Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9156

9157 - قال أبو عبيد : و حدثني حجاج عن ابن جريج : في قوله عز و جل : { و يطعمون الطعام على حبه مسكينا و يتيما و أسيرا } قال : لم يكن الأسير على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا من المشركين قال أبو عبيد : فأرى أن الله قد أثنى على من أحسن إلى أسير المشركين فحمل أبو عبيد هذا على ابتداء الإحسان إلى كل واحد

کہا ابوعبید نے اور مجھے حدیث بیان کی ہے حجاج نے ابن جریج سے اللہ تعالی ٰکے اس فرمان کے بارے میں: ويطعمون الطعام على حبه مسكينا ويتيما و اسيراً کہ نیک لوگ وہ ہیں جو کھانے کی خواہش کے باوجود کسی مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ۔ فرمایا کہ عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں قیدی صرف مشرکین ہی ہوا کرتے تھے ۔ ابوعبداللہ کہتے ہیں کہ میں اس سے یہ سمجھا ہوں کہ اللہ تعالی ٰنے اس شخص کی بھی تعریف کی ہے جوایسے قیدی کے ساتھ نیکی کرے جو کہ مشرکین میں سے ہو ۔ لہذا ابوعبید نے اس کو محمول کیا ہے اس پر کہ ہرایک کے ساتھ نیکی کرنے میں پہل ہونی چاہئے ۔

ابن جريج في قوله عز و جل ← حجاج، ← أبو عبيد و

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9156

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9157

9158 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو علي الحسن بن العباس البغدادي بمكة نا إسحاق الحربي نا إسحاق بن أبي إسرائيل نا عبد الرزاق عن أبيه عن بكار بن وهب قال : سمعت وهب بن منبه يقول : تركك المكافأة تطفيف قال الله عز و جل : { ويل للمطففين }

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوعلی حسن بن عباس بغدادی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحاق حربی نے ان کو اسحاق بن اسرائیل نے انکوعبدالرزاق نے ان کو ان کے والد نے ان کو بکار بن مصعب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامصعب بن حیلہ سے وہ کہتے تھے تیرا ترک مکافات کر نا تطفیف ہے اور اللہ تعالی ٰکا فرمان ہے ويل للمطففین یعنی نیکی کا بدلہ نہ دینا ناپ تول میں کمی کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے ۔

الله عز و جل ويل للمطففين ← تركك المكافأة تطفيف ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← بكار بن وهب ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ← إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ← أبو علي الحسن بن العباس البغدادي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9157

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9158

9159 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدني محمد بن الحسن البصري ـ لمنصور الفقيه رحمه الله : - ( ثمن المعروف شكر و يد المنعم ذخر ) ( و بقاء الذكر في الأحيا ء للأموات عمر ) ( و بحسب المرء جزاء أن يقول الناس حر ) و أما مكافأة المسيء بإساءته مما يجوز في الشرع فعليها جبلة أكثر الخلق و الذي استحبه ذوو الأحلام و النهي من مكارم الأخلاق التجاوز و العفو و قد مضى ذلك في باب حسن الخلق

ہمیں شعر سنائے ابوعبدالرحمٰن نے ان کو محمد بن حسن بصری نے جو کہ منصور فقیہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں جس کا مفہوم یہ ہے ۔ نیکی کرنے والے کی نیکی کی قسمت شکر کرنا ہے اور محسن کا احسان آخرت کا ذخیرہ ہے اور زندہ رہ جانے والوں میں ذکر خیر کا باقی رہنا مر جانے والوں کے لئے زندگی کے مترادف ہے اور آدمی کو کافی ہے جزاء کے طور پر یہ بات کہ لوگ یہ کہیں کہ شریف اور آزاد ہے۔ بہر حال برائی کرنے والے کا بدلہ دینا برائی کے ساتھ ۔ اس قبیل سے ہے جو شریعت میں جائز ہے ۔ جس پر اکثر مخلوق پیدا کی گئی اور بارے میں جس چیز کو صاحب عقل خرد پسند کرتے ہیں عمد واخلاق کے حوالے سے دو ہے درگذر کرنا اور معاف کرنا اور یہ بات گذر چکی ہے حسن خلق کے باب میں۔

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9158

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9159

9160 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ حدثني عبد المؤمن بن أحمد بن مؤثرة قال : نا أبو حاتم الرازي نا صفوان بن صالح نا حمزة عن ابن شوذب قال : كنا عند مكحول ومعنا سليمان بن موسى فجاء رجل و استطال على سليمان و سليمان ساكت فجاء أخ سليمان فرد عليه فقال مكحول : لقد ذل من لا سفيه له

اور ہمیں خبر دی ہے ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو عبد المؤمن بن احمد بن مؤثرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر وی ابو حاتم رازی نے ان کو صفوان بن صالح نے ان کو حمز ہ بن شوزب نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مکحول کے پاس تھے اور ہمارے ساتھ سلیمان بن موسل تھے ۔ ایک آدمی آیا اور سلیمان کو اس نے سخت کہا جبکہ سلیمان خاموش رہے ۔اتنے میں سلیمان کا بھائی آیا۔ اس نے اس کو جواب دیا تو مکحول نے کہا البتہ تحقیق ذلیل ہوتا ہے وہ جس کوعقل نہ ہو ۔

ابْنِ شَوْذَبٍ ← حَمْزَةَ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عبد المؤمن بن أحمد بن مؤثرة ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9159

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9160

9161 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري نا الحسين بن محمد بن زياد القباني حدثني أبو بكر محمد بن الحسين أنه سمع صالح بن جناح يقول : إعلم أن من الناس من يجهل إذا حلمت عنه و يحلم إذا جهلت عليه و يحسن إذا أسأت به و يسيء إذا أحسنت إليه و ينصفك إذا ظلمته و يظلمك إذا أنصفته فمن كان هذا خلقه فلا بد من خلق ينصفه من خلقه ثم نجه بنصف من تحته وجهالة تقدح من جهالته وإلا أذلك لأن بعض الحلم إذعان و قد ذل من ليس له سفيه يعضده و ضل من ليس له حليم يرشده و في الجهالة و نفعها الإحسان يقول : ( لئن كنت محتاجا إلى الجهل إنني إلى الجهل في بعض الأحايين أحوج ) ( و لي فرس للحلم بالحلم ملجم و لي فرس للجهل بالجهل مسرج ) ( فمن شاء تقويمي فإنني مقوم و من شاء تعويجي فإني معوج ) ( و ما كنت أرضى الجهل خدنا و لا أخا ولكنني أرضى به حين أحوج ) ( فإن قال بعض الناس فيه سماجة فقد صدقوا والذل بالحر أسمج )

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوز کر یا یحییٰ بن محمد عنبری نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد قبانی نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین نے کہا اس نے سنا صالح بن جناح سے وہ کہتے ہیں یقین جانئے کہ بعض لوگ وہ ہیں جو جہالت پر اتر آتے ہیں ، جب آپ ان کے ساتھ حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وہ حوصلہ کرتے ہیں آپ ان پر جہالت کر یں اور اچھے ہو جاتے ہیں جب ایک ساتھ آپ برائی سے پیش آئیں اور وہ برے ہو جاتے ہیں جب آپ ان کے ساتھ نیکی کریں اور وہ آپ کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جب آپ ان کے ساتھ ظلم کریں اور وہ آپ کے ساتھ ظلم کرتے ہیں جب آپ ان کے ساتھ انصاف کریں جس شخص کی یہی فطرت ہو ، پھر ضروری ہے ایسی عادت جو اس کی فطرت سے انصاف کروائے پھر اس کو نجات دے نصف کی ساتھ اس کے تحت ہے ۔ اور جہالت کا توڑ جہالت سے ہوورنہ وہ آپ کو ذلیل کر دے گا اس لئے کہ بعض حوصلہ دوسرے کو جری کر دیتا ہے اور تحقیق ذلیل ہو جا تا ہے جس کے ساتھ کوئی ایسا کم عقل نہ ہو جو اس کی سوٹ کرے اور گمراہ ہو جاتا ہے وہ شخص جس کے ساتھ کوئی بردبار نہ ہو جو اس کی رہنمائی کرے اور جہالت میں اس کے نفع کے بارے میں حسان کہتے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ میں جہالت کا بھی حاجتمند ہوں بس اوقات میں مجھے جہالت کی زیادہ حاجت ہوتی ہے ۔میرا ایک گھوڑا جو کہ حلم کا ہے اور وہ حلم کی لگام چڑھایا ہوا ہے اور میرا ایک گھوڑا جہالت کا ہے جہالت کے ساتھ زین کسا ہوار ہتا ہے ۔ جوشخص میر اسیدھا پن پسند کرے بے شک میں سیدھا ہوں اور جو شخص میرا ٹیڑھا پن پسند کرتا ہے پس بے شک میں ٹیڑھا بھی ہوں ۔ میں جہالت کو پسند نہیں کرتا بطور دوست کے یا بھائی کے بلکہ میں اس کو پسند کرتا ہوں جب مجھے اس کی شدید حاجت پیش آ جائے۔اگر بعض اس میں سماجت اورغیب ہے کہیں تو وہ سچ کہتے ہیں اور ذلت و شرافت کے ساتھ سب سے زیادہ اور بڑا عیب ہے ۔

صالح بن جناح ← أبو بكر محمد بن الحسين أنه ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9160

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9161

9162 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدني علي بن أحمد بن محمد ـ لأبي فراس بن حمدان : ـ ( في الناس إن فنشتم من لا يعزك أو تذله ) ( فاترك مجاملة اللئيم فإن فيها العجز كله ) ـ

ہمیں شعر سنائے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سناے علی بن محمد نے جو کہ ابوفراس بن حمدان کے ہیں۔جن کا مفہوم ہے، لوگوں میں اگر تم تقسیم کروتو وہ ہے جو تجھے عزت دیتا ہے یا تو اس کو ذلت سے ہمکنار کرتا ہے۔ پس چھوڑ دیجئے معاملہ رذیل کا بے شک اس میں تو کل کی کل نا کامی ہے۔

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9161

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9162

9163 - أخبرنا أبو حازم الحافظ أنا أبو عمرو بن مطر أنا محمد بن المنذر الهروي أنا الحسن بن محمد الأزدي نا عمر بن حفص بن غياث عن أبيه عن جعفر بن محمد الصادق قال : من لم يغضب عند التقصير لم يكن له مشكر عند المعروف

ہمیں خبر دی ابو حازم حافظ نے ان کو ابوعمر و بن مطر نے ان کو محمد بن منذ رہروی نے ان کو حسن بن محمد از دی نے ان کو عمر بن حفص بن غیاث نے ان کو ان کے والد نے ان کو جعفر بن محمد صادق نے وہ کہتے ہیں کہ جن کو دوسرے کی کوتاہی پر غصہ نہیں آ تا نیکی کر تے وقت اس کا شکر یہ بھی ادا نہیں کیا جا تا۔

من لم يغضب عند التقصير لم يكن له مشكر عند المعروف ← جعفر بن محمد الصادق ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← الحسن بن محمد الأزدي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9162

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9163

9164 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : سمعت الزبير بن عبد الواحد يقول : سمعت محمد بن فهر بمصر يقول : سمعت الربيع يقول : سمعت الشافعي رحمه الله يقول : من استغضب فلم يغضب فهو حمار و من استرضى فلم يرضى فهو شيطان

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا زہیر بن عبد الواحد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن فہر سے مصر میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناربیع سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے وہ کہتے ہیں جس کو اشتعال دلایا جائے اور وہ مشتعل ہووہ گدھا ہےاورجس کو راضی کیا جائے اور وہ راضی نہ ہووہ شیطان ہے۔

الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← مُحَمَّدَ بْنَ فِهْرٍ، بِمِصْرَ، ← الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9163

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood