Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9277

9278 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب عن سليمان بن بلال عن كثير بن زيد عن وليد بن رباح عن أبي هريرة : أنه كان إذا سمع أحدا يسأل من هذه الجنازة ؟ فقال : هو أنت عبد الله دعاه فأجابه أو أمته دعاها فأجابته الله يعرفه و أهله يفقدونه و الناس ينكرونه إغدوا فإنا رائحون أو روحوا فإنا غادون

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو ولید بنر باح نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ وہ جب کسی جنازے کے بارے میں سنتے تھے تو پوچھتے تھے کہ کس کا جنازہ ہے ؟ پھر فرماتے کہ تو اللہ کا بندہ ہے اللہ نے اس کو بلا لیا ہے اس نے اس کی بات مان لی ہے ۔ یا اس کی بندی ہے اس کو اللہ نے بلایا ہے اس نے اللہ کی بات مان لی ہے ۔ اللہ اس کو جانتا ہے اور اس کے گھر والے اس کو گم کر بیٹھے ہیں اور لوگ اس کو اجنبی سمجھتے ہیں وہ صبح کو گئے ہیں ہم بھی شام کو جانے والے ہیں یا وہ شام کو گئے ہیں تو ہم صبح کو جانے والے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← وَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 9277

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9278

9279 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و كتبه لي بخطه قال : أنا أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي أنا الحسن بن علي بن زياد السري نا إسماعيل بن أبي أويس حدثني قيس أبو عمارة عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن جده : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو يقول : من عاد مريضا فلا يزال في الرحمة حتى إذا قعد عنده استنقع فيها ثم إذا قام من عنده فلا يزال يخوض فيها حتى يرجع من حيث خرج هو و من عزى أخاه المؤمن بمصيبة كساه الله حلل الكرامة يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور انہوں نے اس کو میرے لئے اپنی تحریر میں لکھا فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن اسحاق بن ایوب ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد سری نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عیسیٰ بن ابو عمارۃ نے۔ ان کو عبداللہ بن ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے کہ اس نے سنا رسول اللہﷺ سے وہ کہتے ہیں۔ جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے وہ ہمیشہ رحمت میں رہتا ہے یہاں تک کہ جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے ۔ تو اسی رحمت میں خوب بھیگتا ہے پھر جب اس کے ہاں سے اٹھ جاتا ہے ہمیشہ اسی میں داخل و شامل رہتا ہے یہاں تک کہ واپس لوٹ جائے جہاں سے آیا تھا اور جو شخص اپنے مؤمن بھائی کی کسی مصیبت میں تعزیت کرتا ہے اور صبر دلاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو قتامت کے دن عزت کی پوشاک پہنائے گا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو ← جَدِّهِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السَّرِيُّ ← أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي ← أبو نصر بن قتادة و كتبه لي بخطه

Hadith 9278

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9279

9280 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا محمد هو الصغاني أنا هاشم بن القاسم نا صالح المري عن أبي عمران الجوني عن أبي الخلد قال : قرأت في مسألة داود النبي عليه السلام إلهي ما جزاء من يعزي الحزين و المصاب ابتغاء مرضاتك ؟ قال : الله عز و جل جزاؤه أن أكسوه رداء من أردية الإيمان أستره به من النار و أدخله الجنة قال : يا إلهي فما جزاء من يشيع الجنائز ابتغاء مرضاتك ؟ قال الله : جزاؤه أن تشيعه الملائكة يوم يموت إلى قبره و أن أصلي على روحه في الأرواح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد صغانی نے ان کو ہاشم بن قاسم نے ان کو صالح مری نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو ابو الخلد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت داؤد نبی علیہ السلام کی دعا میں یہ دعا پڑھی تھی ۔ الہیٰ اس شخص کی کیا جزا ہے جو غمگین اور مصیبت زدہ کی تیری رضا طلب کرنے کے لئے تعزیت کرتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی جزایہ ہےکہ میں اس کو ایمان کی چادروں میں سے ایسی چادر پہناؤں گا جس کے ذریعے میں اس کو جنم سے محفوظ کر لوں گا اور اس کو جنت میں داخل کروں گا۔ داؤد علیہ السلام نے کہا یا الہٰی اس شخص کی کیا جزا ہے جو جنازے کے ساتھ تیری رضا کے لئے جائے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی جزا یہ ہے کہ جس دن وہ مرے گا فرشتے اس شخص کے ساتھ اس کو رخصت کرنے اس کی قبر تک جائیں گے اور میں تمام روحوں میں سے اس کی روح پررحمت نازل کروں گا۔

Hadith 9279

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9280

9281 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن الفضل بن جابر نا عبد الرحمن بن نافع درجت أبو زياد نا يونس بن محمد عن أم الأسود بنت يزيد مولى أبي برزة قالت : حدثتني منية بنت عبيد بن أبي برزة عن أبي برزة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عزى ثكلى كسي بردا من برود الجنة

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن فضل بن جابر نے ان کو عبدالرحمٰن بن نافع درجت ابو زیاد نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو ام اسود بنت یزید مولیٰ ابو برزہ نے وہ کہتی ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی منیہ بنت عبید بن ابو برزہ نے ان کو ابو برزہ نے وہ کہتے ہیں کہر سول اللہﷺ نے فرمایاجو شخص اس ماں کی تعزیت کرے جس کا بچہ فوت ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی چادروں میں سے چادر پہنائیں گے ۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← حدثتني منية بنت عبيد بن أبي برزة ← أم الأسود بنت يزيد مولى أبي برزة ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عبد الرحمن بن نافع درجت أبو زياد ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Hadith 9280

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9281

9282 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو علي الحافظ نا أبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة نا أحمد بن منصور المروزي بنيسابور نا عبد الله بن هارون الحدي بمكة نا قدامة بن محمد الخشرمي حدثني أبي عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن الزهري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عزى أخاه المسلم في مصيبة كساه الله حلة خضراء يحبر بها قيل : يا رسول الله ما يحبر بها ؟ قال : يغبط بها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن اسحٰق بن خزیمہ نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے نیشاپور میں ان کو عبداللہ بن ہارون الحدی نے مکہ میں ان کو قدامہ بن محمد خشرمی نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے بکری بن عبداللہ بن اشج سے اس نے زہری سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو صبر دلائے ( تعزیت کرے) کسی مصیبت میں اللہ تعالیٰ اس کو سبز پوشاک پہنائیں گے جس کے ساتھ وہ تحبیر کیا جائے گا کہا گیا یا رسول اللہ تحبیر سے کیا مراد ہے فرمایا اس کو دیکھ کر لوگ رشک کریں گے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← أَبِي ← قدامة بن محمد الخشرمي ← عبد الله بن هارون الحدي بمكة ← أحمد بن منصور المروزي بنيسابور ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9281

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9282

9283 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا شافع بن محمد الإسفرايني نا أحمد بن عمير الدمشقي نا يعقوب بن إسحاق الطلحي نا محمد بن ثور عن معمر عن محمد بن سوقة عن إبراهيم عن الأسود عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عزى مصابا فله مثل أجره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو شافع بن محمد اسفرائنی نے ان کو احمد بن عمیر دمشقی نے ان کو یعقوب بن اسحٰق طلحی نے ان کو محمد بن ثور نے ان کو معمر نے ان کو محمد بن سوقہ نے ان کو ابراہیم نے اسود سے اس نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی مصیبت زدہ کو صبر دلائے ( تعزیت کرے) اس کے لئے اسی کی مثل اجر ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← يعقوب بن إسحاق الطلحي ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ الدِّمَشْقِيُّ ← شافع بن محمد الإسفرايني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9282

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9283

9284 - و حدثنا القاضي أبو عمر محمد بن الحسين بن محمد بن الهيثم رحمه الله أنا عبد الواحد بن الحسن بن أحمد بن حليف الجند نيسابوري نا الحسين بن بيان العسكري نا عمار بن خلف الواسطي نا عبد الحكيم بن منصور الخزاعي عن محمد بن سوقة عن إبراهيم عن الأسود عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عزى مصابا فله مثل أجره هذا حديث يعرف بعلي بن عاصم عن محمد بن سوقة و قد رويناه عن غيره و ليس بالقوي و روي من أوجه أخر عن ابن سوقة كلها ضعيفة و أصح شيء في معناه حديث أبي حزم و الذي تقدم و أما رواية علي بن عاصم

اور ہمیں حدیث بیان کی قاضی ابو عمر محمد بن حسین بن محمد بن ہثیم رحمتہ علیہ نے ان کو عبدالواحد بن حسن بن احمد بن حلیف جند نیشا پوری نے ان کو حسین بن بیان عکسری نے ان کو عمار بن حلف واسطی نے ان کو عبدالحکیم بن منصور خزاعی نے ان کو محمد بن سوقہ نے ان کو ابراہیم نے اسود سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص مصیبت زدہ کو صبر دلائے (تعزیت کرے) اس کے لئے اس کی مثل یعنی مصیبت زدہ کے اجر کے برابر اجر ہے ۔ یہ وہ حدیث ہے جو معروف نے علی بن عاصم سے اس نے محمد بن سوقہ سے اور تھقیق ہم نے روایت کی ہے اس کے ماسوا سے ۔ مگر وہ قوی نہیں ہے۔ اور یہ دوسرے طریق سے مروی ہے ابن سوقہ سے۔ مگر سب کے سب طریق ضعیف ہیں۔ اور سب سے زیادہ صحیح اس مفہوم میں ابن حزم کی حدیث ہے ۔ اور جو پہلے گذر چکی ہے ۔ بہر حال علی بن عاصم کی روایت درج ذیل ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عبد الحكيم بن منصور الخزاعي ← عمار بن خلف الواسطي ← الْحُسَيْنُ بْنُ بَيَانٍ الْعَسْكَرِيُّ ← عبد الواحد بن الحسن بن أحمد بن حليف الجند نيسابوري ← القاضي أبو عمر محمد بن الحسين بن محمد بن الهيثم ← و،

Hadith 9283

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9284

9285 - فحدثناه أبو منصور الظفر بن محمد العلوي أنا أبو بكر محمد بن جعفر الآدمي ببغداد نا أحمد بن عبيد بن ناصح النحوي نا علي بن عاصم نا محمد بن سوقة : فذكره بإسناده مثله

ہمیں وہ حدیث بیان کی ہے ابو منصور ظفر بن محمد علوی نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر آدمی نے بغداد میں ان کو احمد بن عبید بن ناصح نحوی نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو محمد بن سوقہ نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل۔

محمد بن سوقة فذكره بإسناده مثله ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أحمد بن عبيد بن ناصح النحوي ← أبو بكر محمد بن جعفر الآدمي ببغداد ← فحدثناه أبو منصور الظفر بن محمد العلوي

Hadith 9284

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9285

9286 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا بكر بن محمد الصيرفي نا الحارث بن أبي أسامة نا محمد بن هارون الفأفأ و كان ثقة صدوقا قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله حديث علي بن عاصم الذي يرويه عن ابن سوقة من عزى مصابا هو عنك ؟ قال : نعم و كان محمد بن هارون كلما حدث بهذا الحديث بكى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو بکر بن محمد صیرنی نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو محمد بن ہارون اور وہ ثقہ راوی تھا صدق تھا ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا اور میں نے کہا یا رسول اللہ علی بن عاصم کی حدیث جسے وہ ابو سوقہ سے روایت کرتے ہیں۔ جو شخص کسی مصیبت زدہ کو صبر دلائے ۔ کیا وہ حدیث آپ کی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں میری ہے محمد بن ہارون جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تھے رو پڑتے تھے۔

رأيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ← محمد بن هارون الفأفأ و كان ثقة صدوقا ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9285

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9286

9287 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا عمرو بن مرزوق أنا مصرف بن واصل قال : حدثني محارب بن دثار عن ابن بريدة عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم : قال نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فإن في زيارتها تذكرة و رواه زبيد بن الحارث عن محارب و قال في الحديث و ليزدكم زيارتها خيرا و الحديث مخرج في كتاب مسلم

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو مصرف بن واسل نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محارب بن دثار نے ان کو ابو بردہ نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے ( یعنی قبروں پر جانے سے منع کیا تھا اب قبروں پر جایا کر و بے شک قبروں پر جانے ان کو دیکھنے سے یا دھانی ہے ( یعنی موت یاد آتی ہے )۔ اور اس کو روایت کیا ہے زید بن حارث نے محارب سے اور انہوں نے کہا کہ حدیث میں ہے ۔ چاہیے قبروں پر جانا اور قبروں کو دیکھنا تمہارے اندر خیرو بھلائی میں اضافہ کر دے ۔ اور یہ حدیث کتاب مسلم میں منقول ہے ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← مصرف بن واصل ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 9286

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9287

9288 - و روينا في حديث ابن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم ألا فزوروا القبور فإنها تزهد في الدنيا و تذكر الآخرة

ا ور ہم نے روایت کی ہے ابن مسعود کی حدیث میں نبی کریم ﷺ سے ۔ خبردار پس قبروں کی زیارت کر و بے شک وہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہے ۔

و روينا في حديث ابن مسعود

Hadith 9287

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في زيارة القبور · حديث 9288

9289 - و روينا في حديث أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم و كنت نهيتكم عن زيارة القبور ثم بدا لي فزوروها فإنها ترق القلب و تدمع العين و تذكر الآخرة فزوروا و لا تقولوا هجرا أخبرناه زيد بن أبي هاشم العلوي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم نا محمد بن الحسين بن أبي الحنين نا أبو حذيفة نا إبراهيم بن طهمان عن عمرو بن عامر و عبد الحارث عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره

اور ہم روایت کی ہے انس بن مالک کی حدیث میں نبی کریم ﷺ سے ( آپ نے فرمایا) اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے ( قبروں پر جانے سے ) منع کیا تھا پھر بات واضح ہو گئی میرے لئے پس زیارت کیا کرو ان کی بے شک قبروں کو دیکھنا دل کو نرم کرتا ہے آنکھوں سے آنسو بہاتا ہے اور آخرت کی یا دلاتا ہے لہذا ان کی زیارت کیا کرو( یعنی قبرستان میں جا کر دیکھا کرو) اور مت کہو ہم نے جانا چھوڑ دیا ہے ۔ہمیں اس کی خبر دی ہے زید بن ابو ہاشم علوی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو محمد بن حسین بن ابو الحسین نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو عمر بن عامر نے اور عبدالوارث نے انس سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پھر اس نے اسے ذکر کیا ہے ۔

Hadith 9288

chevron_left Previous
12345…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood