شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9265
9266 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا أبو خليفة ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن هارون قالا : نا أبو الوليد ح و أخبرنا الماليني أنا أبو أحمد نا أبو يعلى نا إبراهيم بن الحجاج نا سلام بن أبي مطيع نا جابر و في رواية ابن عبدان عن جابر عن الشعبي عن يحيى بن الجزاز عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من غسل ميتا فأدى فيه الأمانة ـ يعني أن لا يفشي منه عند ذلك ـ كان من ذنوبه و خطاياه كيوم ولدته أمه و قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وليليه أقرب الناس منه إن كان يصلح و إلا فمن يرون أن عنده حظا من ورع أو أمانة لفظ حديث ابن عبدان و في رواية الماليني قال : وليله أقرب الناس منه إن كان يعلم فإن كان لا يعلم فرجل ممن يرون أن عنده ورعا و أمانة و جعل اللفظ لإبراهيم بن الحجاج و قال في الحديث يعني ستر ما يكون عند ذلك و لم يذكر و خطاياه
ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو ابو خلیفہ نے ح۔ اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن ہارون نے ان کو ابو الولید نے ح۔ اور ہمیں خبر دی مالینی نے ان کو ابو احمد نے ان کو ابو یعلیٰ نے ان کو ابراہیم بن حجاج نے ان کو سلام بن ابو مطیع نے ان کو جابر نے اور ابن عبدان کی ایک روایت میں ہے کہ روایت ہے جابر سے اس نے شعبی سے اس نے یحییٰ بن جزاز سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے میت کو غسل دیا اور اس میں امانت کو ادا کیا( یعنی اس کا کوئی راز یا عیب فاش نہ کیا۔ اس کے گناہ اور خطائیں ایسے نیست و نابود ہو جائیں گے جیسے اس کی ماں نے آج ہی اس کو جنا ہے ۔ اور فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا چاہئے کہ میت کے معاملات کا ذمہ دار وہ بنے جو سب لوگوں سے اس کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو ۔ اگر وہ ذمہ دار بننے کی صلاحیت رکھے۔ ورنہ وہ شخص بنے جس کو پر ہیز گار اور امانت دار سمجھیں۔ یہ الفاظ ابن عبدان کی روایت کے ہیں اور مالینی کی روایت میں ہے فرمایا کہ۔ چاہئے کہ اس کا قریبی رشہ دار اس کا ولی بنے اگر وہ معاملے کو سمجھتا ہو اگر وہ نہ جانتا ہو تو پھر وہ آدمی ذمہ دار بنے جس کے پاس دیکھیں کہ پر ہیز گاری اور امانت ہے ۔ یہ افلاظ ابراہیم بن حجاج کے بنائے گئے ہیں۔ اور حدیث میں ا رشاد ہے کہ یعنی اس راز کو چھپائے جو غسل کے وقت سامنے آئے اور نہ ذکر کرے اس کے گناہ ( وعیب وغیرہ۔)
عَائِشَةَ ← يحيى بن الجزاز ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ ← جابر و في رواية ابن عبدان ← سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو أَحْمَدَ ← الماليني: ← و، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › And it is the door to prayer for the people of the qiblah who died · Hadith 9265
