص بن عمر ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter in the sneezing sneeze if he praises God · Hadith 9325

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في تشميت العاطس إذا حمد الله · حديث 9326

9327 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن أبي الدنيا نا عبيد الله بن عمر نا زياد بن الربيع اليحمدي نا الحضرمي عن نافع عن ابن عمر قال : عطس رجل إلى جنبه فقال : الحمد لله و سلام على رسول الله فقال : ليس هكذا علمنا رسول الله صلى الله عليه و سلم علمنا أنا نقول الحمد لله على كل حال الإسنادان الأولان أصح من رواية زياد بن الربيع و فيهما دلالة على خطأ رواية ابن الربيع و قد قال البخاري فيه نظر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو عبید اللہ بن عمر نے ان کو زیاد بن ربیع یحمدی نے ان کو حضرمی نے ان کو نافع نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان کے پہلو میں چھینک لی پھر یوں کہا الحمد للہ وسلام علی رسولہ حضرت ابن عمر نے فرمایا۔ ہمیں رسول اللہﷺ نے ایسے تعلیم نہیں فرمائی تھی۔ بلکہ یہ تعلیم فرمائی تھی کہ ہم یوں کہا کریں الحمد للہ علی کل حال ہر حالت میں اللہ کا شکر ہے ۔ دونوں پہلی اسنادیں زیادہ صحیح ہیں زیاد بن ربیع کی روایت سے اور اند ونوں میں ابن ربیع کی روایت کی غلطی پر دلیل ہے ۔ اور بخاری نے کہا ہے کہ اس میں نظر ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْحَضْرَمِيِّ ← زياد بن الربيع اليحمدي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter in the sneezing sneeze if he praises God · Hadith 9326

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في تشميت العاطس إذا حمد الله · حديث 9327

9328 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن يحيى بن أبي كثير قال : ذكره عن بعضهم قال : حق على الرجل إذا عطس أن يحمد الله و أن يرفع بذلك صوته و يسمع من عنده و حق عليهم إذا حمد الله أن يشمتوه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار ندے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر ندے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ۔ فرمایا کہ اس نے اس کو ذکر کیا ہے بعض رواۃ سے اس نے دکہا ہدے کہ آدمی کا حق ہے کہ جب وہ چھینک لے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور آواز بھی اونچی کرے اور ان کو سنوارے جو اس کے پاس ہوں۔ اور ان سب پر حق ہے کہ وہ جب الحمد للہ کہے تو وہ اس کو اس کا جواب دیں( یعنی یرحمک اللہ کہیں۔)

بَعْضُهُمْ ← ذكره ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter in the sneezing sneeze if he praises God · Hadith 9327

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك تشميت العاطس إذا لم يحمد الله · حديث 9328

9329 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا معاذ بن معاذ عن سليمان التيمي ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر قال : نا أبو حاتم الرازي الأنصاري حدثني سليمان التيمي و أخبرنا أبو عبد الله أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم بن إياس نا شعبة نا سليمان التيمي سمعت أنس بن مالك يقول : عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه و سلم فشمت أحدهما و لم يشمت الآخر فقال الرجل يا رسول الله شمت هذا و لم تشمتني فقال : لأن هذا حمد الله و أنت لم تحمد الله لفظ حديث شعبة و في رواية الأنصاري فشمت أحدهما و لم يشمت الآخر أو فشمته و لم يشمت الآخر فقيل يا رسول الله عطس عندك رجلان فشمت أحدهما و لم تشمت الآخر قال إن هذا حمد الله فشمته و إن هذا لم يحمد الله فلم أشمته رواه البخاري في الصحيح عن آدم و أخرجه مسلم من وجهين آخرين عن سليمان

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر ندے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو سلیمان تیمی نے ح اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن محمد بن عبداللہ تاجر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو حاتم رازی انصاری نے ان کو سلیمان تیمی نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ایاس نے ان کو شعبہ نے ان کو سلیمان تیمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضور ﷺ کے سدامنے چھینک لی۔ حضور ﷺ نے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسری کا جواب نہ دیا۔ اس آدمی نے سوال کیا یا رسول اللہﷺ آپ نے اس آدمی کا جواب دیا ہے اور میرا جواب نہیں دیا؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ اس نے الحمد للہ کہا تھا اور تم نے الحمد للہ نہیں کہا۔یہ الفاظ حدیث شعبہ کے ہیں اور انصاری کی ایک روایت میں کہ دونوں میں سے ایک کی چھینک کا آپ نے جواب دیا اور دوسرے کا جواب نہیں دیا۔ لہٰذا پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ آپ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینک لی ہے آپ نے ایک کا جواب دیا ہے اور دوسرے کا نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس نے الحمد للہ کہا ہے اور اس دوسرے نے الحمد للہ نہیں کہا اس لئے میں نے اس کو یرحمک اللہ نہیں کہا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں آدم سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے دو طریقوں سے سلیمان سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← سليمان التيمي و ← أبو حاتم الرازي الأنصاري ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter on leaving the sneezing sneeze if he does not praise God · Hadith 9328

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك تشميت العاطس إذا لم يحمد الله · حديث 9329

9330 - و أخرج حديث أبي بردة عن أبي موسى الأشعري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا عطس أحدكم فحمد الله فشمتوه و إذا لم يحمد الله فلا تشمتوه أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر أنا الحسن بن سفيان نا أبو بكر بن أبي شيبة نا القاسم بن مالك المزني عن عاصم بن كليب عن أبي بردة فذكره

اور ابو موسیٰ اشعیر والی حدیث ابو بردہ سے نقل کی گئی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہﷺ فرماتے تھے جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لے اور الحمد للہ کہے تو ا کو یرحمک اللہ کہو اور جب وہ الحمد للہ نہ کہے تو تم یرحمک اللہ بھی نہ کہو۔ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خ بر دی ابو عمرو بن ابو جعفر نے ان کو ابو جعفر نےان کو ابو بکر بن شیبہ نے اس کو قاسم بن مالک مزنی نے ان کو عاصم بن کلیب نے ان کو ابو بردہ نے ۔ اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← و أخرج حديث أبي بردة

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter on leaving the sneezing sneeze if he does not praise God · Hadith 9329

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك تشميت العاطس إذا لم يحمد الله · حديث 9330

9331 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن عيسى بن أبي قماش قال : نا سعدويه سعيد بن سليمان أبو عثمان نا عباد بن العوام عن عاصم عن أبي بردة بن أبي موسى قال : عطست عند أبي فشمتني و عطس عنده ابنه فلم يشمته فذهب ابنه إلى أمه فذكر ذلك لها فجاءت أمه إلى أبيه فقال : عطس ابنك عندك فشمته و عطس ابني فلم تشمته فقال إن ابنك عطس فلم يحمد الله فلم نشمته و عطس ابني فحمد الله فشمته و إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا عطس أحدكم فحمد الله فشمتوه و إن لم يحمد الله فلا تشمتوه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بکر اہوازی نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن عیسیٰ بن ابو قماش نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی سعدویہ سعید بن سلیمان ابو عثمان نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو عاصم نے ان کو ابو بردہ ب ابو موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے سامنے چھینک لی انہوں نے مجھے چھینک کا جواب دیا اور ان کے سامنے ان کے اور بیٹے نے چھینک لی تو انہوں نے اس کو جواب نہیں دیا ان کا بیٹا اپنی ماں کے پاس گیا اور جا کر اس بات کا ذکر کیا چنانچہ اس کی ماں اس کے والد کے پاس آئی اور بولی کہ تیرے بیٹے نے چھینک لی ہے تو تم نے اس کا جواب دیا ہے اور میرے بیٹے نے چھینک لی ہے تو تم نے اس کا جواب نہیں دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ تیرے بیٹے نے چھینکنے کے بعد الحمد للہ نہیں کہا لہٰذا ہم نے اس کو جواب نہیں دیا اور میرے بیٹے نے الحمد للہ کہا تھا لہٰذا میں نے اس کو یرحمک اللہ کہا ہے ۔ بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لے اور الحمد للہ کہے تو اسکو یرحمک اللہ کہو اور جو نہ کہے اس کو جواب نہ دو۔

أبي بردة بن أبي موسى ← عَاصِمٍ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سعدويه سعيد بن سليمان أبو عثمان ← محمد بن عيسى بن أبي قماش ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter on leaving the sneezing sneeze if he does not praise God · Hadith 9330

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك تشميت العاطس إذا لم يحمد الله · حديث 9331

9332 - أخبرنا أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد نا أبو عمرو بن مطر أنا أبو خليفة نا مسدد بن مسرهد نا بشر بن المفضل نا عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : عطس عند النبي صلى الله عليه و سلم رجلان أحدهما أشرف من الآخر فعطس الشريف فلم يحمد الله فلم يشمته النبي صلى الله عليه و سلم و عطس الآخر فحمد الله فشمته النبي صلى الله عليه و سلم قال : فقال الشريف يا رسول الله عطست فلم تشمتني و عطس هذا فشمته فقال : إن هذا ذكر الله عز و جل فذكرته و إنك نسيت الله فنسيتك

ہمیں خبر دی ابوسعد عبدالملک بن محمد بن ابراہیم زاہد نے ان کو ابو عمرو بن مطرف نے ان کو ابو خلیفہ نے ان کو مسدد بن مسرہد نے ان کو بشر بن مغضل نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحاق نے سعید مقبری سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینک لی دونوں میں سے ایک دوسرے سے زیادہ شریف اور عزت دار تھا اس نے چھینک لی اور الحمد للہ نہیں کہا حضور ﷺ نے اس کو یرحمک اللہ نہیں کہا دوسرے نے الحمد للہ کہا تو حضور ﷺ نے اس کو یرحمک اللہ کہا چنانچہ شریف نے سوال کیا یا رسول اللہ آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہا ہے اور مجھے جواب نہیں دیا حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے اللہ کو یاد کیا ہے ۔ لہٰذا میں نے بھی اس کو یاد کیا ہے اور تم نے اللہ کو بھلا دیا ہے میں نے بھی تجھے بھلا دیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter on leaving the sneezing sneeze if he does not praise God · Hadith 9331

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك تشميت العاطس إذا لم يحمد الله · حديث 9332

9333 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت الحسن بن محمد بن حليم سمعت أبا العباس بن سعيد يذكر : عن مشايخه فقالوا شكى سوار بن عبد الله القاضي إلى أبي جعفر المنصور و أثنى عليه عنده شرا قال : فاستقدمه فلما أن قدم دخل عليه فعطس المنصور فلم يشمته سوار فقال ما يمنعك من التشميت ؟ قال : لأنك لم تحمد الله قال : قد حمدته في نفسي قال : فقد شمتك في نفسي فقال ارجع إلى عملك فإنك إن لم تحابني لا تحابي غيري

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے میں نے سنا حسن بن محمد بن حلیم سے میں نے سنا ابو العباس بن سعید سے وہ ذکر کرتے تھے اپنے مشائخ سے وہ کہتے ہیں کہ سوار بن عبداللہ قاضی نے ابو جعفر منصور کے پاس شکایت کی اور اس کے آگے شر کی تعریف کی اور ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی جب آئے اور داخل ہوئے ۔ منصور نے چھینک لی مگر سوار نے اس کو یرحمک اللہ نہیں کہا۔ چنانچہ منصور نے پوچھا کہ آپ کو یرحمک اللہ کہنے سے کیا چیز مانع ہوئی انہوں نے کہا کہ آپ نے الحمدللہ نہیں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دل میں الحمدللہ کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بھی دل میں جوابدیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے عمل کی طرف رجوع کیجئے بے شک تم اگر مجھ سے محبت نہیں کرو گے تو میرے سوا کسی اور سے بھی نہیں کرو گے۔

مشايخه ← أبا العباس بن سعيد يذكر ← الحسن بن محمد بن حليم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter on leaving the sneezing sneeze if he does not praise God · Hadith 9332

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9333

9334 - أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر محمد بن بكر نا أبو داود نا موسى بن إسماعيل نا عبد العزيز ابن عبد الله بن أبي سلمة عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي قال : إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله على كل حال و ليقل أخوه أو صاحبه يرحمك الله و يقول : هو يهديكم الله و يصلح بالكم

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے وہ کہتے ہیں ان کو ابو بکر محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابو سلمہ نے ان کو عبداللہ بن دینار نے ان کو ابو صالح نے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے آپ نے فرمایا جب تمہارا ایک چھنک لیا کرے تو یوں کہے الحمدللہ علی کل حال۔ا ور اس کا بھائی یا ساتھی کہے یرحمک اللہ۔ اور وہ خود یہ کہے یھیکم اللہ ویصلح بالکم۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← عبد العزيز ابن عبد الله بن أبي سلمة ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9333

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9334

9335 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا الحسن بن علي بن المتوكل نا عاصم ابن علي نا عبد العزيز بن أبي سلمة بهذا الإسناد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله فإذا قال : الحمد لله فليقل له أخوه يرحمك الله فإذا قال : يرحمك الله فليقل يهديكم الله و يصلح بالكم رواه البخاري في الصحيح عن مالك بن إسماعيل عن عبد العزيز و هذا أصح ما ورد في هذا الكتاب و شاهده ما

اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو حسن بن علی بن متوکل نے ان کو عاسم بن علی نے ان کو عبدالعزیز بن ابو سلمہ نے اسی اسناد کے ساتھ ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا؛ جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لے تو اس کو چاہیے کہ وہ الحمدللہ کہے جب وہ یہ کہے تو اس کا بھائی یہ کہے یرحمک اللہ ج وہ یہ کہے تو وہ خود یہ کہے اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں مالک بن اسماعیل سے اس نے عبدالعزیز سے یہ زیادہ صحیح ہے ان تمام روایات میں جو اس باب میں مروی ہیں۔ اور اس کا شاہد بھی درج ذیل ہے ۔

عبد العزيز بن أبي سلمة بهذا الإسناد ← عاصم ابن علي ← الحسن بن علي بن المتوكل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9334

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9335

9336 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن ابن أبي ليلى عن أخيه عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي أيوب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله على كل حال و ليقل له الذي يشمته يرحمكم الله و ليقل يهديكم الله و يصلح بالكم

ہمیں خبر دی استاد ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے ان کو ان کے بھائی نے عبدالرحمٰن بن لیلیٰ سے اس نے ابو ایوب سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لیا کرے تو یہ کہا کرے الحمد للہ علی کل حال اور اس کو جواب دینے والا یوں کہے یرحمک اللہ۔ اور وہ خود یہ کہے ۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← أَخِيهِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9335

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت · حديث 9336

9337 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبيد الله المنادي نا وهب بن جرير نا شعبة عن ابن أبي ليلى عن أخيه عن أبيه عن أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره غير أنه قال : يرحمك الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ المنادی نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے ان کو ان کے بھائی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ایوب نے ان کو نبی کریمد ﷺ نے پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے علاوہ ازیں اس نے صرف یرحمک اللہ کہا ہے ۔

يرحمك الله ← النبي صلى الله عليه و سلم فذكره غير أنه ← أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِيهِ ← أَخِيهِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › Chapter in what the sneezer says in the response to Alchmit · Hadith 9336

chevron_left Previous
1…7891011
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood