Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9120

9121 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا سعيد بن عثمان التنوخي نا محمد بن ثمال الصنعاني قال : نا عبد المؤمن بن يحيى بن أبي كثير عن أبيه عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة قالت : كانت عجوز تأتي النبي صلى الله عليه و سلم فيبش بها و يكرمها فقلت بأبي أنت و أمي إنك لتصنع بهذه العجوز شيئا لا تصنعه بأحد قال : إنها كانت تأتينا عند خديجة أما علمت أن كرم الود من الإيمان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو سعید بن عثمان تنوخی نے ان کو محمد بن ثمال صنعانی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی عبدالمؤمن بن یحییٰ بن ابی کثیر نے اپنے والد سے اس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ ایک بڑھیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہو تے تھے اور اس کا اکرام کرتے تھے ۔ میں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر قربان آپ اس بڑھیا کے ساتھ خاص سلوک کرتے میں جو دوسروں کے ساتھ نہیں کرتے؟ فرمایا کہ یہ میری اہلیہ خدیجہ کے پاس آیا کرتی تھیں گویا کہ اس کی سہیلی ہے ۔ کیا تو نہیں جانتا کہ دوستی کا اکرام کر نا ایمان میں سے ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ← محمد بن ثمال الصنعاني ← سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9120

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9121

9122 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن يونس نا أبو عاصم نا صالح بن رستم عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت : جاءت عجوز إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لها من أنت ؟ قالت : جثامة المزنية قال : بل أنت حنانة المزنية كيف أنتم كيف حالكم ؟ كيف كنتم بعدنا ؟ قالت : بخير بأبي أنت و أمي يا رسول الله قالت : فلما خرجت قلت يا رسول الله تقبل على هذه العجوز هذا الإقبال فقال : يا عائشة إنها كانت تأتينا زمان خديجة و إن حسن العهد من الإيمان كذا وجدته و قال : غيره في الحديث جثامة المزنية قال : بل أنت حسان المزنية أخرجته في كتاب الإيمان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو ابو عاصم نے ان کو صالح بن رستم نے ان کو ابوملیکہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑھیا آئی ، آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے بتایا کہ میں جثامہ لمزنیہ ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم حنانہ المزنیہ ہو ۔ ہاں تم کیسی ہو؟ اور تم لوگوں کے حالات کیسے ہیں؟ اور ہمارے بعد آپ لوگ کیسے رہ ر ہے ہو؟ اس نے بتایا کہ ہم سب بخیریت ہیں میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان جائیں یا رسول اللہ ۔ کہتی ہیں کہ جب وہ نکل کر چلی گئی تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس بڑھیا کا اتنا اچھا استقبال کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عائشہ یہ پرانی جاننے والی ہے ۔ یہ ہم لوگوں کے پاس خدیجہ کے زمانے سے آتی تھی۔ بے شک حسن سلوک ایمان میں سے ہے۔ میں نے اس روایت کو ایسے ہی پایا ہے اور اس کے علاوہ دیگر نے کہا ہے حدیث میں جثامہ امز نیہ ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا بلکہ تم حنانہ المزنیہ ہو۔ میں نے اس روایت کو کتاب الایمان میں ہی نقل کیا ہے ۔

بخير بأبي أنت و أمي ← بَلْ أَنْتِ حَنَّانَةُ الْمُزَنِيَّةُ، كَيْفَ أَنْتُمْ؟ كَيْفَ حَالِكُمْ؟ كَيْفَ كُنْتُمْ بَعْدَنَا؟ ← جَثَّامَةُ الْمُزَنِيَّةُ ← لها من أنت ← جاءت عجوز إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 9121

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9122

9123 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي الرفا الهروي أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن الفضل العطار المروزي نا سلم بن جنادة نا حفص بن غياث عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : كانت تأتي النبي صلى الله عليه و سلم امرأة فيكرمها فقلت : يا رسول الله من هذه ؟ قال : هذه كانت تأتينا زمان خديجة و إن حسن العهد من الإيمان كذا وجدته وهو بهذا الإسناد غريب

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعلی رفا ہروی نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق ابن فضل عطار مروزی نے ان کو سلم بن جنادہ نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آیا کرتی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عزت کرتے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ کون ہے؟ فرمایا کہ یہ ہم لوگوں کے پاس خدیجہ کے زمانے سے آیا کرتی ہے ۔ بے شک حسن عہد ایمان میں سے ہے ۔ میں نے اس روایت کو ایسی ہی پایا ہے اور یہ اسی اسناد کے ساتھ حدیث غریب ہے ۔

كانت تأتي النبي صلى الله عليه و سلم امرأة فيكرمها فقلت ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أبو بكر أحمد بن إسحاق بن الفضل العطار المروزي ← أبو علي الرفا الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 9122

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9123

9124 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا يحيى بن الربيع المكي نا سفيان عن الزهري عن محمد بن جبير عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لو كان مطعم حيا ثم كلمني في هؤلاء لأطلقتهم له يعني أسارى بدر قال : سفيان و كانت له عند النبي صلى الله عليه و سلم يد وكان أجزأ الناس باليد

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوحامد بن بلال نے ان کو یحیی ٰ بن ربیع فکی نے ان کو سفیان نے ان کو زہری نے ان کو محمد بن جبیرنے انکوان کے والد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر مطعم زندہ ہوتے اور وہ مجھ سے ان قیدیوں کے بارے میں بات کرتے تو میں ان کو چھوڑ دیتا اسی کی وجہ سے ۔ یعنی بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا۔ سفیان نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اس کا ایک احسان تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تو عادت تھی کہ آپ لوگوں کو ان کے احسانات کا بدلہ دیا کر تے تھے ۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 9123

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9124

9125 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا إسحاق بن محمد السوسي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو عمرو هلال بن العلاء بن هلال الرقي بالرقة أخبرني أبي نا طلحة بن زيد عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي قتادة قال : قدم وفد النجاشي على النبي صلى الله عليه و سلم فقام : يخدمهم فقال أصحابه نحن نكفيك يا رسول الله قال : إنهم كانوا لأصحاب مكرمين فإني أحب أن أكافئهم تفرد به طلحة بن زيد عن الأوزاعي

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ اسحاق بن محمد سوسی نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابوعمر و ہلال بن علا ءبن ہلال رقہ نے رقب میں ان کو خبر دی ہے ابوطلحہ بن زید نے اوزاعی سے اس نےیحیی ٰابن کثیر سے اس نے ابوسلمہ سے اس نے ابوقتادہ سے وہ کہتے ہیں کہ نجاشی کاوفد آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خدمت کرنے کے لئے خود کھڑے ہو گئے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم کافی ہیں آپ کی طرف سے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ معزز لوگ ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں خودبھی ان کو بدلہ دوں اور ان کا اکرام کروں ۔ طلحہ بن زید اوزاعی اس کے ساتھ منفرد ہیں ۔

أصحابه: نحن نكفيك ← قدم وفد النجاشي على النبي صلى الله عليه و سلم فقام يخدمهم ← أَبِي قَتَادَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي ← أبو عمرو هلال بن العلاء بن هلال الرقي بالرقة ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← إسحاق بن محمد السوسي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9124

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9125

9126 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا يحيى بن بكير عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن عبد الله بن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث الخسوف قال : و رأيت النار فلم أر كاليوم منظرا قط و رأيت أكثر أهلها النساء قالوا : لم يا رسول الله قال : بكفرهن قالوا : يكفرن بالله ؟ قال : يكفرن العشير و يكفرهن الإحسان لو أحسنت إلى إحداهن الدهر ثم رأت منك شيئا قالت : ما رأيت منك خيرا قط أخرجاه في الصحيح من حديث مالك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کوزید بن اسلم نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو عبداللہ بن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث حسوف میں ۔فرمایا کہ میں نے آگ دیکھی میں نے آج کے دن جیسا منظر بھی نہیں دیکھا اور زیادہ تر اس منظر والوں میں، میں نے عورتوں کو دیکھا ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کیا وجہ تھی؟ فرمایا کہ ان کی ناشکری کی وجہ سے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں ۔اگر ایک زمانہ بھران کے ساتھ نیکی کرتے رہیں اس کے بعد اگر وہ تم سے ایک بار بھی کوئی نا گوار چیز دیکھ لے تو یوں کہہ دیتی ہے کہ میں نے تو تم میں کبھی کوئی اچھائی دیکھی ہی نہیں ۔ اس کو بخاری ومسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے حدیث مالک سے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9125

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9126

9127 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عبد الأعلى ابن حماد نا داود العطار نا ابن خيثم عن شهر عن أسماء بنت يزيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج و النساء في جانب المسجد و أنا فيهن فسمع صوتا أو ضوضاء فقال : يا معشر النساء إنكن أكثر حطب جهنم قالت : فناديت رسول الله صلى الله عليه و سلم وكنت حرية على كلامه فقلت : يا رسول الله و لم قال : إنكن إذا أعطيتن لم تشكرن و إذا أمسك عنكن شكوتن و قال : إياكن وكفر المنعمين فقلت : يا رسول الله و ما كفر المنعمين قال : المرأة تكون تحت الرجل قد ولدت له الولدين و الثلاثة ثم تقول : ما رأيت منك خيرا قط

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کوعبدالاعلی ٰابن حماد نے ان کو داؤد عطار نے ان کو ابن خیثم نے ان کو شہر نے ان کو اسماء بنت یزید نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے جبکہ عورتیں مسجد کے کونے میں بیٹھی تھیں ۔ میں بھی ان میں تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سنی یا کہا کہ شور سنا تو فرمایا اے عورتوں کی جماعت تم لوگ زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہو۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز لگائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کی زیادہ حریص تھی ۔ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسا کیوں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم عورتوں کو کوئی چیز دی جاتی ہے تو اس کا شکر یہ ادا نہیں کرتی ہو اور جب تمہیں دیناروک دیا جائے تو تم شکایت کرتی ہو۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ بچاؤ اپنے آپ کو محسنین کی ناشکری کر نے سے۔ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )محسنوں کی ناشکری کیسے ہوتی ہے ۔ فرمایا: ایک عورت مرد کے تحت ہوتی ہے اور اس کے لئے دوتین جنتی ہے ۔ پھر کہتی ہے میں ۔ تم سے کبھی کوئی چیز نہیں دیکھی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرٍ ← ابن خيثم ← داود العطار ← عبد الأعلى ابن حماد ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Hadith 9126

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9127

9128 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : أنا علي بن الفضل بن الفضل محمد بن عقيل الخزاعي أنا أبو شعيب الحراني نا علي بن المديني نا جرير بن عبد الحميد عن الأعمش عن عطيه بن سعد عن أبي سعيد الخدري قال : دخل رجلان على رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألاه في ثمن بعير فأعانهما بدينار فخرجا من عنده فلقيا عمر بن الخطاب و أثنيا و قالا : معروفا و شكرا على ما صنع بهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخل عمر على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره بما قالا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكن فلانا أعطيته ما بين عشرة إلى مائة فلم يقل ذلك إن أحدكم يسألني فينطلق بمسألته يطأبطها و هي نار فقال عمر : يا رسول الله فلم تعطنا ما هو نار ؟ قال : تأبون إلا تسألوني و يأبى الله لي البخل

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو خبر دی علی بن فضل بن فضل محمد بن عقیل خزاعی نے ان کو ابو شعیب حرانی نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو اعمش نے ان کو عطیہ بن سعد نے ان کو ابوسعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ،انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کی قیمت ادا کرنے کے لئے رقم کا سوال کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی امانت کر دی۔ وہ وہاں سے چلے گئے ۔ آگے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی اور اچھائی کی اور شکر یہ ادا کیا اس نیکی پر جوحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ کی تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی جو انہوں نے کہی تھی۔لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لیکن فلاں کو میں نے دس سے سو کے درمیان میں دیئے تھے ۔اس نے یہ بات نہیں بتائی۔ بے شک تمہارا ایک آدمی مجھ سے سوال کرتا ہے اور وہ اپنا سوال پورا کرا کر لے جا تا ہے ۔ حالانکہ وہ اس کے لئے آگ ہوتی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ ہمیں وہ چیز کیوں دیتے ہیں جو آگ ہوتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ مجھ سے مانگنے سے بھی تو باز نہیں آتے ہواوراللہ تعالی ٰمیرے لئے بخل کو بھی گوارانہیں کرتا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عطية بن سعد ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← علي بن الفضل بن الفضل محمد بن عقيل الخزاعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 9127

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9128

9129 - قال علي بن المديني و روى هذا الحديث أبو بكر بن عياش فيما حدثوا عنه الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد وحديث جرير عندي هو الحديث : ـ

وہ کہتے ہیں کہ کہا علی بن مدینی نے اور روایت کیا ہے اس حدیث کو ابو بکر بن عیاش نے ان میں جو انہوں نے حدیث بیان کی ہے اعمش سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابوسعید سے اور حد ہث جریر میرے نزدیک وہی حدیث ہے۔

أبي سعيد وحديث جرير عندي هو الحديث ← اَبِیْ صَالِحٍ

Hadith 9128

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9129

9130 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أحمد بن محمد العنبري نا عثمان بن سعد الدارمي نا أحمد بن يونس و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن عبد الله بن مهران الدنيوري نا أحمد بن يونس نا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد قال قال عمر : يا رسول الله سمعت فلانا يذكرك و يقول : خيرا يزعم أنك أعطيته دينارين قال : لكن فلان ما يقول ذلك و لقد أصاب ما بين مائة إلى عشرة و قال : إن أحدهم يخرج من عندي بمسألته يطأبطها قال أحمد : أو نحو هذا و ما هي إلا نار فقال عمر : يا رسول الله فلم تعطيهم ؟ قال : فما أصنع يسألونني ويأبى الله لي البخل

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے احمد بن محمد عنبری نے ان کو عثمان بن سعد دارمی نے ان کو احمد بن یونس نے اور ان کو خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن عبد اللہ بن مہران دنیوری نے ان کواحمد بن یونس نے ان کو ابوبکر بن عیاش نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابوسعید نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر رضی اللہ عنہ نے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) میں نے فلاں سے جو آپ کا تذکرہ کر رہا تھا اور آپ کی اچھائی کر رہا ہے اور کہہ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رقم دی ہے ۔ مگر فلاں آدمی ی بات نہیں کہہ رہا تھا۔ حالانکہ اس نے ایک سو دس تک حاصل کئے ہیں ۔ فرمایا کہ ان لوگوں میں سے ایک شخص میرے پاس اپنا سوال پو را کرا کر جاتا ہے اس مال کو بغل میں دبا کر لے جا تا ہے ۔ کہا امام احمد نے یا اس کی مثل کہا فرمایا کہ حالانکہ نہیں ہوتا یہ مال مگر آگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کیوں ان کو یہ مال دیتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کیا کروں مجھ سے سوال کرتے ہیں اور اللہ تعالی ٰمیرے لئے بغل کو پسند نہیں کرتا۔

عُمَرَ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← محمد بن عبد الله بن مهران الدنيوري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← أحمد بن يونس و ← عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 9129

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9130

9131 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا علي بن الفضل الخزاعي أنا شعيب الحراني نا علي بن المديني قال : ـ و إنما أنكره من حديث أبي صالح لأنه قد روى عن عطية شيئا يصير إلى بعض هذا الحديث

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو علی بن فضل خزاعی نے ان کو ابوشعیب حرانی نے ان کو علی بن مد ینی نے وہ کہتے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ میں اس کو منکر سمجھتا ہوں ابوصالح کی حدیث سے اس لئے کہ وہ روایت کی گئی ہے عطیہ سے ایک چیز جو بعض حدیث کی طرف رجوع کرتی ہے۔

عطية شيئا يصير إلى بعض هذا الحديث ← و إنما أنكره من حديث أبي صالح لأنه قد روى ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← شعيب الحراني ← علي بن الفضل الخزاعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 9130

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9131

9132 - قال علي : نا عبيد الله بن موسى نا ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يشكر الله من لا يشكر الناس

کہاعلی نے کہ ہمیں خبر دی عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو ابن ابولیلی ٰنے ان کو عطیہ نے ان کو ابوسعید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں شکر کرتا اللہ کا جوشخص نہیں شکر کر تا لوگوں کا۔

«لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ» ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عَلِيٍّ،

Hadith 9131

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood