Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9289

9290 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن القاضي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يوسف بن عبد الله الخوارزمي في بيت المقدس نا يحيى بن سليمان أبو سعيد الجعفي نا يحيى بن اليمان عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن أبيه عن ابن بريدة عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم زار قبر أمه في ألف مقنع يوم الفتح فما رؤي باكيا أكثر من ذلك اليوم ليس في رواية أبي عبد الله يوم الفتح

9290 ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یوسف بن عبداللہ خوارزمی نے بیت المقدس میں ان کو یحییٰ بن سلیمان نے ان کو ابو سعید جعفی نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو سفیان نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی۔ فتح مکہ کے دن ایک ہزار گھونگھٹ نکالنے والوں میں۔ حضور ﷺ اس دن اتنا روئے کہ اس سے زیادہ کبھی روتے ہوئے نہ دیکھے گئے ۔ مگر ابو عبداللہ کی روایت میں یوم فتح کا ذکر نہیں ہے ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← يحيى بن اليمان ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُوَارَزْمِيُّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن القاضي

Hadith 9289

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9290

9291 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا موسى بن داود الضبي نا يعقوب بن إبراهيم عن يحيى بن سعيد عن أبي مسلم الخولاني عن عبيد بن عمير عن أبي ذر قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : زر القبور تذكر بها الآخرة و اغسل الموتى فإن معالجة جسد خاو موعظة بليغة وصل على الجنائز لعل ذلك أن يحزنك فإن الحزين في ظل الله يتعرض كل خير يعقوب بن إبراهيم هذا أظنه المدني المجهول و هذا متن منكر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو موسیٰ بن داؤد نصبی نے ان کو یعقوب بن ابراہیم نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابو مسلم خولانی نے ان کو عبید بن عمیر نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ قبروں کی زیارت کیا کرو اس کے ساتھ تم آخرت کو یاد کرو گے ۔ اور میتوں کو غسل دیا کرو یہ معالجہ ہے گرنے والے جسم کا اور بلیغ و عظ و نصیحت ہے اور جنازوں پر نماز پڑھو شاید کہ یہ تجھے غمگین کر دے بے شک مغموم اللہ کے سائے تلے ہر خیر کے درپے ہوتا ہے ۔یعقوب بن ابراہیم میں اس کو گمان کرتا ہوں مدنی ہے مگر یہ مجہول ہے اور یہ متن بھی منکر ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أبى مسلم الخولاني ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9290

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9291

9292 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا الكديمي نا قمير العجلي نا جعفر بن سليمان عن ثابت بن أنس قال : جاء رجل إلى النبي فشكى إليه قسوة القلب فقال : اطلع في القبور و اعتبر بالنشور و هذا أيضا متن منكر و مكي بن قمير بصري يروي عنه الكديمي و هو مجهول

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن صفار نے ان کو قدیمی نے ان کو ابن قمیر عجلی نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضؤر ﷺ کی خدمت میں آیا اور آکر دل کی سختی( قسادۃ قلبی) کی شکایت کی حضور ﷺ نے فرمایا قبروں کو جا رک دیکھا کرو اور قبروں سے اٹھنے کے بارے میں عبرت حاصل کیا کرو۔ یہ بھی متن منکر ہے ۔ اور مکی بن قمیر بصری اس سے روایت کرتا ہے قدیمی اور وہ مجہول ہے ۔

جاء رجل إلى النبي فشكى إليه قسوة القلب ← ثابت بن انس ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قمير العجلي ← الكديمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Hadith 9291

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9292

9293 - و حدثناه أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو علي حامد بن محمد الهروي نا محمد بن يونس البصري نا مكي بن قمير العجلي : فذكره

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو علی حامد بن محمد ہروی نے ان کو محمد بن یونس بصری نے ان کو مکی بن قمیر عجلی نے انہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔

مكي بن قمير العجلي فذكره ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْبَصْرِيُّ، ← أبو علي حامد بن محمد الهروي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و،

Hadith 9292

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9293

9294 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو شعيب الحراني نا يحيى بن عبد الله البابلتي نا أيوب بن نهيك الحلبي مولى آل سعيد بن أبي وقاص قال : سمعت عطاء بن أبي رباح سمعت عبد الله بن عمر سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إذا مات أحدكم فلا تحبسوه و أسرعوا به إلى قبره و ليقرأ عند رأسه فاتحة الكتاب و عند رجليه بخاتمة البقرة في قبره لم يكتب إلا بهذا الإسناد فيما أعلم و قد روينا القراءة المذكورة فيه عن ابن عمر موقوفا عليه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو شعیب حڑانی نے ان کو یحییٰ بن عبداللہ ہابلتی نے ان کو ایوب بن نہیک حلبی مولیٰ سعد بن ابو وقاص نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عطا بن ابو رباح سے اس نے سنا عبداللہ بن عمر سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے وہ فرماتے ہیں۔ جب تم میں سے کوئی مرجائے تو اس کو روکا نہ کرو اس کو جلدی اس کی قبر میں پہنچایا کرو اور اس کے سرہانے سورۃ فاتحہ اور پاؤں کی طرف سورۃ بقرہ کی آخری آیات پڑھی جائیں ۔ اس کی قبر میں۔ یہی لکھی گئی مگر اسی اسناد کے ساتھ جہاں تک میں جانتا ہوں۔ اور ہم نے قرات مذکورہ کو روایت کیا ہے ۔ اس میں ابن عمر سے بطور موقوف روایت کے ۔

Hadith 9293

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9294

9295 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في فوائد الشيخ و أبو بكر محمد بن إبراهيم الأشناني قالا أنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ نا الفضل بن محمد بن عبد الله بن الحارث بن سليمان الأنطاكي نا محمد بن جابر بن أبي عياش المصيصي نا عبد الله بن المبارك نا يعقوب بن القعقاع عن مجاهد عن عبد الله بن عياش قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : ما الميت في القبر إلا كالغريق المتغوث ينتظر دعوة تلحقه من أب أو أم أو أخ أو صديق فإذا لحقته كان أحب إليه من الدنيا و ما فيها و إن الله عز و جل ليدخل على أهل القبور من دعاء أهل الأرض أمثال الجبال و إن هدية الأحياء إلى الأموات الإستغفار لهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے فوائد شیخ میں ۔ اور ابو بکر محمد بن ابراہیم اشنائی نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان کو فضل بن محمد بن عبداللہ بن حارث بن سلیمان الطا کی نے ان کو محمد بن جابر بن ابو عیاش مصیصی نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو یعقوب بن قعقاع نے ان کو مجاہد نے ان کو عبداللہ بن عیاش نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کہ میت قبر میں ایسے ہوتا ہے جیسے ڈوبنے والا فریاد کرنے والا۔ وہ پیچھے سے پہنچنے والی دعا کا منتظر ہوتا ہے والد سے یا ماں سے یا بھائی سے یا دوست سے جب پیچھے سے دعا حق ہو جاتی ہے تو اس کو دنیا وفا فیہا سے زیادہ محبوب ہوتی ہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ قبور پر اہل زمین کی دعا داخل کرتا ہے پہاڑو ں کی مثل بے شک زندہ لوگوںکی طرف سے مرنے والوں کے لئے ہدیہ اور تحفہ ان کے حق میں استغفار کرنا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُجَاهِدٍ ← يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← محمد بن جابر بن أبي عياش المصيصي ← الفضل بن محمد بن عبد الله [بن] الحارث بن سليمان الأنطاكي، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 9294

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9295

9296 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو قال : أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عبد الرحمن بن واقد نا خلف بن خليفة نا أبان المكتب أن عبد الله بن عمر : كان يدفن أهله في مكان فكان إذا شهد جنازة مر على أهله فدعا لهم و استغفر لهم 9296 - قال و نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا محمد بن قدامة الجوهري نا معن بن عيسى القزاز أنا هشام بن سعد نا زيد بن أسلم عن أبي هريرة قال : إذا مر الرجل بقبر يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام و عرفه و إذا مر بقبر لا يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو عبدالرحمٰن بن واقد نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو ابان المکب نے حضرت عبداللہ بن عمر اپنے گھر والوں کو ایسی جگہ دفن کرتے تھے کہ جب وہ کسی جنازے میں جاتے تھے تو اپنے گھر والوں پر بھی گذرتے اور ان کے لئے دعا کرتے تھے اور ان کے لئے استغفار کرتے تھے۔ مکر ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن ابو الد نیا نے ان کو محمد بن قدامہ جو ہری نے ان کو معن بن عیسیٰ قزاز نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی ایسی قبر کے پاس سے گذرے جس کے قبر والے کو وہ پہچانتا ہو اور وہ اس پر سلام کہے تو قبر والا اس کو سلام کا جواب دیتا ہے اور اس کو پہچانتا بھی ہے ۔ اور جب وہ کسی ایسی قبر کے پاس سے گذرے جس کو نہ پہچانتا ہو اور اس پر سلام کرے وہاس کو اس کے سلام کا صرف جواب دیتا ہے ۔

أبان المكتب ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Hadith 9295

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9296

9297 - قال و نا أبو بكر نا الحسن بن الصباح سمعت عمرو بن جرير قال : إذا دعا العبد لأخيه الميت أتى بها الملك قبره فقال له يا صاحب القبر الغريب هدية من أخ عليك شفيق

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن بن صباح نے انہوں نے سنا عمرو بن جریر سے وہ کہتے ہیں جب کوئی بندہ اپنے مردہ بھائی کے لئے دعا کرتا ہے تو فرشتہ اس کے ثواب کو لت کر اس کے پاس قبر میں جاتا ہے اور جا کر کہتا ہے اسے قبر کے مسافر یہ تیرے اوپر تیرے بھائی کا تحفہ ہے ۔

إذا دعا العبد لأخيه الميت أتى بها الملك قبره ← عمرو بن جريرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Hadith 9296

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9297

9298 - قال و نا أبو بكر حدثني محمد بن الحسين نا محمد بن عبد العزيز سلمان نا بشر بن منصور قال : لما كان زمن الطاعون كان رجل يختلف إلى الجيان فيشهد الصلاة على الجنائز فإذا أمسى وقف على باب المقابر فقال : آنس الله وحشتكم و رحم الله غربتكم و تجاوز الله عن سيئاتكم و قبل الله حسناتكم لا يزيد على هؤلاء الكلمات قال ذلك الرجل : فأمسيت ذات ليلة فانصرفت إلى أهلي و لم أت المقابر قال : فبينما أنا نائم إذا أنا بخلق كثير قد جاؤوني قلت ما أنتم و ما حاجتكم ؟ قالوا نحن أهل المقابر قلت : ما جاء بكم ؟ قالوا إنك قد كنت عودتنا منك هدية عند انصرافك إلى أهلك قلت و ما هي ؟ قال : الدعوات التي كنت تدعو بها قال : قلت فإني أعود لذلك قال : فما تركتها بعد

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو محمد بن عبدالعزیز سلمان نے ان کو بشر بن منصور نے وہ کہتے ہیں کہ جب طاعون کا زمانہ تھا ایک آدمی محلوں میں آتا جاتا رہتا تھا جنازے کی نماز میں شرکت کرتا جب شام ہوتی تو وہ جا کر قبرستان کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا اور یوں کہتا اللہ تعالیٰ نے شفقت فرمائی ہے اور میں تمہارے پاس آیا ہوں اللہ تعالیٰ تمہاری مسافری پر رحم فرمائے اور تمہارے گناہ معاف فرمائے ۔ اور اللہ تعالیٰ تمہاری نیکیاں قبول فرمائے ۔ بس ان کلمات سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہتے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک رات مجھے شام ہو گئی اور میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آیا اور میں قبرستان میں نہیں گیا۔ کہتے ہیں اسی رات کو میں سو رہا تھا تو اب کیا دیکھتا ہوں کہ بہت سارے لوگ میر ے سامنے ہیں جو کہ میرے پاس آئے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو؟ میرے پاس کیا لینے آئے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ قبرستان والے ہیں میں نے پوچھا کہ کیوں ائے ہو۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے پاس تیری طرف سے ہدیہ اور تحفہ آتا تھا اس لئے کہ آپ ہمارے لئے دعا کرتے تھے گھر کے لئے اپنی واپسی پر۔ میں نے پوچھا کہ کس چیز کا تحفہ بولےوہ جو آپ ہمارے لئے دعا کرتے تھے کہتے ہیں کہ میں نے کہا بے شک میں نے دوبارہ وہ عمل شروع کردیا اور میں نے کبھی اس کو نہ چھوڑا۔

Hadith 9297

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9298

9299 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا ابن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين حدثني أبو البهلول من أهل البحرين لقيته بعبادان حدثني بشار بن غالب قال : رأيت رابعة العدوية في منامي و كنت كثير الدعاء لها فقالت لي : يا بشار هداياك تأتينا على أطباق من نور مخمرة بمناديل من الحرير قلت : و كيف ذاك ؟ قالت : هكذا دعاء المؤمنين الأحياء إذا دعوا للموتى فاستجيب لهم جعل ذلك الدعاء على أطباق و خمر بمناديل الحرير ثم أتى به الذي قد دعي له من الموتى و قيل : هذه هدية فلان إليك

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو ابو بہلول نے اہل بحرین سے میں اس سے ملا تھا عبادان میں اس نے کہا مجھے حدیث بیان کی بشار بن غالب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رابعہ عدو یہ بصریہ کو خواب میں دیکھا اور میں ان کے لئے بہت دعائیں کیا کرتا تھا خواب میں انہوں نے مجھے کہا اے بشار آپ کے تحائف نور کے تھالوں میں ریشمی رومالوں کے ساتھ ڈھکے ہوئے ہمارے پاس آیا کرتے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ وہ فرمانے لگیں کہ اسی طرح ہوتی ہے زندہ مؤمنوں کی دعائیں جب وہ موتی کے لئے دعا کرتے ہیں اور وہ دعا قبول ہوجاتی ہے تو اس دعا کا اجر و ثواب تھا لیوں پر رکھ کر ریشمی رومالوں سے ڈھک کر ان میتوں کے پاس لایا جاتا ہے جن کے لئے دعا کی گئی تھی اور کہا جاتا ہے کہیہ فلاں کا ہدیہ ہے آپ کے لئے ۔نوٹ: واضح رہے کہ یہ تمام مذکورہ باتیں محض خواب ہیں بیان کرنے کا مقصد محض عمل کے لئے ترغیب دینا ہے ورنہ شریعت میں ان کے استدلال و استنباط سے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ان پر کسی عقیدے کی بنیاد رکھنا غلط ہے ۔( مترجم)

بشار بن غالب ← أبو البهلول من أهل البحرين لقيته بعبادان ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Hadith 9298

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9299

9300 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو الصيرفي أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين نا يحيى بن بسطام الأصفر حدثني مسمع بن عاصم حدثني رجل من آل عاصم الجحدري قال : رأيت عاصم الجحدري في منامي بعد موته بسنتين فقلت أليس قدمت ؟ قال : بلى قلت فأين أنت ؟ قال : إنا و الله في روضة من رياض الجنة أنا و نفر من أصحابي نجتمع كل ليلة جمعة و صبيحتها إلى بكر بن عبد الله المزني فنتلاقى أخباركم قال : قلت أجسامكم أم أرواحكم فقال : هيهات بليت الأجسام و إنما تلاقي الأرواح قال : فقلت فهل تعلمون بزيارتنا إياكم ؟ قال : نعلم بها عشية الجمعة و يوم الجمعة كله و يوم السبت إلى طلوع الشمس قال : قلت و كيف ذلك دون الأيام كلها ؟ قال : لفضل يوم الجمعة و عظمه

کہ بے شک ہم لوگ اللہ کی قسم جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں ہیں۔ اور میرے احباب کی ایک جماعت ہے ہم لوگ ہر شب جمعہ کو اور صبح کو حضرت بکر بن عبداللہ مزنی کے پاس جمع ہوتے ہیں۔ اور ہم لوگوں کو تمہاری خبریں مل جاتی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا تمہاری روحیں یہ عمل کرتی ہیں یا تمہارے جسم بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت دوری ہے ( یعنی نا ممکن بات ہے جسم کہاں آسکتے ہیں؟) جسم تو بوسیدہ ہو چکے ہیں۔ سواء اس کے نہیں کہر وح ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تم لوگ تمہارے ساتھ ہماری زیارت کو اور ملنے کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس کے معاملے میں شب جمعہ کی شام سے پورا جمعہ کا دن اور ہفتے کا دن طلوع آفتاب تک جانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ پورے دنوں میں کیوں نہیں ہوتا صرف ان دونوں میں کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ یہ یوم جمعہ کی فضیلت اور عظمت کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

رَجُلٍ مِنْ آلِ عَاصِمٍ الْجَحْدَرِيِّ؛ ← مُسْمِعُ بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ بِسْطَامٍ الْأَصْفَرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد بن أبي عمرو الصيرفي،

Hadith 9299

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9300

9301 - و أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله أنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين حدثني بكر بن محمد نا جبير القصاب قال : كنت أغدو إلى محمد بن واسع في كل غداة سبت حتى نأتي الجبان فنقف على القبور فنسلم و ندعو لهم ثم ننصرف فقلت له ذات يوم و لو صرت هذا اليوم يوم الإثنين فقال : بلغني أن الموتى يعلمون بزوارهم يوم الجمعة و يوما قبله و يوما بعده

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ا ن کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر بن ابو الد نیانے ان کو محمد بن حسین نے ان کو بکر بن محمد نے ان کو جبیر قصاب نے وہ کہتےہیں کہ محمد بن واسع کے پاس ہر ہفتے کی صبح کو آتاتھا پھر ہم لوگ جبان کے قبرستان میں قبروں پر آتےتھے ۔ اور ہ سلام کرتے تھے اور ان کے لئے دعا کرتےتھے پھر ہم واپس لوٹ جاتے تھے۔

جبير القصاب ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Hadith 9300

chevron_left Previous
1…456…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood