Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9241

9242 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بكر نا أبو داود نا أحمد بن صالح نا ابن وهب حدثني معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث عن مكحول عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجهاد واجب عليكم مع كل أمير برا كان أو فاجرا و إن عمل الكبائر و الصلاة واجبة عليكم خلف كل مسلم برا كان أو فاجرا و إن عمل الكبائر و قد مضى حديث البراء بن عازب عن النبي صلى الله عليه و سلم في الأمر باتباع الجنائز و حديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في حق المسلم على المسلم

9242ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو احمد بن صالح نے ان کو ابن وہب نے انکو معاویہ بن صالح نے ان کو علاء بن حارث نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جہاد لازم ہے تمہارے اوپر ہر امیر کے ماتحت خواہ نیک ہو یا بد ہو اگرچہ کبیرہ گناہ کرتا ہو۔ اور نماز جنازہ لازم ہے تمہارے اوپر ہر مسلمان کے پیچھے خواہ وہ مسلمان نیک ہو خواہ براہو اگرچہ وہ کبیرہ گناہ کرتا ہو ۔ اور نماز واجب ہے ہر مسلم پر خواہ نیک ہو یا بد ہو اگرچہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو اور براء بن عازب کی حدیث نبی کریم ﷺ سے گذر چکی ہے ۔ جنازوں کے پیچھےپیچھے چلنے کے حکم کےبارے میں اور ابو ہریرہ کی حدیث گذر چکی ہے ۔ جنازوں کے پیچھے پیچھے چلنے کے حکم کے بارےمیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مَكْحُولٌ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بكر محمد بكر ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 9241

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9242

9243 - و أخبرنا أبو الحسن بن أبي علي الحافظ نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر الخولاني نا بشر بن بكر نا الأوزاعي عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب أن أبا هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : حق المسلم على المسلم خمس : رد السلام و عيادة المريض و تشميت العاطس و اتباع الجنائز و إجابة الدعوة أخرجه البخاري في الصحيح من حديث الأوزاعي و أخرجه مسلم من وجه آخر

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن ابو علی حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر خولانی نے ان کو بشر بن بکر نے ان کو اوزاعی نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سعید بن مسیب نے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا وہ فرماتے تھے۔ کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں سلام کا جواب دینا مریض کی عیادت کرنا چھینکے والے کو جواب دینا جنازے کے پیچھے چلنا بلانے والے کی بات ماننا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو الحسن بن أبي علي الحافظ ← و،

Hadith 9242

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9243

9244 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن قتادة و أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا هشام عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن معدان بن أبي طلحة عن ثوبان : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من صلى على جنازة فله قيراط و من تبعها حتى يقضى قضاؤها فله قيراطان و في رواية شعبة قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من صلى على جنازة فله قيراط و من شهد دفنها فله قيراطان مثل أحد أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة و هشام و غيرهما

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے۔ اور ہمیں خبر دی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ہشام نے ان کو قتادہ نے ان کو سالم بن ابو الجعد نے ان کو معدان بن ابو طلحہ نے ان کو ثوبان نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ پڑھے اس کے لئے ایک قیراط ثواب ہےاور جو جنازے کےساتھ ساتھ جائے حتیٰ کہ اس کےسارے کام پورے کر کےواپس آئے اس کے لئے دو قیراط ثواب ہے۔اور شعبہ کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ ادا کرے اس کے لئے ایک قیراط ہے اور جو شخص اس کے دفن میں بھی حاضر رہے اس کے لئے د و قیراط ہیں احد پہاڑ کےبرابر۔ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں شعبہ کی حدیث سےاور ہشام وغیرہ کی حدیث ہے۔

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← قَتَادَةَ، وَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 9243

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9244

9245 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد الدارمي نا محمد بن سعيد الدمشقي نا الهيثم بن حميد عن العلاء بن الحارث عن عبد الله بن الحارث أنه خرج في جنازة فيها ابن عباس فصلى عليها فانصرف رجل من القوم لحاجة فضرب ابن عباس منكبي و قال : أتدري بكم انصرف هذا ؟ قلت : لا أدري قال : انصرف بقيراط فقلت : ابن عباس و ما القيراط ؟ قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من صلى على جنازة فانصرف قبل أن يفرغ منها كان له قيراط فإن انتظر حتى يفرغ منها كان له قيراطان و القيراط مثل أحد في ميزانه يوم القيامة ثم قال : أتعجب من قولي مثل أحد حق لعظمة ربنا أن يكون قيراطه مثل أحد و يومه كألف سنة

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو محمد بن سعید مشقی نے ان کو ہثیم بن حمید نے ان کو علاء بن حارث نے ان کو عبداللہ بن حارث نے کہ وہ ایک جنازے میں شریک ہوئے ان لوگوں میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے بھی جنازہ پڑھا جنازے کے بعد ایک آدمی الگ ہو کر کسی کام سے چلا گیا( دفن کے لیے ساتھ ہیں گیا) حضرت ابن عباس نے میرا جندا تھپتھپا کر کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ کتنا اجر چھوڑ کر یہ شخص ہٹا ہے ؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک قیراط اجر سے ہٹ گیا ہے ۔ میں نے پوچھا اے ابن عباس: ایک قہراط کتنا ہوتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا فرما رہے تھے: جس نے جنازے کی نماز پڑھی اور وہ اس کے دفن سے فارغ ہونے سے پہلے ہٹ گیا اس کے لئے ایک قیراط اجر ہو گا اور اگر اس نےا نتظار کیا حتٰی کہ اس کے دفن سے فارغ ہو گیا اس کے لئے دو قیراط ثواب ہے اور ایک قیراط قیامت کے دن اس کے اعمال کے ترازو میں احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ کیا تم میرے اس قول سے تعجب اور حیرانی کر رہے ہو کہ احد پہاڑ کے برابر ثواب ہو گا ہمارے رب کیع ظمت کے لائق ہی یہی ہے کہ اس کا قیراط احد پہاڑ کی مثل ہو اور اس کا ایک یوم ایک ہزار سال کا ہو ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 9244

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9245

9246 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو نا سعيد بن مسعود أنا يزيد بن هارون أنا سفيان بن حسين عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتي ضعفاء المسلمين و يزورهم و يعود مرضاهم و يشهد جنائزهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے مقام مرو میں ان کو سعید بن مسعود نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سفیان بن حسین نے ان کو زہری نے ان کو ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ: نبی کریم ﷺ کمزور وضعیف مسلمانوں کے پاس جاتے تھے ان کو ملتے تھے اور ان کے بیماروں کی مزاج پرسی کرتے تھے اور ان کے جنازوں میں شریک ہوتے تھے۔

أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9245

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9246

9247 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد بن موسى نا إسماعيل بن قتيبة نا أبو بكر بن شيبة نا وكيع عن الصلت بن بهرام عن الحارث بن وهب عن الصنابحي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تزال أمتي أو هذه الأمة في مسكة من دينها ما لم يكلوا الجنائز إلى أهلها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن موسیٰ نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو ابو بکر بن شیبہ نے ان کو وکیع نے ان کو صلت بن بہرام نے ان کو حارث بن وہب نے ان کو ضابحی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہمیشہ رہے گی میری امت۔ یا یوں فرمایا تھا کہ یہ امت خیر میں اپنے دین میں جب تک جنازوں کا بوجھ ان کے گھر والوں پر نہیں ڈالیں گے( یعنی ازراہ ہمدردی مسلمان جب تک اہل میت کے ساتھ کفن دفن میں تعاون کرتے رہیں کے خیر و بھلائی کے قائم رہیں گے)۔

الصُّنَابِحِیّ، ← الْحَارِثِ بْنِ وَهْبٍ، ← الصَّلْتِ بْنِ بَھْرَامَ ← وَكِيعٌ، ← اَبُوْ بَکْرِ بْنُ شَیْبَۃَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9246

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9247

9248 - أخبرنا أبو نصر محمد بن علي بن محمد الشيرازي الفقيه أنا الحاكم أبو محمد يحيى بن منصور نا أبو عمرو المستملي قال : نا الحسن بن عيسى ببغداد نا ابن المبارك أنا سلام بن أبي مطيع عن أيوب عن أبي قلابة عن عبد الله بن يزيد رضيع عائشة عن عائشة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من ميت يموت يصلي عليه أمة من المسلمين يبلغون مائة كلهم يشفعون له إلا شفعوا به فحدثت به شعيب بن الجعاب فقال : حدثني به أنس بن مالك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني بهذا القائل سلاما رواه مسلم في الصحيح عن الحسن بن عيسى

ہمیں خبر دی ابو نصر محند بن علی بن محمد شیرازی فقیہ نے ان کو حاکم نے ان کو ابو محمد یحییٰ بن منصور نے ان کو ابو عمر مستملی نے وہ کہتے کہ کہا حسن بن عیسیٰ نے بغداد میں ان کو خبر دی ابن مبارک نے ان کو سلام بن ابو مطیع نے ایوب سے ان کو ابو قلابہ نے ان کو عبداللہ بن یزید رضیع عائشہ نے سیدہ عائشہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو بھی انسان مرنے والا مرتا ہے جس پر مسلمانوں کی جماعت نماز جنازہ ادا کرتی ہے جن کی تعداد ایک سوتک پہنچ جاتی ہے اور وہ سب کے سب میت کے حق میں شفاعت کرتے ہیں تو ان کی شفاعت قبول ہو جاتی ہے ۔میں نے یہ حدیث شعیب بن جعاب کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا مجھے یہ حدیث حضرت انس بن مالک نے رسول اللہﷺ سے بیان کی تھی انہوں نے اس کہنے والے سے سلام کو مراد لیا ہے ۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حسن بن عیسیٰ سے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، رَضِيعِ عَائِشَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي ← الحاكم أبو محمد يحيى بن منصور ← أبو نصر محمد بن علي بن محمد الشيرازي الفقيه

Hadith 9247

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9248

9249 - و روينا عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا إلا شفعهم الله فيه أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس إملاء نا عثمان ابن سعيد الدارمي نا هارون بن معروف نا عبد الله بن وهب نا أبو صخر عن شريك بن عبد الله بن أبي نمر مولى ابن عباس عن ابن عباس فذكره أخرجه مسلم عن هارون بن معروف و غيره

اور ہم نے روایت کی ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ انہوں نے فرمایا : جو مسلمان آدمی بھی مرتا ہے اور اس پر ایسے چالیس آدمی کھڑے ہو کر نماز جنازہ ادا کرتے ہیں( جو موحد ہوتے ہیں) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے(مشرک نہیں ہوتے ) اللہ تعالیٰ میت کے حق میں ان کی شفاعت قبول کرتے ہیں۔ ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے بطور املاء کے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو ہارون بن معروف نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو ابو صخر نے شریک بن عبداللہ بن ابو نمر مولی ابن عباس سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے ۔ اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے ہارون بن معروف وغیرہ ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← و روينا

Hadith 9248

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9249

9250 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب أنا محمد بن أبي بكر نا يحيى بن سعيد حدثني أبو بكار قال : صليت مع أبي المليح على جنازة فقال : أقيموا صفوفكم و ليحسن شفعاتكم فلو اخترت رجلا اخترته ثم قال : حدثني عبد الله بن السليط عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم ميمونة و كان أخاها من الرضاعة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من مسلم يصلي عليه أمة يشفعون فيه إلا شفعوا قال : و الأمة من الأربعين إلى المائة فصاعدا

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو حدیث بیان کی ابو بکار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الملیح کے ساتھ ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو انہوں نے فرمایا اپنی صفیں سیدھی کرو اور اپنی سفارش کو بہتر طریقے پر کرو میں اگر کسی آدمی کو منتخب کروں تو کر سکتا ہوں۔ اس کے بعد فرمایا مجھے حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن سلیط نے بعض ازواج رسول سے یعنی بی بی میمونہ سے ان کا رضاعی بھائی تھا۔ یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو مسلمان بھی مرتا ہے جس پر ایک جماعت نماز ادا کرتی ہے اس نماز میں وہ اس کے حق میں سفارش کرتے ہیں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے اور امت چالیس سے لے کر ایک سو تک کی تعداد کو بلکہ کچھ زیادہ کو کہتے ہیں۔

عبد الله بن السليط ← أقيموا صفوفكم و ليحسن شفعاتكم فلو اخترت رجلا اخترته ثم ← صَلَّيْت مَعَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جِنَازَةٍ ← أبو بكار ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ← و،

Hadith 9249

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9250

9251 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا علي بن الحسن الدارابجردي نا يعقوب بن إبراهيم نا مبارك أبو عبد الرحمن مولى هرمز بن عبد الله نا القاسم بن مطيب قال : خرج أبو المليح الهذلي في جنازة فلما وضع السرير أقبل على القوم فقال : سووا صفوفكم و يحسن شفاعتكم و لو كنت مختارا أحدا لاخترت لصاحب السرير

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو علی بن حسین دار ابجردمی نے ان کو یعقوب بن ابراہیم نے ان کو مبارک ابو عبدالرحمٰن مولیٰ(ہرمز) بن عبداللہ نے ان کو قاسم بن مطیب نے۔ انہوں نے کہا: ابو الملیح ہذلی کسی جنازے میں گئے۔ جب چارپائی رکھی گئی تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اپنی صفیں سیدھی کر لو اچھی ہو گی تمہاری سفارش ۔ اگر میں کسی کو ترجیح دیتا اور پسند کرتا تو میں اس چارپائی والے کو پسند کرتا۔

خرج أبو المليح الهذلي في جنازة فلما وضع السرير أقبل على القوم ← الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ، ← مبارك أبو عبد الرحمن مولى هرمز بن عبد الله ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابْجِرْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 9250

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9251

9252 - قال أبو المليح و حدثني سليط و كان أخا ميمونة أم المؤمنين عن ميمونة أنها ذكرت : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من صلى عليه أمة من الناس شفعوا الله في أخيهم و الأمة أربعون إلى مائة و العصبة عشرة إلى أربعين و النفر ثلاثة إلى عشرة و قيل عن أبي المليح عن عبد الله بن سليط عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم و قيل عن أبي المليح عن ابن عمر و قيل عن أبي المليح عن أبيه قال البخاري قال علي : أحب مرفوع هذا الحديث كله إلى حديث أبي قلابة عن عبد الله بن يزيد عن عائشة

کہا ابو الملیح نے اور مجھے حدیث بیان کی ہے سلیط نے وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے سیدہ میمونہ نبی کریم ﷺ سے ذکر کرتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جس شخص پر لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ ادا کرے وہ اپنے بھائی کے بارے میں اللہ سے سفارش کرتے ہیں۔ چالیس افراد سے لے کر ایک سو تک کی تعداد کو امت کہتے ہیں۔ اور دس سے لے کر چالیس کی تعداد کو عصبہ کہتے ہیں اور تین سے لے کر دس تک کی تعداد کو نفر کہتے ہیں۔ (1) کہا گیا ہے کہر وایت کی گئی ہے ابو الملیح سے وہ روایت کرتے ہیں حضرت ابن عمر سے ۔(2) اور کہا گیا ہے روایت کی گئی ہے ابو الملیح سے وہ روایت کرتے ہیں حضرت ابن عمر سے ۔ (3) اور کہا گیا ہے کہ روایت کی گئی ہے ابو الملیح سے وہ روایت کرتے ہیں اپنے والد سے بخاری نے کہا ہے کہ علی نے کہا ہے۔ میں اس حدیث کا مرفوع پسند کرتا ہوں کل روایت کی اسناد ابو قلابہ تک پہنچتی ہیں وہ روایت کرتے ہیں عبداللہ بن یزید سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔

مَيْمُونَةَ، ← سليط و كان أخا ميمونة أم المؤمنين ← أبو المليح و

Hadith 9251

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9252

9253 - أخبرنا أبو القاسم عبد العزيز بن محمد العطار ببغداد نا أحمد بن سلمان نا الحسن بن سلام السواق نا عبيد الله بن موسى أنا شيبان عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من صلى عليه مائة من المسلمين غفر له

ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالعزیز بن محمد عطار نے بغداد میں ان کو احمد بن سلیمان نے ان کو حسن بن سلام سواق نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے ان کو نبی کریم ﷺ نے انہوں نے فرمایا: جس شخص کی ایک سو مسلمان نماز جنازہ ادا کریں اس کو بخش دیا جاتا ہے ۔

مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُفِرَ لَهُ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سَلَّامِ السَّوَّاقُ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ

Hadith 9252

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood