Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9108

9109 - قال : و نا علي قال : نا يحيى بن إسحاق أنا يحيى بن أيوب عن عمارة بن غزيه عن شرحبيل الأنصاري عن جابر : عن النبي صلى الله عليه و سلم بنحوه قال علي : إلا أنه سمى الرجل الذي لم يسمه بشر و هو شرحبيل بن سعد الأنصاري و يكنى و بأبي سعد قلت : ورواه إسماعيل بن عياش عن عمارة بن غزيه عن أبي الزبير عن جابر و غلط فيه

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے علی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی یحییٰ بن اسحاق نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو عمار و بن غز یہ نے شرحبیل انصاری سے اس نے جابر سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل علی نے کہا ۔مگر یہ کہ اس آدمی کا نام لیا جس کا نام بشر نے نہیں لیا تھا۔ وہ ہے شرحبیل بن سعد انصاری جن کی کنیت ابوسعید ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ اور اس کو روایت کیا ہے اسماعیل بن عیاش نے اس نے عمار و بن غزیہ نے اس نے ابوالز بیر سے اس نے جابر سے اور اس نے اس میں غلطی کی ہے۔

علي إلا ← جَابِرٍ ← شُرَحْبِيلَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ← عَلِيٍّ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9108

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9109

9110 - أخبرنا أبو أسامة محمد بن أحمد بن محمد بن القاسم الهروي المقري بمكة أنا أبو الحسن محمد بن عبد الله بن زكريا النيسابوري بمصر أنا أبو صالح القاسم بن الحارث عن جابر بن عبد الله قال : دعى رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى طعام و معه نفر من أصحابه قال : فلما فرغ قال : اثبتوا أخاكم قال : فقلنا بماذا يا رسول الله ؟ قال : بركوا فبركنا قال : ثم أقبل علينا فقال : من أولى خيرا فليجز به و من لم يقدر على ذلك فليثن به و من لم يفعل ذلك فقد كفر و من أثنى بما لم ينل كلابس ثوبي زور

ہمیں خبر دی ابواسامہ محمد بن احمد بن محمد بن قاسم ہروی مقری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوالحسن محمد بن عبداللہ بن زکر یا نیشاپوری نے مصر میں ان کو ابو صالح قاسم بن لیث بن مسرور نے ان کو معافی بن سلیمان نے ان کو قلیح بن سلیمان نے ان کو سعید بن حارث نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھانے کی دعوت دی گئی اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی تھی ۔ کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سےفارغ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اپنے بھائی کی تائید کر دو ۔ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے کہا کہ کس چیز کے ساتھ ؟ فرمایا کہ برکت کی دعا دو اور اس کو ہم نے اس کے لئے برکت کی دعا کی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، جس کے ساتھ خیر اور نیکی کی جائے اس کو چاہئے کہ وہ اس کا بدلہ بھی ادا کرے اور جو اس پر قادر نہ ہو اسی نیکی پر اس کی تعریف کرے اور جوشخص ایسا بھی نہ کر سکے اس نے ناشکری کی اور جو شخص جھوٹی تعریف کرے بلا وجہ وہ جھوٹ کا لباس پہننے والا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أبو صالح القاسم بن الحارث ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ ← أبو أسامة محمد بن أحمد بن محمد بن القاسم الهروي المقري

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9109

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9110

9111 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا عبد الله الصفار الأصبهاني قال : نا أبو سعد عمران ابن عبد الرحيم الأصبهاني قال : نا إبراهيم بن حميد الطويل قال : نا صالح بن أبي الأخضر عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أولى معروفا فليكافئه فإن لم يقدر فليذكره فمن ذكره فقد شكره و من تشبع بما لم ينل فهو كلابس ثوبي زور

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو عبد الله صفار اصفہانی نے ان کو ابوسعد عمران بن عبدالرحیم اصفہانی نے ان کو ابراہیم بن حمید طویل نے ان کو صالح بن ابوالا خضر نے زہری سے اس نے ابوسلمہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص کے ساتھ کوئی اچھائی کی جائے اس کو چاہئے کہ وہ اس کا بدلہ ضرور دے اگر وہ اس پر قادر نہ ہوتو اس کو چاہئے کہ وہ اس کو نصیحت کرے جو اس کو نصیحت کرتا ہے دو اس کا شکر یہ ادا کرتا ہے، جو شخص زبردستی تعریف کرے اس چیز پر جو اس کو حاصل نہیں ہوئی وہ ایسے ہوتا ہے جیسے اس نے جھوٹ کا لباس پہنا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ← أبو سعد عمران ابن عبد الرحيم الأصبهاني ← عبد الله الصفار الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9110

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9111

9112 - أخبرنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان رحمه الله قال : أنا أبو علي حامد بن محمد الهروي قال : نا محمد بن موسى الحلواني نا زياد بن يحيى أبو الخطاب نا مالك بن سعير نا صالح بن أبي الأخضر عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صنع إليه معروف فليكافئ به فإن لم يستطع فليذكره فمن ذكره فقد شكره و المتشبع بما لم ينل كلابس ثوبي زور كذا قالا في إسناده

ہمیں خبر دی امام ابوالطیب سہل بن محمد بن سلیمان رحمتہ اللہ علیہ نے ان کو ابوعلی حامد بن محمد ہروی نے ان کومحمد بن موسیٰ حلوائی نے ان کوزیاد بن یحییٰ نے ابوالخطاب نے ان کو مالک بن سعید نے ان کو صالح بن ابی الاخضر نے ان کو زہری نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کے ساتھ نیکی اور اچھائی کرے اس کو چاہئے کہ وہ اس کو اس نیکی کا بدلہ ضرور دے اور بدلے کی استطاعت نہ ہوتو اس کو چاہئے کہ وہ اس کو نصیحت کرے ۔ جس نے نیکی کرنے والے کو نصیحت کی اس نے اس کا شکر یہ ادا کیا اور شخص کسی ایسی چیز پرکسی کی تعریف کرے جو اس کو حاصل نہ ہوئی ہو وہ ایسے ہے جیسے اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن لئے ہیں ۔ (نوٹ ) ان روایات کا ایک مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو چاہئے کہ وہ احسان کرنے والے کا نیکی سے تذکرہ کرے جس نے ایسا کیا اس نے اس کا شکر یہ ادا کیا۔ یہ مفہوم اس صورت میں ہوگا جب فلیذکر کوذکر سے مشتق مانا جائے ۔ اگر تذکیر سے مشتق ما نیں تو پھر وہی مفہوم ہوگا جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْخَطَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ، ← أبو علي حامد بن محمد الهروي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9111

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9112

9113 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي قال : نا إبراهيم بن عبد الله قال : نا محمد بن عبيد الأنصاري و إبراهيم بن حميد الطويل قالا : نا صالح بن أبي الأخضر عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أولى معروفا فليكافئ به فإن لم يستطع فليذكره فإن ذكره فقد شكره و المتشبع بما لم ينل كلابس ثوبي زور

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن احمد بن اسحاق طیبی نے ان کو ابراہیم بن عبد اللہ نے ان کو محمد بن عبید انصاری نے اور ابراہیم بن حمید طویل نے ان کو صالح بن ابوالاخضر نے زہری سے اس نے عروہ سے اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے ساتھ کوئی نیکی کرے اس کو چاہئے کہ وہ اس کا بدلہ ضرور دے اور اگر اس کی طاقت نہ رکھے تو اسے نصیحت کرے جس نے اپنے محسن کونصیحت کی اس نے اس کا شکر یہ ادا کر لیا اور بلا وجہ تعریف کرنے والا جھوٹ کا لبادہ اوڑھنے والے کی طرح ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← محمد بن عبيد الأنصاري و إبراهيم بن حميد الطويل ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9112

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9113

9114 - و أخبرنا أبو نصر أحمد بن عبد الرحمن الصفار أنا أبو عمرو بن بجيد أنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله نا الأنصاري نا صالح بن أبي الأخضر : فذكره 9114 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي نا محمد بن عيسى الطرسوسي نا مسلم بن إبراهيم نا أبو عوانة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني نا محمد بن عبد الوهاب العبدي ح قال : و نا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه نا إسحاق بن الحسن الحربي قالا : نا شريح بن النعمان الجوهري نا أبو عوانة عن الأعمش عن مجاهد عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من سألكم بالله فأعطوه و من استعاذكم بالله فأعيذوه و من أتى إليكم معروفا فكافئوه و إن لم تجدوا فادعوا له حتى تعلموا أنكم كافأتموه و من استجاركم بالله فأجيروه

اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر احمد بن عبدالرحمٰن صفار نے ان کو ابوعمرو بن عبید نے ان کو ابو مسلم ابراہیم بن عبداللہ انصاری نے ان کو صالح بن ابوالا خضر نے ۔ پھر اس نے اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محبوبی نے ان کومحمد بن عیسی ٰطرسوسی نے ان کومسلم بن ابراہیم نے ان کو ابوعوانہ نے ( ح ) اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب شیبانی نے ان کومحمد بن عبدالوہاب عبدی نے ( ح ) وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن بالو یہ نے ان کو اسحاق بن حسن حربی نے انکو شریح بن نعمان جو ہری نے ان کو ابوعوانہ نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرے اس کو ضرور دیا کرو جو تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پناہ مانگے اس کو پناہ دیا کرو اور جوشخص تمہارے ساتھ نیکی کرے اس کو ضرور بدلہ دیا کرو اگر تم اس کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اس کے لئے دعا کر دو ۔ یہاں تک کہ تم جان لو کہ بے شک تم نے اس کو اس کے احسان کا بدلہ دے دیا ہے اور جوشخص تم سے اللہ کے واسطے سے جوار اور پڑوس مانگے اس کو دے دو ) یا مطلب ہے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دو ) ۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شريح بن النعمان الجوهري ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← محمد بن عيسى الطرسوسي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← صالح بن أبي الأخضر فذكره ← الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ بُجَيْدٍ، ← أبو نصر أحمد بن عبد الرحمن الصفار ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9113

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9114

9115 - و روى السائب بن عمر عن يحيى بن عبد الله بن صيفي : عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا من أزلت إليه نعمة فليشكرها أخبرناه أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد نا يحيى بن سعيد عن السائب بن عمر فذكره

اور روایت کی ہے سائب بن عمر نے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور مرسل روایت ہے جس کی طرف احسان یا نعمت منتقل کی جائےاس کو چاہئے کہ اس کا شکر ادا کرے۔ ہمیں اس کی خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابوعبید نے ان کو یحیی ٰبن ابوسعید نے ان کو سائب بن عمر نے اس نے اسی کو ذکر کیا۔

السائب بن عمر فذكره ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا من أزلت إليه نعمة فليشكرها ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← و روى السائب بن عمر

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9114

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9115

9116 - قال : أبو عبيد قوله : أزلق إليه يقول : أسدت إليه و اصطنعت عنده

کہا ابوعبید نے کہ ان کا تو یہ قول ازلق الیہ کا مطلب ہے اسدت الیہ اور اصطنعت عندہ۔

أسدت إليه و اصطنعت عنده ← أبو عبيد قوله أزلق إليه

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9115

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9116

9117 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا الربيع بن مسلم عن محمد بن زياد سمع أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يشكر الله من لا يشكر الناس

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبد اللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کور بیع بن مسلم نے ان کو محمد بن زیاد نے اس نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جواللہ کا شکر ادانہیں کرتا و ولوگوں کا شکر بھی ادانہیں کرتا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9116

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9117

9118 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا محمد بن راشد المؤدب الأصبهاني نا أبو الجهم الأزرق بن علي نا حسان بن إبراهيم نا عبد المنعم بن نعيم عن الحريري عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أشكر الناس لله أشكرهم للناس

اور ہمیں خبر دی ابوسعید بن ابی عمرو نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو محمد بن راشد ادیب اصفہانی نے ان کو ابوجہم از رق بن علی نے ان کو حسان بن ابراہیم نے ان کو عبد المنعم بن نعیم نے حریری سے ان کو ابوعثمان نے ان کو اسامہ بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ اللہ کا شکر کرنے والا سب سے زیادہ شکر گزار ہوتا ہے لوگوں کے لئے ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← الحريري ← عبد المنعم بن نعيم ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو الجهم الأزرق بن علي ← محمد بن راشد المؤدب الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9117

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9118

9119 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله الخسروجردي قال : أنا أبو بكر الإسماعيلي قال : أخبرني محمد بن السري نا منصور بن أبي مزاحم أنا أبو وكيع عن عبد الرحمن عن الشعبي عن النعمان بن بشير : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من لم يشكر القليل لم يشكر الكثير و من لم يشكر الناس لم يشكر الله و التحدث بنعمة الله شكر و تركه كفر و الجماعة رحمة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن عبداللہ حسر وگردی نے ان کو ابو وکیع ابو بکر اسماعیل نے ان کو خبر دی محمد بن سری نے ان کو منصور بن مزاحم نے ان کو ابو وکیع نے عبدالرحمٰن سے اس نے شعبی سے اس نے نعمان بن بشر سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا جوشخص قلیل کا شکر نہیں کرتا وہ کثیر کا شکر بھی نہیں کرتا اور جولوگوں کا شکر نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کرتا ۔ اور اللہ کی نعمت کو بیان کر نا شکر کرنا ہے اور اس کو ترک کرنا ناشکری ہے اور جماعت رحمت ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو وَكِيعٍ ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو الحسن علي بن عبد الله الخسروجردي، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9118

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9119

9120 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد نا الأسفاطي نا أبو الوليد نا محمد بن طلحة عن عبد الله بن شريك عن عبد الرحمن بن عدي عن الأشعث بن قيس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أشكركم لله أشكركم للناس

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسفاطی نے ان کو ابوالولید نے ان کو محمد بن طلحہ نے ان کو عبداللہ بن شریک نے ان کو عبد الرحمٰن بن عدی نے ان کو اشعث بن قیس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سے جو زیادہ اللہ کا شکر کرنے والا ہے وہ لوگوں کا بھی زیادہ شکر ادا کرتا ہے ۔

الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَدِيٍّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْأَسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9119

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood