Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9301

9302 - و أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله أنا أبو بكر حدثني محمد نا عبد العزيز بن أبان أنا سفيان الثوري قال : بلغني عن الضحاك أنه قال : من زار قبرا يوم السبت قبل طلوع الشمس علم الميت بزيارته قيل له و كيف ذاك ؟ قال : لمكان يوم الجمعة

ہمیں خبردی ابو سعید نے ان کو عبداللہ نے ان کو ابو بکر نے ان کو محؐد نے ان کو عبدالعزیز بن ابان نے ان کو سفیان ثوری نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے ضحاک سے کہ انہوں نے کہا کہ جو شخص ہفتے کے دن طلوع آٖتاب سے قبل قبر کی زیارت کرے اس کو میت پہچان لیتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیونکر ہوتا ہے ؟" انہوں نے بتایا کہ جمعے کے دن کی عظمت کی وجہ سے۔

الضَّحَّاكُ، ← بلغني ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9301

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9302

9303 - و أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله نا أبو بكر أنا خالد بن خداش نا جعفر بن سليمان الضبعي عن أبي التياح قال : كان مطرف يبدو فإذا كان يوم الجمعة أدلج قال : و سمعت أبا التياح يقول : بلغنا أنه كان يينور له في سوطه فأقبل ليلة حتى إذا كان عند المقابر هوم و هو على فراشه فرأى كأن أهل القبور كل صاحب قبر جالس على قبره فقالوا هذا مطرف يأتي يوم الجمعة قلت : و تعلمون عندكم يوم الجمعة ؟ قالوا : نعم و نعلم ما تقول فيه الطير قال : قلت و ما يقولون قال : يقولون سلام سلام يوم صالح

اور ہمیں خبر دی ابو سعید ن ان کو ابو عبداللہ ن ان کو ابو بکر ن ان کو خالد بن خداش ن ان کو جعفر بن سلیمان ضبعی نے ان کو ابو الیتاح نے وہ کہتے ہیں کہ مطراف ابتداءڈد کرتے تھے دجبد یوم جمعہ ہوتا تو رات کو اندھیرے میں چلتے تھے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الیتاح سے سنا وہ کہتے تھے کہ ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ن کا چابک روشم ہو جاتا تھا لہذا وہ رات کو آتے تھے۔ یہاں تک کہ جب وہ قبرستان کے پاس آتے۔ اپنی بیٹھک کی جگہ بیٹھ جاتے اور وہ دیکھتے گویا کہ ہر صاحب قبر پر اپنی قبر کے اوپر بیٹھا ہوا ہے ۔ اور وہ کہتے کہ یہ مطرف ہے جمعے کے دن آتا ہے میں نے پوچھا کہ کیا اپندے ماں جمعہ کے دن کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ماں ہم جنتے ہیں اور یہ بھی جانتے کہ اس دن پرندے جو کچھ بولتے ہیں۔کہتے ہیں ددکہ میں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ بتایا کہ وہ کہتے ہیں۔ سلام سلام صالح دن ہے ۔

بَلَغَنَا ← أبا التياح ← و، ← كان مطرف يبدو فإذا كان يوم الجمعة أدلج ← أَبِي التَّيَّاحِ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9302

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9303

9304 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني الحسين بن علي العجلي نا عبد الله بن نمير نا مالك بن مغول عن ابن منصور عن زيد بن وهب قال : خرجت إلى الجبانة فجلست فيها فإذا رجل قد جاء إلى قبر فسواه ثم تحول إلى مجلس فقلت له ما هذا القبر ؟ قال : أخ لي مات فقلت : أخ لك ؟ فقال : أخ لي في الله رأيته فيما يرى النائم فقلت فلان عشت الحمد لله رب العالمين قال : قد قلتها لأن أقدر على أن أقولها أحب إلي من الدنيا و ما فيها ثم قال : ألم تر حيث كانوا يدفنوني فإن فلانا قام فصلى ركعتين لأن أكون أقدر على أن أصليهما أحب إلي من الدنيا و ما فيها

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبدللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حسین بن علی عجلی نے ان کو عبداللہ بن نمیر نے ن کو مالک بن مغول نے ان کو ابن منصور نے ان کو زید بن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ میں قبرستان کی طرف گیا اس میں جا کر بیٹھ گیا اچانک میں نے دیکھا کہ ایک آدمی ایک قبر کے پاس آیا ااس نے اس کو برابر کیا اس کے بعد وہ اپنی مجلس کی طرف پلٹ گیا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسی قبر ہے د؟ اس نے بتایا دکہ یہ میرے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا یہ اس کی قبر ہے میں نے اس سے پوچھا کہ تیرا واقعی بھائی تھا؟ اس نے بتایا کہ وہ اللہ کی راہ میں میرا بھائی تھا ۔ میں نے اس کو خواب میں دیکھا اور اس نے کہا آپ فلاں صاحب ہیں آپ زندہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے یہ الفاظ کہے اس لئے کہ میں اسی پر ہید قدرت رکھتا تھا۔ جو کہ میں ایسی بات کہوں جو مجھے دنیا وما فیہاسے مجھے زیادہ محبوب ہو۔ پھر کہا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ جس وقت لوگ مجھے دفن کر رہے تھے وہاں اس وقت فلاں شخص کھڑا نماز پڑھ رہا تھا اگر میں اس بات پر قدرت رکھتا کہ میں وہ دو رکعت نماز پڑھوں تو یہ بات مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہوتی۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← ابن منصور ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعِجْلِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9303

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9304

9305 - و قد روينا في غير هذا الموضع عن أبي عثمان النهدي و عن مطرف و عن أبي قلابة : في هذا المعنى و في أحاديثهم قول الميت يعلمون و لا يعملون و نحن نعلم و لا نستطيع أن نعمل

اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے اس جگہ کے علاوہ دوسری جگہ پر ابو عثمان سے اور مطرف سے اور ابو قلابہ سے اسی مفہوم میں۔ اور ان کی باتوں میں یہ بات ہے کہ میت جانتے ہیں مگر عمل نہیں کر سکتے اور ہم جانتے ہیں مگر ہم عمل نہیں کر سکتے ۔

مطرف و ← أبي عثمان النهدي و ← و قد روينا في غير هذا الموضع

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9304

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9305

9306 - قال و نا أبو بكر حدثني إبراهيم أظنه ابن بشار قال : قيل : لبعض حكماء العرب ما أبلغ العظات ؟ قال : النظر إلى محلة الأموات

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابراہیم بشار نے وہ کہتے ہیں کہ عرب کے بعض حکماء سے پوچھا گیا سب بلیغ ترین نصیحت کیا چیز ہے فرمایا کہ مردون کے محلے کو دیکھنا( یعنی قبرستان کو دیکھ کر)

النظر إلى محلة الأموات ← قيل لبعض حكماء العرب ما أبلغ العظات ← إبراهيم أظنه ابن بشار ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9305

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9306

9307 - قال و نا أبو بكر حدثني محمد بن الحسين نا محمد بن عبد الوهاب حدثني مفضل بن يونس قال : كان الربيع بن أبي راشد يخرج إلى الجبان فيقيم سائر نهاره ثم يرجع مكتئبا فيقول له أخوه و أهله أين كنت ؟ فيقول كنت في المقابر نظرت إلى قوم قد منعوا ما نحن فيه ثم يبكي

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی دہے ابو بکر نے ان کو محمد بن حسین ندے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو مفضل بن یونس نے وہ کہتے ہیں کہ ربیع بن راشد قبرستان جاتے اور سارا سارا دن وہاں بیٹھے رہتے ۔ پھر بڑے غمگیند واپس لوٹ آتےد۔ تو ان کے بھائی اور گھر والے اان سے پوچھتے کہ آپ کہاں تھے؟ وہ بتاتے کہ میں قبرستان میں تھا میں نے ایک قوم کدی طرف دیکھا ہے جو اس سے سب کچھ سے ہمیں منع کر رہے تھے ہم جس میں واقع ہیں اس کے بعد پھر وہ رونا شروع کر دیتے تھے۔

مُفَضَّلِ بْنِ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9306

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9307

9308 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أحمد بن عمران الأخنسي سمعت أبا بكر بن عياش قال : سمعت محمد بن قدامة قال : كان الربيع بن خيثم إذا وجد قلبه قسوة أتى منزل صديق له قد مات في الليل فنادى يا فلان بن فلان يا فلان بن فلان ثم يقول : ليت شعري ما فعلت و ما فعل بك ثم يبكي حتى تسيل دموعه فيعرف ذاك فيه إلى مثلها

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ الصفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو احمد بن عمران اخنسی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر بن عیاش سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن قدامہ سے وہ کہتے ہیں کہ ربیع بن خثیم جب اپنے دل میں قساوت سختی محسوس کرتے تو وہ اپنے اس دوست کے گھر چلے جاتے جو کہ مر چکے تھے ۔ رات میں جا کر ان کو آواز دیتے اے فلاں اے فلاں۔ جب جواب نہ آتا تو کہتے کاش کہ مجھے پتہ چل جاتا کہ تیرے ساتھ کیا ہوا؟ پھر رونا شروع کر دیتے یہاں تک کہ ان کے آنسو بہہ جاتے۔

مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، ← أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ ← أحمد بن عمران الأخنسي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9307

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9308

9309 - و روينا في إتيان القبور : متى ما عرضت قسوة عن صفوان بن سليم و عن محمد بن المنكدر و غيرهما من السلف

اور ہدمد نے روایت کدی ہے صفوان دبن سلیم سے اور محمد بن منکدر سے اور دیگر سلف سے کہ جب قساوت قلبی پیش آجائے تو قبروں کی زیارت کرنی چاہیے۔

محمد بن المنكدر و غيرهما من السلف ← صفوان بن سليم و ← و روينا في إتيان القبور متى ما عرضت قسوة

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9308

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9309

9310 - و كان يقال : مشاهدة القبور مواعظ الأمم السالفة

کہا جاتا تھا کہ قبروں کا مشاہدہ کرنا امم سابقہ کی نصیحتوں میں ہے ۔

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9309

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9310

9311 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو أحمد بن محمد الصيرفي بمرو نا محمد بن يونس نا أبو داود الطيالسي نا عمارة بن مهران المغولي قال : قال لي محمد بن واسع ما أعجب إلى منزلك قال : قلت و ما يعجبك منه و هو إلى جنب القبور قال : و ما يضرك منهم يذكرونك الآخرة و يقلون الأذى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد بن محمد صیرفی نے مقام مرو میں ان کو محمد بن یونس نے ان کو ابو داؤد طیالسدی نے ان کو عمارہ بن مہران مغولی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن واسع نے کہا کہ مجھے آپ کے گھر کے بارے میں یہاں پسند ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا آپ کو اس سے کیا چیز پسند آتی ہے حالانکہ یہ تو قبرستان کے برابر میں ہے ۔ فرمایا تجھے قبرستان والوں سے کیا نقصان ہے وہ تو تجھے آخرت یاد دلاتے ہیں اور ایذاء کم کرتے ہیں۔

و ما يضرك منهم يذكرونك الآخرة و يقلون الأذى ← قلت و ما يعجبك منه و هو إلى جنب القبور ← لي محمد بن واسع ما أعجب إلى منزلك ← عمارة بن مهران المغولي ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أبو أحمد بن محمد الصيرفي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9310

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9311

9312 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن صبيح نا عبد الله بن شيرويه نا اسحاق قال : قلت لأبي أسامة أحدثكم عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه قال : قيل لعلي بن أبي طالب مالك تركت مجاورة قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم و جاورت المقابر قال : وجدتهم جيران صدق يكفون ألسنتهم و يذكرون الآخرة فأقر أبو أسامة و قال : نعم

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن محمد بن صبیح نے ان کو عبداللہ بن شیرویہ نے ان کو اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو اسامہ سے کہا کیا تمہیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابو طالب نے اپنے والد سے انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی بن ابو طالب سے کہا گیا تھا کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے کہ آپ نے قبر رسول ﷺ کی مجاورت پڑوس ترک کر کے دیگر کئی قبردستانوں کدی مدجاورت او پڑوس اختیار کر لیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ان کو سچا پڑوسی پایا ہے جو اپنی زبانوں کو روک کر رکھتے ہیں۔ اور آخرت کی یاددلاتے ہیں۔ لہذا ابو اسلامہ نے اس بات کا اقرار کیا۔

إِسْحَاقُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← محمد بن عبد الله بن محمد بن صبيح ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9311

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9312

9313 - و أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو و أنا أبو عبد الله الصفار نا ابن أبي الدنيا نا إبراهيم بن سعيد نا أبو أسامة : فذكره بإسناده مثله غير أنه قال : قيل لعلي بن أبي طالب ما شأنك جاورت المقبرة قال : إني أجدهم جيران صدق يكفون السيئة و يذكرون الآخرة

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو ابراہیم بن سدعید بن اسامہ نے اس نے اس بات کو اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل بیان کیا ہے ۔ علاوہ ازیں اس نے کہا کہ علی بن ابو طالب سے کہا گیا تھا کیا حالت ہے تمہاری کہ اپنے قبرستان کا پڑوس آباد کر لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان کو سچے پڑوسی پایا ہے جو برائی سے روکتے ہیں اور آخرت یا د دلاتے ہیں۔

إني أجدهم جيران صدق يكفون السيئة و يذكرون الآخرة ← قيل لعلي بن أبي طالب ما شأنك جاورت المقبرة ← أبو أسامة فذكره بإسناده مثله غير أنه ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد بن أبي عمرو و ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › A chapter on visiting the graves · Hadith 9312

chevron_left Previous
1…567…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood