Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9224

9225 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا علي ابن عبد الله نا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال : أفضل العيادة أخفها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو عمر و بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کوعلی بن عبداللہ نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ افضل عبادت وہ ہے جو اس میں سے پوشیدہ ہو۔

أفضل العيادة أخفها ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← علي ابن عبد الله ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9224

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9225

9226 - سمعت أبا عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي يقول : سمعت الحسين بن أحمد بن موسى يقول : سمعت الصولي يقول : نا أحمد بن يحيى نا مسلمة بن عاصم قال : دخلت على الفراء أعوده فأطلت و ألحفت في السؤال فقال لي : أدن فدنوت فأنشدني : ( حق العيادة يوم بين يومين و جلسة مثل لحظ الطرف بالعين ) ( لا تبرمن مريضا في مسائله يكفيك من ذاك سأك بحرفين )

میں نے سنا ابوعبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا حسین بن احمد بن موسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا صولی سے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی احمد بن یحییٰ نے ان کو مسلمہ بن عاصم نے وہ کہتے ہیں کہ میں فراء کے پاس گیا ان کی مزاج پرسی کرنے کے لئے ۔ میں نے لمبی دیر لگادی اور میں نے سوال کرنے میں بھی اصرار کیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرے قریب آؤ۔ میں قریب آیا تو انہوں نے مجھ کو یہ شعر سنائے: حق العياد ة يوم بين يومين وجلسة مثل لحظ الطرف بالعين لاتبر من مريضاً في مسائله يكفيك من ذاک ساک بحرفين عیادت کرنے کا حق دو دنوں کے بعد تیسرا دن ہے اور مریض کے پاس نشست مثل آنکھ جھپکنے کی دیر ہے۔ آپ مریض کو ٹھیک نہیں کرتےاس سے زیادہ سوال کر کے نیچے کافی ہے کہ اس سے دولفظوں میں مختصر سوال کرو ۔

دخلت على الفراء أعوده فأطلت و ألحفت في السؤال ← مسلمة بن عاصم ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، ← الصولي ← الحسين بن أحمد بن موسى ← أبا عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9225

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9226

9227 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا علي بن عبد الرحمن بن ماتي الكوفي نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا أبو غسان مالك بن إسماعيل النهدي نا مندل علي الغبري عن إسماعيل عن الشعبي قال : عيادة حمقى القراء أشد على أهل المريض من مريضهم يجيئون في غير حين عيادة و يطلبون الجلوس

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کوعلی بن مالک بن اسماعیل نہدی نے ان کو مندل علی غبری نے ان کو اسماعیل نے ان کو شعبی نے وہ کہتے ہیں کہ دیکھاوے کی عیادت کرنے والے یعنی ( ریا کار )مریض کے گھر والوں پر مریض سے زیادہ گراں اور زیادہ شخصیت ہوتے ہیں ۔ ایک تو بیگا وقت عیادت کرنے چلے آتے ہیں اور دوسرے یہ کہ لمبی لمبی دیر بیٹھ جاتے ہیں ۔

الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← مندل علي الغبري ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي الْكُوفِيِّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9226

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9227

9228 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق حدثني أبو عبد الله أحمد بن حنبل نا إسماعيل بن إبراهيم عن أيوب قال : نبئت أن عمر بن عبد العزيز عاد أبا قلابة فقال أبو قلابة : تسد ولا تشمت بنا المنافقون

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمر و بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ احمد بن حنبل نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت ابوقلابہ کی عیادت کی تھی ۔ لہذا ابوقلابہ نے کہا آپ درست روش اختیار کیجئے اور ہمارے ساتھ منافقوں کو خوش نہ کیجئے ۔

أبو قلابة تسد ولا تشمت بنا المنافقون ← نبئت أن عمر بن عبد العزيز عاد أبا قلابة ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9227

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9228

9229 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني ابن أبي شيبة نا بكر بن يونس بن بكير عن موسى بن علي عن أبيه عن عقبة بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تكرهوا مرضاكم على الطعام والشراب فإن الله يطعمهم و يسقيهم

ہمیں خبر دی ابوسعید بن ابوعمر نے ان کو ابی عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابی الدنیا نے ان کو ابن ابی شیبہ نے ان کو بکر بن یونس بن بکیر نے ان کو موسیٰ بن علی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عقبہ بن عامر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ لوگ اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کیا کرو۔ بے شک اللہ تعالی ٰان کو کھلاتا ہے اور ان کو پلاتا ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← بكر بن يونس بن بكير ← ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← عبد الله الصفار ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9228

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9229

9230 - قال : و نا أبو بكر نا محمد بن بشير نا محمد بن ربيعة الكلابي و القاسم بن مالك المزني قالا : نا رزام بن سعيد حدثني المعارك بن زيد الضبي عن ابن عمر قال : سمعت عمر يقول : إن اشتهى مريضكم الشيء فلا تحموه فلعل الله إنما شهاه ليجعل شفاءه فيه

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر نے ان کومحمد بن بشیر نے ان کومحمد بن ربیعہ کلابی نے اور قاسم بن مالک مزنی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے رزام بن سعید نے ان کو معارک بن زیدضبی نے ان کو ابن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے حضرت عمر سے وہ کہتےہیں اگر تمہارا مریض کسی چیز کے کھانے کی خواہش کرے تو اس کو مت روکو۔ شاید اللہ تعالیٰ نے اس کو اس لئے اس کی خواہش دی ہوتا کہ وہ اسی میں اس کی شفا بنا دے۔

عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← المعارك بن زيد الضبي ← رِزَامِ بْنِ سَعِيدٍ ← محمد بن ربيعة الكلابي و القاسم بن مالك المزني ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9229

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9230

9231 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن أبي بكر نا محمد بن مسلم نا يحيى بن أيوب عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : مرضت فحماني أهلي كل شيء حتى الماء فعطشت ليلة وليس عندي أحد فدنوت من قربة معلقة فشربت منها شربي و أنا صحيحة فجعلت أعرف صحة تلك الشربة في جسدي قال : كان عائشة تقول : لا تحموا المريض شيئا قال أحمد رضي الله عنه : و إن دخل على المريض وهو محتضر قرأ عنده سورة يس و قد روينا عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : اقرأوها على موتاكم ولقنه الشهادتين من غير أن يلح عليه بها و لكنه يذكرها عنده يتلقنها و قد ذكرنا الحديث في التلقين و فيمن كان آخر كلامه لا إله إلا الله في الدعوات وغيرها

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن ابی بکر نے ان کو محمد بن مسلم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو ھشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوفرماتی ہیں میں ایک مرتبہ پڑگئی تھی ۔ میرے گھر والوں نے میری ہر چیز روک دی تھی یہاں تک کہ پانی بھی روک دیا تھا ۔ ایک رات مجھے شدید پیاس گئی اور میرے پاس کوئی بند ہ نہیں تھا ۔ لہذا میں مشک کے قریب گئی جو لٹکی ہوئی تھی ۔ میں نے اس سے جی بھر کر پانی پیا اس سے میں ٹھیک ہوگئی۔ میں نے سمجھ لیا کہ میری صحت میرے جسم میں اس پانی کے جانے کے سبب سے تھا۔ فرمایا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ مریض کو روکا نہیں کر وکسی چیز سے ۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اگر کوئی شخص مریض کے پاس جائے اور اس کا وقت آخری ہو یعنی موت کا وقت آ چکا ہوتو اس کے قریب سورہ یٰس پڑھا دے اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا اس کو اپنے مرنے والے لوگوں پر پڑھا کرو ۔ اور ملاقات کرنے والا توحید ورسالت کی اس کو تلقین کرے (یعنی کلمہ شہادت پڑھوائے ) مگر اصرار نہ کرے کلمہ شہادت پڑھنے کا بلکہ اس کو ذکر کرے مریض کے قریب ۔شاید وہ سن کر اس سے تلقین قبول کر لے اور پڑھنا شروع کر دے۔ تحقیق ہم نے حدیث ذکر کر دی ہے تلقین کے بارے میں اور اس بارے میں کہ جس شخص کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ یہ ہم نے کتاب الدعوات میں ذکر کر دی ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9230

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9231

9232 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا مطين نا جعفر بن حميد نا ابن المبارك عن التيمي عن أبي عثمان و ليس بالنهدي عن أبيه عن معقل بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرأوها عند موتاكم يعني يس

ہم کو خبر دی ہے ابو نصر عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ان کو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو جعفر بن حمید نے ان کو ابن مبارک نے ان کو ھیمی نے ان کو ابوعثمان نے ۔ یہ نہدی نہیں بے نقل کرنے میں اپنے والد سے دو معقل بن یسار سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ سورہ یٰس پڑھا کر اپنے مرنے والوں کے پاس ۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِيهِ ← أبي عثمان و ليس بالنهدي ← التَّيْمِيِّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← جعفر بن حميد ← مطين ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9231

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9232

9233 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني أنا معلي ابن منصور نا عبد العزيز بن محمد عن عمارة بن غزية عن يحيى بن عمارة عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقنوا موتاكم لا إله إلا الله رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن عبد العزيز بن محمد بن عبد الله الدراوردي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو بوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کومحمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو معلیٰ بن منصور نے ان کو عبد العزیز بن محمد نے ان کو عمارہ بن عزیز نے ان کو یحییٰ بن عمارہ نے ان کو ابوسعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے مردوں کو یعنی جو مرنے کے قریب ہوں لا الہ الا اللہ پڑھوایا کرو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← معلي ابن منصور ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9232

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9233

9234 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أحمد بن عصام الأصبهاني نا أبو عاصم نا حميد بن جعفر عن صالح بن أبي غريب عن كثير بن مرة عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان آخر كلامه لا إله إلا الله وجبت له الجنة

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کوابوعبداللہ حمد بن عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن عصام اصفہانی نے ان کو ابو عاصم نے ان کو حمید بن جعفر نے ان کو صالح بن ابی غریب نے ان کو کثیر بن مرہ نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا آخری کلمہ لا الہ اللہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← صالح بن أبي غريب ← حميد بن جعفر ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِصَامٍ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9233

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9234

9235 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي نا الحسن بن علي بن زياد نا عبد العزيز الأويسي نا ابن أبي الزناد أخبرني موسى بن عقبة عن رجل من ولد عبادة بن الصامت عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حضر ملك الموت رجلا يموت فشق أعضاءه فلم يجده عمل خيرا ثم شق قلبه فلم يجد فيه خيرا ثم قد لحييه فوجد طرف لسانه لاصقا بحنكه يقول : لا إله إلا الله قال النبي صلى الله عليه و سلم : فغفر له بكلمة الإخلاص

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالعباس محمد بن اسحٰق ضعبی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز اویسی نے ان کو ابوالز ناد نے ان کو خبر دی موسیٰ بن عقبہ نے ایک آدمی سے اولا دعبادہ بن صامت سے ۔اس نے ابو ہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موت کا فرشتہ ایک آدمی کے پاس پہنچا اس کو موت دینے کے لئے اس نے اس کے سارے اعضاء کو چیر کر دیکھا مگر اس کو اس شخص میں کوئی بھی عمل نہ ملا ۔ اس کے بعد اس نے اس کے دل کو چیر کے دیکھا ۔ اس میں بھی اس کو کوئی خیر کی بات نہ ملی ۔ پھر اس نے اس کے جبڑوں کو تو ڑ کر دیکھا تو اس کی زبان تالو سے لگی ہوئی تھی اور وہ کہہ رہا تھاالہ الا اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلمہ اخلاص کی وجہ سے اس کو بخش دیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رجل من ولد عبادة بن الصامت ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ الْأُوَيْسِيُّ ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9234

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9235

9236 - قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمر الله بعبد إلى النار فلما وقف على شفيرها التفت فقال : أما والله يا رب إن كان ظني بك لحسن فقال الله : ردوه فأنا عند حسن ظن عبدي بي

کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی ٰنے ایک بندے کو جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا ۔ وہ جب جہنم کے کنارے پر جا کر رکا تو اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا اور کہا اے میرے رب بے شک میرا گمان تو آپ کے بارے میں اچھا تھا۔اللہ تعالی ٰنے فرمایا۔لوٹاؤ اس کو میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوں جواس نے میرے ساتھ کیا ہے۔

و،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9235

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood