Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رد السلام · حديث 9096

9097 - أخبرنا أبو الحسن العلاء بن محمد بن أبي سعيد الناطفي أنا أبو سهل الإسفرايني نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا هشيم عن عمر بن أبي زائدة عن عبد الله بن أبي السفر عن ابن عباس قال : إني لأرى جواب الكتاب كما أرى حق السلام

ہمیں خبر دی ابوالحسن علاء بن محمد بن ابی سعید ناطقی نے ان کو ابو سہل اسفرائنی نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ھیثم نے ان کو عمر بن ابوزائدہ نے ان وک عبداللہ بن ابونصر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ بے شک میں البتہ دیکھتا ہوں کہ خط کا جواب بھی اسی طرح ضروری ہے جیسے میں سمجھتا ہوں کہ سلام کا حق ہے۔

إني لأرى جواب الكتاب كما أرى حق السلام ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أبو سهل الاسفرايني ← أبو الحسن العلاء بن محمد بن أبي سعيد الناطفي

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › And it is the door in the response of peace · Hadith 9096

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرد على أهل الكتاب · حديث 9097

9098 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل المؤملي نا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب نا يعلي بن عبيد نا الأعمش عن مسلم عن مسروق عن عائشة قالت : كان إناس من اليهود يأتون رسول الله صلى الله عليه و سلم فيقولون السأم عليك فيقول : و عليكم ففطنت بهم عائشة فسبتهم فقال : مه يا عائشة إن الله عز و جل لا يحب الفحش و لا التفحش قالت : يا رسول الله إنهم يقولون كذا و كذا قال : أليس قد رددت عليهم فأنزل الله تبارك و تعالى : { وإذا جاؤوك حيوك بما لم يحيك به الله } إلى آخر الآية رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم عن يعلي بن عبيد

ہمیں خبر دی ابومحمد حسن بن علی بن مؤمل مؤملی نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبد اللہ بصری نے ان کو ابواحمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو مسلم نے ان کو مسروق نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہانے وہ کہتی ہیں کہ یہودیوں میں لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور کہتے تھے تمہارے اوپر سام ہو ( مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ تم پر ہلاکت ہو ‘تم پر موت آئے )تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم جواب میں کہہ دیتے وعلیکم ۔ مسروق کہتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں اوران کو برا بھلا کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رک جائیے اے عائشہ بے شک اللہ تعالیٰ نہ ہی فحش اور گالی پسند کرتے ہیں اور نہ ہی زبردستی کسی کو گالیاں دینے اور اجڈ ہونے کو ۔ سیدہ نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ ایسے ایسے کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ان کے بارے میں یہ آیت وارد نہیں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ہے: واذا جاؤک حیوک بمالم يحيك به الله الخ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کے اوپر ایسا سلام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر نہیں کیا ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن ابراہیم سے اس نے یعلی بن عبید سے ۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل المؤملي

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Chapter in response to the People of the Book · Hadith 9097

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرد على أهل الكتاب · حديث 9098

9099 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو بكر بن إسحاق نا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان نا الزهري عن عروة عن عائشة قالت : استأذن رهط من المشركين على النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : السام عليك يا أبا القاسم قال : و عليكم فقالت عائشة : بل عليكم السام و اللعنة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مه يا عائشة إن الله يحب الرفق في الأمر كله فقالت : أما سعت ما قالوا : إنما قالوا : السام عليك قال : قد قلت و عليكم أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة و غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو زہری نے ان کو عروہ نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ مشرکین کی ایک جماعت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے کی اجازت چاہی جب آئے تو انہوں نے کہا السام علیکم یا ابا القاسم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا وعلیکم ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ بل عليكم السام و اللعنة ۔ بلکہ تم لوگوں پر موت ہو اورلعنت ہو۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کرتے ہوئے فرمایا۔ رک جائیے اے عائشہ! بے شک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق اور نرمی کو پسند کرتا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کیا آپ نے سنانہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ تو کہ رہے ہیں تم پر ہلاکت ہو ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے کہہ دیا ہے علیکم ( کہ تم پر ہو ) ۔ بخاری ومسلم نے اس کونقل کیا ہے صحیح میں حدیث سفیان بن عینیہ سے۔

السام عليك))، ← "إِنَّمَا ← أما سعت ما ← عائشة بل عليكم السام و اللعنة ← و عليكم ← السَّامُ عَلَيْکَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ← استأذن رهط من المشركين على النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Chapter in response to the People of the Book · Hadith 9098

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرد على أهل الكتاب · حديث 9099

9100 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان قال : أنا أبو سهل بن زياد القطان نا إسحاق بن الحسن الحربي نا عفان نا حماد بن سلمة نا عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن الحسن الحربي نا عفان نا حماد بن سلمة نا عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو : أن اليهود أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : السام عليك و قالوا : في أنفسهم لولا يعذبنا الله بما نقول فأنزل الله عز و جل : { و إذا جاؤوك حيوك بما لم يحيك به الله } إلى آخر الآية

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیا دقطان نے ان کو اسحاق بن حسن حربی نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد اللہ بن حسن حبری نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد اللہ بن عمرو نے کہ یہود حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے ۔السام علیک۔ تم پر ہلاک ہو۔ مگر یہودی دل میں یہ سوچتے تھے کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں ہمیں اس پر اللہ تعالیٰ عذاب کیوں نہیں دیتے ؟ اس بات پر اللہ تعالیٰ نےیہ آیت نازل فرمائی : واذا جاؤک حیوک بمالم يحيك به الله الخ جب وہ تیرے پاس آتے ہیں اور سلام کرتے ہیں ان الفاظ کے ساتھ جن کے ساتھ اللہ نے تمہیں سلام نہیں نے کیا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَرْبِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Chapter in response to the People of the Book · Hadith 9099

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرد على أهل الكتاب · حديث 9100

9101 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي و محمد بن موسى قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا الحجاج بن محمد قال : قال ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول : سلم ناس من اليهود على النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا السام عليك يا أبا القاسم فقال : و عليكم و إنا نجاب عليهم و لا يجابون علينا رواه مسلم في الصحيح عن هاورن بن عبد الله و حجاج بن الشاعر عن حجاج بن محمد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے اور محمد بن موسی ٰنے انہوں نے کہا ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو حجاج بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابن جریج نے ان کو ابوالز بیر سے اس نے سنا جابر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یوں سلام کیا۔السام علیک یا اباالقاسم ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وعلیکم ۔فرمایا کہ ہم ان کے خلاف جواب دیتے ہیں وہ ہمارے خلاف جواب نہیں دیتے ۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ہارون بن عبداللہ سے اور حجاج بن شاعر سے اس نے حجاج بن محمد سے ۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Chapter in response to the People of the Book · Hadith 9100

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرد على أهل الكتاب · حديث 9101

9102 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو بكر بن إسحاق قال : نا إسماعيل بن قتيبة نا يحيى بن يحيى أنا هشيم عن عبيد الله بن أبي بكر سمعت أنسا يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سلم عليكم أهل الكتاب فقولوا و عليكم رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى و أخرجه البخاري عن عثمان بن أبي شيبة عن هشيم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے کو ابوبکر بن اسحاق نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ہثیم نے ان کو عبداللہ بن ابی بکر نے وہ کہتے ہیں کہ کسی نے سنا انس سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تم پر سلام کریں تو ان کو جواب میں کہو وعلیکم ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عثمان بن ابی شیبہ نے اس نے ہثیم سے ۔

أَنَسًا ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Chapter in response to the People of the Book · Hadith 9101

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن يسلم عليه و هو في الصلاة · حديث 9102

9103 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إبراهيم بن صالح نا الحميدي نا سفيان عن زيد بن أسلم بمنى قال : عبد الله بن عمر : ذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى مسجد بني عمرو بن عوف بقباء ليصلي فيه فدخلت عليه رجال من الأنصار يسلمون عليه فسألت صهيبا و كان معه كيف كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يرد عليهم حين كانوا يسلمون عليه و هو يصلي فقال : صهيب كان يشير إليهم بيده قال سفيان : فقلت لرجل : سله أنت سمعته من ابن عمر قال : يا أبا أسامة أسمعته من ابن عمر ؟ فقال : أما أنا قد كلمته و كلمني و لم يقل زيد سمعته

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابراہیم بن صالح نے ان کوحمیدی نے ان کو سفیان نے ان کوزید بن اسلم نے منی ٰمیں وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بن عمرو بن عوف کی طرف گئے قباء میں تا کہ اس میں آپ نماز پڑھیں ۔لہذا بعض انصاری لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیا۔ میں نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ ان کو کیسے جواب دیتے تھے جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کرتے اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر دیتے تھے ۔سفیان نے کہا کہ میں نے ایک آدمی سے کہا کہ آپ نے یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنی تھی؟ اس نے کہا اے ابواسامہ کیا آپ نے اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا تھا؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے ان سے کلام کیاتھا اور انہوں نے مجھ سے کلام کیا تھا او ر زید نے نہیں کہا کہ میں نے اس سے سناتھا۔

زيد بن أسلم بمني ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← إبراهيم بن صالح ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Chapter on whoever greets him while he is praying · Hadith 9102

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن يسلم عليه و هو في الصلاة · حديث 9103

9104 - و أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الأسفاطي وهو العباس بن الفضل قال : نا أبو الوليد نا ليث بن سعد نا بكير بن عبد الله الأشج عن نائل صاحب القباء عن ابن عمر عن صهيب قال : مررت على رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو يصلي فسلمت عليه فرد علي إشارة قال : ليث حسبته قال : بإصبعه

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن ابی بکر بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبد اللہ بن اشج نے ان کو نائل صاحب قباء نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو صہیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گذرا آپ نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے مجھے اشارے سے جواب دیا کہا لیث نے میں نے اس کو گمان کیا ہے کہ یوں کہا تھا کہ انگلی سے اشارہ کیا تھا۔

صُھَیْبٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَائِلٍ صَاحِبِ الْقَبَاءِ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشَجِّ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الأسفاطي وهو العباس بن الفضل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو الحسن بن أبي بكر بن عبدان ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Chapter on whoever greets him while he is praying · Hadith 9103

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن يسلم عليه و هو في الصلاة · حديث 9104

9105 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف المهرجاني بها أنا أبو سهل الإسفرايني نا أبو عبد الله أحمد بن الحسن الصوفي نا علي بن الجعد أخبرني حماد عن أيوب عن ابن سيرين و عن أيوب عن نافع عن ابن عمر : في رد السلام في الصلاة قال : يومئ برأسه أو يشر بإصبعه

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن المعروف مہر جانی نے وہاں پر ان کو ابو سہل اسفرائنی نے ان کو ابو عبد اللہ احمد بن حسن صوفی نے ان کوعلی بن جعفر نے ان کو حماد نے ان کو ایوب نے ان کو ابن سیرین نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے نماز میں سلام کا جواب دینے کے بارے میں فرمایا کہ اپنے سر کے ساتھ اشارہ کر دے یا اپنی انگلی سے اشارہ کر دے۔

يومئ برأسه أو يشر بإصبعه ← ابن عمر في رد السلام في الصلاة ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← ابن سيرين و ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أبو عبد الله أحمد بن الحسن الصوفي ← أبو سهل الاسفرايني ← أبو الحسن محمد بن أبي المعروف المهرجاني بها

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Chapter on whoever greets him while he is praying · Hadith 9104

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9105

9106 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا أبو شهاب عن حميد الطويل عن أنس بن مالك قال : إن ناسا من المهاجرين قالوا يا رسول الله ما رأينا قوما أحسن مواساة في قليل و لا أحسن بذلا من كثير منهم لقد كفونا المؤنة و أشركونا في المهنا لقد خشينا أن يذهبوا بالأجر كله فقال : أما ما دعوتهم له محمد و اثنيتم عليهم مكافأة أو شبه المكافأة

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالربیع نے ان کو ابوشہاب نے ان کو حمید طویل نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ بے شک مہاجرین میں سے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ہم نے ان سے زیادہ بہتر غمخواری کرنے والا باو جودقلت کے کوئی نہیں دیکھا اور ان سے کثیر میں زیادہ بہتر خرچ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا ۔ انہوں نے تو ہماری محنت وشفقت بھی خودسنبھال لی ہے اور حکمرانوں نے ہمیں معاوضے میں شریک رکھا ہے۔ ہمیں تو اس بات کا ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں سارے کا سارا اجر ہی وہ نہ لے جائیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا. بہر حال جو تم لوگ ان پر دعا دے رہے ہو اور جوان کی تعریف کر رہے ہو یہ مکافات ہے اور بدلہ۔ یا کہا تھا کہ مکافات کے مشابہ ہے۔

إن ناسا من المهاجرين ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9105

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9106

9107 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ نا هشام بن علي و محمد بن أيوب قالا : نا موسى ابن إسماعيل و هو أبو سلمة و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام قال : نا أبو سلمة نا حماد ابن سلمة عن ثابت عن أنس : إن المهاجرين قالوا يا رسول الله ذهب الأنصار بالأجر كله قال : لا ما دعوتم لهم و أثنيتم لفظ حديث ابن عوانة زاد ابن عبد الله في روايته عليهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو ہشام بن علی نے اور محمد بن ایوب نے دونوں نے کہا کہ ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے و ہ ابوسلمہ سے اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو انس نے کہ بے شک مہاجرین نے کہا یارسول اللہ انصار تو پورا پورا اجر ہی لے گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں جو کچھ تم ان کے لئے دعادی ہے اور ان کی تعریف کی ہے ۔۔ یہ الفاظ ہیں حدیث ابن عوانہ کے اور ابن عبد اللہ نے زیادہ کیا ہے اپنی روایت میں لفظ علیہم کا ۔

أَنَسٍ، أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ ← ثَابِتٍ، ← حماد ابن سلمة ← أَبُو سَلَمَةَ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← موسى ابن إسماعيل و هو أبو سلمة و ← هشام بن علي و محمد بن أيوب ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9106

شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9107

9108 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا علي بن الفضل الخزاعي أنا أبو شعيب الحراني نا علي بن المديني نا بشر بن المفضل نا عمارة بن غزيه حدثني رجل من قومي عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعطى عطاء فوجد فليجزه و من لم يجد فليثن فمن أثنى به فقد شكره و من كتمه فقد كفر و المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کوعلی بن فضل خزاعی نے ان کو ابوشعیب حرانی نے ان کوعلی بن مدینی نے ان کو بشر بن فضل نے ان کو عمارہ بن غز یہ نے اس کو میرے قوم کے ایک آدمی نے اس نے جابر بن عبد اللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص کوئی عطیہ دے اور اس کو پالے اس کو چاہئے کہ اس کا بدلہ دے دے اور جو شخص بدلہ کے طور پر دینے کے لئے کوئی چیز نہ رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ اس کی تعریف کرے۔اس نے اس کی تعریف کی اس نے اس کا شکر یہ ادا کیا اور جس نے اس کو چھپایا اس نے ناشکری کی ۔اس کی مشابہت کر نے والا جس کو کچھ نہیں دیا گیا جھوٹ کا لباس پہننے والا جیسا ہوتا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← علي بن الفضل الخزاعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9107

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood