Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9132

9133 - و قد روي بإسناد غير قوي عن الأعمش عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله عن عمر بن الخطاب : في هذه القصة و هو في معجم الإسماعيلي و لا أراه محفوظا فلم أنقله

تحقیق روایت کی گئی ہے غیر قوی اسناد کے ساتھ اعمش سے اس نے ابوالز بیر سے اس نے جابر بن عبداللہ سے اس نے عمر بن خطاب سے اس قصے میں اور وہ معجم اسماعیلی میں ہے ۔ میں اس کو محفوظ نہیں سمجھتا اور میں نے اس کو نقل بھی نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْاَعْمَشِ ← و قد روي بإسناد غير قوي

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9132

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9133

9134 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس هو الأصم قال : نا العباس هو الدوري نا شاذان نا إسرائيل عن عمارة بن زاذان عن ثابت عن أنس قال : جاء سائل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأمر له بتمرة فوحش بها و أتاه آخر فأمر له بتمرة فقال : سبحان الله تمرة من رسول الله قال : فقال للجارية إذهبي إلى أم سلمة فمريها فلتعطه الأربعين درهما التي عندها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسی ٰنے ان کو ابوالعباس اصم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عباس دوری نے ان کوشاذان نے ان کو اسرائیل نے ان کو عمارہ بن زاذان نے ان کو ثابت نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ کوئی سائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے خشک کھجوریں دینے کو کہا۔ وہ اس سے نا خوش ہوا اور دوسرا سائل آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بھی سوکھی کھجوروں کا حکم دیا۔ اس نے کہا سبحان اللہ ! کھجوریں وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ۔ ( یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے ) کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑ کی سے کہا تم جاؤ ام سلمہ کے پاس اس کو کہو کہ وہ اس کو چالیس درہم دے دے جو اس کے پاس رکھے ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← اِسْرَائِیْلُ ← شَاذَانُ ← الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9133

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9134

9135 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا العباس الدوري نا عبد العزيز بن السري عن صالح المري عن الحسن عن أنس بن مالك : أن سائلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فأعطاه تمرة فقال الرجل : سبحان الله نبي من الأنبياء يتصدق بتمرة فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : أو ما علمت أن فيها مثاقيل ذر كثير فأتاه ـ أحسبه ـ قال آخر فسأله فأعطاه تمرة فقال : تمرة من نبي من الأنبياء لا تفارقني هذه التمرة ما بقيت و لا أزال أرجو بركتها أبدا قال : فأمر النبي صلى الله عليه و سلم له بمعروف و ما لبث الرجل أن استغنى

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو عبد العزیز بن سری نے ان کو صالح مری نے ان کو حسن نے حضرت انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ ایک سائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھجوریں دیں اس آدمی نے کہا سبحان اللہ اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی کھجوروں کا صدقہ کر رہا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کیا تو جانتا نہیں ہے کہ اس میں بہت بڑا ثواب ہے ۔ چنانچہ اس کو دے دیا۔ دوسرے نے کہا اس نے سوال کیا اس کو انہوں نے کچھ کھجوریں دیں۔ اس نے کہا کھجوریں ہیں انبیاء میں سے ایک نبی کی طرف سے یہ کھجوریں مجھ سے جدا نہیں ہوں گی میں جب تک باقی رہوں گا میں ہمیشہ ان کی برکت کی امید رکھوں گا۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے نیک سلوک کا حکم فرمایا۔ کچھ عرصہ گذرا تھا کہ وو شخص غنی ہو گیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← صالح المري ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ السَّرِيِّ ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9134

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9135

9136 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا جعفر بن أحمد بن محمد بن الصباح قال : حدثني محمد بن الصباح أنا عاصم بن سويد بن جارية الأنصاري بقباء قال : نا يحيى بن سعيد عن أنس قال : أتى أسيد بن الحضير النقيب الأشهلي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يكلمه في أهل بيت من بني ظفر عمامتهم نساء فقسم لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم من شيء قسمه بين الناس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تركتنا يا أسيد حتى ذهب ما في أيدينا فإذا سمعت بطعام قد أتاني فأتني فاذكر لي أهل ذلك البيت أو اذكر لي ذاك فمكث ما شاء الله ثم أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم طعام من خيبر و شعير و تمر فقسم النبي صلى الله عليه و سلم في الناس ثم قسم في الأنصار فأجزل قال : ثم قسم في أهل ذلك البيت فأجزل فقال له أسيد شاكرا له : جزاك الله ـ أي رسول الله ـ أطيب الجزاء أو أخير ـ شك عاصم ـ قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وأنتم معشر الأنصار فجزاكم الله خيرا أجزأ وأطيب الجزاء فكلكم ما علمت أعفة صبر و سترون بعدي أثرة في القسم و الأمر فاصبروا حتى تلقوني على الحوض

.ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو جعفر بن احمد بن محمد بن صباح نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو عاصم بن سوید بن جار ی انصاری سے قبامیں وہ کہتے ہیں کہ کو خبر دی یحییٰ بن سعید نے حضرت انس سے وہ کہتے ہیں کہ اسید بن حضیر نقیب اشہلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ بنوظفر کے اہل بیت کے بارے میں بات کرنا چاہتے تھے جن میں زیادہ تر عورتیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے کوئی چیز تقسیم کی تھی جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تقسیم کر رہے تھے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اے اسید آپ نے ہمیں چھوڑ دیا تھا یعنی دیر کر دی یہاں تک کہ جو کچھ ہمارے ہاتھوں میں تھاوہ چلا گیا۔ جب تم سنو کہ ہمارے پاس غلہ یا کھانے کا سامان آ یا ہوا ہے تو اس وقت تم میرے پاس آ جاؤ اور میرے سامنے اس گھر والوں کا تذکرہ کرنا۔ پھر وہ ر کے رہے اس کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر سے غلہ اور جوار اورکھجوریں وغیرہ کھانے کا سامان آ گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار میں تقسیم کیا۔ پھر انصار میں بڑا حصہ تقسیم کیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مذکور ہ اہل گھرانہ پر بھی تقسیم کیا اور بڑا حصہ عطا کیا۔لہذا حضرت اسید نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شکر ادا کر تے ہوئےکہا جزاک اللہ یارسول اللہ ۔ اللہ آپ کو جزا دے پاکیزہ ترین جزاء یا کہا تھا کہ بہترین جز ایا عاصم کو شک ہے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تم لوگوں کو بھی اے انصار کی جماعت اللہ تعالی ٰجز اخیر دے یا کہا تھا کہ پاکیزہ ترین جزا دے۔ میں نے دیکھ لیا ہے کہ تم میں سے ہر ایک صابر ہے اور عفیف ہے ۔ تم لوگ عنقریب میرے بعد تقسیم میں اور ہر معاملے میں ترجیحی سلوک دیکھو گے ۔لہذاتم لوگ اس کیفیت پر صبر کر ناحتیٰ کہ تم لوگ مجھے حوض کوثر پر پالو ۔

أَنَسٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عاصم بن سويد بن جارية الأنصاري بقباء ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9135

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9136

9137 - أخبرنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن محمد بن سعيد بن مسعود السكري في آخرين قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن يونس الضبي البغدادي بأصبهان نا أبو الجواب الأحوص بن جواب نا سعير بن الخمس عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صنع إليه معروف فقال لصاحبه : جزاك الله خيرا فقد أبلغ في الثناء

ہمیں خبر دی ابو بکر عبداللہ بن محمد بن محمد بن سعید بن مسعودسکری نے آحرین میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن یونس ضبی بغدادی نے اصفہان میں ان کو ابوالجواب احوص بن جواب نے ان کو سعید بن خمس نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابوعثمان ہندی نے ان کو اسامہ بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے اور وہ بھلائی کرنے والے سے کہے جزاک اللہ خیرا۔ اس نے اس کی بڑی تعریف کر لی ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، ← أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← أحمد بن يونس الضبي البغدادي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9136

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9137

9138 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو إسحاق المزكي حدثني أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدوي نا محمد بن الحسن اللخمي نا مؤمل بن عبد الرحمن الثقفي نا سهل مولى المغيرة ح أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري الأسفرايني بها قال : نا الحسن بن محمد بن إسحاق الأسفرايني أخبرني الحسن بن سفيان نا ابن أبي السرى نا المؤمل بن عبد الرحمن نا سهل مولى المغيرة عن حسين بن رستم عن عروة عن عائشة قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ردي على البيتين الذين قالهما اليهودي قالت : قلت : قال فلان اليهودي : ( ارفع ضعيفك لا يحربك ضعفه يوما فتدركك العواقب قد نمى ) ( يجزيك أو يثني عليك و إن من أثنى عليك بما فعلت كمن جزى ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قاتلة الله ما أحسن ما قال و لقد أتاني جبريل عليه السلام برسالة من الله عز جل فقال : يا محمد من فعل به خيرا أو معروفا فإن لم يجد إلا الثناء فليثن فإن من أثنى كمن كافأ و في رواية أبي عبد الله من صنع إليه معروفا فلم يجد إلا الدعاء و الثناء فقد كافأ

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابواسحاق مزکی نے ان کو ابوعبدالرحمٰن ثقفی نے ان کو سہل مولیٰ مغیرہ نے اور ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی مقری اسفرائنی نے ان کو خبر دی حسن بن محمد بن اسحاق اسفرائنی نے ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو ابن ریوسدی نے ان کو مؤمن عبدالرحمٰن نے ان کو سہل مولیٰ مغیرہ نے ان کو حسین بن رستم نے ان کو عروہ نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ آپ ان دو شعروں پر غور کیجئے جو ایک یہودی نے کہے ہیں ۔فرماتی ہیں کہ میں نے کہا کہ یہ فلاں یہودی نے کہے تھے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے کمزور انسان کو عزت دے کر بلند کیجیئے۔ بے شک اس کا ضعف اس دن تیری حفاظت کرے گا جس دن مجھے مصیبتیں گھیر لیں گی۔ بے شک وہ تیری عزت افزائی کرے گا یا تو تیرا بدلہ اتار دے یا تیری تعریف کرے گا اور بے شک جوشخص تیری تعریف کرے تیرے کسی احسان پر وہ اس طرح ہوتا ہے جیسے اس نے احسان کا بدلہ دے دیا ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کواللہ مارے کتنی اچھی بات کہی ہے اس نے ۔ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام اللہ کا پیغام لے کر پہنچے ہیں کہ اللہ تعالی ٰنے فرمایا ہے اے محمد جس شخص سے کوئی خیر یا کوئی معروف کا کام کیا جائے اگر وہ اس کا اور کوئی بدلہ نہ دے سکے تو سوائے تعریف کے تو وہی کر لے کیونکہ جو تعریف کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جسے اس نے بدلہ دے دیا اور روایت میں ہے کہ جس کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے اور وہ کچھ نہ دے سکے سوائے دعا کے اور تعریف کے تو اس نے گویا اس کا بدلہ دے دیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← حُسَيْنِ بْنِ رُسْتُمَ، ← سهل مولى المغيرة، ← المؤمل بن عبد الرحمن، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفرايني ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الإِسْفَرَايِنِيُّ بِهَا ← سهل مولى المغيرة، ← مُؤَمَّلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ اللَّخْمِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدَوِيُّ، ← أَبُو إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9137

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9138

9139 - و أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ نا إبراهيم بن إسحاق الغسيلي نا منصور بن حاتم الخراساني قال : كنت عند ابن عائشة فقال : يا خراساني تحفظ عن الواقدي في الشكر فأنشدته : ( إرفع ضعيفك لا يحر بك ضعفه يوما فتدركه العواقب قد نمى ) ( يجزيك أو يثني عليك و إن من أثنى عليك بما فعلت كمن جزى ) قالت : فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أخبرني جبريل عليه السلام أنه إذا كان يوم القيامة جمع الله الأولين و الآخرين يقول الله لعبده : عبدي هل شكرت فلانا على ما كان منه إليك فيقول : لا يا رب شكرتك لأن النعمة كانت منك قال : فيقول الله : ما شكرتني إذ لم تشكر من أديت لك النعمة على يديه قال منصور فقال لي ابن عائشة : أكتب هذين البيتين تحت الحديث : ( يد المعروف غنم حيث كانت يحملها كفور أو شكور ) ( فما شكر الشكور لها جزاء و عند الله ما كفر الكفور ) هذا الحديث بالإسناد الأول أليق و كلاهما ضعيف و الله أعلم و قد يروى هذان البيتان عن ابن المبارك أنه أنشدهما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفرمحمد بن صالح بن ہانی نے ان کو ابراہیم بن الحق غسیلی نے ان کو منصور بن حاتم خراسانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عائشہ کے پاس بیٹھا تھا اس نے کہا اے خراسانی یاد کیجئے واقدی سے شکر کے بارے میں ۔ میں نے اس کو شعر میں کہا۔اپنے کمزور انسان کو اونچا کیجئے ایک اس کا ضعف تیری حفاظت کرے گا جس کو مصیبتوں نے گھیر لیا ہے وہ ایک نہ ا یک دن تجھے اس کا بدلہ دے دے گایا تیری تعریف کرے گا ۔ بے شک وہ شخص جو تیرے فعل کو تیری تعریف کرے وہ اس کی طرح ہے جو بدلہ دے دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا مجھے جبرئیل نے خبر دی ہے کہ جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ تمام پہلوؤں کو پچھلوں کو جمع کرے گا اور اپنے بندے سے کہے گا اے میرے بندے کیا تم نے فلاں شخص کا شکر یہ ادا کیا تھا اس نیکی کے بدلے میں جو اس نے تیرے ساتھ کی تھی؟ وہ کہے گا کہ نہیں اے میرے رب میں نے تیرا شکر کیا تھا۔ اس لئے کہ وہ نعمت تیری طرف سے تھی ۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے بندے تم نے میراشکر بھی ادا نہیں کیا جب تم نے اس کا شکر ادا نہیں کیا جس کے ہاتھ سے میں نے تجھے نعمت عطا کی تھی ۔ منصور نے کہا لہذا ا بن عائشہ نے مجھ سے کہا کہ یہ دو شعر لکھ لیجئے حدیث کے تحت ۔ بھلائی کا ہاتھ غنیمت ہے جہاں کہیں بھی ہو حامل اس کا ناشکرا ہو باشکر گذار ۔ شکر کر نے والے کا شکر کرنا بھی اس کی جزا اور بدلہ ہے اور ناشکری کرنے والے کی ناشکری کی سزابھی اللہ کے پاس ہے۔یہ حدیث اسناد اول کے ساتھ زیادہ لائق ہے ۔ اور دونوں ضعیف ہیں ۔ واللہ اعلم اور کبھی یہ دونوں شعر حضرت ابن مبارک سے روایت کئے جاتے ہیں کہ انہوں نے ان اشعار کو کہا تھا۔

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9138

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9139

9140 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو عمرو بن مطر أنا محمد بن محمد الواسطي سمعت عبد الأعلى بن حماد يقول : قال رجل من الحكماء : ( لأشكرنك معروفا هممت به إن اهتمامك بالمعروف معروف ) ( و لا أذمك إن لم يمضه قدر فالشيء بالقدر المحتوف مصروف ) و قال غيره فالرزق بالقدر المصروف مصروف

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو محمد بن واسطی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالاعلیٰ بن حماد سے وہ کہتے ہیں کہ حکماء میں سے ایک آدمی نے کہا تھا ۔ البتہ میں ضرور تیرا شکر یہ ادا کروں گا اس نیکی کا جس کا تم نے ارادہ کیا ہے۔ بے شک نیکی کے لئے تیرا قصد وارادہ کرنا خود نیکی ہے ۔ اگر وہ نیکی جاری نہ ر ہے تو بھی میں تیری برائی نہیں کروں گا ۔ کیونکہ شے مصروف بقد رمقدور ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر نے کہا ہے کہ رزق بقدر مصروف کے مصروف ہوتا ہے۔

عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9139

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9140

9141 - أخبرناه عبد الخالق بن علي أنا أحمد بن يحيى السني نا كامل بن مكرم السمرقندي أنشدني ابن أبي خيثمة أنشدني عبد الأعلى بن حماد : فذكره

ہمیں خبر دی اس کی عبدالخالق بن علی نے ان کو احمد بن یحییٰ سنی نے ان کو کامل بن مکرم سمرقندی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے ابن ابی خثیمہ نے ان کو شعر سنائے عبدالاعلیٰ بن حماد نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے۔

أحمد بن يحيى السني ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9140

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9141

9142 - و قيل فيه من وجه آخر : ـ ( و لا ألومك إن لم يمضه قدر فالرزق بالقدر المصروف مصروف ) أخبرناه أبو عبد الرحمن السلمي أنا الحسين بن علي التميمي نا محمد بن سليمان بن فارس قال : سمعت عبد الله بن بشر يقول : أنشدني أبو حفص عمر بن نصر النهرواني في المعروف فذكر البيتين

اور اس میں ایک اور دوسری وجہ بھی کہی گئی ہے جس کا مفہوم اس طرح ہے۔ اور میں تجھ کو ملامت نہیں کروں گا اور اس کی مقدار جاری نہ رہ سکے۔ بس ارزق قد رمصروف کے ساتھ مصروف ہوتا ہے ۔ ہمیں اس کی خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حسین بن علی تمیمی نے ان کومحمد بن سلیمان فارس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن بشر سے وہ کہتے ہیں مجھے شعر سنائے ابوحفص عمر بن نصر نہروانی نے معروف کے بارے میں۔لہذا انہوں نے مذکورہ دو شعر ذکر کئے۔

الْبَيْتَيْنِ ← أنشدني أبو حفص عمر بن نصر النهرواني في المعروف ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9141

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9142

9143 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا الغلابي نا عبيد الله بن محمد نا أصحابنا قال : كان يقال : من لم يشكر صاحبه على حسن النية فيه لم يشكره على حسن الصنيعة إليه

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسین بن محمد بن اسحاق نے ان کو غلابی نے ان کو عبیداللہ بن محمد نے ان کو ہمارے اصحاب نے وہ کہتے ہیں کہا جا تا تھا جو شخص اپنے دوست کا شکر یہ ادا نہیں کر تا حسن نیت پر اس میں وہ اس کے حسن فعل پر بھی اس کا شکر یہ ادانہیں کرے گا جو وہ اس کے ساتھ کرے۔

أَصْحَابُنَا، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الغلابي، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9142

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9143

9144 - و رواه ابن أبي الدنيا عن محمد بن الحسين عن عبد الله بن محمد التيمي قال : كان يقال

اور روایت کیا ہے اس کو ابن ابی الدنیا نے محمد بن حسین سے اس نے عبداللہ بن محمد تیمی نے وہ کہتے ہیں کہا جا تا تھا۔

كان يقال ← عبد الله بن محمد التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← و رواه ابن أبي الدنيا

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9143

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood