شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9277
9278 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب عن سليمان بن بلال عن كثير بن زيد عن وليد بن رباح عن أبي هريرة : أنه كان إذا سمع أحدا يسأل من هذه الجنازة ؟ فقال : هو أنت عبد الله دعاه فأجابه أو أمته دعاها فأجابته الله يعرفه و أهله يفقدونه و الناس ينكرونه إغدوا فإنا رائحون أو روحوا فإنا غادون
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو ولید بنر باح نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ وہ جب کسی جنازے کے بارے میں سنتے تھے تو پوچھتے تھے کہ کس کا جنازہ ہے ؟ پھر فرماتے کہ تو اللہ کا بندہ ہے اللہ نے اس کو بلا لیا ہے اس نے اس کی بات مان لی ہے ۔ یا اس کی بندی ہے اس کو اللہ نے بلایا ہے اس نے اللہ کی بات مان لی ہے ۔ اللہ اس کو جانتا ہے اور اس کے گھر والے اس کو گم کر بیٹھے ہیں اور لوگ اس کو اجنبی سمجھتے ہیں وہ صبح کو گئے ہیں ہم بھی شام کو جانے والے ہیں یا وہ شام کو گئے ہیں تو ہم صبح کو جانے والے ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← وَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Hadith 9277
