Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9313

9314 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عمرو بن السماك قال : و قال القاسم بن منبه رأيت بشر بن الحارث نظر إلى أكفان فقال : إنما يزين الميت عمله

دددہمیں خطر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے وہ کہتے ہیں کہ قاسم بن منبہ نے کہا کہ میں نے بشر بن حارث کو دیکھا تھا کہ وہ کفنوں پر نظر ڈالتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میت کے عمل اس کو زینت دیتے ہیں۔

إنما يزين الميت عمله ← القاسم بن منبه رأيت بشر بن الحارث نظر إلى أكفان ← و، ← عَمْرُو بْنُ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9313

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9314

9315 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا ابن نمير نا أبي نا إسماعيل عن النعمان قال : كان علي إذا دعى إلى جنازة قال : إنا لقائمون و ما يصلي على المرء إلا عمله هذا أظنه النعمان أخو إسماعيل بن أبي خالد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو اسماعیل نے ان کو نعمان نے انہوں نے دکہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب کسی جنازے پر بلایا جاتا تھا تو فرماتے تھے کہ بے شک ہم تو البتہ کھڑے ہو رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نہیں نماز پڑھو اتے آدمی پر مگر اس کے اعمال د(یعنی نجات اور رحمت تو اس کے اپنے اعمال کی ہی وجہ سے ہو گی) میں یہ گمان کرتا ہوں کہ نعمان اسماعیل بن ابو خالد کا بھائی ہے ۔

كَانَ عَلِيٌّ إذَا دُعِيَ إلَى جِنَازَةٍ ← النُّعْمَانِ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9314

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9315

9316 - أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي أنا حاجب بن أحمد نا عبد الرحيم بن منيب نا ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن عبيد بن عمير قال : إن أهل القبور يتوكفون الأخبار إذا أتاهم الميت سألوه ما فعل فلان فيقول صالح فيقول ما فعل فلان فيقول ألم يأتكم فيقولون لا فيقولون إنا لله و إنا إليه راجعون سلك به غير طريقنا

ہمیں خبر دی احمد بن حسن قاضی نے انکو حاجب بن احمد نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو ابن عیینہ نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو عبید بن عمیر نے وہ کہتے ہیں کہ بے شک اہل قبور خبر دیافت کرتے ہیں جب ان کے پاس کوئی میت پہنچتا ہے تو اس سے پوچھتے ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے وہ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے پھر کہتے ہیں کہ فلاں کیسا ہے جواب ملتا ہے کیا وہ تمہارے پاس نہیں پہنچتا ہے ؟ ( یعنی اس کا انتقال ہو چکا ہے ) وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہمارے پاس تو نہیں پہنچدا شاید اس کو ہمارے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر لے جایا گیا ہے ۔

إليه راجعون سلك به غير طريقنا ← لله و ← ألم يأتكم فيقولون لا فيقولون ← مَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ ← صَالِحٍ، ← إن أهل القبور يتوكفون الأخبار إذا أتاهم الميت سألوه ما فعل فلان ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أحمد بن الحسن القاضي،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9315

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9316

9317 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا الاسفاطي و ابن أبي قماش فرقهما قالا نا أبو الوليد نا إسحاق بن عثمان حدثني إسماعيل بن عبد الرحمن بن عطية عن جدته أم عطية قالت : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة جمع نساء الأنصار في بيت فأرسل إليهن عمر بن الخطاب فقام على الباب فسلم علينا فرددنا عليه السلام فقال : أنا رسول رسول الله إليكن قالت : فقلن مرحبا برسول الله و برسول رسول الله قال : تبايعن على أن لا يشركن بالله شيئا { و لا يسرقن و لا يزنين } الآية قالت : قلنا نعم فمد يده من خارج البيت و مددنا أيدينا من داخل البيت ثم قال : اللهم أشهد و أمرنا بالعيدين أن نخرج فيه الحيض و العتق و لا جهة علينا و نهانا عن اتباع الجنائز قال : إسماعيل فسألت جدتي عن قوله : { و لا يعصينك في معروف } قالت : نهانا عن النياحة هذا لفظ حديث عباس بن الفضل الأسفاطي و قد ذكرنا سائر ما ورد في أتباع النساء الجنائز و في النهي عن النياحة في كتاب السنن

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے اور ابن ابو قماش نے دونوں نے فرق کیا ہے ۔ دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو الولید نے ان کو اسحاق بن عثمان نے ان کو اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن عطیہ نے اپنی دادی ام عطیہ سے وہ کہتی ہیں کہ حضور ﷺجب مدینے میں تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع فرمایا اور ان کے پاس حضرت عمر بن خطاب کو بھیجا وہ دروازے پر آکھڑے ہوئے اور ہم لوگوں پر سلام کیا ہم لوگوں نے ان کے سلام کا جواب دیا انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ کے رسول کا نمائندہ ہوں تمہاری طرف کہتی ہیں کہ عورتوں نے کہا خوش آمدید ہو رسول اللہ کے نمازئندے کو۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ لوگ اس بات پر بیعت کرو کہ تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گی۔ اور چوری نہیں کرو گی اور بدکاری نہیں کرو گی الخ۔ کہتی ہیں کہ ہم نے کہا ٹھیک ہے ہم ایسے ہی کریں گی چنانچہ حضرت عمر نے گھر کے باہر سے ہاتھ بڑھایا اور ہم لوگوں نے اپنے ہاتھ گھر کے اند سے ہاتھ بڑھا لئے اس کے بعد انہوں نے کہا اے اللہ تو گواہ رہ۔ اور انہوں نے ہمیں عیدین کے لئے حکم دیا کہ ہم لوگ ان میں ماہواری والیوں کو بھی شرکت دعا کے لئے نکالیںض اور آزاد کو اور یہ کہ ہمارے اوپر کوئی قدغن نہیں ہے ۔ انہوں نے منع کیا ہم کو جنازوں کے ساتھ جانے سے اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے اپنی دادی سے پوچھا اس قول کے بارے میں کہ معروف میں تیری نافرمانی نہ کریں گی۔ فرماتی ہیں کہ ہمیں انہوں نے منع کیا تھا نوحہ کرنے سے یعنی موت میں بین کرنے سے یہ الفاظ ہیں عباس بن فضل اسفاطی کی حدیث کے۔ تحقیق ہم نے وہ تمام احادیث جو عورتوں کے جنازوں کے پیچھے جانے کے بارے میں اور نوحہ کرنے کی ممانعت کے بارے مدیں جو وارد ہوئی ہیں ان کو کتاب السنن میں ذکر کر دیاد ہے ۔

جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← إسحاق بن عثمان ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الاسفاطي و ابن أبي قماش فرقهما ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9316

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9317

9318 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن سلمان الفقيه نا الحسن بن سلام نا يونس بن محمد و أخبرنا أبو طاهر الفقيه و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي نا يونس و هو ابن محمد المؤدب نا حرب و هو ابن ميمون عن النضر بن أنس عن أنس قال : كنت قاعدا مع نبي الله صلى الله عليه و سلم فمرت جنازة فقال : ما هذه الجنازة ؟ قالوا جنازة فلان الفلاني كان يحب الله و رسوله و يعمل بطاعة الله و يسعى فيها فقال وجبت وجبت وجبت و مرة آخرى فقال ما هذه فقال ما هذه ؟ قالوا : جنازة فلان الفلاني كان يبغض الله و رسوله و يعمل بمعصية الله و يسعى فيها فقال : وجبت و جبت وجبت فقالوا يا نبي الله قولك في الجنازة و الثناء عليها أثنى على الأول خير و أثنى على الآخر و قولك فيها وجبت ؟ قال : نعم يا أبا بكر إن لله ملائكة في الأرض تنطق على ألسنة بني آدم بما في المرء من الخير و الشر و في رواية أبي عبد الله مرت بجنازة و مرت بجنازة أخرى و قال : فقلت فيها وجبت وجبت وجبت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن حا فظ ندے ان کو احمد بن سلمان فقیہ دندے ان کو حسن بن سلام نے ان کو یونس بن محمد نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے انہوں نے کہا کہ ہمیدں دخڈبر دی ہے محمد بن عبید اللہ بن ابو داؤد منادی ندے ان کو یونس نے وہ ابن محمد ادیب ہیں ان کو حرب نے وہ ابن میمون ہیں نضر بن انس سے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا چنانچہ ایک جنازہ گذرا حضور ﷺنے فرمایا کہ یہ کیسا جنازہ ہے ؟ بتایا گیا کہ یہ فلاں بن فلاں کا جنازہ ہے یہ شخص اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت کرتا تھا اور اللہ کی اطاعت میں عمل کرتا تھا اور اسی میں ہی کوشش کرتا رہتا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا واجب ہو گئی واجب واجب ہو گئی ۔ پھر دوسری میت گذری لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں بن فلاں کا جنازہ ہے یہ شخصاللہ سے اور اس کے رسول سے دشمنی کرتا تھا اور اللہ کی نافرمانی کے عمل کرتا تھا اور اسی میں لگا رہتا تھا پھر آپ نے فرمایا کہواجب ہو گئی ہے واجب ہو گئی ہے واجب ہو گئی ہے ۔ وگوں نے کہا یا رسول اللہ آپ کا ایک جنازے کی تعریف کرنا اور دوسرے کی نہ کرنا اور یہ کہنا کہ واجب ہو گئی ہے دونوں کے بارے میں اس کا کیا مطلب ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جی ہاں۔ اے ابو بکر بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں زمین پر جو اولاد آدم کی زبان پر بولتے ہیں اس بارے میں جو کسی آدمی میں خیر ہے یا شر ہے ۔ اور ابو عبداللہ کی ایک روایت میں ہے اور فرمایا ۔

أَنَسٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← حرب و هو ابن ميمون ← يونس و هو ابن محمد المؤدب ← محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو طاهر الفقيه و محمد بن موسى ← يونس بن محمد و ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9317

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9318

9319 - أخبرنا أبو علي الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان نا عنبس بن مرحوم العطار قال : حدثني إسحاق بن إبراهيم بن بسطاط قال : حدثني سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة عن أبيه عن جده قال : بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم في ناس من أصحابه قال : ما تقولون في رجل قتل في سبيل الله عز و جل ؟ قالوا : الجنة إن شاء الله قال : الجنة إن شاء الله قال : ما تقولون في رجل مات في سبيل الله ؟ قالوا : الله و رسوله أعلم قال : الجنة إن شاء الله قال : ما تقولون في رجل قادم ذو عدل ؟ فقالوا : اللهم لا نعلم إلا خيرا قالوا الله و رسوله أعلم قال : مذنب و الله غفور رحيم

ہمیں خبر دی ابو علی حسن بن احمد بن ابراہیم بن شاذان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبس بن مرحوم عطار نے وہ کہتے ہیں کدہ دمدجھدے حدیث بیان کی ہے اسحاق بن ابراہیم بسطاس نے ان کو سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں حضور ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے آپ نے پوچھا کہ کیا کہتے ہو تم لوگ فلاں آدمی کے بارے میں جو اللہ کی راہ میں مارا گیا تھا؟ لوگوں نے کہا کہ جنت ہی ہے انشاء اللہ۔ آپ نے فرکایا کہ انشا اللہ جنت ہی ہو گی ۔ پھر آپ نے فرمایا کیا کہتے ہو تم لوگ اس آدمی کے بارے میں ۔ جو انصاف کرنے کے لئے کھڑا ہو گیا؟ لوگوں نے کہا اے اللہ ہم نہیں جانتے سواء جنت کے ۔ اور کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا کہ گنہگار تھا اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

مذنب و الله غفور رحيم ← الله و رسوله أعلم ← اللهم لا نعلم إلا خيرا ← ما تقولون في رجل قادم ذو عدل ← الجنة إن شاء الله ← الله و رسوله أعلم ← ما تقولون في رجل مات في سبيل الله ← الجنة إن شاء الله ← الجنة إن شاء الله ← ما تقولون في رجل قتل في سبيل الله عز و جل ← بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم في ناس من أصحابه ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← إسحاق بن إبراهيم بن بسطاط ← عنبس بن مرحوم العطار ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو علي الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان ببغداد

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9318

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ الخامس و الستون من شعب الإيمان و هو باب في تشميت العاطس · حديث 9319

9320 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا أبو خيثمة و أخبرنا أبو عبد الله قال : أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا أحمد بن يونس نا زهير عن أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي حدثني معاوية بن سويد بن مقرن قال : دخلت على البراء بن عازب فسمعته يقول : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بسبع و نهانا عن سبع أمرنا بعيادة المريض و اتباع الجنائز و نصر المظلوم و إبرار المقسم أو القسم و تشميت العاطس و إجابة الداعي و إفشاء السلام و نهانا عن تختم أو عن خواتيم الذهب و عن الشرب في الفضة و عن المياثر و القسي و عن لبس الحرير و عن الإستبرق و الديباج رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى و أحمد بن يونس و أخرجاه من أوجه عن أشعث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو النصر فقیہ نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو خثیمہ نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو زبیر نے ان کو اشعت بن ابو الشعشاء محاربی نے ان کو معاویہ بن سوید دن مقرن نے وہ کہتے ہیں کہ میں براء بن عازب کدے پاس گیا۔ میں نے ان سے سنا وہ کہتے تھے ہمیں رسول اللہ نے دحکم فرمایا سات چیزوں کا اور منع فرمایا تھا سات چیزوں سے حکم دیا تھا مریض کی عیادت کرنے کا جنازے کے ساتھ چلنا ۔ مظلوم کی نصرت کرنا۔ قسم پوری کروانا۔ چھینکنے والے کا جواب دینا دعوت دینے والی کی اجابت کرنا۔ سلام کو عام کرنا۔اور منع کیا تھا ان چیزوں سے سونے کی انگوٹھی بنوانے سے چاندی کے برتنوں میں پینے سے میاثر سے اور قسی کے ریشمیں کپڑے سے حریر استبرق اور دیباج کے ریشم پہننے سے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا یحییٰ بن یحییٰ اور احمد بن یونس سے اور بخاری و مسلم نے ا س کو نقل کیا ہے کئی طریقوں سے اشعث سے۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أبو خيثمة و ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › The sixty-fifth of the people of faith, and it is a door to sneezing · Hadith 9319

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في تشميت العاطس إذا حمد الله · حديث 9320

9321 - و رويناه في حديث أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم فيما ذكر من حق المسلم على المسلم

اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث ابو ہریرہ میں نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں جو کچھ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق کدے بارے میں وارد ہے۔

من حق المسلم على المسلم ← النبي صلى الله عليه و سلم فيما ← و رويناه في حديث أبي هريرة

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter in the sneezing sneeze if he praises God · Hadith 9320

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في تشميت العاطس إذا حمد الله · حديث 9321

9322 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن نورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا ابن أبي ذئب نا سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تبارك و تعالى يحب العطاس و يكره التثاؤب فإذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله أو قال : فقال الحمد لله فإن حقا على من سمعه أن يقول يرحمك الله و إذا تثاوب ضحك الشيطان فليخفه ما استطاع رواه البخاري في الصحيح عن آدم عن ابن أبي ذئب

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن حسن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابو ذئب نے ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمای ابے شک اللہ چھینکنے کو پسند کرتے ہیں اور جمائی لینے کو نا پسند کرتے ہیں۔ جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لے تو ا سکو چاہیے کہ الحمدللہ کہے۔ بے شک حق ہے اس پر جو سنے وہ یوں کہے اور جس وقت کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے جس قدر طاقت رکھے اس کو چھپائے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو بكر محمد بن الحسن بن نورك

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter in the sneezing sneeze if he praises God · Hadith 9321

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في تشميت العاطس إذا حمد الله · حديث 9322

9323 - أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي النيسابوري بها نا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي قال : أنا إسماعيل بن إسحاق نا يحيى بن محمد بن السكن نا حبان بن هلال نا مبارك حدثني عبيد الله بن عمر عن حبيب عن حفص بن عاصم عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق آدم عطس فألهمه ربه أن قال الحمد لله فقال له ربه رحمك الله ربك فلذلك سبقت رحمته غضبه قال : ثم إن الله قال : أئت الملائكة فسلم عليهم فأتاهم فقال : السلام عليكم قالوا : السلام عليك و رحمة الله فزادوه رحمة الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ اسحٰق بن محمد بن یوسف سوسی نیشا پوری نے نیشا پور میں۔ ان کو ابو دجعفرد محمد بن محمد بن عبداللہ بغدادی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی اسماعیل بن اسحاق نے ان کو یحییٰ بن محمد بن سکن نے ان کو حبان بن ہلال نے ان کو مبارک ندے ان کو عبید اللہ بن عمر نے ان کو حبیب نے احفص بن عاصم سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی دکریم ﷺ سے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو انہوں نے چھینک ل ان کے رب نے انہیں الہام کیا کہ یون کہو الحمد للہ۔ لہٰذا ان کے رب نے ان کو کہا اسی لئے اس کی رحمت اس کے غضب سے سبقت کر گئی ہے ۔ کہتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم فرشتوں کے پاس جاؤ ان کو سلام کرو آدم ان کے پا سآئے اور کہا السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا فر شتوں کے پاس جاؤ ان کو سلام کرو آدم ان کے پا آئے اور کہا السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا فرشتوں ان کے لئے اضافہ کیا رحمتہ اللہ کا۔

السلام عليك و فزادوه ← أئت الملائكة فسلم عليهم فأتاهم فقال السلام عليكم ← ثم إن الله ← الحمد لله فقال له ربه رحمك الله ربك فلذلك سبقت رحمته غضبه ← لما خلق آدم عطس فألهمه ربه أن ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← حَبِيبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُبَارَكٌ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي النيسابوري بها

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter in the sneezing sneeze if he praises God · Hadith 9322

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في تشميت العاطس إذا حمد الله · حديث 9323

9324 - أخبرنا أبو الفتح هلال بن محمد بن جعفر الحفار أنا الحسين بن يحيى بن عياش الفظان نا إبراهيم بن مجشر نا عبيدة نا عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : إن الملائكة يحضرون أحدكم إذا عطس فإذا قال : الحمد لله قالت : الملائكة رب العالمين فإذا قال رب العالمين قالت : الملائكة يرحمك الله تابعه شعبة عن عطاء

ہمیں خبر دی ہے ابو الفتح ہلال بن محمد بن جعفر حفار نے ان کو حسین بن یحییٰ بن عیاش قطان نے ان کو ابراہیم بن مجشر نے ان کو عبیدہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ فرماتے ہیں بے شک فرشتے تمہارے اس انسان کے پاس حاضر ہوتے ہیں جب وہ چھینکتا ہے ۔ پھر کب وہ الحمدللہ کہتا ہےتو فرشتے رب العلمین جب وہ رب رب العلمین کہتا ہے تو فرشتے یرحمک اللہ کہتے ہیں ۔ شعبہ نے عطاء سے اس کا متابع بیان کیا ہے ۔

عَطَاءٍ، ← الملائكة يرحمك الله تابعه شعبة ← رَبَّ الْعَالَمِينَ، ← الْمَلَائِكَةُ: رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا ← الْحَمْدُ لِلَّهِ ← إن الملائكة يحضرون أحدكم إذا عطس فإذا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ، ← الحسين بن يحيى بن عياش الفظان ← أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter in the sneezing sneeze if he praises God · Hadith 9323

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في تشميت العاطس إذا حمد الله · حديث 9324

9325 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عبد الله الصفار نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا عباد بن زياد الأسدي نا زهير عن أبي إسحاق عن نافع قال : عطس رجل عند ابن عمر فحمد الله فقال له ابن عمر قد بخلت فهلا حيث حمدت الله صليت على النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو عباد زیاد اسدی نے ان کو زہیر نے ابو اسحٰق سے اس نے نافع سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر کے سامنے چھینک لی اور اس نے الحمد للہ کہا۔ حضرت ابن عمر نے اس سے کہا کہ تم نے بخل کیا ہے جیسے تم نے اللہ کی حمد کی تھی تو نبی کریم ﷺ پر درود بھی بھیجتے۔

عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ، ← نَافِعٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← عباد بن زياد الأسدي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter in the sneezing sneeze if he praises God · Hadith 9324

chevron_left Previous
1…678…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood