Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9253

9254 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي نا محمد بن الليث نا عبد الله بن عثمان عن أبي بردة عن الأعمش : فذكره بنحوه و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے ان کو محمد بن لیث نے ان کو عبید اللہ بن عثمان نے ان کو ابو بردہ نے ان کو اعمش نے اس نے اسی حدیث کو مذوکر کی مثل ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔

الأعمش فذكره بنحوه و ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 9253

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9254

9255 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد نا محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي نا عبد الله بن عمر بن أبان نا معاوية بن هشام عن سفيان عن حبيب عن عطاء عن ابن عباس : قيل للنبي صلى الله عليه و سلم : كيف أصبحت ؟ قال : بخير من قوم لم يشهدوا جنازة و لم يعودوا مريضا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سلیمان حضرمی نے ان کو عبداللہ بن عمر بن رہان نے ان کو معاویہ بن ہشام نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس نے کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا تھا آپ نے صبح کیسے کی ہے؟ ( یعنی آپ کی رات کیسی گذری؟) آپ نے فرمایا خیر کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کے ساتھ جو نہ کسی جنازے میں حاضر ہوئے ہیں اور نہ ہی انہوں نے کسی مریض کی عیادت کی ہے ۔( یعنی نہ کوئی بیمار ہوا ہے نہ ہی کوئی مرا ہے بلکہ خیر و عافیت ہے ازمترجم۔)

بخير من قوم لم يشهدوا جنازة و لم يعودوا مريضا ← ابن عباس قيل للنبي صلى الله عليه و سلم كيف أصبحت ← عَطَاءٍ، ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 9254

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9255

9256 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي و أبو علي الروذباري قالا : أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أباذي نا محمد بن إسحاق الصغاني نا عبد الرحمن بن قيس نا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول كرامة المؤمن على الله عز و جل أن يغفر لمشيعيه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین محمد بن حسین علوی نے اور ابو علی روذباری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو محمد بن اسحاق صفانی نے ان کو عبدالرحمٰن بن قیس نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: (دفن کے بعد) ایمان دار میت کا پہلا اکرام یہ ہوتا ہے کہ اس کے رخصت کرنے والوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي و أبو علي الروذباري

Hadith 9255

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9256

9257 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو زيد أحمد بن محمد بن طريف البجلي نا محمد بن كثير عن الأعمش حدثني عكرمة عن ابن عباس قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أول ما يتحف به المؤمن في قبره ؟ قال : يغفر لمن تبع جنازته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو زید احمد بن محمد بن طریف بجلی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو اعمش نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے عکرمہ نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ مؤمن کو اس کی قبر میں پہلا تحفہ کیا دیا جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہر اس شخص کو بخش دیا جاتا جو اس کے جنازے کے پیچھے پیچھے جا کر دفنا کر واپس لوٹا تھا۔

يغفر لمن تبع جنازته ← أول ما يتحف به المؤمن في قبره ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أبو زيد أحمد بن محمد بن طريف البجلي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 9256

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9257

9258 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن محمد بن الحسن بن علي حفدة إبراهيم بن هانىء نا جدي إبراهيم بن محمد بن هانىء نا أبي محمد بن هانىء أنا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن مروان بن سالم عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول ما يجازى به العبد المؤمن يوم القيامة إذا مات أن يغفر لجميع من يتبع جنازته في هذه الأسانيد ضعف و الله أعلم و روي ذلك عن الزهري من قوله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو الحسن محمد بن حسن بن علی حفدۃ ابراہیم بن ہانی نے ان کو ان کے نانا ابراہیم بن محمد بن ہانی نے ان کو ابو محمد بن ہانی نے ان کو عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابو رواد نے ان کو مروان بن سالم نے ان کو عبدالملک بن ابو سلیمان نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ: مؤمن بندہ قیامت کے دن جو پہلا بدلہ یا جزا جو دیا جائے گا جب وہ مر جاتا ہے یہ ہے کہ ان سب لوگوں کو بخش دیا جائے گا جو اس کے جنازے کے پیچھے جا کر اس کو دفن کر آئے تھے۔ ان اسانید میں ضعف و کمزوری ہے ۔ واللہ اعلم۔ اور یہ روایت زہری سے بھی مروی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← مروان بن سالم ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ← أبي محمد بن هانىء ← جدي إبراهيم بن محمد بن هانىء ← أبو الحسن محمد بن الحسن بن علي حفدة إبراهيم بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9257

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9258

9259 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو عتبة نا بقية نا الفرج بن فضالة عن الضحاك بن حمزة عن الزهري قال : يبلغ من كرامة المؤمن على الله عز و جل أن يغفر لمن حضر جنازته

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عقبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو الفرج بن فضالہ نے ان کو ضحاک بن حمزہ نے ان کو زہری نے اس نے کہا ہے کہ مؤمن کی عزت اللہ پر یہاں تک پہنچتی ہے کہ وہ ہر شخص کو بخش دیتا ہے جو اس کے جنازے میں حاضر ہوا تھا۔

الزُّهْرِيِّ، ← الضحاك بن حمزة ← الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9258

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9259

9260 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى يقول : سمعت أبا يحيى البزاز يقول : كنت فيمت حج مع الحسن بن عيسى وقت وفاته بالثعلبية سنة أربعين و مائتين فحرمت الصلاة عليه فأريته في منامي بعد ذلك فقلت له : يا أبا علي ما فعل الله بك ؟ قال : غفر لي ربي و لكل من صلى علي فقال لي : لا تجزع قد غفر لي ربي و لمن صلى علي و لكل من يترحم علي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو یحییٰ بزاز سے وہ کہتے ہیں میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے حسن بن عیسیٰ کے ساتھ حج کیا تھا ان کی وفات کے وقت مقام ثعلبہ 240ھ میں ء میں نے بھی ان پر نماز جنازہ ادا کی۔ میں نے اس کو اس کے بعد خواب میں دیکھا اور میں نے پوچھا اے ابو عبداللہ اللہ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ؟ اس نے کہا میرے رب نے مجھے معاف کر دیا ہے اور ہر اس آدمی کو بھی جس نے مجھ پر نماز جنازہ پڑھی ہے اس نے مجھ سے کہا کہ مت گھبرا اللہ نے مجھے بخش دیا ہے اور ہر اس شخص کو جس نے مجھ پر نماز پڑھی ہے اور ہر اس شخص کو جس نے مجھ پر رحم کھایا ہے۔

كنت فيمت حج مع الحسن بن عيسى وقت ← أَبَا يَحْيَى الْبَزَّازُ، ← أبا بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9259

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9260

9261 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن مجيب بن إبراهيم نا إسماعيل بن يحيى بن حازم السلمي نا خشنام القيابادي عن أبيه عن جده أبي إبراهيم : و كان قاضي نيسابور و دخل عليه رجل فقيل له : إن عند هذا حديثا عجبا فقال : يا هذا و ما هو ؟ قال : إعلم إني كنت رجلا نباشا أنبش القبور فماتت امرأة فذهبت لأتعرف قبرها فصليت عليها فلما جن الليل ذهبت لأنبش عليها و ضربت يدي إلى كفنها لأسلبها فقالت : سبحان الله رجل من أهل الجنة يسلب من امرأة من أهل الجنة ثم قالت : ألم تعلم أنك ممن صليت علي و أن الله عز و جل غفر لمن صلى علي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن فجیب بن ابراہیم نے ان کو اسحٰق بن یحییٰ بن حازم سلمی نے ان کو خثنا قیا بادی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا ابو ابراہیم نے اور وہ نیشا پور کے قاضی تھے اس پر ایک آدمی داخل ہوا اس سے کہا گیا اس کے پاس ایک عجیب بات ہے۔ قاضی نے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے اس نے بتایا کہ آپ یقین کیجئے میں ایک کفن چور آدمی تھا قبریں کھول کر کفن نکال لیتا تھا اسی اثناء میں ایک عورت کا انتقال ہو گیا تو میں یہ دیکھنے کے لئے چلا گیا کہ دیکھوں اس کی قبر کہاں ہے میں اس کےا وپر نماز جنازہ بھی ادا کی جب رات چھا گئی تو میں اس کا کفن نکالنے کے لئے گیا قبر کھول لی جب میں نے اس کے کفن پر ہاتھ ڈالا کہ میں کھینچ لوں تو اس عورت ( میت) نے کہا سبحان اللہ اہل جنت کا ایک آدمی اہل جنت کی ایک عورت کا کفن چھیل رہا ہے ۔ اس کے بعد کہا کہ کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے مجھ پر نماز جنازہ پڑھی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بخش دیا ہے جنہوں نے مجھ پر نماز پڑھی ہے ۔ نوٹ: امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ اس واقعہ کو مذکورہ احادیث کے تائید کے طور پر لائے میں میت پر نماز جنازہ پڑھنے والوں کی مغفرت ہو جانے کا ذکر ہے ۔ واضح طور پر اس واقعہ کے بعض اجزء نصوص قرآن کے خلاف محسوس ہوتے ہیں جن سے کوئی قطعی عقیدہ اخذ نہ کیا جائے عقیدہ کے لئے قرآنی آیات اور صحیح احادیث کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس واقعہ کی توجیہ کرنی پڑے گی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی توبہ اور اس کے بعد اس کی مغفرت کرنے کے لئے کسی فرشتے یا ہاتف غیبی کی آواز سنائی ہو گی جو ظاہر اُسی میت کی اور اسی میں سے محسوس ہو رہی ہو گی ۔ واللہ علم (مترجم)

أَبِيهِ ← خشنام القيابادي ← إسماعيل بن يحيى بن حازم السلمي ← أبو إسحاق إبراهيم بن مجيب بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9260

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9261

9262 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا العودي محمد بن أحمد نا كثير بن يحيى نا أبو عوانة عن قتادة عن ثمامة بن أنس عن أنس بن مالك أنه كان يقول : إذا وضع الميت في قبره : اللهم جاف الأرض عن جنبيه و صعد روحه و تكلفه و تلقه منك برحمتك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عودی محمد بن احمد نے ان کو کثیر بن یحییٰ ے ان کو ابو عوانہ نے ان کو قتادہ نے ان کو ثمامہ بن انس نے انہوں نے انس بن مالک سے سنا اس وقت وہ فرمایا کرتےت ھے جب میت اپنی قبر میں رکھی جاتی ہے ۔ اے اللہ اس کےد ونوں پہلوؤں کی جانب زمین خشک کر دے اور اس کی روح اوپر چڑھ چکی ہے ۔( یا اس کی روح کو تو اوپر لے جا ) اور تو اس کی کفالت فرما اور تو اس کو اپنی طرف سے رحمت کے ساتھ اپنے پاس لے لے ۔

جنبيه و صعد روحه و تكلفه و تلقه منك برحمتك ← إذا وضع الميت في قبره اللهم جاف الأرض ← أنس بن مالك أنه كان ← ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ← العودي محمد بن أحمد ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 9261

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9262

9263 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب أخبرني ابن أبي الزناد عن أبيه قال : كنت جالسا مع عبد الله بن جعفر بن أبي طالب بالبقيع فأطلع علينا بجنازة فأقبل علينا ابن جعفر فتعجب من إبطاء مشيهم بها فقال : عجبا لما يغير من حال الناس و الله إن كان إلا الحمر و إن كان الرجل ليلاحي الرجل فيقول : يا عبد الله اتق الله فكأنه قد جمرتك متعجبا لإبطاء مشيهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انو کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی ابن ابو الزناد نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن جعفر بن ابو طالب کے ساتھ بقیع میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم لوگوں کے سامنے ایک جنازہ آرہا تھا عبداللہ بن جعفر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور حیرانی کا اظہار کیا میت کو تاخیر سے اور آہستہ لے کر چلنے پر۔ بس کہنے لگے حیرانی ہے کس قدر لوگوں کی حالت بدل گئی ہے ۔ اللہ کی قسم یہ نہیں تھا مگر برا آدمی اور بے شک یہ آدمی آدمی سے جھگڑا کرتا تھا پھر کہتا تھا عبداللہ اللہ سے ڈر۔ ان لوگوں کے چلنے کی سست رووی پر تعجب و حیرانی کرتے ہوئے گویا کہ میں نے تجھے پتھر مار دیا ہے ۔

أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9262

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9263

9264 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر الدقاق ببغداد أنا علي بن محمد بن سليمان الخرقي نا أبو قلابة نا علي بن إبراهيم نا كعب بن مالك عن أبي قتادة الأنصاري قال : بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ مر عليه بجنازة فقال : مستريح أو مستراح منه قالوا : يا رسول الله و ما مستريح و مستراح منه ؟ قال : العبد المؤمن يستريح من نصب الدنيا و أذاها إلى رحمة الله و العبد الكافر يستريح منه العباد و البلاد و الشجر و الدواب أخرجاه في الصحيح من حديث ابن أبي هند

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن احمد بنا بو طاہر دقاق نے بغداد میں ان کو علی بن محمد سلیمان حرفی نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو علی بن ابراہیم نے ان کو عبداللہ بن سعید بن ابو ہند نے ان کو محمد بن عمر و یعنی ابن حلحلتہ نے ان کو معبد بن کعب بن مالک نے ان کو ابو قتادہ انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کے پاس بیٹھے تھے اچانک ایک جنازہ آپ کے پاس سے گذرا آپ نے فرمایا کہ یہ مستریح ہے یا مستراح منہ ہے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ مستریح(اس نے آرام پا لیا ہے دنیا سے یا اس سے آرام پا لیا لوگوں نے ۔) اور مستراح منہ کیا ہے ؟ حضور ﷺ اللہ نے فرمایا: کہ مؤمن بندہ دنیا کی تھکان اور اس کی اذیت سے اللہ کی رحمت کی طرف آرام و استراحت پا لیتا ہے ( مرنے کے بعد) اور کافر بندے سے اس کے مرنے کے بعد لوگ۔ شہر درخت اور جانور اس سے آرام اور چھٹکارا پا لیتے ہیں۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں ابو ہند کی حدیث سے ۔

أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ؛ ← كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو قِلَابَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْخَرَقِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ،

Hadith 9263

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9264

9265 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني بكر بن محمد الصيرفي نا عبد الصمد بن الفضل و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الخزاعي بمكة نا عبد الله بن أحمد بن أبي مسرة قالا : نا عبد الله بن زيد المقري نا سعيد بن أبي أيوب عن شرحبيل بن شريك المعافري عن علي بن رباح اللخمي عن أبي رافع قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من غسل ميتا فكتم عليه غفر له أربعين مرة و من كفن ميتا كساه الله من سندس و إستبرق الجنة و من حفر لميت فأجنه فيه أجري له من الأجر كأجر مسكن أسكنه إلى يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی بکر بن محمد صیرفی نے ان کو عبدالصمد بن فضل نے ۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد بن اسحاق خزاعی نے مکہ میں ان کو عبداللہ بن احمد بن ابو مسرہ نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی عبداللہ بن یزید مقرئی نے ان کو سعید بن ابو ایوب نے ان کو شرجیل بن شریک معافری ن ے ان کو علی بن رباح لخمی نے ان کو ابو رافع نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے میت کو غسل دیا اور اس کے عیب کو چھپا یا اس کی چالیس مرتبہ مغفرت کی جائے گی۔ اور جس نے میت کو کفن دیا اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا باریک اور موٹا ریشم پہنائے گا۔ اور جس نے میت کے لئے قبر کھودی اور اس کو اس میں دفن کیا اور اس کو ایسے اجر ملے گا جیسے کسی کو گھر اور ٹھکانہ دینے کا اجر ہوتا ہے۔ قیامت کے دن۔

أَبِي رَافِعٍ ← عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ الْمَعَافِرِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عبد الله بن زيد المقري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عبد الصمد بن الفضل و ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9264

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood