Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9212

9213 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني أنا ابن الأصبهاني أنا عقبة بن خالد عن موسى بن محمد بن إبراهيم حدثني أبي عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخلتم على المريض فنفسوا له في أجله فإن ذلك لا يرد شيئا و هو يطيب نفس المريض موسى بن محمد بن إبراهيم يأتي من المنكرات بما لا يتابع عليه و الله أعلم و روى من وجه آخر أضعف

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسین قاضی نے ان دونوں کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کومحمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو ابن اصفہانی نے ان کو عقبہ بن خالد نے ان کو موسی ٰبن محمد بن ابراہیم نے انکوان کے والد نے ان کو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس کو اس کے اجل کے بارے میں مہلت بتاؤ ۔ کیونکہ ایسا کرنا کسی چیز کور دنہیں کر سکتا البتہ مریض کے دل کو خوش کر دیتا ہے۔ موسیٰ بن محمد بن ابراہیم منکر احادیث لاتا ہے جن کی متابع احادیث نہیں ملتیں ۔ واللہ اعلم ۔ اور اس کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے جو اس سے زیادہ ضعیف ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9212

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9213

9214 - حدثنا أبو محمد بن يوسف املاء أنا أبو الحسين محمد بن عمر بن الخطاب بالدنيور قال : نا عبد الله بن حمدان بن وهب الدنيوري نا اليمان بن سعد نا الوليد بن عبد الواحد نا عمر بن موسى عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخل أحدكم على مريض فليصافحه و ليضع يده على جبهته و ليسأله كيف هو و لينسئ له في الأجل و يسأله أن يدعو لهم فإن دعاء المريض كدعاء الملائكة

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابومحمد بن یوسف نے بطور املاء کے ان کو ابوالحسین محمد بن عمر بن خطاب نے دینور میں ان کو عبداللہ بن حمدان نے بن وهب دینوری نے انکو یمان بن سعد نے ان کو ولید بن عبد الواحد نے ان کو عمر بن موسیٰ نے ان کو ابوالز بیر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی کسی مریض کے پاس جائے تو اس کو چاہئے کہ اس سے مصافحہ کرے، اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھے اور اس سے اس کی کیفیت پوچھے اور اس کی موت کو مؤخر کرے یا بھلوائے۔(یعنی زندگی کی امید دلائے) اور اس کو کہے کہ ہوان کے لئے دعا کرے۔ بے شک مریض کی دعافرشتوں کی دعا کی طرح ہوتی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عُمَرِ بْنِ مُوسَى ← الوليد بن عبد الواحد ← اليمان بن سعد ← عبد الله بن حمدان بن وهب الدنيوري ← أبو الحسين محمد بن عمر بن الخطاب بالدنيور ← أبو محمد بن يوسف إملاء،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9213

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9214

9215 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا محمد بن زيد بن رفاعة نا ابن أبي زائدة عن الحسن بن عياش عن محمد بن عجلان عن النعمان بن أبي عياش الزرقي قال : و عيادة المريض بعد ثلاث و قد روى فيه حديث مرفوع بإسناد غير قوي

ہمیں خبر دی ابوسعید محمد بن موسی ٰنے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابی الدنیا نے ان کومحمد بن زید جنی رفاعہ نے ان کو ابن ابی زائدہ نے ان کو حسن بن عیاش نے ان کومحمد بن عجلاج نے ان کو نعمان بن ابو عیاش زرقی نے ،وہ کہتے ہیں کہ مریض کی عیادت تین دن بعد ہوتی ہے اور اس بارے میں مرفوع حدیث مروی ہے مگر غیرقوی اسناد کے ساتھ۔

النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرْقِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← محمد بن زيد بن رفاعة ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9214

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9215

9216 - أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله نا أبو بكر حدثني أبو يعقوب التميمي نا هشام ابن عمار نا مسلمة بن علي نا ابن جريج عن حميد الطويل عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا يعود مريضا إلا بعد ثلاث

ہمیں خبر دی ابوسعید نے ان کو ابوعبداللہ نے ان کو ابوبکر نے ان کو ابویعقوب تمیمی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو مسلمہ بن علی نے ان کو ابن جریج نے ان کو حمید طویل نے ان کو انس نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کو نہیں پوچھتے تھے مگر تین دن کے بعد ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، ← هشام ابن عمار ← أبو يعقوب التميمي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9215

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9216

9217 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا أبو نعيم الفضل نا الأعمش قال : كنا نقعد في المجلس فإذا فقدنا الرجل ثلاثة أيام سألنا عنه فإن كان مريضا عدناه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے اس کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو ابونعیم فضل نے ان کو اعمش نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مجلس میں بیٹھتے تھے جب ہم کسی آدمی کو تین دن غائب پاتے تھے تو ہم اس کے بارے میں پوچھتے تھے ۔اگر وہ بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرتے تھے۔

الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9216

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9217

9218 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أبو خيثمة نا عقبة بن خالد السكوني حدثني موسى بن محمد بن إبراهيم حدثني أبي عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اغبوا في العيادة و أربعوا في العيادة و خير العيادة أخفها إلا أن يكون مغلوبا فلا يعاد و التعزية مرة أبو عصمة هذا نوح بن أبي مريم المقلب بالجامع غيره أوثق منه و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوسعید محمد بن موسیٰ نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابی الدنیا نے ، ان کو ابو خثیمہ نے ان کو عقبہ بن خالد سکونی نے ان کو موسیٰ بن محمد بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عیادت کرنے میں ناغداور وقفہ کیا کرو اور عیادت کرنے میں نرمی رکھا کرو۔ بہترین عیادت اس کی ہلکی پھلکی ہوتی ہے ۔ مگر یہ کہ مغلوب العقل ہو پھر اس کی عیادت نہ کی جائےاورتعزیت ایک بار ہوتی ہے۔ ابوعصمہ یہ نوح بن ابی مریم ہے جس کا لقب الجامع ہے اس کے ماسوا اس سے زیادہ پکا ہے ۔ واللہ اعلم ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّکُونِيُّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9217

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9218

9219 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبيد الله بن أحمد بن أسيد نا هارون بن حاتم نا ابن أبي فديك عن عبد الله بن محمد بن عمر عن أبيه عن جده عن علي بن أبي طالب قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : أعظم العيادة أجرا أخفها و التعزية مرة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبیداللہ بن احمد بن اسید نے ان کو ہارون بن حاتم نے ان کو ابن ابی فد یک نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی نے اپنے والد سے اس نے دادا سے ۔ اس نے علی بن ابی طالب سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اجر کے اعتبار سے بڑی عظیم عیادت وہ ہے جو مخفی ہے اور تعزیت ایک بار ہوتی ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← هارون بن حاتمٍ، ← عبيد الله بن أحمد بن أسيد ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9218

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9219

9220 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا يحيى بن أبي الحجاج نا يحيى بن سعيد التميمي عن الزهري عن سعيد ابن المسيب قال : إن أعظم العيادة أجرا أخفها قياما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو زیادہ حمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو یحییٰ بن ابی الحجاج نے ان کو یحییٰ بن سعد نے تمیمی سے ان کو زہری نے ان کو سعید بن مسیب نے وہ کہتے ہیں کہ اجر کے اعتبار سے بڑی عیادت وہ ہے جو سب سے زیادہ پوشیدہ ہو اپنے وقوع کے اعتبار سے ۔

إن أعظم العيادة أجرا أخفها قياما ← سعيد ابن المسيب ← الزُّهْرِيِّ، ← يحيى بن سعيد التميمي ← يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9219

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9220

9221 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو محمد العتكي نا عمر بن عبيد عن شيخ من البصريين عن سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل العيادة سرعة القيام

ہمیں خبر دی ابوسعید بن ابی عمرد نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابوبکر بن ابی الدنیا نے ان کوابومحمد عتکی نے ان کو عمر بن عبید نے ان کو ایک شیخ نے مصریوں میں سے اس نے سعید سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فضل بیمار پرسی وہ ہوتی ہے جس میں مختصر قیام کیا جائے۔

سَعِيدٌ، ← شيخ من البصريين ← عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ، ← أبو محمد العتكي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9220

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9221

9222 - و أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله نا أبو بكر حدثني أيوب بن الوليد الضرير نا شعيب بن حرب نا أبو عبد الله العرني نا إسماعيل بن القاسم عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العيادة فواق ناقة

اور ہمیں خبر دی ابوسعید نے ان کو ابو عبد اللہ نے ان کو ابوبکر نے ان کو ایوب بن ولید ضریر نے ان کو شعیب بن حرب نے ان کو ابوعبداللہ عزنی نے ان کو اسماعیل بن قاسم نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیادت اونٹنی کا دودھ نکالنے کی دیر ہوتی ہے۔ (یعنی مختصر ہوتی ہے تا کہ مریض کو اور اس کے اہل خانہ کو تکلیف نہ ہو )۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إسماعيل بن القاسم ← أبو عبد الله العرني ← شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ← أَيُّوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الضَّرِيرُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9221

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9222

9223 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا أنا داود بن محمد بن يزيد أنا أبو داود يعني الطيالسي نا خارجة بن مصعب عن أبي يحيى قال : سمعت طاوسا يقول : خير العيادة أخفها

ہمیں خبر دی ہے ابوسعید بن ابی عمرو نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابوبکر بن ابی الدنیا نے ان کو داؤ د بن محمد بن یزید نے ان کو ابوداؤ دطیالسی نے ان کو خارجہ بن مصعب نے ان کو ابویحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا طاؤس سے وہ کہتے ہیں کہ بہترین عیادت کرنا وہ ہے جو سب سے زیادہ پوشیدہ ہو۔

خير العيادة أخفها ← طَاوُسًا ← أَبِي يَحْيَى، ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ← داود بن محمد بن يزيد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9222

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في آداب العيادة · حديث 9223

9224 - قال : و نا داود نا أبو داود عن أبي خلدة عن أبي العالية قال : دخل عليه غالب القطان يعوده فلم يلبث إلا يسرا حتى قام فقال : أبو العالية ما أرفق العرب لا تطيل الجلوس عند المريض فإن المريض قد تبدو له الحاجة فيستحي من جلسائه

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی داؤد نے ان کو ابوداؤد نے ان کو ابوخلدہ نے ان کو ابوالعالیہ نے وہ کہتے ہیں کہ غالب قطان ان کے پاس آئے ان کی مزاج پرسی کرنے کے لئے اور وہ تھوڑی ہی دیر ہی ٹھہرے پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ابوالعالیہ نے کہا۔ کس قد رشفیق ہیں عرب کہ و مریض کے پاس لمبی دیر نہیں بیٹھتے کیونکہ مریض کو اچانک کوئی حاجت پیش آ جاتی ہے مگر وہ اپنے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے شرم کرتا ہے۔

دخل عليه غالب القطان يعوده فلم يلبث إلا يسرا حتى قام ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← أَبِي خَلْدَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← دَاوُدُ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › A chapter in clinic etiquette · Hadith 9223

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood