Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9164

9165 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنا أبو محمد الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن كثير نا سفيان بن سعيد عن منصور عن أبي وائل عن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أطعموا الجائع و عودوا المريض و فكوا العاني قال سفيان : و العاني الأسير رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن كثير

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی منقری نے ان کو ابواحمد حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان بن سعید نے ان کو منصور نے ابو وائل سے اس نے ابوموسیٰ اشعری سے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ بھو کے کوکھانا کھلا ؤمریض کی عیادت کرواور قیدی کو رہا کراؤ۔سفیان کہتے ہیں کہ عانی سے مرادقیدی ہے ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن کثیر ہے ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9164

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9165

9166 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا يحيى بن محمد بن يحيى نا أبو عمر نا شعبة و أخبرنا أبو بكر محمد أحمد الحسن الأصولي أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن أشعث أخبرني معاوية بن سويد بن مقرن عن البراء بن عازب قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بسبع و نهانا عن سبع أمرنا بعيادة المريض و اتباع الجنائز و رد السلام و تشميت العاطس وإبرار القسم ونصر المظلوم و إجابة الداعي و نهانا عن حلقة الذهب أو قال : خاتم الذهب و آنية الذهب و الفضة و الميثرة والقسى و الإستبراق و الحرير و الديباج لفظ حديث أبي داود رواه البخاري في الصحيح عن أبي عمرو أخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ حمد بن یعقوب نے ان کو یحیی ٰبن محمد بن یحییٰ نے ان کو عمر نے ان کو شعبہ نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوبکر محمد بن حسن اصولی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو اشعث نے ان کو خبر دی معاویہ بن سوید بن مقرن نے ان کو براء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ نے سات چیزوں کا حکم فرمایا اور سات چیزوں سے منع فرمایا۔ ہمیں حکم دیا مریض کی عیادت کرنے کا۔ جنازے کے پیچھے جانے ۔ سلام کا جواب دینے کا۔ چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہنے کا ۔ اور قسم پوری کرنے کا ۔ مظلوم کی مددکرنے کا۔اور پکارنے والے کی بات ماننے کا اور ہمیں منع کیا تھاسونے کی انگوٹی سے اور سونے کے برتنوں اور چاندی کے برتنوں سے میثرہ اورقسی ( مصری عمدہ کپڑے )سے گف دار ریشمی کپڑے سے اور باریک ریشم سے اور موٹے ریشم سے یہ الفاظ ابوداؤد کی حدیث کے ہیں اور بخاری نے اس کو روایت کیا ابوعمرو سے ۔اور مسلم نے اس کونقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعبہ سے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← أَشْعَثَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو بكر محمد أحمد الحسن الأصولي ← شُعْبَةُ و ← أَبُو عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9165

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9166

9167 - أخبرنا أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد أنا أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع الزهراني نا إسماعيل بن جعفر نا العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : حق المسلم على المسلم ست قيل : ما هن يا رسول الله ؟ قال : إذا لقيته فسلم عليه و إذا دعاك فأجبه و إذا استنصحك فانصحه و إذا عطس فحمد الله فشمته و إذا مرض فعده و إذا مات فاتبعه رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة و غيره عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ابوسعد عبدالملک بن محمد بن ابراہیم زاہد نے ان کو ابوالحسن محمد بن حسن بن اسماعیل سراج نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابوالربیع زھرانی نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ۔ پوچھا گیا کہ وہ کیا کیا ہیں؟ یا رسول اللہ فرمایا کہ جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو ۔ اور وہ جب تمہیں بلائے تو اس کی دعوت قبول کرو جب وہ نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو ۔ اور وہ جب چھینک لے اور الحمد اللہ کہے تو اس کو یرحمک اللہ کہواور وہ جب بیمار ہو جائے تو اس کی عبادت کرو اور جب اس کا انتقال ہو جائےتو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ۔اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں قتیبہ سے اور اس کے علاوہ اسماعیل سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ← أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9166

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9167

9168 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن دوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عائد المريض في مخرقة الجنة رواه مسلم في الصحيح عن سعيد ين منصور عن حماد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوعمر ومطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحیٰی بن یحییٰ نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابو اسماء نے دوبان سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مریض کی عیادت کرنے والاجنت کے بالا خانے میں ہوگا۔ یا جنت کے میوے چننے میں مصروف ہوگا ۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے سعید بن منصور سے اس نے حماد سے۔

دوبان ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9167

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9168

9169 - أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد السوسي نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن إسحاق الصغاني نا عبد الوهاب بن عطاء نا خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي أسماء عن ثوبان : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن المسلم إذا عاد أخاه المسلم لم يزل في خرقة الجنة حتى يرجع

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ اسحاق صنعانی نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو خالد حذاء نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابواسماء نے ان کو ثوبان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے کہا: بے شک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے ہمیشہ رہتا ہے جنت کےجنت کےپھلوں میں یہاں تک کہ واپس آئے۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد اللّه إسحاق بن محمد السوسي،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9168

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9169

9170 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا علي بن الحسن الدارابجردي نا أبو جابر محمد بن عبد الملك نا شعبة عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرجي عن ثوبان : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا عاد الرجل أخاه المسلم فإنه في خراف الجنة حتى يرجع تابعهما هشيم و يزيد بن زريع عن خالد الحذاء و أخرجه مسلم من حديث عاصم الأحول عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان و المعنى في هذا و الله أعلم أنه يثاب بما يهتم به من أمر أخيه المسلم أن ينعم غدا بثمار الجنة و يعنى بالخرافة اجتثاء ثمر الجنة و المخرفة النخلة التي يجتنى منها

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو علی بن حسن دارا بجردی نے ان کو ابو جابر محمد بن عبدالملک نے ان کو شعبہ نے ان کو خالد حذاء نے ان کو ابوقلابہ نے ان کو ابواسماءر جی نے ثوبان سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایک آدمی اپنےمسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے وہ جنت کے پھلوں میں ہوتا ہے یہاں تک کہ واپس آئے۔ ان دونوں روایتوں کا متابع بیان کیا ہے ہیثم اور یزید بن زریع نے خالد حذاء سے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث عاصم احول سے اس نے ابوقلابہ سے اس نے ابوالاشعث سے اس نے ابواسماء سے اس نے ثوبان سے ۔ اس روایت کا معنی یہ ہے کہ وہ ثواب دیا جائے گا ان چیزوں کے ساتھ جن کا وہ اہتمام کرتا ہے اپنے مسلمان بھائی کے معاملے میں ۔انعام وثواب بایں صورت ہوگا کہ کل جنت کے پھلوں کے ساتھ انعام دیا جائے گا ۔ اور پھل چنے گا جنت کے پکے ہوئےپھل۔ یعنی جنت کے پھل توڑنا اور محفوفہ وکھجور جس سے کھجوریں توڑی جائیں۔

ثَوْبَانَ، ← أبي أسماء الرجي ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابْجِرْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9169

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9170

9171 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن إبراهيم بن ملحان نا ابن بكير نا ليث بن سعد عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي حسين عن مجاهد أبي الحجاج عن رجل من بني تميم قال : كنت فيمن قاتل عليا يوم الجهل فلما ذهب ذلك اليوم اشتكى حسين فأتيته عائدا فدخل علينا علي بن أبي طالب فقال : ما أدخلك علينا فقلت : جئت أعود حسينا لحقه و مكانه قال : إن الذي تظن في نفسك ليس بمانعي أن أحدثك شيئا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من عاد مريضا قعد في خراف الجنة فإذا قام من عنده وكل به سبعين ألف ملك يصلون عليه حتى الليل

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن ابراہیم بن ملحان نے ان کو ابن بکیر نے ان کولیث بن سعد نے ان کو یحیی ٰبن سعید نے ان کو محمد بن یحیی ٰبن حبان نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین نے مجاہد سے اس نے ابوالحجاج سے اس نے بنوتمیم کے ایک آدمی سے وہ کہتا ہے کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے جنگ جمل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کیا تھا جب وہ دن چلا گیا تو حضرت حسین بیمار ہوگئے میں ان کی طبع پرسی کے لئے گیا ہم لوگوں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ۔انہوں نے آتے ہی مجھے کہا کہ کون سی چیز تمہیں ہمارے پاس لے کر آئی ہے؟ یعنی کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا میں حضرت حسین کی عیادت کرنے کے لئے آیا ہوں اس کے حق اور اس کے مرتبے کی وجہ سے ۔ انہوں نے کہا جوتو اپنے دل میں گمان کرتا ہے وہ چیز مانع نہیں ہے اس سے کہ میں تجھے کوئی حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناوہ فرمارہے تھے ۔ جوشخص مریض کی عیادت کرتا ہے وہ جنت کے باغ میں بیٹھتا ہے وہ جب اس کے پاس سے اٹھتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیئے جاتے ہیں جو رات تک اس پر رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں ۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ← مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9170

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9171

9172 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن الحكم عن عبد الله بن نافع قال : عاد أبو موسى الحسن بن علي قال : فقال له : عائدا جئت أم زائرا ؟ قال : بل جئت عائدا قال : فقال علي رضي الله عنه : أما إنه ما من مسلم يعود مريضا إلا خرج معه سبعون ألف ملك يستغفرون له إن كان مصبحا حتى يمسي و كان له خريف في الجنة و إن كان ممسيا خرج معه سبعون ألف ملك كلهم يستغفرون له و كان له خريف في الجنة رواه أكثر أصحاب شعبة عنه موقوفا و رواه عبد الله بن يزيد المقري عن شعبة مرفوعا ثم وقفه بعد و رواه ابن أبي عدي عنه مرفوعا و رواه منصور عن الحكم كما رواه شعبة موقوفا

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن محمدمقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو حکم نے ان کو عبد اللہ بن نافع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسی ٰنے حضرت حسن بن علی کی عیادت کی کہتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا کہ تم عیادت کی نیت سے آئےہو یا زیارت کی نیت سے؟ انہوں نے بتایا کہ بلکہ میں عیادت کے لئے ہی آیا ہوں۔تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا بہر حال ۔خبر دار کوئی مسلمان ایسانہیں جوکسی مریض کی عیادت کرتا ہے مگر اس کے ساتھ ستر ہزارفرشتے نکلتے ہیں جو اس کے لئے استغفار کرتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں ایک باغ لگ جاتا ہے۔ اس کو روایت کیا ہے اکثر اصحاب شعبہ نے ان سے بطور موقوف روایت کے اور اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن یزید مقری نے شعبہ سے بطور مرفوع روایت کے ۔اس کے بعد اس کو موقوف کر دیا ہے ۔ اور اس کو ابن عدی نے ان سے روایت کیا ہے مرفوع روایت کے طور پر ۔ اور اس کو روایت کیا ہے منصور نے حکم سے جیسے شعبہ نے اس کو موقوف روایت کیا ہے۔

بَلْ جِئْتَ عَائِدًا، ← له عائدا جئت أم زائرا ← عَادَ أَبُو مُوسَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9171

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9172

9173 - و رواه الأعمش عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : جاء أبو موسى يعود الحسن بن علي فذكره غير أنه قال : شامتا بدل قوله : زائرا فقال علي : و إن كنت جئت عائدا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا أتى الرجل أخاه يعوده مشى في خرافة الجنة حتى يجلس فإذا جلس غمرته الرحمة فإن كان غدوة صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يمسي و إن كان ممسيا صلى عليه سبعون ألف ملك حتى يصبح أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن الأعمش فذكره وروي من غير وجه عن علي رضي الله عنه مرفوعا

اور اس کوروایت کیا ہے اعمش نے حکم سے اس نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی ٰنے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بن علی کی عیادت کر نے آئے ۔ آگے راوی نے مذکورہ حدیث روایت کی ہے ہاں فرق یہ کیا ہے کہ اس میں زائرا کی جگہ شامناذ کر کیا ہے۔ پھر کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ بیمار پرسی کے لئے آئے ہیں تو سنیئے۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرنے آتا ہے تو وہ جنت کے باغ میں چل رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ بیٹھ جائے ۔ جب وہ بیٹھ جا تا ہے تو اس کو رحمت ڈھا نک لیتی ہے اگر وہ صبح کا وقت ہوتا تو اس پر شام تک ستر ہزارفرشتے رحمت کی اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اگر شام کا وقت ہے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک استغفار کرتے ہیں ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابومعاویہ نے اعمش سے اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے یہ روایت دوسری وجہ سے حضرت علی سے بطور موقوف روایت کے مروی ہے۔

جاء أبو موسى يعود الحسن بن علي فذكره غير ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← و رواه الأعمش

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9172

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9173

9174 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي نا أبو زرعة الرازي نا عمران بن هارون الرملي نا عطاف بن خالد حدثني عبد الرحمن بن حرملة الإسماعيلي عن سعيد بن المسيب : أن أبا موسى عاد الحسن بن علي و عنده علي بن أبي طالب فقال لأبي موسى : ما جاء بك إلينا ؟ ما يدخلك علينا ؟ فقال : ما أياك أتيت و لكني أتيت ابن بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم أعوده قال : أما إنه لا يمنعني غضبي عليك أن أحدثك ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في عيادة المريض إذا خرج الرجل إلى أخيه يعوده لم يزل يخوض الرحمة حتى إذا جالس عنده غمرته

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤدعلوی نے ان کوابومحمد عبد اللہ بن محمد بن شرقی نے ان کو ابوزرعہ رازی نے ان کو عمران بن ہارون املی نے ان کو عطاف بن خالد نے ان کو عبدالرحمٰن بن حرملہ اسماعیلی نے ان کو سعید بن مسیب نے کہ ابوموسیٰ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے انہوں نے حضرت ابوموسی ٰسے کہا کہ آپ کو ہمارے پاس کون سی چیز لے آئی ؟ آپ کو ہمارے پاس کس چیز نے داخل کیا ؟ ابوموسی ٰنے کہا کہ میں صرف آپ کے پاس نہیں آیا لیکن میں آیا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بیٹے کے پاس میں ان کی طبع پرسی کے لئے آیا ہوں حضرت علی نے فرمایا کہ خبردار بے شک حال یہ ہے کہ میرا آپ کے اوپر غصہ اور ناراضگی مجھے اس بات سے مانع نہیں ہے کہ میں آپ کو دو حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے جو آپ مریض کی عیادت کے بارے میں فرماتے تھے فرمایا کہ جب کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف بیمار پرسی کے لئے آئے وہ ہمیشہ رحمت میں داخل رہتا ہے حتیٰ کہ جس وقت بیٹھ جا تا ہے مریض کے پاس وہ اس کو چھپالیتی ہے۔

عبد الرحمن بن حرملة الإسماعيلي ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّمْلِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9173

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9174

9175 - و أخبرنا أبو الحسين المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا سعيد بن سلمة المديني نا مسلم بن أبي مريم عن رجل من الأنصار عن علي بن أبي طالب : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من عاد مريضا مشى في خراف الجنة فإذا جلس عنده استنقع في الرحمة فإذا خرج من عنده و كل الله به سبعين ألف ملك يستغفرون له و يحفظونه ذلك اليوم

اور ہمیں خبر دی ہے ابواالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابی بکر نے ان کو سعید بن سلمہ مدینی نے ان کو مسلم بن ابی مریم نے انصار کے ایک آدمی سے اس نے علی بن ابی طالب سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے۔ وہ جنت کے باغ میں چلتا ہے جب وہ مریض کے پاس بیٹھتا ہے وہ رحمت میں غوطہ زن ہوتا ہے اور جب مریض سے واپس نکلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتوں کو مقرر کر دیتا ہے جو اس کے لئے استغفار کرتے ہیں اور اس دن اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← سعيد بن سلمة المديني ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسين المقري ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9174

شعب الإيمان · الثالث و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في عيادة المريض · حديث 9175

9176 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ نا أبو عبد الله البوشنجي نا أبو صالح الفراء نا أبو إسحاق الفزاري عن عبد العزيز هو ابن رفيع عن عكرمة عن ابن عباس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من عاد مريضا يلتمس وجه الله خاص في رحمة الله فإذا قعد عنده استنقع فيها استنقاعا

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عبداللہ بن احمد بن سعد حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ بوشنجی نے ان کو ابوصالح فراء نے ان کو ابو اسحاق فزاری نے ان کو عبد العزیز ابن رفیع نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص کسی مریض کی بیمار پرسی کرے اور وہ اس کے ذریعے اللہ کی رضا تلاش کرے وہ اللہ کی رحمت میں غوطہ زنی کرتا ہے جب وہ مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اس رحمت میں بھیگتا ہے اور تر بتر ہوتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُوشَنْجِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty-third of the people of faith › And it is a door in the patient’s clinic · Hadith 9175

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood